پی این ایس غازی : بھارتی فلم انڈسٹری کا جھوٹا پروپیگنڈا

Published in Hilal Urdu April 2017

تحریر: صائمہ جبار

بھارت کی فلم انڈسٹری نے ایک جھوٹے پراپیگنڈے کی بنیاد پر غازی اٹیک کے نام سے ایک فلم ریلیز کی ہے جس کا مقصد دنیا کو گمراہ کرنا ہے۔ اس فلم میں بھارتی نیوی کے جھوٹے کارنامے دکھائے گئے ہیں جبکہ حقیقت اس کے یکسر برعکس ہے۔ 1971میں ڈوبنے والی پاکستانی آبدوز غازی ایک حادثے کا شکار ہوئی تھی۔ لیکن بھارتی فلم میں حقیقت سے کہیں دور ایک ایسی فرضی کہانی کا ذکر ہے جس کی کہیں سے بھی تصدیق نہیں کی گئی۔
بھارتی فلم سنسر بورڈ نے اسی لئے فلم کے پروڈیوسر کو اس ڈیکلیئریشن کو ہٹانے کا آرڈر دیا ہے جس میں کہا گیا کہ فلم حقائق پر مبنی ہے۔
Censor Board Of Film Certification (CBFC)
کے مطابق فلم ساز کو ایک ڈیکلیئریشن دکھا نا پڑے گا جس میں لکھا جائے کہ فلم کچھ افسانوی ہے اور کچھ حقائق پر مبنی۔ یہ خبر بھارتی اخباروں دکن کرونیکل اور ڈیلی نیوز انیلیسزمیں شائع کی گئی ہے۔
اس بات میں شک کی کوئی گنجائش نہیں کہ پاکستان کو اس وقت بہت سے چیلنجز در پیش ہیں۔ چائنا پاکستان اکنامک کوریڈور کی اہمیت بھی پاکستان کے لئے گیم چینجر کی سی ہے۔خطے کے سٹریٹجک حالات کا تقاضا ہے کہ سی پیک کی نہ صرف زمینی بلکہ بحری سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے ہر ممکن اقدامات کئے جائیں۔


دشمن کی سازشوں اورپروپیگنڈے کا مقابلہ اسی صورت میں ممکن ہو گا جب صحیح اور حقیقی معنوں میں ماضی کے متعلق معلومات نہ صرف نوجوان نسل بلکہ ہر عمر کے افراد اورطبقے تک پہنچیں گی۔ پاکستان پر کی گئی سرجیکل سٹرائیکس کا جھوٹا دعوی اس کی ایک مثال ہے۔ جس پر نہ صرف بھارت میں ایک بڑے طبقے اوردنیا نے بلکہ اقوامِ متحدہ کے خصوصی کمیشن نے بھی یقین نہیں کیا اور مشکوک قرار دیا۔مودی حکومت کو اپنے ہی لبرل طبقے نے اس جھوٹ پر مذاق کا نشانہ بنایا۔


قیامِ پاکستان سے لے کر اب تک پاک بحریہ دشمن کی ہر سازش کا بہادری کے ساتھ مقابلہ کر تی آئی ہے۔ اس کی ایک روشن مثال 1965اور 1971میں پاک بھارت جنگوں میں پاک بحریہ کا کردار رہا ہے۔ بھارت کی خارجہ پالیسی میں پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا ایک بڑا حصہ رہا ہے۔ کوئی بھی فورم ہو بھارت اپنی سازشوں سے باز نہیں آتا۔

pnsghazib.jpgدرحقیقت آبدوز ’غازی‘ پاک بحریہ کی پہلی آبدوز تھی جس نے بھارت کے ساتھ لڑی گئی 1965ور1971کی جنگوں میں حصہ لیا۔پاکستان نیوی نے خود سے کئی گناہ بڑی بھارتی نیوی کے سامنے سخت مذاحمت کی اور بھر پور دفاع کیا۔ بحیرہ عرب اور بحرِ ہند کے پانیوں تک پھیلی ہوئی سمندری حدود کی حفاظت پاک بحریہ کی ذمہ داری رہی ہے اور ان دونوں جنگوں کے دوران پاک بحریہ کے یونٹس گہرے پانیوں تک گئے تا کہ تجارتی آمدورفت بحفاظت جاری رہ سکے۔اس دوران پاک بحریہ نے بھارتی بحریہ کو بندرگاہوں سے باہرنہیں آنے دیا۔یہ پی این ایس غازی آبدوز ہی تھی جس کے باعث دشمن 1965 میں اپنے بحری فلیٹ کو باہر نہ نکال سکا۔ پی این ایس غازی پاک بحریہ کی پہلی آبدوز تھی جسے امریکہ سے لیا گیا تھا۔ اس سے قبل 1945 سے 1963تک یہ امریکی نیوی کا حصہ رہی ۔چار ستمبر 1964 کو یہ آبدوز کراچی کے نیول ڈاک یارڈپہنچی اور پاک نیوی میں پہلی تیز رفتار آبدوز بنی۔ اس کا نام غازی 1964میں رکھا گیا اس کا پرانا نام
USS Diablo (SS-479)
تھا۔
1965 کی جنگ میں غازی کا کردار
اعلانِ جنگ کے فوری بعد بحری یونٹس کو اپنے اپنے اہداف کی جانب روانہ کیا گیا۔ دفاع کے ساتھ ساتھ پٹرولنگ شروع ہوئی۔بھارت کے تجارتی جہاز ’’سرسوتی‘‘اور دوسرے کئی جہازپاکستان میں کراچی بندر گاہ پر زیرِ حراست رہے۔ سات ستمبر کامیابی کا دن تھا۔ اس روز پی این ایس غازی سمیت پاک بحریہ کا بیڑا بھارت کے ساحلی علاقے دوارکاپر حملے کے لئے روانہ ہوا۔کیونکہ اس مقام پر نصب کیا گیا ریڈار پاک فضائیہ کے راستے میں رکاوٹ تھا۔پاک بحریہ کے فلیٹ نے 20منٹ میں دوارکا کو تباہ کر دیا۔بعد میں بھارت نے اپنے جہاز تلوار کو پاکستانی بیڑے کا سراغ لگانے کو بھیجا لیکن وہ پی این ایس غازی کے خوف سے کہیں اور نکل گیا۔


جنگ میں بہترین کارکردگی کی وجہ سے پی این ایس غازی کے عملے نے 10ایوارڈ حاصل کئے جن میں دو ستارۂ جرأت بھی شامل ہیں۔
1971 کی جنگ میں غازی کا کردار
14نومبر 1971 کمانڈرظفر محمد خان اپنی سربراہی میں 93بہادر جوانوں کو لے کر پی این ایس غازی میں کراچی بندرگاہ سے ایک بے حد مشکل مشن پر روانہ ہوئے۔ آبدوز غازی کو مشن دیا گیا تھا کہ مغربی بھارت کے دفاعی سمندروں سے گزرتے ہوئے اپنی بیس سے 3000میل دور خلیج بنگال کے شمال میں جائے۔ اس علاقے کی صورتحال بے حد کشیدہ تھی۔جس کے باعث آبدوز غازی کو ہدایات دی گئی تھیں کہ ریڈیو پر مکمل خاموشی رکھی جائے اور صرف رات کے وقت ہی بیٹریاں وغیرہ چارج کی جائیں۔جو مشکل مشن غازی کو دیا گیا تھا وہ بھارتی نیوی بیس وشاکاپتنام میں نقل و حرکت روکنے کے لئے بندرگاہ کے آس پاس پانی میں بارودی سرنگیں بچھانے کا تھا۔


غازی آبدوز نے بہت مہارت سے یہ کام شروع کیا اور بارودی سرنگیں بچھانا شروع کر دیں۔لیکن قیاس ہے کہ یہ آبدوز بد قسمتی سے اپنی ہی بچھائی ہوئی ایک بارودی سرنگ کی زد میں آ کر ڈوب گئی۔دھماکہ اس قدر زوردار تھا کہ بندرگاہ بھی کانپ اٹھی۔ یہ علاقہ بھارتی حدود میں تھا لیکن بہت دیر تک بھارت کو پتا نہیں چل سکا کہ ہوا کیا ہے؟ تاہم ایک بھارتی مچھیرے نے پانی میں پی این ایس ’غازی‘ کے عملے میں لائف جیکٹس دیکھی جس کے بعد بھارت نے غازی کو تباہ کرنے کا دعوی کر دیا ۔ یہی نہیں بلکہ کچھ بھارتی افسروں نے تو اس بات پر تمغے بھی وصول کئے۔


غازی کے ساتھ رونما ہونے والا واقعہ تین اور چار دسمبر کی درمیانی شب پیش آیا جبکہ بھارت نے اس کو تباہ کرنے کا دعویٰ نو تاریخ کو کیا۔ اگر بھارت نے غازی کو تباہ کیا تھا تو اسے اتنے دن تک پتا کیوں نہیں چلا ۔اور اگر پتا تھا تو اتنے دن تک اس کو چھپا کر کیوں رکھا؟


بھارتی تجزیہ کاروں کے مطابق بھارتی دعوے جھوٹے تھے۔ بھارتی وائس ایڈمرل میہیر رائے نے حال ہی میں اپنی ایک شائع کردہ کتاب میں کہا کہ غازی آبدوزپہلے وشکاپتنام بندرگاہ سے کافی دور تعینات تھی اور غالباً دو یا تین دسمبر 1971کو بارودی سرنگیں بچھانے آئی تھی اور قریب ہی دو تین سرنگیں بچھا چکی تھی اور ایک بارودی سرنگ سے تباہ ہو گئی تھی۔ ایڈمرل میہیر رائے نے یہ بھی لکھا کہ پانی میں بارودی سرنگیں ایک لائن کے پیٹرن میں 150میٹر کے فاصلے اور 30میٹر کی گہرائی میں بچھائی گئی تھیں جس کی تصدیق آبدوز ریسکیو ویسل نیسٹارکے پانی کے نیچے موجود ٹی وی سے کی گئی۔ ان کے مطابق سونار ٹرانسمیشن اور اس کے شور کو جانچتے ہوئے پاکستانی آبدوزاس علاقے سے نکل کر محفوظ گہرے پانیوں میں جا چکی تھی۔اور آدھی رات کے قریب جب پیٹرولنگ کشتیاں واپس بندرگاہ لوٹ گئیں تو غازی آبدوز پھر سے بارودی سرنگیں بچھانے کا کام مکمل کرنے نکل پڑی تاکہ بھارت کے مشرقی فلیٹ کو وشاکا پتنام کی پورٹ پر محدود کرنے کی اسائینمنٹ مکمل کی جائے۔اس مشن کو مکمل کرنے کی بے چینی میں اپنے ہی پہلے سے بچھائی ہوئی سرنگ والے ٹریک میں غلطی سے مڑ گئی۔جس کی وجہ شائدساحل پرمون سون کے موسم کے بعد چلنے والی تیز ہواؤں سے اُٹھنے والی تندوتیز لہریں تھیں۔


دشمن کی اپنی گواہی سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ غازی اس وقت تباہ ہوئی جب وہ اس بات کو یقینی بنا رہی تھی کہ بھارت کے مشرقی بیڑے کو بند کرنے کے لئے بارودی سرنگوں کوبچھانے کا کام ٹھیک طور پر ہو رہا تھا۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد کسی جنگ میں تباہ ہونے والی یہ پہلی آبدوز تھی۔


حیرت کی بات یہ ہے کہ امریکہ اور سوویت یونین کی درخواست کے باوجود بھارتی حکومت غازی کے ڈوبے ہوئے حصوں کو سمندر سے نکالنے پر راضی نہ ہوئی۔2010میں بھارت کی مشرقی کمانڈ نے 1971کی جنگ کا سارا ریکارڈ ضائع کر دیا ۔ غازی کی تباہی کا ریکارڈ بھی اسی میں شامل تھا۔
1971 میں بھارتی فوج کی مشرقی کمانڈ کے چیف آف سٹاف جے ایف آر جیکب نے مئی2010 میں ایک آرٹیکل

THE TRUTH BEHIND THE NAVY'S 'SINKING' oF GHAZI "
میں واضح کیا کہ غازی آبدوز ایک حادثے کا شکار ہوئی،اور بھارتی نیوی کا اس کے ڈوبنے سے کوئی تعلق نہیں۔اسی لئے تمام ریکارڈ ختم کر دیا گیا۔
پاکستانی انگریزی اخبار میں محمد عادل ملکی نے
"warriors of the waves''
کے نام سے لکھے ایک آرٹیکل میں بتایا کہ انہوں نے غازی کے ڈوبنے کے حوالے سے ایک ایسے تجربہ کار عملے کے فرد سے رابطہ کیا جس نے غازی میں کام کیا تھا جب وہ امریکہ میں یو ایس ایس ڈائیبلو کے نام سے ہوا کرتی تھی۔مصنف ایک آزادانہ رائے لینا چاہتا تھا۔ مصنف کے مطابق جب ڈوبے ہوئے ملبے کی تصاویر اور خاکوں کا مشاہدہ کیا گیا تو اس بات کاپتا چلا کہ
forward torpedo room
میں ہونے والے ایک دھماکے کی وجہ سے آبدوز تباہ ہوئی۔یہی رائے ایک بھارتی صحافی سندیپ یونیتھین کی تھی جو کہ ملٹری اور سٹریٹیجک تجزیوں کا ماہر ہے۔اس بات کا یقین اس ویڈیو سے بھی ہوتا ہے جو غوطہ خوروں نے بنائی تھی۔


غازی کے ڈوبنے کے کچھ روز بعد بھارتی غوطہ خوروں نے اس میں سے قیمتی اور اہم معلومات حاصل کرلیں۔ان میں سے چند اشیا آج بھی بھارتی وار ٹائم میوزیم میں سجائی گئی ہیں۔
آج 1971کو 45 برس گزر چکے ہیں اور بھارت نے غازی کے ڈوبنے کا کریڈٹ لینے کے لئے ایک جھوٹے پراپیگنڈے پر مبنی فلم بنائی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پہلے بھارت کو اس کا ہوش کیوں نہیں آیا؟ اتنے برس گزرنے کے بعد اچانک اس موضوع پر فلم بنانے کا خیال کیوں آ گیا؟بھارتی حکومت اور نیوی اپنے جھوٹے مؤقف کو فروغ دینے کے لئے بالی وڈ کا استعمال کرنے سے کبھی بھی دریغ نہیں کر تا۔مگر جھوٹ اور حقائق کو توڑ مروڑ کرپشن کرنے کی بھارتی روش کا نقصان سب سے زیادہ بھارت کے غریب عوام کو ہے جو خود تو غربت کی چکی میں ہمیشہ پسے ہوئے ہیں مگر اس نام نہاد پروپیگنڈے کی وجہ سے کبھی بھی بھارتی نیتاؤں اور نام نہاد سورماؤں کے جھوٹے دعوؤں اور جھوٹے خوابوں کے چنگل سے خود کوآزاد نہ کراسکے۔

 

مضمون نگار نجی ٹی وی چینل سے منسلک ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 893 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter