مردم شماری ایک اہم قومی ذمہ داری

Published in Hilal Urdu April 2017

تحریر: ڈاکٹر رشیداحمدخاں

دُنیا کے ہر ملک میں مردم شماری کو خاص اہمیت حاصل ہے کیونکہ اس سے آبادی کی تعداد‘ اس کے مختلف طبقوں کی صحت‘ تعلیم روز گار‘ معاشی حالت اور نقل وحرکت کے بارے میں معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔ ان معلومات کی روشنی میں آئندہ کے لئے آبادی کی فلاح وبہبود اور ملک کی ترقی کے لئے منصوبہ بندی کی جاتی ہے اس لئے ہر ملک میں ایک مخصوص وقفے کے بعد باقاعدہ طور پر مردمِ شماری کی جاتی ہے۔ اس کے لئے حکومت میں ایک الگ شعبہ ہوتا ہے جس کا کام نہ صرف مردم شماری کے لئے مطلوبہ انتظامات کرنا بلکہ مردم شماری سے حاصل اعداد و شمار کا تجزیہ کرنا ہوتا ہے۔ اسی تجزیئے کی بنیاد پر حکومت مکمل ترقی اور قوم کی فلاح و بہبود کی خاطر طویل المیعاد بنیادوں پر پالیسیاں متعین کرتی ہے۔ پاکستان میں آزادی کے فوراً بعد1950میں مردم شماری کے لئے ایک الگ شعبہ قائم کیا گیا تھا۔ ابتداء میں یہ شعبہ مرکزی وزارتِ داخلہ کا حصہ تھا اور اسی کے تحت پاکستان میں1951 میں ملک کی پہلی مردم شماری کا اہتمام کیاگیا تھا۔ لیکن متحدہ ہندوستان کے وہ علاقے جو اب پاکستان کا حصہ ہیں‘ میں پہلی مردم شماری 1881 میں منعقد ہوئی تھی۔1951 میں پہلی مردم شماری کے بعددوسری مردم شماری1962 میں ہوئی۔ تیسری مردم شماری1971 میں ہونی چاہئے تھی لیکن مشرقی پاکستان کے سیاسی بحران اور بھارت کے ساتھ جنگ کی وجہ سے1972 میں مردم شماری کا انعقاد کیا گیا۔ چوتھی مردم شماری اپنے دس برس کے مقررہ وقفے کے بعد یعنی 1981 میں ہوئی لیکن اس سے اگلی یعنی پانچویں مردم شماری1991 کے بجائے 1998 (سات سال کی تاخیرسے) کرائی گئی۔ اس تاخیر کی وجہ بھی ملک کے بعد غیر معمولی سیاسی حالات اور خاص طور پر افغانستان میں سابقہ سوویت یونین کی مداخلت اور اس مداخلت کے خلاف افغان تحریک مزاحمت کے باعث لاکھوں افغان مہاجرین کی پاکستان میں آمد تھی۔ ان مہاجرین کی غالب اکثریت کا تعلق پشتون نسل سے تھا۔ اس لئے وہ پاکستان کی پشتون آبادی میں اس طرح گھل مل گئے کہ اُنہیں مردم شماری کے دوران علٰیحدہ شمار کرنا تقریباً ناممکن ہوگیا تھا لیکن چونکہ مردم شماری کو زیادہ دیر تک مؤخر نہیں کیا جاسکتا تھا‘ اس لئے1998 میں پاکستان کی پانچویں مردم شماری کا انعقاد ہوا۔ یہ مردم شماری ملک کی متنازعہ ترین مردم شماری تھی۔ کیونکہ پاکستان کے بعض علاقوں خصوصاً بلوچستان کے بعض حصوں میں مردم شماری کے عملے کو کام کرنے سے روک دیاگیا تھا۔ اس کی بھی بڑی وجہ بلوچستان کے پشتون علاقوں میں آباد افغان مہاجرین کی موجودگی تھی جو پاکستان میں اپنے طویل قیام کے دوران نہ صرف جائیداد ‘ روزگار اور کاروبار کے مالک بن چکے تھے‘ بلکہ متعلقہ محکموں کی ملی بھگت سے اُنہوں نے پاکستان کے قومی شناختی کارڈ بھی حاصل کر لئے تھے۔ بلوچستان کی بلوچ آبادی کو خدشہ تھا کہ ان افغان مہاجرین کو پاکستان کے شہری شمار کرکے صوبے میں پشتون آبادی کو زیادہ ظاہر کرکے بلوچ آبادی کو اقلیت بنانے کی کوشش کی جائے گی۔ بلوچستان میں غیربلوچ پاکستانی باشندوں مثلاً پنجابی اور کراچی سے اُردو بولنے والے لوگوں کی آباد کاری کی وجہ سے صوبے کی بلوچ آبادی میں پہلے ہی بہت تشویش پائی جاتی تھی۔ لاکھوں کی تعداد میں افغان مہاجرین کے قیام کی وجہ سے بلوچ آبادی میں تشویش کی ایک نئی لہر دوڑ گئی تھی۔ کیونکہ بلوچیوں کو ڈر تھا کہ اگر ان افغان مہاجرین کو پشتون آبادی کا حصہ ظاہر کیا گیا تو صوبے میںآباد دو بڑے لسانی گروپوں یعنی پشتون اور بلوچوں کے درمیان آبادی کا توازن اول الذکر گروپ کے حق میں چلا جائے گا۔

mardamshumarihamara.jpg
کسی بھی ملک میں جہاں وفاق اور صوبوں کے درمیان سیاسی اداروں میں نمائندگی اور وسائل کی تقسیم میں سب سے زیادہ اہمیت آبادی کو حاصل ہو‘ وہاںآبادی میں کمی بیشی کو خاص اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ پاکستان چار صوبوں پر مشتمل ایک وفاقی ریاست ہے۔ اس کے دو صوبوں یعنی سندھ اور بلوچستان دو دو لسانی گروپوں یعنی بالترتیب سندھی اور اُردو زبان بولنے والے اور پشتو اور بلوچی بولنے والے علاقوں میں منقسم ہیں۔ سندھ میں یہ تقسیم دیہی اور شہری علاقوں میں تقسیم کی صورت پائی جاتی ہے جہاں بالترتیب سندھی اور اُردو بولنے والوں کی اکثریتی آبادی قیام پذیر ہے۔ پاکستان کے آئین کے تحت(آرٹیکل (3)51 ملک کی قومی اسمبلی کی نشستیں‘ صوبوں‘ فاٹا اور اسلام آباد کی کیپیٹل ٹیرٹری
(Capital Territory)
کے درمیان آخری مردم شماری سے حاصل کردہ آبادی کے اعداد و شمار کی بنیاد پر الاٹ کی جاتی ہیں۔ اس لئے ہر دس برس بعد قومی اسمبلی میں نہ صرف صوبوں بلکہ فاٹا اور اسلام آباد کے لئے بھی مختص نشستوں میں رد و بدل ہوتا رہتا ہے۔ آبادی کو انتخابات کے ذریعے صرف قومی اسمبلی میں نمائندگی کے لئے بنیاد کے طور پر استعمال نہیں کیا جاتا بلکہ صوبوں اور وفاق کے درمیان فنڈز کی تقسیم میں بھی آبادی کو سب سے زیادہ ترجیح دی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ مقامی محکموں میں صوبوں کے لئے مختص کوٹے میں سرکاری ملازمتوں کو بھی آبادی کے لحاظ سے تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس لئے ہر صوبہ اور وفاقی یونٹ اپنی اپنی آبادی کے بارے میں ضرورت سے زیادہ حساس ہوتے ہیں اور مردم شماری کے موقع پر اپنی آبادی کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ نہ صرف قومی اسمبلی میں مختص ان کی نشستوں میں اضافہ ہوسکے بلکہ وفاقی فنڈز کی تقسیم اور سرکاری ملازمتوں کے کوٹے میں اُنہیں زیادہ سے زیادہ حصہ مل سکے۔1998 میں سات سال کی تاخیر کے بعد مردم شماری کے پیچھے بھی یہی محرکات کار فرما تھے۔ ان میں افغان مہاجرین کا مسئلہ سب سے نمایاں تھا لیکن 1998 کے بعد دس برس کے مقررہ وقفے کے بعد2008 کے بجائے2017 میں چھٹی مردم شماری کے انعقاد میں تاخیر کی وجوہات میں وہ حالات بھی شامل تھے جن کا9/11 کے بعد خصوصاً افغانستان پر امریکی فضائی حملوں اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی شمولیت سے تعلق تھا۔ اس دوران دہشت گردی کے خلاف آپریشنز کے نتیجے میں ہزاروں کی تعداد میں خاندان خصوصاً پاکستان کے شمال میں واقع قبائلی علاقوں سے اپنے گھر بار چھوڑ کر ملک کے دوسرے علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے۔ اگرچہ بے گھر ہونے والے ان افراد کی اکثریت اپنے گھروں کو واپس لوٹ چکی ہے لیکن بحالی اور آباد کاری کا عمل نامکمل ہونے کی وجہ سے ان بے گھر افراد کی خاصی تعداد ابھی تک اپنے گھروں سے دور رہائش پذیر ہے اور اس وجہ سے اُنہیں موجودہ مردم شماری میں شمار کرنے میں دقت پیش آرہی ہے۔ اس طرح بلوچستان میں بھی امن و امان کی خراب صورت حال اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور شرپسندوں کے درمیان جھڑپوں کی وجہ سے بھی بعض بلوچ علاقوں سے لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو نقل مکانی کرنا پڑی ہے۔ ان حالات کی وجہ سے بعض سیاسی جماعتوں نے موجودہ مردم شماری کی مخالفت کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ مردم شماری سے پہلے افغان مہاجرین کو واپس اپنے گھروں کوبھیجا جائے کیونکہ ان کی موجودگی میں مردم شماری سے حاصل کردہ آبادی کے اعدادو شمار متنازعہ رہیں گے۔


پاکستان کے شمال مغربی قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف فوجی آپریشنز کے نتیجے میں بے گھر ہونے والوں کی اگرچہ ایک بڑی تعداد نے صوبہ خیبر پختونخوا کے شہروں‘ قصبوں یا آباد علاقوں میں پناہ لی لیکن ان میں بیشتر نے ملک کے سب سے بڑے شہر اور کاروباری مرکز کراچی کا رُخ کیا تھا۔ کراچی میں پشتون نسل سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی پہلے ہی ایک خاصی بڑی تعداد موجود ہے۔ قبائلی علاقوں سے مزید پشتون افراد کی آمد پر ایم کیو ایم نے احتجاج کیا اورمطالبہ کیاکہ یا تو کراچی میں بے گھر ہونے والے اِن پشتونوں کی آمد پر پابندی عائد کی جائے یا ان کی وجہ سے کراچی کی آبادی میں اضافے کی بنیاد پر شہری علاقوں کے لئے مختص فنڈز میں اضافہ کیا جائے۔ صاف ظاہر تھا کہ ایم کیو ایم ایک انسانی مسئلے کو سیاسی رنگ دے رہی تھی لیکن ایم کیو ایم کی سیاست صرف یہاں تک محدود نہیں رہی بلکہ موجودہ مردم شماری کے اعلان کے بعد جب عملے نے اپنے کام کا آغاز کیا تو ایم کیوایم نے سندھ حکومت پر الزام لگایا کہ وہ صوبے میں شہری آبادی کے مقابلے میں دیہی آبادی کو زیادہ ظاہر کرنے کی کوشش کررہی ہے تاکہ نہ صرف صوبہ سندھ کے حصے میں وصول ہونے والے فنڈز کا بیشتر حصہ دیہی علاقوں کو ملے بلکہ دیہی علاقوں میں ملازمتوں کے کوٹے 60 سے40 فیصد کو برقرار رکھا جاسکے۔ صوبہ سندھ اور بلوچستان میں ہر لسانی گروپ کوشش کررہا ہے کہ اپنی آبادی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاسکے تاکہ سیاسی قوت‘ اختیارات اور قومی آمدنی میں سے زیادہ سے زیادہ حصہ حاصل کیا جاسکے۔ حالانکہ یہ ایک خالصتاً انتظامی عمل ہے جس میں پیشہ ورانہ مہارت کے مالک اور خصوصی طور پر تربیت یافتہ لوگ اپنے فرائض سرانجام دیتے ہیں۔


ان حالات میں مردم شماری کے عمل کو کامیابی سے پایۂ تکمیل تک پہنچانے کے لئے پاک فوج سے مدد لی گئی۔ چونکہ پاکستان آرمی کی ایک بڑی تعداد دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مغربی سرحدوں پر تعینات تھی اور مشرقی بارڈر پر بھارت کے غیرذمہ دار اور جارحانہ رویے کی وجہ سے بھی حالات غیر معمولی صورت حال کی متقاضی ہیں اس لئے مردم شماری میں فرائض کی انجام دہی کے لئے فوجی جوانوں کو فارغ نہیں کیا جاسکتا تھا۔ موجودہ مردم شماری میں تاخیر کی وجوہات میں پاک فوج کے جوانوں کی عدم دستیابی بھی شامل تھی۔ تاہم جب سپریم کورٹ نے اگلے یعنی 2018 کے انتخابات سے قبل ہر حال میں مردم شماری کا حکم دیا تو موجود حکومت کے پاس اور کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ مردم شماری کا عمل فی الفور شروع کردے۔ یہ عمل 15 مارچ سے شروع ہے اور دو مراحل میں اگلے دو ماہ میں مکمل کیا جائے گا۔ اسے تحفظ فراہم کرنے اور مکمل شفافیت کو یقینی بنانے کے لئے پاک فوج کے دو لاکھ سپاہی ڈیوٹی سرانجام دے رہے ہیں۔ پروگرام کے مطابق ہر شمار کنندہ کے ساتھ فوج کا ایک سپاہی ہوگا۔ اس سے نہ صرف شمار کنندگان کو تحفظ حاصل ہوگا بلکہ فوج کی شراکت سے موجودہ مردم شماری کے پورے عمل پر قوم کے ہر طبقے اور ملک کے ہر حصے کا اعتماد بحال ہوگا۔ مردم شماری کا عمل شروع ہونے کے چند دن کے اندر مردم شماری کے عملے پر حملوں کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں۔ ایسے مزید واقعات کا خدشہ موجود ہے اور اس کے پیش نظر مردم شماری کے عمل میں فوج کی شرکت اور معاونت کی اہمیت اور افادیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ مردم شماری کے دوران شمار کنندگان کے ہمراہ فوجی جوانوں کی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ پاک فوج قومی اہمیت کے ہر عمل پر سول انتظامیہ کے شانہ بشانہ ملک کی خدمت کے لئے تیار ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 1080 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter