پُرتشدد انتہا پسندی کی روک تھام سی وی ای

Published in Hilal Urdu May 2017

تحریر:خورشیدندیم

پُر تشدد انتہا پسندی کا رد
(Counter Violent Extremism)
اب ایک سائنس بن چکا ہے۔ سماجی و سیاسی استحکام کو درپیش انتہا پسندی کا چیلنج نسبتاً نیا ہے۔ ماضی بعید میں اگرچہ اس کی مثالیں ملتی ہیں لیکن دوسری جنگِ عظیم کے بعد جو نئی دنیا وجود میں آئی، اس میں سماجی مسائل کی نوعیت مختلف ہو گئی ہے۔ بالخصوص جمہوری انقلاب کے بعد، جب آزادئ رائے کا حق عالمی سطح پر تسلیم کر لیا گیا اور حکمرانوں کے انتخاب کا حق عوام کو منتقل ہو گیا تو بطور ہتھیار تشدد کی پذیرائی کا امکان ختم ہو گیا۔


تشدد انقلابی تحریکوں کا ہتھیار رہا ہے۔ انہوں نے ’’ سٹیٹس کو ‘‘ کو توڑنے کے لئے، غور وفکر کے بعد، تشدد کو بطورحکمتِ عملی اختیار کیا۔ ماؤزے تنگ اور لینن نے اپنی انقلابی حکمتِ عملی کے تحت تشدد کا ذکر کیا۔اس کی تائید میں دلائل دئیے اور خون بہانے کو انقلاب کی ایک ناگزیر ضرورت قرار دیا۔ یہی وجہ ہے کہ اشتراکیت کے زیر اثر دنیا بھر میں جو انقلابی تحریکیں برپا ہوئیں انہوں نے اعلانیہ تشدد کا راستہ اختیار کیا۔ یہ تشدد اگرچہ ریاست کے خلاف تھا لیکن بالواسطہ طور پراس کا ہدف سماج اور عوام بنتے تھے۔


اشتراکیت کی طرح ،اسلام کے نام پرجب انقلابی تحریکیں اٹھیں تو انہوں نے بھی تشدد کو اختیار کیا۔ مصر سے الجزائر تک ہمیں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں جب اسلامی تحریکوں نے تشدد کا راستہ اپنایا۔ اشتراکیت میں چونکہ مذہب کی نفی کی جاتی ہے، اس لئے اس کے پُر تشدد بیانیے میں طبقاتی تقسیم کو بنیادی دلیل بنایا گیا۔ ایک بورژوائی طبقے سے نجات کو عوامی فلاح کے لئے ناگزیر سمجھا گیا اور اس کے لئے تشدد کو ناگزیر کہا گیا۔ اسلامی تحریکوں کا بیانیہ مذہبی تھا۔ انہوں نے جہاد کے تصور کی تعبیرِ نو کرتے ہوئے ، ایک نئی فقہ ایجاد کی اور تشدد کو مذہبی جواز فراہم کرتے ہوئے، اسے بطور حکمت عملی اختیار کر لیا۔


1990ء کی دہائی میں، دنیا بھر میں پر تشدد واقعات میں اضافہ ہونے لگا۔ خلیج کی پہلی جنگ کے نتیجے میں کچھ انتہا پسند گروہ سامنے آئے۔ ان میں سے اکثر وہ تھے جو سوویت یونین کے خلاف افغانستان میں متحرک رہ چکے تھے۔ سوویت یونین کے خلاف ان کی جد و جہد کو بین الاقوامی تحفظ حاصل تھا کیونکہ عالمی سطح پر مختلف ریاستوں نے مل کر سوویت یونین کو شکست دینے کی حکمت عملی بنائی اور اس مقصد کے لئے مسلح تنظیموں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ 1990ء کی دہائی کے بعد انہیں عالمی سرپرستی حاصل نہ رہی کیونکہ عالمی قوتوں کے مقاصد اور ان تحریکوں کے مقاصد و اہداف یکساں نہیں رہے۔

 

putashadad.jpgتشدد پر ریاست کی اجارہ داری کو ہمیشہ قبول کیا گیا ہے۔مذہب کے علاوہ سیکولرتصورِ ریاست کے تحت بھی،ریاست کے لئے تشدد کو جائزقراردیاجاتا ہے۔ مثال کے طور پر ریاست اگر کسی کے ہاتھ میں بندوق پکڑا دے تو اس حق کو چیلنج نہیں کیا جاتا۔ تاہم ریاست یہ کام کسی قانون اور ضابطے کے تحت کرتی ہے، جیسے فوج کے ادارے کا قیام یا پولیس کو مسلح کرنا۔سوویت یونین کے خاتمے کے بعد، جب غیرحکومتی مسلح تحریکوں کو ریاستوں نے قبول کرنے سے انکارکیا تو انہوں نے مزاحمت کی اور اب ریاستی نظام ان کا ہدف بن گیا۔ اس کو روکنے کے لئے ریاستوں نے کئی طرح کی حکمت عملی اختیار کی۔ اسے ردِ پرتشدد انتہاپسندی
(Counter Violent Extremism)
کا نام دیا گیا۔
پر تشدد انتہا پسندی کو روکنے کے لئے مختلف ممالک نے جو لائحہ عمل اختیار کیا، اُس کے کئی ماڈل ہیں۔ امریکہ کا اپنا ماڈل ہے، برطانیہ کا اپنا۔ دنیا کے مختلف ممالک نے اپنے مقامی حالات کے پیش نظر اس مسئلے کے اسباب تلاش کئے۔ پھر ان اسباب کی روشنی میں اس کا علاج دریافت کیا۔ ان ممالک میں مسلم ممالک بھی شامل ہیں اور بعض دیگر بھی۔ چونکہ اسلام کے نام پر ہونے والی دہشت گردی ایک عالمی مسئلے کی صورت اختیار کر چکی ہے ، اس لئے ہر ماڈل میں مذہب بطور حوالہ موجود ہے۔


پاکستان میں اس وقت جو تشدد ہے وہ دو طرح کا ہے۔ ایک وہ جو مقامی حالات کے زیر اثر پیدا ہوا اور اس کے اسباب سیاسی وسماجی ہیں۔ اس کے مظاہرکراچی اور بلوچستان میں دیکھے جا سکتے ہیں۔اس میں شبہ نہیں کہ پاکستان مخالفت خارجی قوتوں نے اس سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی لیکن اس کی بنیاد ملکی حالات بنے۔ ایک تشدد وہ ہے جو ملک گیر ہے اور اس کی بنیاد مذہب کی ایک خاص تعبیر پر ہے۔تشدد کی ان دو صورتوں کے توڑکے لئے ،ہمیں دو طرح کی انسدادِ تشدد
( Counter Violence)
حکمت عملی اختیار کرنا پڑے گی۔ کراچی کا مسئلہ جرم اور سیاست کا یک جا ہونا ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ سیاسی عمل کو بحال کرتے ہوئے جرم سے نمٹا جائے اور قانون کی حکمرانی کو یقینی بنایا جائے ۔ بلوچستان میں محرومیوں کی تلافی اورجائز مطالبات پورا کرتے ہوئے لوگوں کو جمہوری جد و جہد کا راستہ دکھانا ضروری ہے۔ جمہوریت در اصل تشدد کا راستہ روکتی ہے۔


جہاں تک مذہبی تشدد کا معاملہ ہے، وہ ایک عالمگیر مسئلہ بن چکا ہے اوراس کی بنیادیں عالمی سیاست میں ہیں۔ دین کی جو تعبیر اس مقصد کے لئے اختیار کی گئی ہے، اس میں جدید قومی ریاست کی نفی کرتے ہوئے مسلمانوں کو عالمی سطح پر ایک سیاسی اکائی تسلیم کیا گیا ہے۔ یوں ان تمام تنظیموں اور افراد کے مابین رسمی یا غیر رسمی اتفاقِ رائے اور تعاون وجود میں آ گیاہے جو اس وقت دنیا کے مختلف حصوں میں متحرک ہے۔ یہ عوامل پاکستان میں بھی موجود ہیں اور ہمارے نظمِ اجتماعی کے لئے خطرہ بن چکے ہیں۔


اس تشدد کی روک تھام کے لئے دو کام اہم ہیں۔ ایک یہ کہ اس نقطۂ نظر کی فکری بنیادوں کو چیلنج کیا جائے اوریہ بتایا جائے کہ کس طرح دین کی تعلیمات سے غلط استدلال کیا گیا ہے۔اس کے ساتھ یہ بتایا جائے کہ دورِ جدید میں قومی ریاستوں کے وجود کو بین الاقوامی معاہدوں کا تحفظ حاصل ہے اور ہم ان معاہدوں میں شریک ہیں۔ اس لئے ہم ان کو ماننے کے پابند ہیں۔ دوسرا یہ کہ دین میں ایسا حکم موجود نہیں ہے جو مسلمانوں کے لئے یہ لازم قرار دیتا ہو کہ وہ عالمی سطح پر ایک ریاست کی صورت میں منظم ہوں۔ یہ چند بنیادی اجزاء ہیں ورنہ یہ تعبیر بحیثیت مجموعی محلِ نظر ہے۔اس دینی تعبیر کا جائزہ لینے اور اس کا جوابی دینی بیانیہ مرتب کرنے کی ضرورت ہے۔


دوسرا کام یہ ہے کہ جن لوگوں نے تشدد کو بطور حکمت عملی اختیار کیا ہے، ان کے خلاف اقدام کیا جائے۔ یہ اقدام ظاہر ہے کہ ریاست ہی کر سکتی ہے۔ ضربِ عضب اور پھر ردالفساد کی مہم اسی ریاستی اقدام کے مظاہر ہیں۔ اﷲ کا شکر ہے کہ ہمیں اس میں کامیابی ہوئی ہے اور ایسے بہت سے لوگوں کا خاتمہ ہو گیا ہے جنہوں نے معاشرے میں تشدد کو پھیلایا اور انسانی جان و مال کو خطرے میں ڈالا۔


اس تجربے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب تک مذہبی انتہا پسندی کا بیانیہ ختم نہیں ہوتا، تشدد کے خاتمے کا کوئی امکان نہیں ہے۔اس کے لئے ہمیں ایک واضح حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی۔ پہلے مرحلے میں ہمیں یہ سمجھنا ہے کہ یہ بیانیہ کیا ہے اور اس کے بعد اگلے مرحلے میں اس کا جوابی بیانیہ تیار کرنا ہے۔اس باب میں یہ بات پیشِ نظر رہنی چاہئے کہ ہم اس کوشش میں کوئی نیا دین ایجاد نہیں کر رہے۔اسلام وہی ہے جو اللہ کے آخری رسول ﷺ کی سند سے ثابت ہے۔ ہمیں صرف یہ بتانا ہے کہ کس طرح اس دین کی غلط تعبیر کی گئی ہے۔ اس سے اگلا مرحلہ اس بیانیے کی اساس پر دینی دعوت وتعلیم کے اداروں کی تشکیلِ نو ہے۔یہ مراحل طے کر نے کے بعد ہی ،ایک واضح ایکشن پلان بروئے کار آسکے گا۔
اس وقت نیشنل الیکشن پلان کے تحت نیشنل کاؤنٹرٹیررازم اتھارٹی
(NECTA)
کے نام سے ادارہ قائم ہے جس کے اہتمام میں ایک جوابی بیانیے کی تشکیل کا کام جا ری ہے۔اس میں سماج کے مختلف طبقات کے نمائندے شریک ہیں۔تاہم اس سے پہلے اس بیانیے کے جائزے کی ضرورت ہے جو انتہا پسندی کا باعث ہے۔اِس وقت یہ اس طرح زیرِ بحث نہیں جیسے ہو نا چاہیے۔اس سارے عمل کو نتیجہ خیز بنانے کے لیے چند اقدامات ناگزیر ہیں۔


1۔ ایک فکری ادارے کا قیام جو انتہا پسندی کے موجودہ بیانئے کا ہمہ جہتی تجزیہ کرے۔اس کے تحت ان سوالات کے جوابات تلاش کیے جائیں:
اس بیانیے کا دینی استدلال کیا ہے؟اسے دین کے بنیادی ماخذ سے کس طرح اخذ کیا جا تا ہے؟
ب۔ مسلم تاریخ کے کس عہد میں اس کا آغاز ہوا اور وہ کون کون سے داخلی اور خارجی عوامل تھے جنہوں نے اس بیانیے کو جنم دیا؟
ج۔ یہ بیانیہ مقبول کیسے ہوا؟اس کے لیے کیا حکمتِ عملی اختیار کی گئی ؟
د۔ اس بیانیے کے فروغ میں روایتی سماجی دینی اداروں کا کردار کیا رہا؟
ہ۔ریاست اسے روکنے میں کیوں کامیاب نہ ہو سکی؟
و۔ جدید تعلیم کے ادروں تک یہ بیانیہ کیسے پہنچا اور انتہا پسند تنظیموں کو کیسے یہاں سے افرادی قوت میسر آئی؟
اس کام کے لیے ہمیں معاصر معاشروں کے تجربات سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔جیسے یہ جانا جائے کہ 9/11کے بعد امریکی حکمتِ عملی کیا تھی۔اس ضمن میں9/11کمیشن کی رپورٹ اہم ہے۔
2۔ یہ فکری ادارہ ان جوابی بیانیوں کا جائزہ لے جو مختلف اہلِ علم نے اپنے طور پر پیش کیے۔ان اہلِ علم کو مدعو کیا جائے اور ان کے استدلال کو پوری طرح سمجھا جائے۔
3۔ اہلِ علم کی مدد سے ایک جوابی بیانیہ تیار کیا جائے۔
4۔ اگلے مر حلے میں ابلاغ کی حکمتِ عملی تیار کی جائے۔اس میں اس سوال کا جواب تلاش کیا جائے کہ مسجدو مدرسہ اور میڈیا جیسے قدیم و جدید ابلاغی ا داروں کو اس جوابی بیانیے کی ترویج کے لیے کس طرح استعمال کیا جا سکتا ہے؟
5۔ موجودہ دینی و عمومی تعلیمی نظاموں کا جائزہ لیا جائے اوریہ دیکھا جائے کہ جوابی بیانیے کے نکات کس طرح نصاب میں شامل کیے جا سکتے ہیں۔
6.۔ مسجداور مدرسے کے نظام کو ایک ریاستی نظم کے تابع کیا جائے تاکہ ان اداروں کا سوئے استعمال روکا جا سکے۔
7۔ تدریجاً بارہ سال کی بنیادی تعلیم کو یکساں بنا دیا جائے۔اس کے بعد میڈیکل اور انجینئرنگ کی طرح دینی تعلیم کے تخصص
(specialization)
کے ادارے قائم ہوں۔
خلاصہ یہ ہے کہ جوابی بیانیے کی تشکیل کے بعد ،اس کی اشاعت اورفروغ کے لیے ہمیں اہلِ دانش کی مدد سے جہاں ایک موثرابلاغی حکمتِ عملی اختیار کرنا ہوگی وہاں نظام تعلیم کوبھی نئے خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔

 

مضمون نگار معروف دانشور ،سینئر تجزیہ نگار اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 516 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter