پاکستان کی نظریاتی اساس

Published in Hilal Urdu May 2017

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود

اگر مسلمانان پاک و ہندکی تاریخ کا گہری نظر سے مطالعہ کیا جائے اور ان عوامل کو سمجھنے کی کوشش کی جائے جنہوں نے مسلمانوں کے کلچر اور ذہنی ساخت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کیا تو ان میں اسلام کا کردار سب سے نمایاں نظر آتا ہے۔ مغربی تعلیم، آزادئ فکر اور میڈیا کی تانوں اور اڑانوں کے باوجود حکومتیں اور معاشرے کے طاقت ور طبقے مذہبی شخصیات کے تیوروں سے کیوں خائف رہتے ہیں اور آج بھی ان کی رائے کو کیوں اہمیت دی جاتی ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لئے یہ ادراک ضروری ہے کہ بارہویں صدی سے لے کر بیسیویں صدی کے آغاز تک مسلمانوں کی قیادت علمائے کرام کے ہاتھوں میں رہی ہے۔ 1192-93 میں قطب الدین ایبک نے ہندوستان میں پہلی مسلم حکومت کی بنیاد رکھی اور یہ سلسلہ انگریزوں کی 1857 میں بالادستی اور حکومت تک جاری و ساری رہا۔ مسلمانوں کے اس آٹھ سو سالہ دور حکومت کے دوران علماء کو ہمیشہ دربار میں اہم حیثیت حاصل رہی۔ سبھی مسلمان بادشاہ اُن سے مشاورت کرتے رہے اور ضرورت پڑنے پر انہیں استعمال بھی کرتے رہے۔ گویا ایک طرح سے علماء شریک اقتدار تھے اور بعض اوقات بادشاہ گر کا رول بھی ادا کرتے رہے۔ ضرورت پڑنے پر یہی علماء مزاحمت کے علمبرداربھی بنے۔ اکبر بادشاہ سب سے زیادہ مضبوط اور طاقت ور حکمران تھا اور اس کی بادشاہت 49برس یعنی نصف صدی پر محیط ہے۔ لیکن جب اس نے دین الہٰی کی جسارت کی تو نہ صرف مجدد الف ثانی بلکہ ان کی قیادت میں بڑے بڑے علماء نے بھی مزاحمت کی۔ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور سر جھکانے سے انکار کر دیا۔ یہ الگ بات ہے کہ کچھ درباری مسلمانوں نے بادشاہ کی خوشنودی کے لئے دین الہٰی قبول کر لیا۔ اس طرح اورنگزیب کے انتقال کے بعد جب مسلمانوں کے اقتدار کا شیرازہ بکھرنے لگا اور مرہٹوں، جاٹوں اور طاقت ور ہندومہاراجوں نے

کچھ دانشوروں کا خیال ہے کہ پاکستان دو قومی نظریے کی پیداوار تھا اور پاکستان بننے کے بعد وہ نظریہ ختم ہو گیا۔ حالانکہ اگر آپ تاریخ کا گہری نظر سے مطالعہ کریں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ پاکستان ایک تصور کی پیداوار تھا اور دو قومی نظریہ اس تصور
(Ideology)
کا اہم ترین حصہ تھا جب کہ وہ تصور محض دو قومی نظریہ تک محدود نہ تھا۔ اس تصور کا پہلا حصہ دو قومی نظریہ تھا جو ایک حقیقت ہے۔ دوسرا حصہ پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست بنانا تھا۔ جس میں مسلمان آزادی سے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزار سکیں اور اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ وہ ملکی وسائل کے مالک ہوں اور انہیں اپنی ترقی خوشحالی اور بہترین مستقبل کے لئے استعمال کر سکیں۔ وہ اپنانظام حکومت اور نظام تعلیم واضح کریں اور عالمی سطح پرعزت کمائیں۔
مسلمانوں کا ناطقہ بند کر نا چاہا تو شاہ ولی اﷲ نے تحریک جہاد کا بیج بویا جسے بعد ازاں ان کے عزیزان، مریدین اور شاگردوں نے عملی تحریک کی شکل دی۔ یہ تحریک 1731سے 1831تک تقریباً ایک سو سال جاری رہی اور بالاکوٹ میں اپنوں ہی کے ہاتھوں دم توڑ گئی۔ سراج الدولہ نے 1757ء میں اور ٹیپو سلطان نے 1799میں اپنے ہی مسلمان بھائیوں کی غداری کے سبب شکست کھائی اور یوں انگریزوں کے اقتدار کی راہ ہموار ہوئی۔ انہی ہزیمتوں اور شکستوں نے مسلم ہندوستان میں دوننگ وطن علامتیں یعنی میرجعفر اور میر صادق متعارف کرائیں جن کی غداری کا ماتم آج بھی کیا جاتا ہے۔ 1857 کی جنگ آزادی لڑی گئی تو اس میں بھی سب سے زیادہ قربانیاں علمائے کرام نے دیں اور سب سے زیادہ گردنیں کٹوانے والے بھی وہی تھے۔ انگریزوں کا طوق غلامی اتار پھینکنے کے لئے جو آخری منظم کوشش کی گئی وہ ریشمی رومال کی تحریک تھی، اس تحریک کی قیادت بھی علمائے کرام کے پاس تھی۔ اس تحریک کی تفصیلات نہایت دلچسپ ہیں۔ منصوبے کے مطابق ترکی کی عثمانی فوج نے بلوچستان کے راستے ہندوستان پر حملہ آور ہونا تھا لیکن افغانستان کے شاہی خاندان کے چند افراد کی مخبری نے یہ راز فاش کر دیا اور یوں انگریزوں نے اس تحریک کو کچل دیا۔ اس تمام عرصے میں جتنے لوگوں کو سزا کے طور پر کالے پانی بھیجا گیا۔ قیدوبند میں ڈالا گیایا جلاوطن کیا گیا ان سب کا تعلق علمائے کرام اور مذہبی حلقوں سے تھا۔ یوں بیسویں صدی کے طلوع تک ہندوستان میں مسلمانوں کی سیاسی و فکری قیادت زیادہ تر علمائے کرام کے ہاتھوں میں تھی۔ ریشمی رومال تحریک کی ناکامی کے بعد حصول آزادی یا حصولِ حقوق کے لئے عسکری اندازترک کر دیا گیا اور وقت کے تقاضوں کے مطابق جمہوری سیاسی حکمت عملی اپنائی گئی۔ جس کی ذمہ داری مغربی تعلیم یافتہ حضرات نے سنبھال لی یوں تاریخی عمل نے تقریباً نو صدیوں کے بعد مدرسوں کو پیچھے دھکیل دیا اور مغربی تعلیمی اداروں کے فارغ التحصیل نوجوانوں کو سیاسی قیادت کا فرض سونپ دیا۔ اس کے باوجود علمائے کرام اور مذہبی طاقتیں پس پردہ رہ کر نہ صرف اپنا کردار سرانجام دیتی رہیں بلکہ انہوں نے خود کو ہر تحریک کی صف اول میں شامل کئے رکھا کیونکہ مغربی تعلیم یافتہ طبقہ ان کے وسیع اثر روسوخ کاپورا ادراک رکھتا تھا اور ان کی سیاسی اہمیت کا قائل تھا۔

 

pakkinazriyati.jpg1934-35میں انگلستان سے واپسی پر جب قائداعظم محمد علی جناح نے مسلم لیگ کی تنظیم نو کا بِیڑ ااٹھایا تو اس وقت مسلم لیگ ایک بے جان سیاسی قوت بن چکی تھی جس پر وڈیرے، جاگیردار، گدی نشین اور کمزور سیاسی شخصیات چھائی ہوئی تھیں۔ مسلم لیگ کے تن مردہ میں جان اس وقت پڑنا شروع ہوئی جب انتخابات کے بعد کانگریس نے 1937 میں چھ اکثریتی صوبوں میں اپنی حکومتیں بنائیں اور مسلمانوں نے ڈیڑھ برس تک ہندو راج کا مزہ چکھا تو ان کی آنکھیں کھلیں۔ کانگریسی دور حکومت میں نہ صرف مسلمانوں پر ملازمتوں اور زندگی میں آگے بڑھنے کے مواقع بند کر دیئے گئے بلکہ سکولوں میں مسلمان دشمن ترانہ ’بندے ماترم‘ بھی لازمی قرار دے دیا گیا اور گاندھی جی کے بت کی پرارتھنا کا حکم بھی جاری کر دیا گیا۔ تفصیل دیکھنی ہو تو پیرپور رپورٹ پڑھئے۔ مسلم لیگ صحیح معنوں میں عوامی تحریک اس وقت بنی جب مسلم لیگ نے مارچ 1940میں قرارداد لاہور (پاکستان) منظور کر کے ہندوستان میں بھی پھیلے ہوئے مسلمانوں کے جذبات کی ترجمانی کر دی۔ لنڈن ٹائمز کے مطابق اس اجلاس میں تقریباً ایک لاکھ مسلمان عوام نے شرکت کی جو کہ ایک سیاسی کرامت تھی۔


مذہب مسلمانوں کی سیاسی بیداری اور تحریک پاکستان کے دوران کلیدی عنصر کی حیثیت سے موجود رہا۔ 1935سے لے کر 1947 تک قائداعظم نے باربار اپنی تقریروں کے ذریعے مسلمانوں میں علیحدہ قومیت کا احساس بیدار اور پھر مضبوط کرنے کی کوششیں کیں اور علیحدہ قومیت کے شعور کی بنیاد ہمیشہ مذہب اور کلچر کو قرار دیا۔ قرارداد پاکستان کی منظوری کے بعد ان کا سارا زور ہی دوقومی نظریے پر تھا اور وہ مسلسل مسلمان عوام کو بڑی دردمندی سے یہ سمجھانے اور باور کرانے کی کوششیں کرتے رہے کہ ہم اس لئے مسلمان اکثریتی علاقوں پر مشتمل ایک آزاد مملکت کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ مسلمان اپنے مذہب، کلچر، روایات اور انداز کے مطابق زندگی گزار سکیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ان کے پیش نظر مسلمانوں کے معاشی، اقتصادی اور معاشرتی مفادات بھی تھے اس لئے علامہ اقبال مسلمانوں کی
Fuller Development of Personality
پر زور دیتے تھے۔ یعنی مسلمان شخصیت کی مکمل نشوونما کے لئے ایک آزادوطن کا قیام ضروری سمجھتے تھے۔ ظاہر ہے کہ جب مکمل نشوونما کی بات کی جاتی ہے تو اس میں معاشی، سیاسی، فکری، تعلیمی اور مذہبی تمام عوامل شامل ہوتے ہیں۔
چنانچہ میں جب پاکستان کی تاریخ اور ہندوستان میں پھیلے ہوئے مسلمانوں کی سیکڑوں برسوں پر محیط زندگی کا بغور مطالعہ کرتا ہوں تو مجھے اسلام پاکستان کے خمیر اور باطن میں شامل نظر آتا ہے اور پاکستان کی بنیاد کا مؤثر ترین محرک دکھائی دیتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر قائداعظم نے اسلام کا نام نہ لیا ہوتا تو وہ نہ کبھی مسلمانوں کی اکثریت کے لیڈر بنتے نہ 1945-46 کے انتخابات میں مثالی فتح حاصل کرتے اور نہ ہی پاکستان بنتا۔ اور ہاں یہ بھی ذہن میں رہے کہ اس سے قائداعظم کا کوئی ذاتی مفاد ہر گز وابستہ نہیں تھا۔ وہ خلوص نیت سے بات کرتے تھے اور انہوں نے زندگی کا معتدبہ حصہ مسلمانوں کے لئے وقف کر دیا تھا۔ ہمارے بعض دین سے بیزار اور بیگانہ حضرات ’’وکیلانہ‘‘ بحث کی طرز پر بال کی کھال اتارتے ہوئے کہتے رہتے ہیں کہ قائداعظم کا مقصد مسلمان ریاست کا قیام تھا نہ کہ اسلامی ریاست۔ اول تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا مسلمان اور اسلام دو الگ الگ چیزیں ہیں۔ دوم یہ کہ خود قائداعظم نے پاکستان کو پریمیئر اسلامی ریاست قرار دیا جسے سیکولر حضرات مانتے نہیں کیونکہ انہوں نے قائداعظم کو پڑھا ہی نہیں۔ تیسری بات یہ کہ قائداعظم نے کوئی سوبار سے زیادہ کہا کہ پاکستان کے سیاسی نظام کی بنیاد اسلام پر ہو گی۔ یہ حضرات کیوں نہیں سمجھتے کہ جس ریاست کے نظام کی بنیاد اسلام پر ہو وہی اسلامی ریاست ہوتی ہے۔ لیکن اس سے ہرگز مراد مذہبی ریاست نہیں کیونکہ اسلامی ریاست اپنے شہریوں پر مذہب نافذ نہیں کرتی۔ وہ اقلیتوں کی حفاظت کے علاوہ انہیں پوری مذہبی آزادی او رپورے حقوق دیتی ہے۔ یہی منشا قائداعظم کی تھی اور اسی لئے وہ اسلامی جمہوری فلاحی ریاست کا تصور پیش کرتے تھے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ اسلام پاکستان کے خمیر اور باطن میں شامل ہے۔ قائداعظم نے اسلامی قوتوں یا مذہبی جماعتوں کو شکست دے کر پاکستان نہیں بنایا تھا۔ بلکہ انہیں کئی مذہبی جماعتوں مذہبی شخصیات بڑے بڑے مذہبی اور روحانی گھرانوں اور پیروں کی حمایت حاصل تھی۔ رہی مذہبی انتہا پسندی تو وہ سیاست کا شاخسانہ اور عالمی سیاسی ایجنڈے کا نتیجہ ہے نہ کہ مذہب کا۔ کیونکہ ہر مسلمان اچھی طرح سمجھتا ہے کہ برداشت، مذہبی رواداری، عفو و درگزر، حق گوئی، قانون کا احترام اور انصاف اسلام کے بنیادی اصول ہیں اور نبی کریمﷺ ان کی عملی مثال تھے۔ انتہاپسندی، جذباتیت اور قانون شکنی کے رحجانات کا مقابلہ کرنے کے لئے انہی اسلامی اصولوں کو فروغ دینے اور لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کرنے کی ضرورت ہے۔ (ملاحظہ کریں قائداعظم کا براڈ کاسٹ پیغام بنام امریکی عوام فروری 1948 ء ، خورشید احمد یوسفی
(Speeches of Quaid e Azam)
جلد
IV
کچھ دانشوروں کا خیال ہے کہ پاکستان دو قومی نظریے کی پیداوار تھا اور پاکستان بننے کے بعد وہ نظریہ ختم ہو گیا۔ حالانکہ اگر آپ تاریخ کا گہری نظر سے مطالعہ کریں تو اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ پاکستان ایک تصور کی پیداوار تھا اور دو قومی نظریہ اس تصور
(Ideology)
کا اہم ترین حصہ تھا جب کہ وہ تصور محض دو قومی نظریہ تک محدود نہ تھا۔ اس تصور کا پہلا حصہ دو قومی نظریہ تھا جو ایک حقیقت ہے۔ دوسرا حصہ پاکستان کو ایک اسلامی جمہوری اور فلاحی ریاست بنانا تھا۔ جس میں مسلمان آزادی سے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزار سکیں اور اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں۔ وہ ملکی وسائل کے مالک ہوں اور انہیں اپنی ترقی خوشحالی اور بہترین مستقبل کے لئے استعمال کر سکیں۔ وہ اپنانظام حکومت اور نظام تعلیم واضح کریں اور عالمی سطح پرعزت کمائیں۔ میں نے اس تصور کو مختصر ترین الفاظ میں پیش کیا ہے۔ ورنہ اگر آپ قائداعظم کی تقاریر پڑھیں، مسلم لیگ کی قراردادوں اور مسلم لیگ کے اجلاسوں میں کی گئی تقریروں کو غور سے پڑھیں تو ان میں آپ کو پاکستان کا ایک واضح تصور ملتا ہے اور ایک ایسا خواب نظر آتا ہے جو آج بھی تشنۂ تکمیل ہے اور جسے منزل کے طور پر ہمیں ہمیشہ اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔ قائداعظم کی تقاریر ہوں، قراردادیں یا مسلم لیگی رہنماؤں کی تقریریں ان سب کے مرکزی نکات اور تصورات کا خلاصہ یہی ہے کہ چونکہ مسلمان اور ہندو الگ الگ قومیں ہیں جو ہزاروں برس اکٹھے رہنے کے باوجود متوازی دھاروں میں بہہ رہی ہیں۔ ان کا مذہب ، رسم و رواج ، بودوباش ، تاریخ ، ذہنی پس منظر اور سوچ ایک دوسرے سے بالکل مختلف اور متضاد ہیں اور مسلمان سمجھتے ہیں کہ وہ ہندوستان میں اقلیت ہونے کے سبب ہندو اکثریت کے مستقل غلام رہیں گے۔ انہیں معاشرے میں کبھی بھی باعزت مقام حاصل نہیں ہو سکے گا اور نہ وہ اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لا سکیں گے۔ اس لئے وہ ایک الگ وطن کا مطالبہ کرتے ہیں لیکن جسے ہم نظریہ پاکستان کہتے ہیں وہ صرف یہاں تک محدود نہیں ہے۔ کیونکہ آزاد وطن کا قیام اس کا فقط پہلا حصہ تھا جب کہ پاکستان کے قیام کے مقاصد اس کا ناگزیر اور دوسرا حصہ ہیں۔ کیونکہ جب بھی قائداعظم نے دوقومی نظریے کی بنیاد پر ایک علیحدہ مملکت کا مطالبہ کیا تو اس کے ساتھ ہی یہ بھی بتایا اور وضاحت کی کہ وہ پاکستان کیوں اور کیسا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ جو کچھ وہ کہتے تھے وہ مسلمان عوام کے احساسات اور اُمنگوں کی ترجمانی تھی اور ان کے مطالبات و تصورات کو مسلمانوں کی مکمل حمایت حاصل تھی اور اسی تصور پاکستان کو حقیقت کا روپ دینے کے لئے مسلمان عوام نے نہ صرف مسلم لیگ کی حمایت کی، 1946-47 کے انتخابات میں پاکستان کے حصول کے لئے ووٹ دیئے بلکہ اس مقصد کے لئے بے پناہ قربانیاں بھی دیں۔ اس جذبے کو سمجھنے کے لئے مسلم لیگ کے اجلاسوں میں کی گئی ان تقاریر کو بھی غور سے پڑھنے کی ضرورت ہے۔ جو اقلیتی صوبوں کے لیڈروں نے بار بار کیں۔ ظاہر ہے کہ وہ صوبے جہاں مسلمان اقلیت میں تھے وہ کبھی بھی پاکستان کا حصہ نہیں بن سکتے تھے اور انہیں بہرحال ہندوستان ہی میں رہنا تھا لیکن ان صوبوں کے لیڈروں نے ہمیشہ ایثار و قربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاکستان کے قیام کی زور دار حمایت کی کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ ہمیں خوشی ہے کہ ہندوستان کی راکھ پر ایک مسلمان مملکت، ایک اسلامی ریاست قائم ہو گی جہاں مسلمان اپنے دین، آدرش اور تصورات کے مطابق آزادانہ زندگی گزاریں گے اور انہیں اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے اور بحیثیت قوم پھلنے پھولنے کے لئے تمام مواقع میسر ہوں گے۔ جو بہرحال ہندوستان میں دستیاب نہیں ہو سکتے۔ اس لئے یہ سمجھنا اور کہنا کہ قیام پاکستان کے بعد نظریہ پاکستان بے کار اور بے معنی ہو کر رہ گیا ہے اپنی تاریخ سے لاعلمی کا ثبوت ہے۔ کیونکہ اگر کوئی نظریہ کامیاب ہو جائے تو وہ مرتا نہیں بلکہ اپنی سچائی کے سبب مزید مضبوط ہوتا ہے۔ دوم تاریخ یہ ثابت کرتی ہے کہ نظریات اُبھرتے ڈوبتے رہتے ہیں لیکن کبھی مرتے ہیں اور نہ بے معنی ہوتے ہیں۔


یوں تو ہماری تاریخِ آزادی کا ہر صفحہ اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے لیکن اس وقت مسلم لیگ کے 1941کے سالانہ اجلاس منعقدہ مدراس کی کارروائی یاد آ رہی ہے جو قائداعظم کی زیرصدارت اپریل 1941 میں ہوا اور یہ اجلاس اس لئے اہم تھا کہ یہ قرارداد لاہور (مارچ 1940ء) منظور کرنے کے بعد منعقد ہو رہا تھا۔ اس اجلاس میں مسلم لیگی رہنما عبدالحمید خان چیئرمین استقبالیہ کمیٹی نے مطالبۂ پاکستان کی پرزور حمایت کرتے ہوئے مسلمانوں کو کانگریسی دور حکومت (1937-1939) کی یاد دلائی اور کہا کہ کانگریسی صوبوں میں مسلمان بچوں کو بندے ماترم جیسا مسلمان دشمن ترانہ پڑھنے پر مجبور کیا جاتا تھا اور گاندھی کی تصویر کی پوجا کی جاتی تھی۔ جب کہ مسلمان ہر قیمت پر اپنے مذہب، کلچر اور زبان کو قائم و دائم رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے تصور سے خدشات میں مبتلا نہیں ہونا چاہئے۔ اس سارے عرصے میں قائداعظم بار بار کہتے رہے کہ پاکستان ایک روشن خیال اسلامی جمہوری ریاست ہو گی۔ جس میں انسانی مساوات، سماجی و معاشی عدل اور قانون کی حکمرانی کے تقاضے پورے کئے جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوقومی نظریے اور اسی خواب کی تکمیل کے لئے ووٹ دیئے تھے۔ چنانچہ صورت حال یہ ہے کہ ہم نے نظریہ پاکستان کے پہلے حصے پر عمل کر کے دو قومی نظریے کی بنیاد پر پاکستان تو قائم کر دیا لیکن اس کا دوسرا حصہ تشنہ تکمیل ہے۔ جسے عملی جامہ پہنائے بغیر پاکستان کے تصور کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔
کچھ دوستوں کا اصرار ہے کہ قائداعظم نے پاکستان کے حوالے سے کبھی نظریہ
(Ideology)
کا لفظ استعمال نہیں کیا بلکہ ہمیشہ دو قومی نظریے کی بات کی۔ ان دوستوں سے گزارش ہے کہ قائداعظم کی تقاریر پڑھیں صرف مدراس کے 1941جلسہ عام میں قائداعظم نے مسلم لیگ کے نظریے کے حوالے سے تین بار آئیڈیالوجی کا لفظ استعمال کیا۔ اسی تقریر میں قائداعظم نے واضح طور پر کہا ہماری منزل پاکستان ہے۔ اسی تقریر میں انہوں نے قومی ترقی کے لئے نظام تعلیم وضع کرنے اور معاشرتی ترقی کے لئے حکمت عملی بنانے کی بات کی اور اسی اجلاس میں عبدالحمید خان نے خطبہ استقبالیہ میں قرار دادا لاہور کو قرارداد پاکستان قرار دیا۔ حالانکہ 1940کی قرارداد میں پاکستان کا لفظ استعمال نہیں ہوا تھا۔


کہنے کا مقصد یہ ہے کہ نظریہ پاکستان محض دو قومی نظریے کی بنیاد پر قیام پاکستان تک محدود نہ تھا بلکہ اسے ایک مخصوص ریاست بنانا بھی اس نظریے کا ناگزیر حصہ تھا۔ آئیڈیالوجی کا لفظ تحریک پاکستان کے دوران بار بار استعمال ہوا جس کے ذریعے تصور پاکستان کی وضاحت کی جاتی رہی۔


براہ کرم یہ بات یاد رکھیں کہ پاکستان ایک نظریے کی بنیاد پر قائم ہوا۔ نظریہ پہلے موجود تھا ملک بعد میں معرض وجود میں آیا۔ گویا پاکستان کا جغرافیہ اس کی تاریخ کا مرہون منت ہے۔ میں اس اصول کا قائل ہوں کہ جو قوم اپنی تاریخ فراموش کر دیتی ہے اس کا جغرافیہ اسے فراموش کر دیتا ہے۔ اس لئے جغرافیے کی حفاظت کے لئے نظریے کو زندہ رکھنا ناگزیر ہے۔


میں سمجھتا ہوں کہ نظریہ پاکستان کی ترویج حکومت کا فرض ہے اور اسے نصاب کا حصہ بنانا حکومت پر لازم ہے۔ تصور پاکستان کے شعور کو زندہ رکھنے اور لوگوں کے ذہنوں میں راسخ کرنے کے لئے ذرائع ابلاغ کا استعمال بھی ضروری ہے۔ 14اگست، 23مارچ، 25دسمبر جیسے قومی ایام پر نظریہ پاکستان کی نشرواشاعت ہمارا قومی فریضہ ہے جسے ہمارا میڈیا پوری طرح نہیں نبھا رہا۔ اپنے ملک کی نظریاتی اساس کو مضبوط بنا کر ہی قومی اتحاد اور ملکی استحکام کے مقاصد پورے کئے جا سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہمارے ملک میں ایک لابی موجود ہے جو نظریہ پاکستان کے ضمن میں بدگمانیاں اور شکوک پیدا کرنے میں مصروف ہے۔ ہو سکتا ہے کہ اس لابی کے پس پردہ غیرملکی ہاتھ اور وسائل موجود ہوں۔ ان کی کارستانیوں کا توڑ کرنے کے لئے ایک ’’سیل‘‘ کی ضرورت ہے جو سکالرز پر مشتمل ہو اور میڈیا میں جہاں جہاں نظریہ پاکستان، قائداعظم اور تحریک پاکستان کے حوالے سے ابہام یا کنفیوژن پیدا کیا جائے یہ ’’سیل‘‘ اس کا مدلل جواب دے۔ میرے نزدیک یہ وطن سے محبت اور وفا کا تقاضا ہے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 2495 times

2 comments

  • Comment Link Haroon ur Rasheed Haroon ur Rasheed 07 June 2017

    The best article. Our Nation needs to wake up again for that purpose for which this Islamic state has been built. We need to tell that ideology to the nation again.

  • Comment Link Abbass Abbass 05 June 2017

    Great Article.

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter