عطاء الحق قاسمی

Published in Hilal Urdu April 2017

انٹرویو : او یس حفیظ

خیال ایک پکا ہوا پھل ہوتاہے ‘ جسے وقت پر نہ اُتارا جائے تو زمین پر گر کر گل سڑ جاتا ہے

عطاء الحق قاسمی کی ایک ظاہری پہچان تو مزاح نگار کی ہے مگر آپ کی شخصیت کی جہتیں اس قد ر ہیں کہ ان کا احاطہ کرنا ممکن نہیں۔ آپ صفِ اول کے کالم نگار ہیں، باکمال شاعر ہیں، بے مثل ادیب ہیں‘ بہترین ڈرامہ نویس ‘ شاعر اور کامیاب منتظم بھی ہیں۔ ویسے تو آپ کی جائے پیدائش امرتسر ہے اور اس نسبت سے آپ ’’امبر سریے‘‘ ہیں مگر آپ کے بارے میں کہا جا سکتا ہے کہ اگر کسی نے مکمل لاہورئیے کو دیکھنا ہے تو آپ کو دیکھ لے کیونکہ ذات اور شخصیت کے اعتبار سے آپ پر اندرون لاہورئیے کا گمان ہوتا ہے۔ آپ ’’کھلے ڈُلے‘‘ مزاج کے آدمی ہیں اور اپنے منفرد شگفتہ اندازِ گفتگو سے محفل کو کشتِ زعفران بنانے میں خاص مہارت رکھتے ہیں۔ گزشتہ دنوں ہلال کے لئے آپ کے ساتھ ایک غیر رسمی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں ہونے والی گفتگو قارئین کی نذر ہے۔


سوال: اپنے بارے میں کچھ بتائیے؟
جواب: میں یکم فروری 1943کو امرتسر کے ایک کشمیری علمی گھرانے میں پیدا ہوا۔ میرے سے پہلے کئی بیٹیاں تھیں اس وجہ سے میں بہت لاڈلا تھا، اتنا لاڈلا کہ میرا نک نیم ’’شہزادہ‘‘160پڑ گیا تھا اور یہ حقیقت ہے کہ میں نے اپنی ابتدائی زندگی شہزادوں ہی کی طرح بسر کی۔ میرے والد مولانا بہاء الحق قاسمی مشہور عالم دین تھے جو قیامِ پاکستان کے وقت امرتسر سے ہجرت کر کے وزیرآباد آگئے اور یہاں پر سکول ٹیچر مقرر ہو گئے۔

interattraullhaq.jpgمیری زندگی کے دس سال وزیر آباد کے بکریانوالہ کوچہ میر چونیاں میں گزرے اور پھر باقی زندگی لاہور میں۔ اس باقی زندگی میں دو سال امریکا کے شہر سینٹ لوئیس میں بطور فوڈ اینڈ بیوریجزمنیجر، دوسال اوسلو (ناروے) میں بطور سفیر اور تین مہینے تھائی لینڈ کے شہر بنکاک میں بطور سفیر اپنی خدمات انجام دیں۔ لاہور تقریباً 25سال ماڈل ٹاؤن میں گزارے۔ کچھ عرصہ اچھرہ کے ونڈسر پارک میں ایک کرائے کے مکان میں رہا۔ تقریباً 25سال ہی اقبال ٹاؤن میں اپنے تعمیر کردہ گھر میں ہنسی خوشی بسر کئے اور اب تقریباً پندرہ برس سے ڈیفنس کے ای ایم ای سیکٹر میں رہائش پذیر ہوں۔ وزیر آباد کے ایم پی پرائمری اسکول غلہ منڈی سے پانچ جماعتوں کے بعد چھٹی جماعت میں گورو کوٹھا کے ہائی سکول میں داخلہ لیا اور اس کے بعد ہم لاہور شفٹ ہوگئے۔ میٹرک ماڈل ہائی سکول ماڈل ٹاؤن سے کیا۔ بی اے، ایم اے او کالج لاہور سے کیا جبکہ ایم اے (اردو ادب) پنجاب یونیورسٹی اوریئنٹل کالج سے کیا۔ 35سال نوائے وقت سے منسلک رہا اور اس کے ساتھ ساتھ ایم اے او کالج میں لیکچرار شپ بھی کی۔ اب ایک طویل عرصے سے جنگ میں کالم لکھ رہا ہوں اس تمام عرصے میں پوری دنیا میں بسلسلہ تقریبات شرکت کے لئے جاتا رہا ہوں۔ آٹھ سال الحمراء آرٹس کونسل میں بطور چیئرمین اپنی خدمات انجام دی ہیں اور اب گزشتہ ایک برس سے پاکستان ٹیلی ویژن کارپوریشن (پی ٹی وی ) کا چیئرمین ہوں۔


سوال: اپنے بچپن اور فیملی کے بارے میں کچھ بتائیے؟
جواب: ہم آٹھ بہن بھائی ہیں، چھ بہنیں اور دو بھائی۔ والد اور والدہ کو ملا کر ہم دس افراد تھے۔ بڑے بھائی اور دو بہنیں وفات پا چکی ہیں۔ میں فرسٹ ائیر میں تھا جب میری والدہ کا انتقال ہوا اور والد کا انتقال 1987میں ہوا تھا۔ میری والدہ کافی بیمار رہتی تھیں انہوں نے کئی سال علالت میں گزارے اور ابا جی کا ہاتھ کافی بھاری تھا (مسکراتے ہوئے) وہ چونکہ استاد تھے اس لئے ڈنڈا بھی ساتھ رکھتے تھے لیکن میں بہت لاڈلا تھا، اس لئے میری تمام تر نالائقیوں کے باوجود انہیں مجھ سے بہت محبت تھی۔ ذرا سی بیماری کی صورت میں وہ مجھے اپنے کندھوں پر بٹھا کر ہسپتالوں کے چکر لگاتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میرے پاؤں پر پھوڑا نکل آیا تو انہوں نے مجھے زمین پر پاؤں نہیں رکھنے دیا لیکن اپنی والدہ کا سوچ کر آج بھی آنکھیں نم ہو جاتی ہیں۔ انہوں نے میری نالائقی کے دن تو بہت دیکھے لیکن عین جوانی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ مجھے ہمیشہ یہ پشیمانی رہی کہ وہ مجھے ترقی کرتا دیکھنے کے لئے اس دنیا میں موجود نہ تھیں۔


سوال: آپ کا والد کے ساتھ دہرا رشتہ تھا، محبت کا بھی اور ڈانٹ ڈپٹ کا بھی؟
جواب : ان کی ڈانٹ میں بھی پیار تھا اور حقیقت تو یہ ہے کہ ان کی ڈانٹ نے ہی مجھے صحیح راستہ دکھایا، ان کی محبت کے منظر آج بھی میری آنکھوں سے نہیں ہٹتے، میرے والد نے انگریزوں کے خلاف جدوجہد کی تھی۔ انہوں نے زندگی سادگی سے گزاری اور ہمیں بھی سادگی کا درس دیا۔ وہ ہمیں اپنی اور اپنے خاندان کی انگریزوں کے خلاف جدوجہد کے قصے سناتے تھے، پرانی تاریخ سے ایسے ایسے واقعات ڈھونڈ کر لاتے جن سے ہم میں انسانیت بیدار ہو، ہم اچھی اقدار کو اپنائیں۔ وہ ایک قدآور عالم دین اور پرجوش خطیب تھے۔ جب وہ وزیر آباد میں سکول ٹیچر تھے توجامعہ اشرفیہ کے بانی مفتی محمد حسن نے جو کہ میرے والد کے استاد بھی تھے اور دادا کے شاگرد بھی، انہوں نے میرے والد سے کہا کہ ماڈل ٹاؤن لاہور کی جامع مسجد میں آپ کی ضرورت ہے، آپ یہاں آ جائیں۔ چنانچہ میرے والد صاحب نے پیشکش قبول کر لی اور ہم لاہور ماڈل ٹاؤن میں آ کر آباد ہو گئے اور میرے والد ماڈل ٹاؤن مسجد میں خطیب مقرر ہو گئے۔ یہیں ماڈل ٹاؤن میں ایک واقعہ بھی پیش آیا، ہوا یوں کہ میرے والد نے مسجد میں کچھ سخت خطبات دیئے، جس پر چند لوگوں نے ان سے درخواست کی کہ آپ بس نماز پڑھا دیا کریں باقی کچھ اور کہنے کی ضرورت نہیں ہے۔ میرے والد نے ان سے کہا کہ ’’میں صبح ناشتے میں چائے کا ایک کپ اور رس لیتا ہوں، دوپہر کو بھی روکھی سوکھی کھاتا ہوں، رات کو دال چاول کھا کر سو جاتا ہوں لیکن میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت کچھ دیا ہے اور جس دن میری ضروریات میں اضافہ ہو جائے گا اس دن میں آپ کی بات پر غور ضرور کروں گا‘‘۔ ابا جی کی باتوں کا لوگوں پر بہت اثر ہوا،نتیجتاً مسجد میں نمازیوں کی تعداد میں اضافہ ہوگیا۔ ابا جی کی ایک ذاتی لائبریری تھی جس میں ہر مذہب اور ہر مسلک کی کتابیں تھیں اور یہیں سے مجھے کتابوں کا شوق بھی ہوا، میں نے وہ ساری کتابیں پڑھیں جس کے بعد خدا نے ذہن کشادہ کر دیا۔ ابا جی کی خودداری اور عظمت کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیں کہ کچھ سال قبل ماڈل ٹاؤن کے قبرستان کی تحقیق کرنے کے لئے ایک محقق بھیجے گئے۔ انہوں نے قبرستان کی تاریخ کا جائزہ لیا، پرانی دستاویزات کو کھنگالا، وہاں انہیں بہت سے دیگر کاغذات کے ہمراہ میرے اباجی کا ایک خط بھی ملا۔ لکھا تھا ’’آپ مجھے جو تنخواہ دیتے ہیں وہ میری ضروریات سے بہت زیادہ ہے براہِ کرم اس میں تخفیف کر دی جائے‘‘۔ انہیں کتنی تنخواہ ملتی ہو گی، اندازہ لگا لیجئے وہ اس پر بھی خوش تھے اور اسے بھی زیادہ تصور کرتے تھے۔ آج کے مادہ پرست دور میں انسان کا پیٹ بھر جاتا ہے مگر نیت نہیں بھرتی۔ دل بھر جاتا ہے مگر اکاؤنٹ نہیں بھرتے اور اسی پیسہ کمانے کی دوڑ نے ملک میں بدعنوانی کا بازار گرم کر رکھا ہے۔


سوال: ادبی سفر کا آغاز کب اور کہاں سے کیا، پہلا شعر کب کہا، کہاں شائع ہوا؟
جواب: ادب کی طرف رحجان تو شروع سے ہی تھا، پہلی کوشش سکول کے زمانے میں ہی کی تھی، پہلا شعر کب کہا یہ تو یاد نہیں لیکن ادبی زندگی کا آغاز ساتویں یا آٹھویں جماعت سے ہو گیا تھا، جب اسکندر مرزا کے دور میں ہونے والی سیاسی اکھاڑ پچھاڑ کے پس منظر میں میرے اندر چھپے ہوئے مزاح نگار نے انگڑائی لی اور میں نے ’’ہلال پاکستان‘‘ کے ایڈیٹر کے نام ایک شگفتہ سا مراسلہ بھیج دیا جو من و عن چھپ گیا۔ اس سے بہت حوصلہ ملا۔ پہلی باقاعدہ نثری تحریرغالباً 1959ء میں مولانا کوثر نیازی کے اخبار روزنامہ شہاب میں شائع ہوئی تھی اور پھر ہم کسی شہاب ثاقب کی طرح ان کے صفحات پر ٹوٹ پڑے۔ میں اس وقت سیکنڈ ایئر کا طالب علم تھا جب شہاب کے صفحات پر میرا کالم ’’کچھ یوں ہی سہی‘‘ کے عنوان سے چھپنا شروع ہو گیا تھا۔


سوال: شاعری میں کس کو اپنا استاد مانتے ہیں، اپنی تحریروں میں کبھی اصلاح لی؟
جواب: ہر گز نہیں کیونکہ میں مانتا ہوں کہ شاعر ہوتا ہے یا نہیں ہوتا۔ میں نے شاعری میں کبھی کسی کی شاگردی اختیار نہیں کی، کسی سے آج تک اصلاح نہیں لی۔ مجھے یہ بھی علم نہیں کہ شعری اوزان اور تقطیع وغیرہ کیا ہیں لیکن ان سب کے باوجود میں نے بہت کم بے وزن شعر کہا ہے۔


سوال: کیا چیز لکھنے کی جانب راغب کرتی ہے؟
جواب: خیال، کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ خیال ایک پکا ہوا پھل ہوتا ہے، جسے وقت پر نہ اتارا جائے تو یہ زمین پر گر کر گل سڑ جاتا ہے۔ جب میرے ذہن میں کوئی اچھا آئیڈیا آتا ہے، میں فوراً اسے نوٹ کر لیتا ہوں اور اس پر لکھنے لگ جاتا ہوں۔ میرے لئے سب سے زیادہ مشکل کام فرمائشی لکھنا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کوئی میرے پاس آ کر کہتا ہے کہ فلاں موضوع یا فلاں چیز پر آپ کو لکھنا چاہئے لیکن میرے سے نہیں لکھا جاتا اور اس کے برعکس کبھی کبھی کوئی پوری چیزکوئی غزل،کالم، تحریر وغیرہ خود بخود نازل ہو جاتی ہے۔


سوال: آپ شاعر بھی ہیں، ادیب بھی ہیں، ڈرامہ رائٹر بھی ہیں، کالم نگاری بھی کرتے ہیں اور سفارت کاری بھی کر چکے ہیں۔ خود کو کیا کہلوانا پسند کرتے ہیں؟
جواب: بنیادی طور پر میں صرف ایک طنز و مزاح نگار ہوں۔ میرے ہر کام‘ خواہ وہ کالم ہوں، خاکے ہوں، ڈرامے ہوں یا کچھ اور، ان میں آپ کو طنز و مزاح ہی نظر آئے گا۔ شگفتہ تحریریں میرا جنون ہیں، میں لکھتا بھی شگفتہ ہوں، پڑھتا بھی شگفتہ ہوں باتوں میں بھی شگفتگی ہی ملے گی البتہ میری تحریروں کی شگفتگی کے نیچے اداسی بھی چھپی ہوتی ہے اور اس میں طنز بھی ہوتا ہے۔


سوال: سکول کے زمانے میں ذہین طالب علم تھے یا بس نارمل تھے؟
جواب: میں اصل میں انتہائی نالائق طالب علم تھا، (نہایت پرجوش لہجے میں) میٹرک میں بڑی مشکل سے پاس ہوا، سیکنڈ ڈویژن آئی تھی، ایف اے میں تھرڈ ڈویژن تھی، بی اے میں سپلی آ گئی تھی، جب ایم اے میں تھا تو اردو کے ایک پرچے میں فیل ہو گیا تھا مگر پھر دوبارہ امتحان دے کر کلیئر کیا۔
سنا ہے کہ سعادت حسن منٹو بھی اردو میں فیل ہو گئے تھے۔ اپنے شعبے کا ماسٹر اپنے ہی شعبے کے امتحانات میں ناکام ضرور ہوتا ہے۔ سجاد باقر رضوی ہمارے استاد تھے۔ ایک روز انہیں پتہ نہیں کیا سوجھی انہوں نے ایم اے اردو کے لئے فیس جمع کرا دی۔ پھر وہ اُسی پرچے میں فیل ہو گئے جو وہ ہمیں پڑھاتے تھے۔


سوال: اس سے تو یہ مطلب ہے کہ ہمارے تعلیمی نظام میں خامیاں موجود ہیں جو بچوں کی ذہانت کا پتا چلانے میں ناکام رہتا ہے؟
جواب: میں خود بھی استاد رہا ہوں، مجھے علم ہے کہ ہمارا تعلیمی ڈھانچہ نوجوانوں کی تعلیمی صلاحیتوں کے یکسر الٹ ہے۔ ہمیں اب اس سسٹم کو ختم کر دینا چاہئے۔ اب معروضی سسٹم وقت کا تقاضا ہے۔ اس میں طالب علم کو وسیع معلومات حاصل کرنا پڑتی ہیں، اس کا دماغ تیز ہوتا ہے، کسی بھی نکتے کے ہر پہلو پر غور کرنے کی عادت پیدا ہوتی ہے۔


سوال: آج تو آپ پر اردو میں مقالے لکھے جا رہے ہوں گے؟
جواب: جی بالکل، کم از کم 8 طالب علم میری شخصیت، کالم نگاری اور دوسرے کئی پہلوؤں پر ایم فل کا تھیسز لکھ کر ڈگری لے چکے ہیں، کئی تو پی ایچ ڈی بھی کر رہے ہیں۔


سوال: آپ خود ادیب ہیں، آپ کے بھائی (ضیاء الحق قاسمی) مشہور مزاحیہ شاعر تھے،آپ کا بیٹا بھی رائٹر ہے، کیا ادب آپ کے خون میں شامل ہے؟
جواب: بالکل، میں یہی سمجھتا ہوں کہ ادب ہمارے ڈی این اے کا حصہ ہے۔ میری تین پھپھیاں (پھوپھیاں) تھیں اور تینوں کشمیری زبان کی شاعرہ تھیں۔ ادب تو ہمارا ورثہ ہے۔ اس سے محبت ہمارے خون میں شامل ہے۔ ایک ہزار سال سے ہمارا خاندان ادب کی خدمات سر انجام دے رہا ہے۔ ’’تاریخ اقوام کشمیر‘‘ ایک مستند ترین دستاویز قسم کی کتاب ہے جس میں بہت سے دوسرے صاحبان ادب کے ساتھ میرے جد امجد سے لے کر والد تک سب کا ذکر محفوظ ہے۔ مجھ پر آ کر یہ سلسلہ اس حد تک بدلا ہے کہ اب مذہبی اور معاشرتی سنجیدگی میں مزاح نگاری کا عنصر بھی شامل ہو گیا ہے۔ میرا بڑا بیٹا یاسر (پیرزادہ) بھی لکھتا ہے، دوسرا بیٹا علی قاسمی بھی رائٹر ہے۔


سوال: کیا ہمارا موجودہ ادب یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ آنے والے وقتوں میں اپنی افادیت برقرار رکھ سکے؟
جواب: میرے خیال میں یہ ایک مشکل سوال ہے اور فی الحال اس بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ البتہ میں یہ مانتا ہوں کہ کچھ ادب وقتی بھی ہوتا ہے جسے فی زمانہ پر تو بہت پذیرائی ملتی ہے مگر وہ جب وقت کے دھارے میں آتا ہے تو اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔ اس کی ایک مثال میرزا ادیب کے خطوط کی ہے جسے اُس زمانے میں تو بہت شہرت ملی مگر آج ان کا اتنا ذکر نہیں ہوتا۔ اسی طرح کچھ لوگ اپنے دور میں بہت نظر انداز ہوتے ہیں جیسے نظیر اکبر آبادی مگر بعد میں نقادوں نے ان کو اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کیا جیسے ان سے بڑا کوئی شاعر ہی پیدا نہ ہوا ہو لیکن آج پھر ان کی شاعری پس منظر میں چلی گئی ہے۔ اسی طرح کچھ لوگ یہ گلہ کرتے بھی پائے جاتے ہیں کہ ہمیں نظرانداز کیا جاتا ہے حالانکہ یہ فیصلہ عوام کرتے ہیں اور اچھا ادب کبھی بھی نظر انداز نہیں ہو سکتا۔


سوال: موجودہ شاعروں، ادیبوں میں آپ کو کون پسند ہے؟
جواب: میرے سب سے زیادہ پسندیدہ شاعر تو علامہ اقبالؒ ہیں جن سے مجھے عشق ہے۔ پھر سنجیدہ شاعری میں منیر نیازی، احمد ندیم قاسمی، فیض احمد فیض اور جون ایلیا پسند ہیں۔ مزاحیہ شاعری میں دلاور فگار، ضمیر جعفری، انور مسعود اور اکبر الٰہ آبادی پسند ہیں۔ مزاح نگاروں میں سب سے زیادہ تو مشتاق احمد یوسفی صاحب پسند ہیں، خدا ان کی عمر دراز کرے لیکن وہ آج کل لکھ نہیں رہے اور قرۃ العین حیدر بھی پسند ہیں۔


سوال: عالمی ادیبوں میں کون پسند ہے، کسے پڑھتے ہیں؟
جواب: میں زیادہ تر مزاح ہی پڑھتا ہوں۔ عالمی ادیبوں میں ٹی ایس ایلیٹ اور مارک ٹوئن پسند ہیں۔بالخصوص مارک ٹوئن کا وہ جملہ بے حد پسند ہے کہ ’’بچپن میں ہم اتنے غریب تھے کہ ایک کتا بھی نہیں خرید سکتے تھے، رات کو جب کوئی آہٹ ہوتی تھی تو ہم سب گھر والوں کو باری باری بھونکنا پڑتا تھا‘‘۔


سوال: ہمارے ہاں کتاب اور مطالعے کی روایت کم کیوں ہو گئی ہے؟
جواب: میں اس بیان کو سرے سے ہی رد کرتا ہوں کہ ہمارے ہاں کتاب نہیں بکتی یا اس کی روایت کم ہو گئی ہے۔ اس طرح کی باتیں صرف وہ لوگ یا وہ شاعر کرتے ہیں جن کی اپنی کتابیں نہیں بکتیں۔ ہمارے ملک میں اتنے زیادہ ’’بک فیئرز‘‘ اور کتاب میلے ہوتے ہیں کہ جن کا کوئی شمار نہیں اور ہر کتاب میلے میں کروڑوں کی کتابیں فروخت ہوتی ہیں۔


سوال: کیاہمارا موجودہ ادب ہمارے منفی سماجی رویوں کی اصلاح کر رہا ہے؟
جواب: ادب ہمیشہ ’’اِن ڈائریکٹ‘‘ بات کرتا ہے، یہ کبھی بھی ڈائریکٹ بات نہیں کرتا۔ یہ
’between the lines‘‘
بات کرتا ہے اور دنیا کا کوئی ادب ایسا نہیں ملے گا جس میں کوئی نہ کوئی پیغام نہ چُھپا ہو۔ دنیا میں جتنے انقلاب آئے ان کے پیچھے بہت بڑا ہاتھ ادب کا بھی ہے البتہ ادب کے اصلاح کرنے کا طریقہ ہومیو پیتھک ہے۔


سوال: حال ہی میں عدلیہ کی جانب سے اردو کو دفتری زبان بنانے اور مقابلے کے امتحان اردو میں لینے کے فیصلے سامنے آئے ہیں، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اس سے ادب کی ترویج و ترقی پر بھی کوئی اثر ہو گا؟
جواب: ہمارے ادیب تو اردو میں ہی لکھتے ہیں، وہ انگریزی میں تو لکھتے نہیں کہ اس فیصلے سے کوئی فرق پڑے لیکن میں دل و جان سے اس فیصلے کی تائید کرتا ہوں۔ یہ بہت ضروری ہے کیونکہ محض انگریزی کی وجہ سے بہت سے قابل افراد روند دئیے جاتے ہیں اور اکثر و بیشتر نہایت نالائق لوگ اوپر آ جاتے ہیں۔ ان لوگوں کی صرف انگریزی ہی اچھی ہوتی ہے اور پتا انہیں ’’ککھ‘‘ نہیں ہوتا۔


سوال: باقاعدہ کالم نگاری کب شروع کی؟
جواب: کالم نگاری تو شہاب کے زمانے میں ہی شروع ہو گئی تھی، بعد میں نوائے وقت جوائن کر لیا، وہاں کالم نگاری کے ساتھ ساتھ سنڈے میگزین میں فیچر بھی لکھتا تھا، ہر مہینے باقاعدگی سے اس کام کے 323 روپے ملتے تھے۔


سوال: آپ کے فکاہیہ کالم کو آپ کے والد صاحبہ کی تائید حاصل تھی؟
جواب: ویسے تو میرے والد میرے کالم کو ’’خرافات‘‘ کہتے تھے لیکن پڑھتے بھی ضرور تھے۔ ایک دفعہ جب میں امریکا میں تھا تو میں نے ایک کالم لکھا جس میں مَیں نے لکھاکہ ’’ہماری ہاں جنسی گھٹن بہت زیادہ ہو گئی ہے جس کا مظاہرہ پبلک ٹرانسپورٹ اور عوامی مقامات پر عام دیکھنے کو ملتا ہے بلکہ اب تو حالات اس نہج تک پہنچ چکے ہیں کہ جانوروں کی عصمت بھی محفوظ نہیں رہی‘‘۔ جب یہ کالم چھپا تو میرے والد میرے سے ناراض ہو گئے، وہ فوراً مجید نظامی مرحوم کے پاس گئے کہ آپ نے یہ کالم شائع ہی کیوں کیا، انہوں نے سمجھایا کہ میں نے ایک نوجوان کے خیالات سمجھ کر اسے چھاپ دیا ہے، اس کے بعد انہوں نے مجھے خط لکھا کہ فوری طور پر اپنے ان خیالات سے توبہ کرو۔ آخر کو میں بھی انہی کا بیٹا تھا، میں نے انہیں 26صفحوں پر مشتمل خط لکھا جس میں ان کی لائبریری میں موجود کتابوں سے بے شمار حوالے دئیے اور اپنے موقف کا اعادہ کیا، جس پر وہ مان گئے۔ جہاں تک بات تائید کی ہے تو مجھ سے ان کی محبت کا یہ عالم تھا کہ جب کالموں میں دس پندرہ دن کا ناغہ ہو جاتا تو مجھے بلا کر پوچھتے ’’یار تیری وہ خرافات ان دنوں نہیں چھپ رہیں‘‘ میں سمجھ جاتا کہ انہیں میرا کالم پسند ہے لیکن حوصلہ افزائی کا انداز دوسروں سے مختلف ہے۔


سوال: کالم نگاری کے حوالے سے کوئی دلچسپ واقعہ جو آپ سنانا چاہیں؟
جواب: ویسے تو بے شمار واقعات ہیں لیکن میں آپ کو اپنے ’’لمبریٹا‘‘ سکوٹر کا واقعہ سناتا ہوں جو میں نے 70sمیں قسطوں پر لیا تھا، مگر قسطیں پوری ہونے سے پہلے ہی یہ سکوٹر چوری ہو گیا۔ اس پر میں نے ’’محترم چور صاحب‘‘ کے عنوان سے ایک کالم لکھ دیا۔ یہ کالم اتنا مقبول ہوا کہ پاکستان کے ہر بڑے کالم نگار نے اس پر کالم لکھا۔ ابنِ انشاء نے لکھا، احمد ندیم قاسمی نے لکھا، انتظار حسین نے لکھا۔ اس زمانے میں مساوات اخبار میں سہیل ظفر نے بھی اس پر کالم لکھا۔ چور گھبرا گیا کہ ’’میں نے کس قوم کو للکارا ہے‘‘ اور وہ میرا سکوٹر واپس کر گیا۔ جس پر میں نے بعد میں ایک اور کالم لکھا ’’چور صاحب آپ کا شکریہ!‘‘۔ اس کالم میں مَیں نے لکھا کہ آپ کا بہت شکریہ کہ آپ نے سکوٹر واپس کر دیا، میں نے تو ابھی اس کی قسطیں بھی پوری نہیں دی تھیں لیکن میں پریشان ہوں کہ آپ نے کس کا کالم پڑھ کر سکوٹر واپس کرنے کا فیصلہ کیا۔ میرا خیال یہ ہے کہ آپ نے ’’مساوات‘‘ میں سہیل ظفر کا کالم پڑھ کر اسے پارٹی کا حکم سمجھا اور سکوٹر واپس کر دیا۔ وہ زمانہ اتنا رواداری کا تھا کہ کسی نے بھی اسے مائنڈ نہیں کیا بلکہ جب سہیل ظفر مجھے ملے تو ہم ہنس ہنس کر دہرے ہو گئے۔


سوال: امریکا کیوں جانا ہوا تھا؟
جواب: اگر صحیح پوچھیں تو آوارہ گردی کرنے گیا تھا۔ اس زمانے کے میرے سارے دوست امریکا چلے گئے تھے میں اکیلا ہی تھا جو اس ’’جوگا‘‘ نہیں تھا کہ ٹکٹ بھی خرید سکتا۔ نوائے وقت کی سب ایڈیٹری کے دوران میں نے ایک ففٹی سی سی موٹرسائیکل خرید لی تھی۔ اس سواری کو موٹرسائیکل میں نے خود قرار دیا ہے ورنہ اسے ’’پھٹپھٹی‘‘ کہا جاتا تھا۔ میں نے پندرہ سو روپے میں یہ بائیک فروخت کی۔ کچھ پیسے والد محترم سے اور کچھ بھائی جان ضیاء الحق قاسمی سے لئے اورپیدل ہی یورپ کے لئے روانہ ہو گیا۔ پیدل ان معنوں میں کہ جہاز کی بجائے بسوں، ٹرینوں، ٹرکوں اور لفٹ وغیرہ لے کر لکسمبرگ تک پہنچا اور وہاں سے ایک جہاز کی سستی ترین ٹکٹ لی اور امریکا جا اترا۔ لاہور سے نیویارک پہنچنے پر میرے چھ ہزار روپے یعنی چھ سو ڈالر خرچ ہوئے۔ اس زمانے میں ایک ڈالر دس روپے کا تھا۔

interattaulhaq1.jpg
پردیس میں جاتے ہی روٹی، کپڑا اور مکان کی ضرورت پڑتی ہے۔ قریب ہی ایک ہسپتال میں بلڈ ٹیکنیشن کی سیٹ خالی تھی، میں وہاں انٹرویو کے لئے چلا گیا۔ ڈاکٹر نے پوچھا نام کیا ہے، میں نے نام بتایا، پھر اس نے پوچھا کتنے پڑھے لکھے ہو۔ میں نے کہا، ایم اے اردو لٹریچر۔ اس نے کہا کل سے نوکری جوائن کر لو۔ (زوردار قہقہہ) مجھے امریکی نظام صحت پر آج بھی ہنسی آتی ہے۔ایمبولینسیں، حادثات یا فائرنگ سے زخمی ہونے والے افراد کو ایمرجنسی میں وہاں لایا کرتی تھیں اور میں انہیں خون لگاتا تھا۔ انتہائی نازک کام تھا لیکن اللہ نے مجھےُ سرخرو کیا۔ شاید ابا جی کی دعائیں تھیں جنہوں نے مجھے محفوظ رکھا۔ کچھ عرصہ بعد ایک ہوٹل جوائن کر لیا۔ پھر امریکہ میں بڑے ہوٹل میں فوڈ اینڈ بیوریجز منیجر کی نوکری مل گئی۔


مگر امریکہ میں یہی سوچتا رہتا تھا کہ میری عدم موجودگی میں میرے والد (والدہ تو پہلے ہی فوت ہوچکی تھیں)کو کچھ ہوگیا تو میں کیسے خود کو معاف کروں گا۔ پھر یہ سوچ بھی بے چین کرتی تھی کہ اگر مجھے خود کو کچھ ہو گیا تو یہاں گوروں کے قبرستان میں دفن ہونا پڑے گا جبکہ میں تو اپنے ماڈل ٹاؤن کے قبرستان میں دفن ہونا چاہتا تھا جہاں درود و سلام کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ پھر ایک سوچ یہ بھی تھی کہ میں امریکا میں شادی کرتا ہوں تو ممکن ہے کل کو میری نسل میں سے کسی کا نام ’’پیرزادہ پیٹر قاسمی‘‘ ہو اور ہمارے خاندان کی ایک ہزار سالہ دینی پس منظر کی تاریخ کو یہ دن بھی دیکھنا پڑے۔ حالانکہ ہمارے خاندان کے شاگردوں میں ماضی بعید میں حضرت مجدد الف ثانیؒ اور ماضی قریب کی تاریخ میں امیر شریعت عطاء اللہ شاہ بخاریؒ اور بانی جامعہ اشرفیہ مفتی محمد حسنؒ کے علاوہ سیکڑوں علما و مشائخ کا نام شامل ہے۔ چنانچہ دو سال امریکا میں رہنے کے بعد میں نے واپسی کا فیصلہ کر لیا۔ حالانکہ وہاں میں نے جو کمایا تھا وہ وہیں سیر و سیاحت پر خرچ کر دیا تھا۔ دوستوں نے کافی سمجھایا لیکن میں نے ایک نہیں سنی اور واپسی کا رخت سفر باندھ لیا۔ واپسی کے لئے بھی میں نے مشکل راستہ چنا اور امریکا سے بائی ایئر یورپ اور یورپ سے بائی روڈ پاکستان کے لئے روانہ ہو ا۔ ملکوں ملکوں گھومتے اور گھاٹ گھاٹ کا پانی پیتے میں یورپین ملکوں سے ہوتا ہوا ترکی اور ترکی سے ایران پہنچا جس کے سرحدی قصبے سے ٹرین کے ذریعے میں کوئٹہ اور پھر کوئٹہ سے لاہور پہنچا۔ میں نے گھر والوں کو سرپرائز دینے کا سوچا تھا۔ اس وقت شام کا وقت تھا جب میں نے اپنے گھر کی بیل پر انگلی رکھی اور تھوڑی دیر بعد میرے اباجی نے دروازہ کھولا۔ انہوں نے مجھے اچانک اپنے سامنے پایا تو خوشی سے ان کا چہرہ دمک اٹھا۔اس وقت ابا جی کے چہرے پر جو خوشی اور مسکراہٹ تھی، وہ مجھے آج بھی نہیں بھولی۔


سوال: کالج میں پڑھانے کا سلسلہ کیسے شروع ہوا؟
جواب: مجھے دلی طور پر تو شروع سے ٹیچنگ سے لگاؤ تھا کیونکہ نوجوان ذہنوں کو پروان چڑھانے میں جو سکون اور مسرت ہے وہ میں نے کسی اور کام میں نہیں محسوس کی۔ بچوں کی ذہنی تربیت کرنا بنیادی فرائض کا حصہ سمجھتا ہوں۔ جب مجھے ٹیچنگ کی پیشکش ہوئی تو میں نے اپنے ایک دوست سے مشورہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ لیکچرر شپ اور کالم نگاری کے اوقات الگ الگ ہیں، دونوں میں توازن قائم کیا جا سکتا ہے۔ یوں میں بیک وقت کالم نگار اور لیکچرر بن گیا۔ میں تو خود بھی یہی چاہتا تھا چنانچہ ہم آہنگی اور یکسانیت کے باعث دونوں ملازمتیں ساتھ ساتھ چلتی رہیں۔


سوال: پہلی کتاب کب منظر عام پر آئی۔
جواب: روزنِ دیوار کے نام سے میرے کالموں کا پہلا مجموعہ غالباً 1972-73میں منظر عام پر آیا تھا۔ میں نے کبھی اپنے کالموں کی کتاب میں وقتی نوعیت کے کالم شامل نہیں کئے۔ چراغ حسن حسرت اگرچہ واقعتا بہت بڑا نام ہے۔ میں نے بہت شوق سے ان کے انتخاب کی کتاب خریدی مگر مجھ سے پڑھی نہیں گئی کیونکہ تمام حوالے اور واقعات پرانے زمانے کے تھے۔ میں ان کے طنز کے پیچھے چھپے ہوئے واقعے کو سمجھ ہی نہ سکا۔ ایسا سب کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس لئے میں نے ہمیشہ اپنے کالموں کی کتاب میں تخلیقی نوعیت کے کالم شامل کئے ہیں۔ اب تک میری کوئی ڈیڑھ درجن کتابیں آ چکی ہیں، جن میں طنز و مزاح کی کتابیں بھی ہیں اور سفرنامے بھی۔


سوال: ڈرامہ نگاری کی طرف کیسے آئے۔
جواب: اتفاق سے۔ (مسکراتے ہوئے) اور یہ بھی اتفاق کی بات ہے کہ میں نے زندگی میں کوئی کام پلاننگ سے نہیں کیا۔ لوگ پوچھتے ہیں آپ کو ٹی وی کے لئے لکھنے میں کون کون سی مشکلات پیش آئیں مگر میرے ساتھ یہ معاملہ بالکل نہیں تھا۔ میں کالم لکھتا تھا جب میرے ایک دوست نے ٹی وی کے لئے ڈرامہ لکھنے کو کہا میں نے انکار کر دیا اورکہا کہ میں ڈرامہ نگار نہیں ہوں۔ وہ ہمیشہ ڈٹے رہتے، بار بار اصرار کرتے کہ ایک بار ڈرامہ لکھ کر تو دیکھیں۔ پھر مجھے کہا گیا کہ آپ کے کالموں میں ڈائیلاگ اور ڈرامہ موجود ہوتا ہے۔ ان کے اصرار پر میں نے پہلا ڈرامہ علی بابا چالیس چور لکھا۔ ویسے تو یہ بچوں کا ڈرامہ تھا لیکن بڑے بھی اسے بڑے شوق سے دیکھتے تھے، اس کے بعد میں نے ایک ڈرامہ ’’اپنے پرائے‘‘ لکھا مگر اس کے ساتھ بہت برا سلوک ہوا کیونکہ اس وقت حکومت کی جانب سے پی ٹی وی پر خاصی سختی کی گئی تھی، ضیاء جالندھری اس وقت پاکستان ٹیلی ویژن کے منیجنگ ڈائریکٹر تھے، ایک روز انہوں نے لاہور اور کراچی کا دورہ کیا۔ لاہور سٹیشن سے میرا ڈرامہ چل رہا تھا اورکراچی میں انور مقصود کے ڈرامے ’’آنگن ٹیڑھا‘‘ کی ریکارڈنگ ہو رہی تھی۔ انہوں نے میرے ڈرامے کے ایک کردار اور آنگن ٹیڑھا میں سلیم ناصر کے کردار پر اعتراض کیا کہ آپ قوم کو بدتمیزی سکھا رہے ہیں۔ خوب ’’کھچائی‘‘ کے بعد انہوں نے دونوں کرداروں کو نکالنے کا حکم دیا۔ لاہور سٹیشن والوں نے فوری طور پر مان لیا اور ڈرامے پر قینچی پھیر دی مگر کراچی سٹیشن نے دلیری دکھائی، اور چونکہ، چنانچہ سے کام لیتے ہوئے قطع برید کرنے کے بجائے ڈرامے کو اپنے حساب سے آن ایئر کیا۔ ’’اپنے پرائے‘‘ کے بعد میں نے نہ لکھنے کی ٹھان لی لیکن پھر مجھے لکھنا پڑ گیا۔ پھر خواجہ اینڈ سنز لکھا جس نے مقبولیت کے ریکارڈ توڑ ڈالے، اس کے بعد میں نے شب دیگ لکھا جس کے کرداروں ’’کاکا منا‘‘ اور ’’انکل کیوں‘‘ کو بہت شہرت ملی، ایک اور ڈرامے کے کردار پروفیسر اللہ دتا اداس کو بھی لوگوں نے بہت پسند کیا۔ پھر ’’حویلی‘‘ لکھا، ’’شیدا ٹلی‘‘ لکھا، کچھ اور ڈرامے اور لانگ پلے لکھے، اس کے بعد دو ڈرامے پرائیویٹ سیکٹر کے لئے بھی لکھے۔ میرے سارے ڈرامے سفید پوش طبقے کی نمائندگی کرتے تھے، میں نے کبھی ڈراموں میں بڑی کوٹھیاں، لمبی گاڑیاں نہیں دکھائیں بلکہ میں تو اس طرح کے گلیمر کو میڈیا کی دہشت گردی سمجھتا ہوں۔


سوال: سفارت کاری کا تجربہ کیسا رہا؟
جواب: میری ہمیشہ یہ کوشش رہی کہ جہاں بھی جاؤں، جو بھی کروں کچھ ایسا کروں کہ پتا لگے کچھ تبدیلی آئی ہے، ناروے میں میرے ہوتے ہوئے سفارت خانے کے دروازے ہر پاکستانی کے لئے کھلے تھے اور لوگ بلا جھجک میرے پاس آیا کرتے تھے بلکہ ایک بار تو یہ افواہ اڑی کہ سفیر صاحب ’’گرون لینڈ‘‘ میں جو کہ اوسلو کا نواحی علاقہ ہے اور پاکستانیوں کا گڑھ سمجھا جاتا ہے، وہاں ٹیکسی ڈرائیوروں کے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھا رہے ہیں۔ ناروے میں سفیر کو صدر جتنا درجہ حاصل ہوتا ہے اور یہ بات ملک کے وقار کے خلاف سمجھی گئی۔ پہلے پہل تو میں خاموش رہا مگر جب بات زیادہ بڑھ گئی تو ایک دن جمعے کو میں شہر کی سب سے بڑی مسجد میں چلا گیا اور وہاں جا کر اپنا آبائی کام کیا یعنی خطبہ دیا۔ میں نے کہا کہ جب سے میں اوسلو آیا ہوں، تب سے کوئی نہ کوئی سیکنڈل سننے کو ملتا ہے، اب کی بار میرا سیکنڈل سامنے آیا ہے کہ میں ٹیکسی ڈرائیوروں کے ساتھ کھانا کھاتے پایا گیا ہوں۔ میں یہاں کوئی صفائی دینے نہیں آیا بلکہ یہ بتانے آیا ہوں کہ میری ساری زندگی میلے کچیلے لوگوں کے ساتھ گزری ہے، میری زندگی کا یہ حصہ بھی انہی میلے کچیلے لوگوں کے ساتھ گزرے گا اور جب میں پاکستان واپس چلا جاؤں گا تو انہی لوگوں کے پاس جاؤں گا اور میری دعا ہے کہ جب میں مروں تو جاگیرداروں اور وڈیروں کے ساتھ اٹھائے جانے کی بجائے انہی میلے کچیلے لوگوں کے ساتھ اٹھایا جاؤں۔ میں آج بھی اکثر پیدل اندرون لاہور میں چلا جاتا ہوں تاکہ مجھے میرا ماضی نہ بھولے۔ ناروے کی سفارت کاری کے دوران پوری پاکستانی کمیونٹی ہر کام کے لئے میرے ساتھ کھڑی تھی، آج جب مڑ کر دیکھتا ہوں تو حیران رہ جاتا ہوں۔ سوچتا ہوں کہ ہمارے پاکستانی ناروے میں کتنے منظم اور کتنے متحد ہیں۔ وہ اپنے ملک سے کس قدر محبت کرتے ہیں اس کا اندازہ یہاں بیٹھ کر نہیں لگایا جا سکتا۔


سوال: آپ آٹھ سال تک الحمراء آرٹس کونسل کے چیئر مین رہے، وہاں ایسا کیا کام کیا جسے آپ اپنا امتیازی کام کہہ سکیں؟
جواب: وہاں تو بہت سارے کام کئے لیکن اگر کام کا ذکر کرنا مقصود ہو تو میں دو بڑے کام گنواؤں گا۔ اول تو میں نے انٹرنیشنل لٹریری فیسٹیولز کروائے جس کا کبھی تصور بھی نہیں کیا گیا تھا، دوسرا یہ کہ میں نے فنون لطیفہ کے ہر شعبے میں ایوارڈز شروع کروائے۔ اس کے علاوہ میں نے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کے لئے کام شروع کیا اور پہلے ایک اشتہار شائع کیا کہ 35سال کی عمر تک کے افراد اپنا کلام بھیجیں۔ پورے پاکستان سے نوجوانوں نے اس میں حصہ لیا، ہم نے ان میں سے اچھے شاعروں کا انتخاب کیا، انہیں لاہور بلوایا، ان کا مشاعرہ کروایا، ان کو معاوضہ دیا، ان کے لئے ورکشاپس کروائیں جس میں انہیں شعری اصناف کے بارے میں تعلیم دی گئی، پھر ان کے منتخب کلام کو ان کی تصویر اور مختصر سوانح پر مشتمل خاکے کے ساتھ کتابی صورت میں شائع کیا گیا جسے ’’ذرا نم ہو‘‘ کا نام دیا گیا۔ لیکن جس کام کی مجھے ذاتی خوشی ہے وہ یہ کہ مجھے چونکہ اقبالؒ سے عشق ہے، اس لئے میں نے الحمراء میں اقبال کا مجسمہ بنوا کر نصب کروایا۔ پہلے پہل اس کی بے پناہ مخالفت دیکھنے میں آئی مگر آج لوگ وہاں جا کر سیلفیاں لے رہے ہوتے ہیں۔


سوال: اب پی ٹی وی کے لئے آپ کیا کام کرنا چاہ رہے ہیں؟
جواب: پی ٹی وی میں میری ساری توجہ پروگرامنگ پر ہے۔ میرے نزدیک پی ٹی وی کا سب سے پلس پوائنٹ ’’ناسٹلجیا‘‘ ہے چنانچہ ایک تو ہم نے پرانے کلاسیک ڈرامے شروع کئے ہیں لیکن جو اس سے بڑا کام میں نے کیا اور جس کا میں نے آتے اعلان کیا تھا وہ یہ تھا کہ میرا وَن پوائنٹ ایجنڈا ’’اِن ہاؤس‘‘ پروڈکشن ہے۔ میرے سے پہلے 26سٹوڈیو ویران پڑے تھے، ملازم بے کار تھے، پی ٹی وی میں الو بولا کرتے تھے، سارا کام باہر سے لے کر چلا رہے تھے، میں نے سارے سٹوڈیو کھلوائے اور اِن ہاؤس پروڈکشن شروع کی۔ اب جو سہ ماہی آن ائیر ہے اس میں سارے پروگرام ہمارے اپنے چل رہے ہیں۔


سوال: موجودہ حالات میں آپ پاکستان کو کہاں دیکھتے ہیں؟
جواب: میں تو بے پناہ پُر امید شخص ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ زندگی میں مجھے جو کچھ ملا ہے، صرف اس لئے ملا ہے کہ نہ تو میں کبھی اداس ہوا ہوں اور نہ کبھی مایوس ہوا ہوں۔ اور اب تو میں اپنی آنکھوں سے پاکستان کو ترقی کرتا دیکھ رہا ہوں۔ آپ دیکھئے کہ آزادی کے وقت ہمارے پاس کیا تھا اور آج ہم کہاں ہیں، غریب سے غریب شخص کے حالات میں بھی کچھ نہ کچھ بہتری ضرور آئی ہے۔ ایک وقت تھا ہم لوگوں کے پاس جوتے نہیں ہوتے تھے، سڑکیں نہیں تھیں، ہسپتال نہیں تھے، آج آپ عالمی سروے رپورٹیں اٹھا کر دیکھ لیں وہ یہ کہتی ہیں کہ اگر یہ تسلسل جاری رہا تو 2025میں پاکستانی معیشت یورپی ممالک کے مدمقابل کھڑی ہو گی۔ اگر جمہوری تسلسل برقرار رہا اور تمام ادارے اپنی اپنی حدود میں رہ کر کام کرتے رہے تو یہ ملک بہت ترقی کرے گا۔


سوال: ابھی حال ہی میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات دیکھنے کو ملے، پنجاب اسمبلی کے باہر خود کش حملہ ہوا، سندھ میں لال شہباز قلندرؒ کے مزار پر حملہ ہوا، آپ اس نئی لہر کو کس طرح دیکھتے ہیں؟
جواب: یہ ہمارے کچھ طالع آزماؤں کے بوئے ہوئے بیج ہیں، ماضی میں جان بوجھ کر مذہبی منافرت کی بنیاد رکھی گئی تھی جس کا نتیجہ آج آپ کے سامنے ہے۔ اگرچہ اس میں غیرملکی طاقتوں اور پڑوسی ملک کی سازشیں بھی شریک ہیں لیکن استعمال ہمارے اپنے لوگ ہو رہے ہیں۔ اب بھی کچھ ایسے فکری مراکز موجود ہیں جہاں مذہب کی غلط تشریحات سے نوجوانوں کے کچے ذہنوں کی برین واشنگ کی جاتی ہے اور پھر انہیں ہمارے ہی خلاف استعمال کیا جاتا ہے مگر ہمارے ریاستی اداروں بالخصوص فوج نے جس قدر قربانیاں دی ہیں اس سے حالات بہت پُر امید ہیں۔


سوال: اپنا کون سا شعر سب سے زیادہ پسند ہے؟
جواب: اپنے شعروں میں مجھے ایک شعر بہت پسند ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ میری ساری زندگی کا نچوڑ یہ شعر ہے، میں نے اپنی پوری زندگی اس شعر کے مطابق گزاری ہے۔
اک صدا دے کے میں لوٹ آیا عطاؔ
اس نے اندر سے جب یہ کہا، کون ہے؟
(پنجابی میں) نہیں تے ناں سہی،

(زوردار قہقہہ)


سوال: آپ کا پسندیدہ لیڈر کون سا ہے؟
جواب: یقیناًمیرے پسندیدہ لیڈر قائداعظم محمد علی جناح ہی ہیں جن کے پاس ایک ویژن تھا، ایک لگن تھی، لیکن اگر موجودہ سیاسی تناظر میں دیکھا جائے تو آپ کے پاس بہت محدود آپشن ہے۔ کچھ جماعتیں لسانیت کی بنیاد پر چل رہی ہیں، کچھ مذہب کا نعرہ لگا رہی ہیں، کچھ قومیت کے پردے میں چھپی ہوئی ہیں، میں ان سب لوگوں کے ساتھ تو چل نہیں سکتا۔ ہمارے کچھ اچھے اور ٹیلنٹڈ سیاستدان بھی ہیں مگر وہ اپنے آپ کو ضائع کر رہے ہیں جس وجہ سے آپ کی آپشن بہت محدود ہو جاتی ہے اور میری سیاسی وابستگی کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے۔


سوال: ماشاء اللہ آپ ایک ہمہ جہت اور بہت کامیاب زندگی گزار رہے ہیں، اپنی زندگی کی روشنی میں نوجوانوں کو کیا پیغام دیں گے؟
جواب: میں ہمیشہ ایک ہی پیغام دیا کرتا ہوں کہ اپنے وسائل میں خوش رہیں، اگرچہ دولت ایک بڑا وسیلہ ہے مگر اس کی غیر موجودگی میں بھی خوش رہنے کی ہزار ہا چیزیں ہیں، آپ کے پاس آنکھیں ہیں، ہاتھ، پیر ہیں، عقل ہے، سوچ ہے، فکر ہے لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ آپ اس پر اکتفا کر کے بیٹھ جائیں بلکہ زیادہ کے لئے کوشش کرتے رہیں لیکن کسی خواہش کے غلام نہ بنیں جب آپ خواہشوں کی غلامی پر اتر آئے تو پھر آپ گھٹیا سے گھٹیا کام بھی کریں گے۔


سوال: فوجی بھائیوں اور ہلال کے قارئین کو کیا پیغام دینا چاہیں گے؟
جواب: فوجی بھائی جس طرح ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے کے لئے قربانیاں دے رہے ہیں، مجھ سمیت پوری قوم کو ان پر فخر ہے۔
ایک دعائیہ غزل
خوشبوؤں کا اک نگر آباد ہونا چاہئے
اس نظامِ زر کو اب برباد ہونا چاہئے
ان اندھیروں میں بھی منزل تک پہنچ سکتے ہیں ہم
جگنوؤں کو راستہ تو یاد ہونا چاہئے
خواہشوں کو خوب صورت شکل دینے کے لئے
خواہشوں کی قید سے آزاد سے ہونا چاہئے
ظلم بچے جَن رہا ہے کوچہ و بازار میں
عدل کو بھی صاحبِ اولاد ہونا چاہئے
عرض کرتے عمر گزری ہے عطاؔ صاحب جہاں
آج اُس محفل میں کچھ ارشاد ہونا چاہئے

 
Read 863 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter