اُمید ہی مستقبل ہے ۔۔

Published in Hilal Urdu April 2017

وطنِ عزیز میں امن کی بحالی کے لئے افواجِ پاکستان اور قوم باہم مل کر دہشت گردی کے جس عفریت سے ایک دہائی سے زائد عرصے سے نبرد آزما تھیں‘ الحمدﷲ اس میں کافی حد تک کامیابی مل چکی ہے اوراُس کے ثمرات کا اندازہ امن عامہ کی عمومی صورتحال اور عوام کے دمکتے چہروں سے لگایا جاسکتا ہے۔ الحمدﷲعوام الناس دہشت گردی کے خوف سے نکل چکے ہیں اور وہ دہشت گردی کے ہونے والے اِکا دُکا واقعات سے نمٹنے کے لئے اپنی افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ افواجِ پاکستان نے جس انداز ہے دہشت گردی کے جن پر قابو پایاہے اس کا اعتراف دنیا بھر میں کیا جاتا ہے۔


اب باقی ماندہ فسادیوں اور سہولت کاروں کے خلاف’ آپریشن رد الفساد‘ کامیابی سے جاری ہے اور اس وقت تک جاری رہے گا جب تک اس سرزمین سے فسادکی مکمل بیخ کنی نہیں ہوجاتی۔ عوام کے حوصلے کس قدر بلند اور جذبے کس طور جواں ہیں ‘اس کا اندازہ حالیہ یومِ پاکستان پریڈ سے لگایا جاسکتا ہے۔ رواں برس پریڈ کی خاصیت یہ تھی کہ برادر ممالک چین اور سعودی عرب کے فوجی دستے اور برادر ملک ترکی کے مہتر بینڈ نے شریک ہو کر پاکستان اور پاکستانیوں کا مان بڑھایا۔ دریں اثناء شمالی وزیرستان کے صدر مقام میرانشاہ سمیت ملک بھر میں پاکستان ڈے منایا گیا جس میں بچوں ‘ بوڑھوں اور جوانوں نے بھرپور شرکت کی۔ لوگوں کے چہرے تمکنت اور خوشی سے دمکتے دکھائی دیئے جو یہ پیغام دے رہے تھے کہ پاکستان تاریک راہوں سے نکل آیا ہے اور اب ایک روشن اور تابناک مستقبل پاکستان اور اس کے باسیوں کا مقدر ہے۔ عوام کو صرف اس حدتک ذمہ دارہونے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے حصے کا کام کرنے اور اپنے حصے کی شمع جلانے میں بخل سے کام نہ لیں کیونکہ پاکستان صرف اسی صورت میں ترقی کرسکتا ہے جب تمام ادارے اپنے اپنے حصے کاکام اس انداز سے کریں کہ جس سے ملک میں ترقی و خوشحالی کا دور دورہ ہو۔


زندہ قومیں اُمید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتیں اور اپنے حوصلے پست نہیں ہونے دیتیں کہ اُمید ہی میں روشن و تابناک مستقبل کے راز پنہاں ہوا کرتے ہیں مگر شرط یہ ہے کہ ہمیں بحیثیت قوم رواداری اور باہمی یگانگت کو یقینی بنانا ہوگا۔ بانئ پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح نے 11 ستمبر1947 کو دستور ساز اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے فرمایاتھا ’’ پاکستان کی عظیم ریاست کو اگر ہم آسودہ ‘ خوشحال اور ثروت مند بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں عوام کی فلاح پر تمام تر توجہ مرکوز کرنی پڑے گی اور ان میں بھی عام لوگوں بالخصو ص نادار آبادی کی فلاح مقدم ہے۔ اگر آپ نے ماضی کی تلخیوں کو فراموش کرکے‘ ناگواریوں کو دفن کرکے باہم تعاون سے کام کیا تو آپ کی کامیابی یقینی ہے اگر آپ نے ماضی کی روش بدل دی اورآپس میں مل جل کر اس جذبہ کے ساتھ کام کیا کہ آپ میں سے ہر شخص خواہ و ہ کسی بھی فرقے سے ہو‘ خواہ ماضی میںآپ کے ساتھ اس کے تعلق کی نوعیت کچھ بھی رہی ہو‘ اس کا رنگ ذات یا مسلک خواہ کچھ بھی ہو‘ وہ شخص اول آخر اس ریاست کا شہری ہے اور اس کے حقوق‘ مراعات اور فرائض برابرکے ہیں‘ تو یاد رکھئے کہ آپ کی ترقی کی کوئی حد وانتہا نہ ہوگی۔‘‘


الغرض قوم اور اداروں کو پوری تندہی کے ساتھ اپنی خدمات کو اس اُمید سے یقینی بنانا ہے کہ آنے والے وقتوں میں وطنِ عزیز پاکستان دنیا کے بہترین اور ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہوسکے۔

Read 898 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter