میرا سوہنا شہر قصور نی

Published in Hilal Urdu April 2017

تحریر: محمد اعظم خان

ستمبر1965کے ملی نغموں کی کہانی جاری ہے۔ اس شمارے کے لئے گیارہ ستمبر 1965کوجو ملی نغمہ ریکارڈ کیا گیا تھا ’’میرا سوہنا شہر قصور نی‘‘ کی کہانی بیان کروں گا۔ جیسا کہ پہلے مضامین میں بیان کر چکا ہوں کہ کس طرح یہ نغمے انتہائی محنت اور محبت سے لکھے گئے‘ ریہرسل ہوئی اور پھر ریکارڈ ہونے کے بعد فوری طور پر نشر ہوئے۔ آج کے اس نغمے ’’میرا سوہنا شہر قصور نی ایہدیاں دھماں دور دور نی۔‘‘ کی تفصیل کچھ یوں ہے کہ میں نے صوفی صاحب سے گزارش کی کہ قصور بارڈر پر بھی لڑائی ہو رہی ہے اور ملکہ ترنم نورجہاں قصور کی رہنے والی ہیں۔ اس لئے قصور پر بھی نغمہ ہونا چاہئے جس پر صوفی صاحب نے کافی سوچ بچار کے ساتھ مجھے یہ استھائی لکھ کر دی۔


’’میرا سوہنا شہر قصور نی ایہدیاں دھماں دور دور نی۔‘‘
میں یہ استھائی لے کر اپنی ریکارڈنگ ٹیم کے پاس اسٹوڈیو نمبر2میں چلا گیا اور یہ استھائی ملکہ ترنم نورجہاں کو دی۔ ملکہ ترنم نور جہاں نے بولوں کی مناسبت سے اس کو راگ دیس میں موزوں کیا۔ تھوڑی ریہرسل کے بعد میڈم نورجہاں نے کہا کہ اعظم صاحب اس کے انترے لائیں۔ چنانچہ میں پھر صوفی صاحب کے پاس اپنے کمرے میں گیا۔ محترم صوفی تبسم میرے کمرے میں ہی بیٹھا کرتے تھے۔ اس وقت وہ اقبال کا ایک شعر اور اس کی تشریح میں مصروف عمل تھے میں نے بڑے ادب سے معافی مانگی کہ صوفی صاحب آپ کو ڈسٹرب کر رہا ہوں۔ میری مجبوری ہے کہ آج بھی ایک نیا نغمہ ریکارڈ کرنا ہے۔ اس نغمے کی استھائی تو آپ نے دے دی ہے۔ اب تین انترے چاہئیں۔ صوفی صاحب نے از راہ کرم کچھ دیر سوچنے کے بعد انترے عطا فرما دیئے۔ ان دنوں صوفی صاحب کی آمد بھی کمال تھی۔ حالات اور وقت کی مناسبت سے بہت عمدہ نغمے لکھ کر دیتے۔ میڈم نورجہاں اس خاص نغمے کو پڑھ کر بہت خوش ہوئیں کیونکہ یہ نغمہ ان کے شہر پر لکھا گیا تھا۔ سارے دن میں نغمہ لکھا گیا۔ ریہرسل ہوئی اور رات کو ریکارڈ ہوا۔ اپنے پڑھنے والوں کو بتا دوں کہ نغمے کی بنیادی دھن
Melody
کہلاتی ہے۔ اور جو باقی
Orchestra
ہوتا ہے اس کو
Harmony
کہتے ہیں۔ ان دونوں چیزوں کو جب ترتیب سے اکٹھا کرتے ہیں تو تب نغمہ تخلیق پاتا ہے۔ باقی رہ گئی ریکارڈنگ تو اس کے لئے بھی بہت علم اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا م کے لئے میں نے بطور میوزک پروڈیوسر بہت محنت اور کوشش کی ہے۔ ہر کوئی ریکارڈنگ نہیں کر سکتا اور پھر اتنی بڑی آرٹسٹ کی ریکارڈنگ۔ میری ریکارڈنگ کو میڈم نورجہاں اتنا پسند کرتی تھیں کہ میرے بغیر ریکارڈنگ نہیں کراتی تھیں۔ ہمیشہ کہتی اعظم بھیا، ریکارڈنگ پر آپ خود بیٹھیں۔ آپ خود اندازہ لگائیں کہ تمام نغموں کی ریکارڈنگ کوالٹی کتنی عمدہ ہے حالانکہ اس وقت ریکارڈنگ کے آلات اتنے جدید نہیں تھے۔ میں صرف تین مائیکروفون استعمال کرتا تھا۔ بیلنس کرنے میں مجھے کافی وقت لگتا تھا تاکہ بہترین ریکارڈنگ ہو جائے۔ ستمبر65 کی جنگ کے دوران پروڈیوسر، میوزیشنز، گلوکار سب کے درمیان ایسی انڈر سٹینڈنگ پہلے یا بعد میں کبھی بھی دیکھنے میں نہیںآئی جتنی ان سترہ دنوں میں دیکھنے کو ملی۔ بھارتیوں کا خیال تھا کہ ہم نے یہ ملی نغمے جنگ سے پہلے ریکارڈ کئے ہیں لیکن جب جنگ کا اختتام ہوا تو یہ حقیقت ان پر کھلی اور ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی جب ان کو معلوم ہوا کہ یہ ملی نغمے جنگ کے دوران ہی ریکارڈ ہوئے۔ ملکہ ترنم نورجہاں کو صبح میں اپنی جیپ پر لے کر آتا۔ وہ سارا سارا دن میرے پاس ریکارڈنگ کے لئے موجود رہتیں بعض اوقات جب باہر خطرے کا سائرن ہوتا تو میڈم نورجہاں اسٹوڈیو میں ہی اپنی ٹیم کے ساتھ موجود رہتیں۔ میڈیم نورجہاں کہتی کہ اعظم صاحب اگر موت اسٹوڈیو میں لکھی ہے تو کوئی بات نہیں ہم اپنا کام ادھورا نہیں چھوڑ سکتے۔ جنگ ستمبر کے دوران پوری قوم کا ایک ہی نعرہ تھا کہ دشمن نے ہم پر جنگ مسلط کی ہے۔ ہم اسے سبق سکھائیں گے۔ فضائی حملوں کے دوران پور لاہور بلیک آؤٹ میں ڈوب جاتا تو لاہورئیے اپنے گھروں کی چھتوں پر کھڑے ہو کر ’’فائٹ‘‘ دیکھتے۔ اور اپنے پائلٹوں کو باقاعدہ داد دیتے۔ انہیں اس بات کا کوئی خوف نہیں ہوتا تھا کہ وہ حملوں کی زد میں بھی آ سکتے ہیں۔ فائٹ کا نظارہ میں نے ایک مرتبہ خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ کس طرح آگے بھارتی طیارے اور ان کے پیچھے ہمارے جہاز ہوتے۔ لوگ سڑکوں پر دشمنوں کے جہازوں کو نشانہ بنانے کے لئے بلند نعرے لگاتے۔ عوام کے جذبات کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ہر شہری کا رخ بارڈر کی طرف ہوتا۔ ان میں سے کوئی ہاکی اور کلہاڑی اٹھائے تو کوئی اپنے فوجی بھائیوں کے لئے کھانے اور دیگر اشیاء لے کر بارڈر کی طرف جا رہا ہوتا۔ یہ کیسا جذبہ تھا ہمارے ملی نغمے ہتھیار کا کام کر رہے تھے۔ ہمارے فوجی جوان ان کو سن کر بہادر ی اور دلیری سے لڑتے،یقیناًفوج اور عوام کا ساتھ بہت کام آتاہے۔

 
Read 616 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter