تحریر: ڈاکٹرہمامیر

سرکس میں تماشا نہیں لگاتا۔ یہ بات کیوں اور کیسے مشہور ہوئی معلوم نہیں لیکن مجھے ان بھیڑیوں کا خیال ضرور آیا جنہیں ایک کینیڈین جوڑا بڑی محبت سے ایسے پال رہا ہے جیسے وہاں کتے یا بلی پلتی ہے۔ ونکوور کے شمال مشرق میں پہاڑوں کے دامن میں 1.25 ایکڑ کے وسیع رقبے پر
Casey & Shelley
نامی میاں بیوی نے بھیڑیوں کو بڑے ناز سے پالا ہے۔ لوگ ہرن پالتے ہیں، بھیڑ ، بکری، گائے، دنبے، بیل، اونٹ، گھوڑے، گدھے، مور، پرندے، کتا، بلی پالتے ہیں۔ جانے یہ بھیڑئیے پالنے کا خیال کیونکر آیا اور یہ کیا ایک نئی سوچ کو پروان چڑھانے کے لئے کیا جا رہا ہے۔ یعنی بھیڑیے سے متعلق جتنی باتیں یا کہاوتیں مشہور ہیں، ان کے حساب سے تو بھیڑیا ایسا درندہ ہے جس کے بارے میں کبھی پہلے نہیں سنا کہ اسے پالا جائے۔ لوگ سانپ جیسے موذی کو پال لیتے ہیں مگر زہر نکال کے۔ یہ بھیڑیا پالنا آخر کیا ظاہر کرتا ہے؟ یہ سب میری سمجھ سے تو باہر ہے تاہم میں آپ کو ان پالتو بھیڑیوں کے tazahawabaharki.jpgبارے میں بتاتی ہوں جو
Casey
اور
Shelley
نے پالے ہیں۔ یہ تعداد میں کل 7ہیں۔ ان میں سے ایک مادہ ہے جس کا نام مایا ہے۔ وہ سب سے بڑی ہے اس کی عمر 17برس ہے
Wiley
نامی بھیڑیا خوب تندرست و توانا ہے۔ اس کی عمر14برس ہے اور وزن 110پاؤنڈ ہے۔
Aspen
نامی بھیڑیا ہے جو سب سے پہلے پلا تھا۔
Aspen
چھوٹا سا بچہ تھا جب اسے لایا گیا تھا۔ ان کے علاوہ
Dave
اور
Flora
بھی ہیں۔ یہ سب بھیڑئیے مل جل کر رہتے ہیں۔ ان کے مالک
Shelley
اور
Casey
نے باقاعدہ وولف سینٹر بنایا ہے جہاںیہ سات بھیڑیے خوب گھومتے پھرتے عیش کرتے ہیں۔
Shelley
اور
Casey
مختلف سکولوں میں جا کر بھیڑیوں کے حق میں تقاریر کرتے ہیں۔ بچوں کو ترغیب دیتے ہیں کہ وہ ان کے وولف سینٹر کا دورہ کریں تاکہ بھیڑیوں کے حوالے سے ان کے ذہن تبدیل ہو سکیں۔ یہ دونوں میاں بیوی بھیڑیوں کی پبلسٹی میں آگے آگے ہیں۔ یہ چاہتے ہیں کہ لوگ بھیڑیوں سے خوف کھانے یا ان کو برا سمجھنے کے بجائے ان سے محبت کریں، ان کو گھروں میں پالیں اور بھیڑیوں کو درندہ سمجھنے کے بجائے پالتو جانور سمجھیں۔


چلیں اب ختم کریں یہ بھیڑیوں کی باتیں بہت ہو گئیں۔ ذرا سیاسی درجہ حرات پر بات ہو جائے۔ اس بار موسم سرما میں عالمی سیاست گرم رہی۔ نئے قوانین، نئے اصول، نئی باتیں سامنے آئیں۔ دنیا کے دیگر مسلمان ممالک میں بسنے والوں کی ہمدردی اور اظہار یکجہتی کے لئے ریلیاں نکالنے والے کسی اشارے کے منتظر رہے اور نئی پالیسیوں پر ان کا ردعمل سامنے نہیں آیا۔ کہیں کوئی صدا سنائی نہ دی۔ بس اتنا ضرور ہوا کہ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کی بین الاقوامی مقبولیت میں ضرور اضافہ ہوا۔ ٹروڈو بہت باصلاحیت نوجوان وزیراعظم ہیں۔ وہ تمام مذاہب اور مسالک کا احترام کرتے ہیں۔ غیرملکی تارکین وطن اور مسلمانوں سے محبت کرتے ہیں اور ان کے حق میں بیانات دیتے ہیں۔ انہوں نے جس طرح مسلمانوں کو اپنے ملک میں خوش آمدید کہا اور جس طرح تارکین وطن کو گلے لگایا، لوگ ان کے مداح ہو گئے ہیں۔ عالمی سطح پر انہیں سراہا جاتا ہے۔ پاکستان میں ٹرکوں کے پیچھے ان کے پورٹریٹ نظر آتے ہیں۔ اس سے قبل سابق صدر ایوب خان کی تصاویر ہمیں ٹرک کے پیچھے نظر آتی تھیں۔ جسٹن ٹروڈو کے والد بھی سیاستدان تھے، وہ بھی کینیڈا کے وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ کمال بات ہے کہ یہ خاندان نہایت ایماندار اور محنتی ہے۔ ان پر ایک پائی کی بھی کرپشن کا الزام نہیں۔ یہ ایسے وی آئی پی ہیں جو اپنا سامان خود اٹھاتے ہیں۔ ان کے چہرے پر کوئی رعونت یا فرعونیت نہیں۔ ٹروڈو کا مسکراتا چہرہ، ان کے مثبت بیانات، عملی اقدامات، اختلافات و اقدار کا لحاظ ان کو ایک آئیڈیل سیاستدان کے روپ میں پیش کرتا ہے۔ جسٹن ٹروڈو کی اہلیہ نہایت حسین وجمیل خاتون ہیں۔ یہ سرکاری خرچ پر نہیں بلکہ ذاتی جیپ سے شاپنگ کرتی ہیں۔ ٹروڈو کے بچے ابھی پڑھ رہے ہیں اور کسی سیاسی کام میں مداخلت نہیں کرتے۔ یہ بچے کسی کی تقرری، ٹرانسفر، یا کسی قسم کی دیگر ذمہ داریوں سے مبرا ہیں۔ نیز ان کو یہ بھی نہیں باور کرایا گیا کہ ان کے باپ کے بعد اقتدار انہی کا حق ہے۔کینیڈا کی دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کا حال بھی اس سے مختلف نہیں۔ یہ سب جمہوری روایات کے امین ہیں اور جمہوریت کے مفہوم سے نہ صرف آشنا ہیں بلکہ اپنے طرز عمل سے ثابت بھی کرتے ہیں۔

مصنفہ ‘ مشہور ادا کارہ‘ کمپیئر اوردو کتابوں کی مصنفہ ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 493 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter