آنکھیں کیوں نم ہو جاتی ہیں

Published in Hilal Urdu April 2017

23مارچ کی پریڈکا معاملہ بھی عجیب ہے۔ پریڈ کرنے والے اور دیکھنے والے ایک ہی جذبے کے مسافر ہوتے ہیں۔ جو پریڈ میں حصہ لیتے ہیں۔ وہ اپنے تصور کی آنکھ سے اپنے ہر ایکشن کو دشمن کے لئے بھرپور جواب کا ایک پیغام اور دوستوں کے لئے محبت، قربانی اور فخر کا مقام سمجھتے ہیں یہ سارا سفر جذبے کا ہے۔ وطن سے محبت ایمان کا حصہ ہے اور فوج سے محبت جسم سے روح تک کے سارے سفر کا احاطہ کرتی ہے۔ فوجی کے دل و دماغ میںیہ دونوں جذبے یوں گڈ مڈ ہوتے ہیں کہ ان کی علیحدہ علیحدہ شناخت ختم ہو جاتی ہے۔ ملک اور فوج ، فوج اور ملک بس یہ دو شناختیں مل کر ایک ہو جاتی ہیں اور فوجی کی اپنی شناخت ختم ہو جاتی ہے۔ بس صرف جذبہ زندہ رہ جاتا ہے۔
انسان محبت کرتا ہے کہ زندہ رہ جائے اور زندگی حسین ہو جائے۔ فوجی محبت کرتا ہے کہ زندگی قربان کر دے اور محبوب تا قیامت زندہ رہ جائے۔ ایسی محبت کی مثالیں کہاں ملیں گی کہ جسم کو توانا رکھاجاتا ہے کہ قربانی کے ثمر رائیگاں نہ جائیں۔ قربانی کرنے والا اپنے لہو کا خراج صرف کامیابی چاہتا ہے اپنے ملک کی کامیابی۔ اور اگرکامیابی ممکن نظر نہ آتی ہو اور موت کا سامنا ہو تو وہ خوشی خوشی موت کو گلے لگاتا ہے۔ اسے اپنی جدوجہد پر فخر ہوتا ہے کہ
Honour
اور
Pride
کے عَلم اس کی موت تک بلند تھے۔
یہ جذبے، یہ لوگ، یہ جسم، یہ آنکھیں یہ حوصلے سب 23مارچ کی پریڈمیں زندہ شکل میں ہوتے ہیں۔ مگر وقت پڑنے پر یہ ملک کے لئے اپنی آخری قربانی سے بھی چنداں دور نہیں ہوتے۔ ایسے لوگوں کو دیکھ کر آنکھیں ہر لمحہ نم نہ ہوں تو اور کیا ہو۔ فوجی کب روتا ہے۔ شاید بہت کم، ہاں مگر وطن سے محبت کے جذبے ضرور اس کی آنکھوں کو ہمیشہ نم کرتے ہیں۔
(طاہر محمود)

Read 1096 times

1 comment

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter