اقتصادی تعاون تنظیم ای سی او اور پاکستان

Published in Hilal Urdu April 2017

تحریر: جاوید حفیظ

مشہور مقولہ ہے کہ ایک، ایک اور دو گیارہ ہوتے ہیں۔ جب بہت سے لوگ ایک کمپنی کے شیئرز خریدتے ہیں تو کمپنی اپنی پیداوار میں اضافہ کرتی ہے اور منافع بھی بڑھ جاتا ہے۔ کمپنی کی شہرت بہتر ہوتی ہے شیئرز کی ویلیو بڑھتی ہے اور لوگ اس کمپنی میں مزید سرمایہ کاری کی طرف راغب ہوتے ہیں۔ اسی طرح سے ملکوں کا اقتصادی تعاون خوش حالی لاتا ہے۔ تجارت کا حجم بڑھنے سے کمپنیاں منافع کماتی ہیں۔ نئے کارخانے لگتے ہیں۔ سڑکیں بنتی ہیں۔ ٹرانسپورٹ اور انشورنس کا بزنس فروغ پاتا ہے۔ تجارتی روابط ٹورازم کو ترقی دیتے ہیں اور یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ تجارت ملکوں کے مابین امن اور خطے میں استحکام لاتی ہے۔ کیونکہ اقتصادی تعاون کے بین الاقوامی فروغ کے لئے امن اور استحکام اہم شرط ہے۔


علاقائی اقتصادی تعاون سے وسائل کے بہتر استعمال میں مدد ملتی ہے مثلاً پاکستان ٹیکسٹائل اور چاول برآمد کرتا ہے اور ہمسایہ ملک ایران یہ دونوں اشیا درآمد کرتا ہے۔ ایران اگر یہ دونوں چیزیں کسی دورکے ملک سے منگوانے کے بجائے پاکستان سے خریدے تو اسے سستی بھی پڑیں گی کیونکہ ٹرانسپورٹ کرنے میں لاگت کم آئے گی۔ اسی طرح ایران تیل اور گیس برآمد کرتا ہے جبکہ اس کے ہمسایہ ممالک ترکی اور پاکستان کی انرجی کی ضروریات بڑھ رہی ہیں ان تین ملکوں کے باہمی تعاون سے اقتصادی ترقی کو فروغ دینے کے لئے 1964 میں آر سی ڈی
(Regional Cooperation For Development)
بنائی گئی۔ اس تنظیم کا مقصد تینوں ملکوں کے مابین تجارت کا فروغ اور شاہراہ کے ذریعے سفر کو آسان بنانا تھا۔ یہی وہ شاہراہ تھی جو پاکستان کو یورپ سے منسلک کر سکتی تھی۔ ایران میں 1979 میں انقلاب آیا تو آر سی ڈی غیرفعال ہو گئی۔ 1985میں تینوں ممالک نے اسے نئے نام یعنی ای سی او
(Economic Cooperation Organisation)
کے ذریعے دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کیا۔ 1992 میں افغانستان اور سنٹرل ایشیا کے چھ ممالک اس تنظیم میں شامل ہو گئے۔ بیسیویں صدی نے علاقائی تعاون کا عروج دیکھا ہے اور بہت سے ممالک باہمی اشتراک سے مستفید ہوئے۔ اس تعاون کی سب سے بڑی مثال یورپی یونین ہے۔ تعاون اور اتحاد کی اس شکل میں سرمایہ اور لیبر آزادانہ ایک ملک سے دوسرے ممبر ملک جا سکتے ہیں۔ مثلاً فرانس کا شہری جرمنی، یونان، ہالینڈ کسی بھی ملک میں نہ صرف جاب کر سکتا ہے بلکہ سرمایہ کاری بھی کر سکتا ہے۔ دو عالمی جنگوں سے تھکے ہوئے یورپ کے لئے یہ بہت خوشگوار تجربہ تھا۔ اسی طرح کا ایک اور کامیاب تجربہ ایشیا میں آسیان کی صورت میں سامنے آیا۔ یہاں علاقائی تعاون سے سنگاپور، ملائشیا اور دیگر ممبر ممالک کو بہت فائدہ ہوا اور دیکھتے ہی دیکھتے معیار زندگی بہتر ہوا۔ ان ممالک نے نہ صرف باہمی تجارت کو خاصی حد تک بڑھایا بلکہ تعلیم صحت اور ریسرچ کے شعبوں میں بھی ایک دوسرے کی معاونت کی، بالآخر خارجہ پالیسی کے امور میں بھی تعاون دیکھنے میں آیا۔ دوسری طرف یورپ کے کئی ممالک مشترکہ ویزہ پالیسی کا حصہ ہیں اور ایک کامن کرنسی یعنی یورو معرض وجود میں آئی۔ ان دو کامیاب علاقائی تنظیموں کے علاوہ چند ایسی مثالیں بھی مشاہدے میں آئیں جن میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکی اور ان میں ایک تنظیم سارک بھی ہے۔

ecoaurpakistan.jpg
اس بات کا تعین بھی ضروری ہے کہ سارک ناکام تنظیم کیوں ہے۔ کسی بھی علاقائی تعاون تنظیم کی کامیابی کے لئے ایک بنیادی شرط یہ ہے کہ ممبر ممالک کی سوچ اور مقاصد میں ہم آہنگی ہو۔ صاف ظاہر ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے ہدف مختلف ہیں۔ مثلاً انڈیا ایک ایسا پاکستان چاہتا ہے جو اس کا تابع فرمان ہو۔ مگر انڈیا اپنا یہ ہدف حاصل نہیں کر سکا اور 1998 کے ایٹمی تجربوں کے بعد تو پاکستان کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔ لیکن اس بات کا کیا علاج ہے کہ انڈیا نے اپنا برتری اور رعب جمانے کا ہدف ترک نہیں کیا۔ پھر انڈیا اور پاکستان کے مابین کئی حل طلب مسائل ہیں جن میں کشمیر سرفہرست ہے۔ ای سی او ممالک کے درمیان ایسے جھگڑے نہیں لہٰذا اس تنظیم کی کامیابی کے امکانات زیادہ روشن ہیں۔معیشت کا تنوع اور ایک دوسرے پر انحصار علاقائی تعاون کی کامیابی کی دوسری شرط ہے۔ انڈیا اور پاکستان دونوں ٹیکسٹائل گڈز برآمد کرتے ہیں بین الاقوامی منڈی میں دونوں میں مقابلے کی فضا رہتی ہے۔ اسی طرح انڈیا، پاکستان اور سری لنکا تینوں چاول برآمد کرتے ہیں۔ پاکستان اور انڈیا کے مابین باسمتی چاول برآمد کرنے کے سلسلے میں سخت مسابقت رہتی ہے۔ ای سی او کے ممبر ممالک میں ایسی کوئی مشکل نظر نہیںآتی۔ پاکستان اور ترکی بہت ساری ایسی چیزیں بناتے ہیں جن کی سنٹرل ایشیا میں کھپت ہے۔ پاکستان میں لوڈ شیڈنگ کا مسئلہ ہے اور ہمیں گرمیوں میں تاجکستان سے بجلی مل سکتی ہے۔ ایک منصوبہ جسے کاساایک ہزار
(CASA-1000)
کا نام دیا گیا ہے پر دستخط ہو چکے ہیں۔


عام طور پر کہا جاتا ہے کہ علاقائی تعاون اور تجارت کے فروغ کے لئے مذہبی اور کلچرل ہم آہنگی اور یکسانیت لازمی شرط نہیں لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔ ترکی مسلمانوں کا ملک ہے۔ پوری کوشش کے باوجود ترکی ابھی تک یورپی یونین کی ممبر شب حاصل نہیں کر سکا۔ سارک ممالک کے لوگ تین چار مذاہب کے پیروکار ہیں۔ جن میں ہندو مت، اسلام، بدھ مت اور عیسائیت نمایاں ہیں۔ ان کے برعکس ای سی او ممبر ممالک میں ہر جگہ مسلمان اکثریت میں ہیں اور اس وجہ سے ای سی او کی کامیابی کے امکانات زیادہ روشن ہیں۔


ای سی او نے اب تک کیا اہداف حاصل کئے ہیں۔ اس تنظیم کا ریکارڈ کیسا ہے۔ یہ جاننا بہت ضروری ہے۔ ریکارڈ دیکھنے کے بعد میں ای سی او کو نیم کامیاب تنظیم کہوں گا۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی نظر آ رہا ہے کہ اس تنظیم کا مستقبل روشن ہے۔ ای سی او ممالک نے 2005ء میں سرکردہ اشخاص کا ایک پینل بنایا تھا تاکہ مستقبل کے اہداف کا تعین کیا جائے۔ اس پینل کا کہنا تھا کہ اگر کسٹم ڈیوٹی کم کی جائے اور نان ٹیرف رکاوٹوں کا ازالہ کیا جائے تو ای سی او ممبرز اپنی باہمی تجارت کو ٹوٹل ٹریڈ کے بیس فیصد تک لے جا سکتے ہیں۔ 2015 گزر گیا لیکن باہمی تجارت آٹھ فیصد سے زیادہ نہیں بڑھ سکی۔ آئیے اس بات کا کھوج لگانے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ تنظیم اپنے مکمل اہداف حاصل کرنے سے کیوں قاصر رہی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ تو افغانستان کی غیرمستحکم صورت حال نظر آتی ہے جو تاحال قائم ہے۔ دوسری بڑی وجہ ایران پر ایٹمی پروگرام کی وجہ سے لگنے والی عالمی اقتصادی پابندیاں تھیں تیسری وجہ یہ ہے کہ سنٹرل ایشیا کے کئی ممالک اپنے انفراسٹرکچر کی وجہ سے روس کی معیشت سے جڑے ہوئے ہیں۔ ای سی او کا یہ مقصد ہرگز نہیں کہ ان ملکوں کو روس کی معیشت اور تجارت سے دور کیا جائے۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اگر گیس پائپ لائنز بن جائیں اور ممبر ممالک کا ایران پاکستان اور ترکی کے ساتھ زمینی سفر آرام دہ ہو جائے تو سنٹرل ایشین ممالک کو بہت فائدہ ہو گا۔ راقم الحروف جب دو شنبے میں سفیر تھا تو اس بات کا این ایچ اے کی مدد سے تعین کر لیا گیا تھا کہ اسلام آباد سے براستہ پشاور جلال آباد کابل تاجکستان کا سفر آسانی سے دس گھنٹے میں ممکن ہے۔ دو شنبے سے بائی روڈ ماسکو جانے میں کہیں زیادہ وقت درکار ہے۔ اور اب آتے ہیں یکم مارچ کو اسلام آباد میں ہونے والی ای سی او سمٹ کانفرنس کی جانب۔ فروری کے مہینے میں پاکستان میں دہشت گردی کی نئی لہر دیکھنے میں آئی۔ دشمن کا خیال تھا کہ وہ اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ای سی او سمٹ کانفرنس کو سبوتاژ کر دے گا لیکن دشمن اپنا ہدف حاصل کرنے میں ناکام رہا۔ کانفرنس میں چھ صدور ایک وزیراعظم اور دو نائب وزیراعظم آئے۔ ایران کے صدر حسن روحانی اور ترکی کے صدر طیب رجب اردوان
(Recep Tayyip Erdogan)
نمایاں رہے۔ یہ پاکستانی سفارت کاری کی واضح کامیابی تھی۔ اس سے پاکستان کی علاقائی اہمیت کا پھر سے اقرار ہوا ہے۔ انڈیا کا یہ دعویٰ کہ پاکستان بین الاقوامی برادری میں تنہا ہے۔ غلط ثابت ہوا۔
اسلام آباد کی سربراہ میٹنگ کا شعار تھا۔
(Connecting for regional prosperity)
یعنی خطے میں خوشحالی لانے کے لئے ممبر ممالک کو جوڑا جائے، قریب تر لایا جائے۔ فارن سیکرٹری اعزازچوہدری نے اس کی وضاحت یوں کی کہ سڑکوں کے ذریعے سفر کو آرام دہ اور کم خرچ بنایا جائے تاکہ ممبر ممالک کے لوگ آسانی سے سارے خطے میں آ جا سکیں اور اس کے علاوہ مال بردار ٹرک اور ٹرالر بڑی تعداد میں روزانہ بارڈر کراس کریں اور یہ تب ہی ممکن ہے جب سڑکوں کی حالت بہت اچھی ہو، ریلوے کا نظام فعال ہو، اور مال کی ٹرانسپورٹ کم قیمت ہو۔ سڑکوں اور ریلوے کے علاوہ پائپ لائن انرجی کی ٹرانسپورٹ کا آسان اور کم خرچ ذریعہ ہے۔ تیل کی نقل و حرکت کا یہ طریقہ ٹینکرز کے مقابلے میں آسان بھی ہے۔


اسلام آباد کی سربراہ کانفرنس میں وژن 2025ء کو ممبر ممالک نے اتفاق رائے سے پاس کیا۔ یہ مستقبل قریب کا روڈ میپ ہے۔ اس روڈ میپ کا ایک اہم نکتہ اگلے پانچ سال میں ممبر ممالک کے مابین تجارت کو دوگنا کرنے کا عزم ہے۔ اس کامیاب کانفرنس نے یہ ثابت کر دیا کہ اگر کوئی پاکستان کو دنیا میں یا ہمارے خطے میں تنہا کرنا چاہتا ہے تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ چین کے نائب وزیرخارجہ نے ہمارے وزیراعظم کی دعوت پر کانفرنس میں بطور مبصر شرکت کی۔ کانفرنس کے اعلامیے میں سی پیک کا باقاعدہ ذکر ہے اور اس بات کا اقرار بھی ہے کہ یہ منصوبہ تمام خطے کی اقتصادی ترقی کو مہمیز کرے گا۔


دراصل سی پیک کا مقصد بھی ٹرانسپورٹ کو آسان بنانے کے لئے خنجراب سے گوادر تک سڑکیں اور اقتصادی ترقی کے پروجیکٹ بنانا ہے۔ تیل کی درآمد کے لئے چین تک پائپ لائن بچھانا ہے۔ پاکستان کی انرجی کی کمی کو پورا کرنا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق سی پیک کے منصوبے کی وجہ سے پاکستان میں بیس لاکھ یعنی دو ملین نئے جاب نکلیں گے۔ ای سی او کے ممبر ممالک بڑی آسانی سے سی پیک کا فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ گوادر اور خنجراب کے راستے درآمد اور برآمد کر سکتے ہیں۔ ایران کی اقتصادی پابندیاں اٹھنے سے ای سی او تعاون بڑھے گا۔ تمام ممبر ممالک کو کوشش کرنی چاہئے کہ افغانستان میں امن جلد آئے۔ افغانستان میں امن اور استحکام پورے خطے میں خوشحالی لائے گا۔ دوسری طرف روس نے یوریشین اکنامک یونین اور سی پیک کولنک کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ آج کے زمانے میں اقتصادی ترقی اور تجارت کا فروغ بہت اہم ہیں اور علاقائی تعاون ان دونوں اہداف کو حاصل کرنے کا ذریعہ ہے۔ ای سی او کی تنظیم نے ہمیں یہ اہداف پورے کرنے کا موقع فراہم کیا ہے۔

مضمون نگار، متعدد ممالک میں پاکستان کے سفیر رہے ہیں۔

عظیم الشان پاکستان

 

اقوامِ عالم میں ہے اِک پہچان پاکستان
بہت مضبوط پاکستان‘ عظیم الشان پاکستان
جو اِک اشارہ ہو تو رکھ دیں جاں ہتھیلی پر
صفایا کر دیں باطل کا یہ فرزندانِ پاکستان
میری اس قوم نے پھر سے نئے پیمان باندھے ہیں
سلامت تاقیامت باصفا مردانِ پاکستان
میرے شہروں کی رونق بس انہی کے دم سے ہے قائم
میرا اِ ک اِک سپاہی واری و قربان پاکستان
شہیدوں‘ غازیوں کا قرض میں کیسے چکا پاؤں
میرے ہر گیت‘ ہر اک نظم کا عنوان پاکستان

عالیہ عاطف

*****

 
Read 1052 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter