تحریر: مجاہد بریلوی

اسلام آباد سے پاکستان کے ایک معتبر انگریزی اخبار کی خاتون نمائندہ جنہوں نے اپنا نام ’’صنم‘‘ بتایا۔ فون پر بڑی دھیمی مگر
Pure English Accent
میں جو کچھ کہا اُس کا مطلب یہ سمجھ میں آیا کہ ہم آپ سے کتابوں کے بارے میں گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔ حیرت ہوئی کہ ٹیلی ویژن پر گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے آواز لگانے والے ٹی وی اینکر سے ملک کے انتہائی سنجیدہ اخبار کی نمائندہ کتاب کے حوالے سے گفتگو کرنا چاہتی ہیں۔ فی زمانہ ہمارے آزاد الیکٹرانک میڈیا کے اینکروں کاجو ’’حال احوال‘‘ ہے اور جس میں خود میں بھی شامل ہوں۔ اُس میں کہاں کتاب پڑھنا کہاں لکھنا۔۔ زبانیں اتنی بدزبان بلکہ بد لگام ہو چکی ہیں۔ اور جو بازاری زبان میں بک بھی رہی ہیں تو کسے فرصت اور ضرورت کہ کتاب خریدے اور پڑھے۔یہ ساری تمہید باندھنے کا سبب یہ ہے کہ خیرسے عزت سادات رہ گئی یعنی ہم نے ماضی حال میں جن کتابوں کے اوراق اُلٹے اُن پر جو سیر حاصل گفتگو ہوئی اُسے اگلے دن پرنٹ کی صورت میں

دیکھ کر خوشی ہوئی کہ
شہر میں اعتبار ہے اپنا
مہ کدے میں ادھار ہے اپنا

پہلا سوال تو یہی ہوا کہ ان دنوں کون سی کتاب زیرِ مطالعہ ہے؟ اب ادھر ہماری یہ عادت ہوگئی ہے کہ دن بھر کی مشقت کے بعد رات کے دوسرے پہر میں میز پر دھری کتابوں کو ٹٹولنا شروع کرتے ہیں۔ اور ذہنی کیفیت سے ہم آہنگ کتاب اُٹھا کر کوشش ہوتی ہے کہ اُسے اختتام تک پہنچایا جائے مگر یہ ذرا کم ہی ہوتاہے۔ مگر اپنی عزیز دوست اور انتہائی پڑھی لکھی ادیبہ اور شاعرہ ’’فہمیدہ ریاض‘‘کی حال ہی میں آکسفورڈ سے شائع ہونے والی کتاب ’’تم کبیر‘‘کے چند اوراق اُلٹنے کے بعد ہی آنکھیں نم ہوجاتی ہیں اور یوں پھر کسی دوسری کتاب کی طرف ہاتھ نہیں جاتا ہے۔ ’’تم کبیر‘‘ فہمیدہ ریاض کی وہ طویل نظم ہے جو انہوں نے اپنے بیٹے کے نام لکھی ہے۔ جو 2010 میں امریکہ میں ایک تالاب میں ڈوب گیا تھا۔ کسی ماں کا بیس اکیس سال کا جوان بیٹا اُس سے اچانک چھن جائے تو جس کرب و آلام سے وہ گزرتی ہوگی اُس کا بس تصور ہی کیا جاسکتا ہے اُس کا بیان ممکن نہیں۔ میں خود اس تجربے سے گزرا ہوں۔ بڑے بھائی کا انتقال ہوا تو میری والدہ محترمہ کو ایک طویل چُپ لگ گئی تھی۔ مگر فہمیدہ کی شاعرانہ عظمت اورتخلیقی صلاحیت دیکھیں کہ انہوں نے اس ’ذاتی‘غم کو ایک بڑی یادگاری تخلیق میں ڈھال دیا۔

 

kitabedostan.jpgدوسرا سوال ہوا ایسی کون سی کتاب ہے جسے آپ ختم نہیں کر پاتے؟ میں نے انتہائی تفصیل سے بتایا کہ شاعر مشرق علامہ اقبال کی ذاتی زندگی پر ممتاز اسکالر خالد نظیر صوفی نے دو جلدوں میں ایک کتاب مرتب کی ہے ’’اقبال درونِ خانہ‘‘ جس میں کوئی سو مضامین ہوں گے اُن کے قریبی عزیزوں اور دوستوں کے۔ بعض انتہائی دلچسپ اور بعض بس ذرا سر سری۔ سو یہ کتاب مہینے بعد بھی ختم نہیں ہورہی۔ تیسرا سوال بھی بڑا دلچسپ تھا کہ وہ کون سی دو تین کتابیں ہیں جو آپ بار بارپڑھنا چاہتے ہیں؟ میرا جواب تھا فیض احمد فیض کا مجموعہ کلام ’’نسخہ ہائے وفا‘‘ اور دوسری کتاب قرۃالعین حیدر کی ’’آخرشب کے ہمسفر‘‘۔۔پوچھا گیا۔ ۔کیوں؟ اختصارسے لکھ رہا ہوں کہ ایک تو فیض صاحب کی شاعری ہمارے کام بہت آتی ہے۔ قلم گھستے ہوئے جب الفاظ غریب ہونے لگتے ہیں تو فیض صاحب کا ایک مصرعہ یا شعر ساری بات بڑی خوبصورتی سے سمیٹ دیتا ہے۔ دوسری کتاب قرۃالعین حیدر کا ناول ’’آخر شب کے ہمسفر‘‘ ہے۔ ویسے تو قرۃالعین حیدر کا سب سے بڑا ناول ’’آگ کا دریا‘‘ ہے اور جسے بلا شبہ اردو کا بھی سب سے بڑا ناول سمجھا جاتا ہے مگر ’’ آخر شب کے ہمسفر‘‘ برصغیر پاک وہند کی اشتراکی تحریک کے بارے میں ہے جس کا بڑا المناک انجام ہوا اور جسے عینی آپا نے اپنے منفرد اسٹائل میں اس خوبصورتی سے لکھا ہے کہ یہ ناول ہوتے ہوئے بھی ایک عظیم سیاسی تاریخ کا نوحہ بن گیا ہے۔یوں گزشتہ آٹھ دس برسوں میں کوئی بیس پچیس بار تو اس کو پڑھ ہی چکا ہوں۔ سوال ہوا آئندہ کس کتاب کو پڑھنے کا ارادہ ہے؟بے ساختہ نام آیا
"Debriefing The President" by John Nixon
صدام حسین کے بارے میں یہ کتاب مشرق وسطیٰ کی حالیہ سیاسی ہنگامہ خیزی کو سمجھنے کے لئے بڑی اہم ہے۔ سابق صدر کو جب انتہائی ناگفتہ حالت میں پکڑا گیا اور اُن تصاویر کی بڑے پیمانے پر تشہیر کی گئی جس میں شیو بڑھا۔۔ بوڑھا ہوتا ‘تھکا ہارا صدام حسین دکھایا گیا۔تو اُس وقت مسلم دنیا کا ردعمل مختلف تھا وہ بھول چکی تھی کہ خود صدام حسین نے اپنی قوم پر کیا مظالم ڈھائے تھے۔ جون نے اپنی کتاب میں صدام حسین کی ڈی بریفنگ کا ذکر بڑے متاثر کُن انداز میں کیا ہے۔ جون لکھتا ہے میرے ساتھ ایک اور امریکی اہلکار بھی تھا۔ صدام نے کرسی پر بیٹھتے ہی کہا۔ پہلے آپ اپنا تعارف کرائیں کہ آپ کون ہیں اس پر انتہائی درشت لہجے میں امریکی اہلکار نے جواب دیا ہم یہاں تمہارے سوالوں کا جواب دینے نہیں آئے ہیں جو کچھ ہم پوچھ رہے ہیں اُس کا جواب دو۔ تم ہماری قیدمیں ہو اور تمہارا مستقبل ہمارے ہاتھ میں ہے۔ اس پر صدام حسین کا جواب تھا کہ میں ایک ملک کا صدر ہوں اگر تمہارے ملک امریکہ کے صدر کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا تو تمہارے ملک کے عوام کا کیا ردِعمل ہوتا۔ صدام نے امریکوں کو دو ٹوک الفاظ میں بتایا کہ تم ’’عرب اور خاص طور پر عراقی‘‘ سائیکی نہیں سمجھتے۔ اب تم مشرق وسطیٰ میں پھنس چکے ہو تم یہاں سے آسانی سے نہیں نکل سکتے۔ یقیناً یہ ایک تاریخی دستاویز ہے۔ افسوس کہ میں اسے ختم نہیں کر پارہا۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ ایک انگریزی اخبار کی نمائندہ نے کتابوں کے حوالے سے گفتگو کیا کی آپ اپنے مطالعے کا رُعب جمانے لگے ۔یقین کیجئے جس مشقت میں سارا دن گزرتا ہے اس کے بعد سب سے زیادہ افسوس رات کے آخری پہر میںیہ ہوتا ہے کہ سارے مہینے میں درجن بھر کتابیں خریدیں یا تبصرے کے لئے ملیں مگر مشکل سے دو تین مکمل‘ دو تین ادھوری اور بقیہ کا تو ایک ورق بھی نہیں اُلٹ سکا۔ مگر ایک بات یقیناً خوش آئند ہے کہ حالیہ برسوں میں نہ صرف وطنِ عزیز میں اردو، انگریزی اور مادری زبانوں میں کتابوں کی اشاعت میں بے پناہ اضافہ ہو ا ہے بلکہ لٹریری فیسٹول اور جو کتاب میلے ہورہے ہیں اُس سے اطمینان ہوتا ہے کہ وہ جو اپنی خوف و دہشت اور کلاشنکوفوں سے اپنی شریعت کے ذریعہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے کروڑوں عوام کو ازمنہِ وسطیٰ کے دور میں دھکیلنا چاہتے تھے۔ جنہوں نے ہزاروں کی تعداد میں اسکولوں کو نذرِ آتش کیا تھا انہیں اس جراّت مند قوم نے شکست دے دی ہے۔ یوں بھی کلاشنکوف کا سب سے مؤثر جواب کتاب ہی ہو سکتی ہے۔

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

ذرا نظر اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھو کتنا اونچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی اس پر سے گرے تو بہت چوٹ آتی ہے۔ بعض لوگ آسمان سے گرتے ہیں تو کھجور میں اٹک جاتے ہیں، وہیں بیٹھے کھجوریں کھاتے رہتے ہیں۔ لیکن کھجوریں بھی تو کہیں کہیں ہوتی ہیں، ہر جگہ نہیں ہوتیں۔
کہتے ہیں کہ پرانے زمانے میں آسمان اتنا اونچا نہیں ہوتا تھا۔ غالبؔ نام کا شاعر جو دو سو سال پہلے ہوا ہے، ایک جگہ کسی سے کہتا ہے۔
؂ کیا آسمان کے برابر نہیں ہوں میں؟
جوں جوں چیزوں کی قیمتیں اونچی ہوتی گئیں، آسمان ان سے باتیں کرنے کے لئے اوپر اٹھتا گیا۔ اب نہ چیزوں کی قیمتیں نیچے آئیں نہ آسمان نیچے اترا۔
ایک زمانے میں آسمان پر صرف فرشتے رہا کرتے تھے پھر ہماشما جانے لگے۔ جو خود نہیں جا سکتے تھے ان کا دماغ چلا جاتا تھا۔ یہ نیچے دماغ کے بغیر ہی کام چلا لیتے تھے۔ بڑی حد تک اب بھی یہی صورت حال ہے۔
پیارے بچو! راہ چلتے میں آسمان کی طرف نہیں دیکھنا چاہئے تاکہ ٹھوکر نہ لگے۔ جو زمین کی طرف دیکھ کر چلتا ہے اسے ٹھو کر نہیں لگتی۔
(ابن انشاء کی تصنیف ’’اردو کی آخری کتاب‘‘ سے انتخاب)

*****

 
Read 834 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter