ا نتہا پسندی اور بیانئے کی بحث

Published in Hilal Urdu May 2017

تحریر: محمد عامر رانا

انتہا پسندی ایک رویہ ہے اور اس رویے کے بننے میں کئی عوامل کار فرما ہوتے ہیں۔ یہ عوامل اپنی ساخت میں جتنے سادہ لگتے ہیں اتنے یہ ہوتے نہیں ہیں۔ رویے رجحان میں بدلتے ہیں اور رجحان مخصوص بیانیوں پر پروان چڑھتے ہیں۔

 

جب کچھ رجحانات خطرے کی حدوں کو چھونے لگتے ہیں توان کی مختلف سیاسی، سماجی، مذہبی اور نفسیاتی توجیحات کی جاتی ہیں۔ ان موضوعات پر تحقیق مسلسل جاری ہے لیکن فی الوقت یہ یقین کرنے میں وقت درکار ہے کہ وہ کیا عمل ہے جوکسی فرد کی ذہنی کیفیت یکدم تبدیل کردیتا ہے اور وہ دہشت گردی کا ایندھن بننے پر تیار ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ طے شدہ امر ہے کہ ایسے افراد دہشت گردی کے نیٹ ورکس سے منسلک ہونے سے پہلے مذہبی اجتماعیت کا حصہ بن چکے ہوتے ہیں اور عموماً ان کا یہ سفر غیر عسکری مذہبی جماعتوں اور تحریکوں سے شروع ہوتا ہے۔
غیر عسکری مذہبی قوتیں ابہام کا شکار ہیں اور وہ دہشت گردی کی مکمل مخالفت کرنے سے ہچکچاتی ہیں اور اس ابہام کا الزام اپنے اوپر لینے کے لیے تیار نہیں۔ جب دینی مدارس یا ان سے منسلک تنظیموں کے وابستگان دہشتگردی کا ارتکاب کرتے ہیں تو جدید مذہبی ادارے ان سے اپنے آپ کو الگ کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب جدید تعلیمی اداروں سے نکلے ہوئے افراد دہشت گردی کا ارتکاب کرتے ہیں تو مدارس کے وابستگان انگشت نمائی دوسری جانب کرتے ہیں۔


یہ مسئلے کے ادراک سے انکار اور راہ فرار کے سوا کچھ نہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شدت پسندی کا مسئلہ خاصا پیچیدہ ہے اور ریاست اسے فوری حل کرنا چاہتی ہے۔ لیکن یہ حل کیا ہو؟ بات گھوم پھر کر بیانیے پر آ کر ٹک جاتی ہے۔ بیانیے کو ایک موم کی ناک سمجھا جاتا ہے کہ جیسے چاہے موڑ لی یا گھما دی۔ نہ صرف حکومت بلکہ دانشور طبقے کا ایک حصہ بھی اس امر پر یقین رکھتا ہے کہ بیانیے آرڈر پر تیار کیے جا سکتے ہیں۔ گویا جب ایک بیانیے کی افادیت باقی نہ رہے یا اس سے نقصان ہونے لگے تو فوری طور پر اسے نئے بیانیے سے تبدیل کر دیا جائے۔


اس حوالے سے پاکستان میں دو آراء پائی جاتی ہیں ۔ ان میں پہلا خالصتاً مذہبی بیانیہ ہے اور ریاست نہ صرف اسے قبول کرتی ہے بلکہ خود کو اس اقلیم کا محافظ بھی گردانتی ہے۔ دوسرا بیانیہ سیکولر ہے جسے متبادل بیانیہ بھی کہا جاتا ہے جو کہ جدید اور ترقی پسند سماج کا تصور پیش کرتا ہے۔


دلچسپ امر یہ ہے کہ سیکولر طبقے کی جانب سے اس مسئلے کا طویل مدتی حل تجویز کیا جاتا ہے جس میں نصابی اصلاحات سے ثقافتی اظہار اور سماج و ریاست کے باہمی تعلقات میں تبدیلی سمیت بہت سی چیزیں شامل ہیں۔ یقیناًیہ دہشت گردی کے مسئلے کا فوری حل نہیں ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ’’نظریے کی جنگ‘‘میں ریاست مدد کے لئے اپنے مذہبی نظریاتی اتحادیوں کی جانب واپس ہو لیتی ہے۔

 

ریاست ایک ایسے عمل کا اہتمام کر سکتی ہے جہاں سماج کے مختلف حصے (مختلف النوع رائے اور مختلف ثقافتی، سماجی و شعوری پس منظر کے حامل)باہم گفت و شنید کر سکتے ہیں۔ حکومت ایک نیشنل ڈائیلاگ فورم بھی قائم کر سکتی ہے۔ اس سے سکالرز، ماہرین تعلیم، سیاسی و مذہبی رہنماؤں اور پالیسی سازوں کو تمام اہم مسائل پر گفت وشنید اور ایک دوسرے کا نقطۂ نظر سمجھنے کے لئے پلیٹ فارم میسر آ جائے گا۔

دوسری جانب مذہبی طبقہ مقتدر اشرافیہ کا حصہ بن کر اپنی خدمات پیش کرتا ہے۔ تاہم مذہبی رہنما اس مسئلے کا ٹھوس حل پیش کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ دہشت گردی کے واقعات کی محض’مذمت‘اور ذمہ داروں کو ’بھٹکے ہوئے‘ قرار دینے سے مقصد پورا نہیں ہوتا۔ یہی نہیں بلکہ اس سے شدت پسندانہ نظریات کی کشش کم کرنے کے لئے موثر متبادل بیانیہ تشکیل دینے میں بھی کوئی مدد نہیں ملتی۔


شدت پسندوں کے بیانیے کی طاقت ان کی مذہبی دلیل یا اسلام کی مخصوص تشریح میں چھپی ہے۔ اس لئے مذہبی انتہاپسندوں کی اصل طاقت ان کی نظریاتی ساخت میں پوشیدہ ہے جس کی بنیاد مذہبی حجت پر استوار ہے اور اسے سیاسی استدلال سے تقویت ملتی ہے۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو یہ صرف سطحی بیانیوں کی آویزش نہیں ہے بلکہ اس کا مذہبی استدلال یا اسلامی احکامات کی تشریح سے گہرا تعلق نظر آتا ہے۔ مذہبی اشرافیہ متبادل بیانیوں کے لئے تیار نہیں ہے یا اس میں نیا بیانیہ پیش کرنے کی اہلیت ہی نہیں پائی جاتی۔حکومت نے نیشنل ایکشن پلان میں نفرت پر مبنی تقاریر پر پابندی کے نکتے کو درست یا غلط طور پر انتہاپسندی کے خاتمے کے اقدامات کا متبادل سمجھا ہے۔ تاہم غور کیا جائے تو قانون نافذ کرنے والے اداروں سے ربط اور ان پر اعتماد کی کمی تمام مسائل کی جڑ ہے جسے تاحال کمزور نہیں کیا جا سکا۔ یہی خلا پر کرنے کے لئے ’نیکٹا‘کا قیام عمل میں آیا تھا مگر حکام دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سامنے آ کر لڑنے کے بجائے بیانیے کنٹرول کرنے کو ترجیح دیتے ہیں۔


عموماً ’نیکٹا‘کے غیرموثر ہونے کے لئے سلامتی اور قانون نافذ کرنے والے طاقتور اداروں کی جانب سے عدم تعاون کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے مگر خود حکومت نے بھی ’نیکٹا‘کو مناسب وسائل اور اعانت مہیا نہیں کی۔ اگر ایسا ہوتا تو دہشت گردی کے خلاف بنایا گیا یہ ادارہ فعال اور موثر کردار ادا کر سکتا تھا۔

 

دلیل کا مقابلہ صرف دلیل سے ہی ممکن ہے۔ یوں واضح اور معقول استدلال تخلیق ہو گا اور موثر متبادل بیانیوں کو فروغ ملے گا۔تاہم دلائل سے دہشت گردی کا فوری قلع قمع ممکن نہیں ہے۔ خالصتاً سلامتی کے تناظر میں حکومت کو جنگی محاذ پر بھی ہمہ وقت چوکس رہنا ہو گا۔ تاہم دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں صرف فوجی کارروائی پر توجہ مرکوز رکھنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ’ نیکٹا‘ نے اپنے لئے یہ انتہائی مشکل کام منتخب کرتے ہوئے یہ غلط اندازہ لگایا تھا کہ اسے متبادل بیانیے تخلیق کرنے میں کسی ادارے کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا نہیں ہو گا۔
بیانیے نعرے یا جھنکار نہیں ہوتے۔ بیانیے کسی معاملے پر وسیع تر مطابقت اور کسی قوم کی سوچ کا اظہار ہوتے ہیں۔ ان کی جڑیں کسی قوم کی تہذیبی گہرائی اور افراد و سماج کے رویوں میں پیوست ہوتی ہیں مگر اس سے بھی زیادہ اہم بات یہ ہے کہ بیانیے کی بنیاد ایک معقول ساخت پر قائم ہوتی ہے۔ یہ ساخت یا ڈھانچہ مخصوص اقدار کا حامل ہوتا ہے جن کو اپنانے سے رویے تشکیل پاتے ہیں اور انہیں رہنمائی ملتی ہے۔ ایسے کاموں میں ریاست کا بھی اہم کردار ہے مگر اس کے لئے سماج کی رضامندی اور اتفاق رائے بھی شامل ہوتے ہیں۔


ریاست ایک ایسے عمل کا اہتمام کر سکتی ہے جہاں سماج کے مختلف حصے (مختلف النوع رائے اور مختلف ثقافتی، سماجی و شعوری پس منظر کے حامل)باہم گفت و شنید کر سکتے ہیں۔ حکومت ایک نیشنل ڈائیلاگ فورم بھی قائم کر سکتی ہے۔ اس سے سکالرز، ماہرین تعلیم، سیاسی و مذہبی رہنماؤں اور پالیسی سازوں کو تمام اہم مسائل پر گفت وشنید اور ایک دوسرے کا نقطۂ نظر سمجھنے کے لئے پلیٹ فارم میسر آ جائے گا۔
دلیل کا مقابلہ صرف دلیل سے ہی ممکن ہے۔ یوں واضح اور معقول استدلال تخلیق ہو گا اور موثر متبادل بیانیوں کو فروغ ملے گا۔تاہم دلائل سے دہشت گردی کا فوری قلع قمع ممکن نہیں ہے۔ خالصتاً سلامتی کے تناظر میں حکومت کو جنگی محاذ پر بھی ہمہ وقت چوکس رہنا ہو گا۔ تاہم دہشت گردی اور انتہاپسندی کے خلاف جنگ میں صرف فوجی کارروائی پر توجہ مرکوز رکھنے سے یہ مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ اس کے بجائے انسداد دہشت گردی کے صوبائی محکمہ جات کو بہرصورت مزید ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہو گا۔ اس مقصد کے لئے انسداد دہشت گردی کے سلسلے میں کام کرنے والے شعبہ جات کو مزید انسانی وسائل، فنڈ، تربیت اور سب سے بڑھ کر قانون نافذ کرنے والے دوسرے اداروں سے تعاون درکار ہو گا۔


پہلے معاملے کا تعلق انتہا پسندی کے بدلتے ہوئے رجحانات سے ہے بالائی متوسط طبقات کے نوجوانوں میں تعلیمی اصلاحات، بالخصوص نصاب کے کلیدی مقاصد کا ازسرنو جائزہ، کسی بھی سی وی ای کاؤنٹر وائیلنٹ ایکسٹریم ازم
Counter Violent Extremism
پالیسی کا انتہائی اہم عنصر ہوتے ہیں۔ اس موضوع پر بہت سا علمی کام ہوچکا ہے لیکن تیزتر اور مستقل تحقیق اور تعلیمی مراکز کے قیام کی ضرورت باقی ہے۔ ماہرین تنقیدی سوچ کی تعمیر کو تعلیم کا بنیادی مقصد مانتے ہیں۔ شہریت اور’ سوک ایجوکیشن‘ کو بنیادی تعلیم (چاہے نجی یا سرکاری سکول ہو یا مدرسہ)کے دوران نصاب کا لازمی حصہ ہونا چاہئے۔ طلبہ کو اچھا شہری بنانے پر زور دیا جانا چاہئے اور آئین اور قانون کی پاسداری کو مرکزی اہمیت دی جانی چاہئے۔
کسی بھی سی وی ای میں داخلی سکیورٹی اصلاحات کو مرکزی اہمیت دی جانی چاہئے۔ یہاں ہمیں اہم سٹریٹجک ترجیحات اور ان کے داخلی سکیورٹی سے تعلق کے دوبارہ جائزے کی ضرورت ہوگی۔ آئین کے آرٹیکل 256 کے مکمل نفاذ کی ضرورت ہے جس میں واضح کہا گیا ہے کہ کوئی نجی تنظیم قائم نہیں کی جائے گی جو کسی فوجی تنظیم کی حیثیت سے کام کرنے کے قابل ہو، ایسی ہرتنظیم غیر قانونی ہوگی۔ اسی کے ساتھ قومی دھارے میں پرتشدد نظریات کو فروغ دینے والے افراد یا گروہوں کو سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لئے سرکاری اور غیرسرکاری سطح پر اقدامات اٹھائے جانے چاہئیں۔


نسلی و سیاسی، سماجی و ثقافتی اور مذہبی اتصال کے حوالے سے پاکستان کی صورت حال مخصوص ہے۔ ہمارے لئے آئین پاکستان سے وفاداری کی بہت اہمیت ہے۔ آئین ایک جامع عمرانی معاہدہ ہے جس پر مختلف نقطۂ نظر سے تعلق رکھنے والوں کا اتفاق ہے۔ ریاست اور سماج دونوں کو اس سے رہنمائی لینی چاہیے۔ پاکستان کے مثبت بیانیے کا ماخذ اسی کو ہونا چاہئے اور آئین کو دھیرے دھیرے تعلیمی نصاب کا حصہ بنایا جانا چاہئے۔
یہ محض چند تجاویز ہیں۔ ماہرین اور دیگر افراد اس میں مزید حصہ ڈال سکتے ہیں اور بہترمشورہ دے سکتے ہیں۔ مشاہدات اور تجاویز جمع کرنے کے لئے حکومت کو کوئی طریق کار مرتب کرنا ہوگا۔

 

مضمون نگار ایک معروف تجزیہ نگار اور پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پیس سٹڈیز کے ڈائریکٹر ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 502 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter