آزادی کا تحفظ ۔۔۔ سب کی ذمہ داری

Published in Hilal Urdu April 2017

معروف اداکارہ اور یومِ پاکستان پریڈ کی کمنٹیٹر فرح حسین کی وطن سے محبت میں لبریز ایک تحریر

23مارچ کا دن تاریخی اہمیت کے ساتھ ساتھ ایک جذباتی وابستگی کا دن بھی ہے۔ بچپن میں سکول میں 23مارچ کی مناسبت سے تقاریری مقابلوں کا انعقاد ہوتا تھا جس میں 23مارچ 1940 کو ایک نظرئیے کی ابتداء اور پھر 7برس بعد اس نظریاتی مملکت کا وجود میں آنا موضوع سخن ہوتا۔ جیسے جیسے بڑی ہوتی گئی احساس ہوا جس نظریئے کا ذکر ہم سن سن کر جوان ہوئے وہ شاید اپنا وجود یا اپنی اہمیت کھو بیٹھا ہے۔ جس کو دیکھو وہ انسانیت کا، سرحد کے غیر اہم ہونے کا اور دوستی کا گیت گاتا نظر آتا ہے۔ ان باتوں سے کسی ذی عقل انسان کو انکار نہیں ہو سکتا لیکن سوال صرف ایک ہے کس قیمت پر اور یہی نقطہ اختلاف ہے۔


23مارچ کی سب سے بڑی مصروفیت صبح سے ہی پاکستان ٹیلی ویژن پر نشر کی جانے والی پریڈ ہوتی تھی۔ ایک جوش و خروش اور ولولہ پیدا ہوتا تھا مارچ پاسٹ اور سلیوٹ کرتے ہوئے فوجیوں کو دیکھ کر ایک احساس تفاخر پیدا ہوتا تھا اور احساس ہوتا تھا کہ ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں۔


اس پریڈ کے انعقاد کا سلسلہ موقوف ہو گیا اور 23مارچ کا دن بھی بہت سے چھٹی والے دنوں میں سے ایک ہو گیا۔ یہ چھٹی کیوں ہے؟ اس دن کی اہمیت کیا ہے؟ کیسے ہم نے اس ولولہ اس جذبہ کو زندہ رکھنا ہے جو ہمارے اسلاف کی میراث اور ہمارے تشخص کی بنیاد ہے؟ نہ تو کاروباری سکولز کے پاس اس کے لئے وقت اور نہ ہی مختلف لبرل و آزادئ اظہار کے قائل ٹی وی چینلز کے ہاں اس کی ضرورت۔ ہمارے ہاں وطن دوستی کے جذبات اور اظہار کو ایک خاص انداز سے دیکھا جاتا ہے اور وطن مخالف نظریات کی تشہیر کو آزادی رائے واظہار مانا جاتا ہے۔ جس نے ہمارے بچوں کے ذہنوں میں اپنی شناخت کے اعتبار سے بہت سے ایسے سوال پیدا کر دیئے ہیں جو درست نہیں ہیں۔


آج بچے وہ ملی جذبہ محسوس نہیں کر پاتے جو ہمارے بچپن کا خاصہ تھا۔ کیونکہ آج بچوں کو صرف یہ پتہ ہے کہ ہمارے ملک میں ہر ایک کرپٹ ہے۔ ہر کام رشوت سے ہوتا ہے اور ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون ہے۔ جس نے ایک خاص طرح کے احساس کمتری کو جنم دیا ہے اور جذبہ سرشاری کو ختم کر دیا ہے اور جس ملک کے جوان اپنے پرچم، اپنے ملک پر فخر کرنے کا جذبہ کھونے لگیں اس ملک کو پھر بیرونی دشمنوں سے نہیں اندرونی خلفشار سے زیادہ خطرہ رہتا ہے۔مارچ 2015میں دس سال کے تعطل کے بعد 23مارچ کو پریڈ کے دوبارہ انعقاد نے اس دن کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کیا اوراب ہر سال منعقدہونے والی یہ پریڈ صرف افواج پاکستان کے لئے نہیں بلکہ پوری قوم کے لئے تجدید عہد کا دن ہے۔


کمنٹری بوتھ میں بیٹھ کر افواج پاکستان کے جوانوں کو ’’اپنی قوت اپنی جان جاگ رہا ہے پاکستان‘‘ اور ’’اے مرد مجاہد جاگ ذرا اب وقت شہادت ہے آیا‘‘ پر مارچ پاسٹ کرتے دیکھا۔ اس تقریب کا حصہ بننا میرے لئے فخر اور اعزاز کی بات ہے۔ میں جانتی ہوں کہ ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے ساتھ ساتھ قوم کی نظریاتی اساس اور وحدت کا احساس اجاگر کرنا بھی اہم ہے۔ یہ شیرجوان جو کھلے قرآن کے سامنے ہاتھ اٹھا کر وطن کی حرمت اور دفاع کی خاطر اپنی جان تک قربان کرنے کا عہد کرتے ہیں انہیں دیکھ کر میرے دل سے ایک ہی دعا نکلتی ہے۔


’’میریا شیر جواناں تینوں رب دیاں رکھاں۔‘‘
میں کیوں نہ اپنی قوم کے ان بیٹوں پرفخر کروں کہ یہ وہ جوان ہیں جو دفاعِ وطن کے لئے جان کی بازی لگادینے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ پریڈ کی کمنٹری کا ایک ایک لفظ ادا کرتے ہوئے مجھے یوں محسوس ہورہا تھا جیسے میں اپنے مجاہدوں کے شانہ بشانہ اپنے وطن کی سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ انجام دے رہی ہوں۔ پریڈ کے وہ لمحے مجھے میرے ہونے کا یقین دلارہے تھے۔ میری آنکھوں میں فخر کے آنسوتھے اور لفظوں میں بلا کی جرأت اور شجاعت تھی۔ یقیناًپریڈ کے یہ لمحات میری زندگی کے انمول خزانوں میں سے ایک تھے کہ مجھے یوں لگا کہ آج میں بھی اپنے وطن اور اپنی قوم کے لئے کوئی ایسا کام کررہی ہوں جس پر میں باقی زندگی میں فخر کرتی رہوں۔

 
Read 1357 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter