ٹارگِٹ، ٹارگِٹ ، ٹارگِٹ

Published in Hilal Urdu April 2017

تحریر: لیفٹیننٹ کرنل ضیاء شہزاد

قسط:15

آئی ایم نان سوئمر
جون جولائی کے دن تھے اور نوشہرہ کا تپتا ہوا موسم۔ہمارے ڈویژن کی ایک انفنٹری یونٹ نے دو ماہ کی سرمائی جنگی مشقوں کے لئے دریائے کابل کے کنارے کیمپ کیا ہوا تھا اور ہم ان کے ساتھ بطورِ آرٹلری آبزرور موجود تھے۔ یہاں دن رات تیر کر دریا پار کرنے کی پریکٹس کی جاتی تھی۔ ستم بالائے ستم یہ کہ نان سوئمر حضرات کو خصوصی طور پر تختہ مشق بنایاجاتا تھا۔ دن یونہی گزر رہے تھے کہ ایک دن اچانک پتہ چلا کہ بریگیڈ کمانڈر مشقوں کا جائزہ لینے کے لئے پہنچ رہے ہیں۔

targitapril17.jpg
یہ سننا تھا کہ پریکٹس کو گویا پر لگ گئے۔ سی او نے چن چن کر اچھے سوئمر علیحدہ کئے ۔ ان سب کو پہلے ہلے میں دریا عبور کر کے دوسرے کنارے پر موجود فرضی دشمن سے دو بدو جنگ کر نا تھی۔مقررہ روز بریگیڈ کمانڈر تشریف لائے۔ انہیں نقشوں اور چارٹ کی مدد سے اس مشق کی غرض و غایت سمجھائی گئی۔ عملی مظاہرے کا وقت ہوا تو کمپنی نے ایک جگہ اکٹھا ہونا شروع کیا۔ کمپنی کمانڈر نے ایک ولولہ انگیز تقریر کرکے اپنے جوانوں کا لہو گرمایا اور ان کو بلاخوف و خطر آتشِ نمرود میں کود پڑنے کی تلقین کی۔ کمانڈر سمیت سب نے تالیاں بجا کر داد دی۔ جوانوں کا مورال آسمان کو چھو رہا تھا۔ سب لوگ بھاگ کر کنارے پر پہنچے اور دریا میں چھلانگیں لگا دیں۔ چشمِ زدن میں سب دریا کے پار تھے اور وہاں پر دشمن پر حملہ کر کے دادِ تحسین وصول کر رہے تھے۔
اچانک بریگیڈ کمانڈر کی نظر کمپنی کمانڈر پر پڑی جو کہ ابھی تک اسی کنارے پر موجود تھے۔ کمانڈر نے حیران ہو کر پوچھا’’میجر اسلم! آپ ابھی تک ادھر ہی کیوں موجود ہیں‘‘جواب آیا ’’سر ، آئی ایم نان سوئمر‘‘۔ اس کے بعد چراغوں میں تیل اور روشنی دونوں غائب ہو گئے۔ہوا یوں تھا کہ میجر صاحب ایک روز قبل ہی چھٹیاں گزار کر واپس پہنچے تھے اور پریکٹس میں حصہ نہیں لے سکے تھے۔ سی او نے سمجھا کہ وہ سوئمر ہیں اس لئے ان کو کمپنی کی کمانڈ سونپ دی گئی تھی۔
اس کے بعد پورا مہینہ میجر صاحب نے نیکر پہن کر دریا میں ڈبکیاں کھاتے ہوئے گزارا۔


گدھوں کا کاروبار
12 اکتوبر 1999 کی شام کو ہم یونٹ کے ہمراہ جہلم کے ایکسرسائز ایریا میں مقیم تھے کہ اچانک اطلاع ملی کہ فوج نے حکومت کی باگ دوڑ سنبھال لی ہے۔ ایکسرسائز کے اختتام کا اعلان ہوگیا اور ہمیں فی الفور ہری پور پہنچنے کا حکم ملا۔ ہری پور پہنچ کر دو تین دن معاملات پر کنٹرول حاصل کرنے میں گزر گئے۔ کچھ دنوں بعد صورتحال معمول پر آگئی اور یونٹ نے مانیٹرنگ ٹیمیں تشکیل دے کر سرکاری محکموں کی کارکردگی کی براہ راست نگرانی شروع کر دی۔ سول حکومت اور پولیس کے اہلکار بھی ہمارے ساتھ اس ڈیوٹی میں شریک تھے۔مسائل کا ایک انبار تھا، جبکہ وسائل وہی نہ ہونے کے برابر۔دوسری جانب عوام کی توقعات کو ہ ہمالیہ سے بھی بلند ہو چکی تھیں ۔ ان کے نزدیک ہر معاملے کا آسان حل یہی تھا کہ اسے فوج کے روبرو پیش کر دیا جائے۔ چنانچہ ہمارے دفاتر کے باہر ہر وقت ان گنت لوگوں کا تانتا بندھا رہتا۔ ہم نے اپنے قیام کے دوران بھرپور کوشش کی کہ الجھے ہوئے مسائل کے حل کے لئے اقدامات کئے جائیں۔اس سلسلے میں ہمیں مقامی انتظامیہ، علاقہ معززین اور عوام کا بھرپور تعاون بھی حاصل رہا۔

targitapril17one.jpg
یہ روٹین یوں تو بے حد تھکا دینے والی تھی لیکن بسا اوقات اس میں سے بھی ایسے ایسے شگوفے کھلتے ہوتے کہ ہم ہنستے ہنستے چکرا کر گرجاتے۔ ایک دن ایک پچاس پچپن سالہ خاتون تشریف لائیں اور شکایت کی کہ میں جب گلی سے گزرتی ہوں تو چار افراد مجھے چھیڑتے ہیں۔ آپ انہیں کیفر کردار تک پہنچائیں۔ ہم نے بی بی سے تفصیل پوچھنے کے بعد انسپکٹر بشیر کو طلب کیا اور اسے فی الفور ان چاروں افراد کو ہمارے سامنے پیش کرنے کا حکم جاری کیا۔ بشیر اپنے ساتھ پانچ سپاہی بھی لے کر گیا اور تھوڑی دیر میں ان چاروں کو لے کر ہمارے روبرو حاضر ہوگیا۔ ہم نے غور سے دیکھا تو چاروں کی عمریں ساٹھ سے ستر سال کے درمیان نکلیں۔ ایک بابا تو چلنے پھرنے سے بھی قاصر تھا اور اس کو چارپائی پر ڈال کر لایا گیا تھا۔ ہم نے سمجھا کہ بشیر کسی غلط فہمی کا شکار ہو کر غلط بندوں کو پکڑ کر لے آیا ہے لیکن بی بی نے بھی ملزموں کو شناخت کر لیا تو شک کی گنجائش باقی نہ رہی۔ تفتیش کرنے پر معلوم ہوا کہ ان بابوں نے اس بی بی کو کہیں بیس تیس سال پہلے چھیڑا تھا جس کا حساب وہ آج چکانا چاہتی تھی۔ مقدمہ دلچسپ تھا اور ہمیں سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا فیصلہ کیا جائے۔ بہرحال کافی سوچ بچار کے بعد ہم نے یونٹ کے خطیب صاحب کو بلایا اور چاروں بابوں کو اس حکم کے ساتھ ان کے حوالے کیا کہ ان سے دعائے قنوت سن کر چھوڑ دیا جائے۔خود سننے کی جسارت اس لئے نہیں کی کہ ہمیں خود بھی اچھی طرح سے نہیں آتی تھی۔
ایک روز ہمیں ایک شخص کے خلاف شکایت موصول ہوئی کہ وہ غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہے۔ ہم نے فوراً اس علاقے کے ایس ایچ او کو طلب کیا اور مذکورہ شخص کو گرفتار کرنے کا حکم دیا۔ ایس ایچ او کہنے لگا ’’سر اس شخص کو گرفتار کرنا خطرے سے خالی نہیں وہ انتہائی بااثر آدمی ہے‘‘۔
ہم نے غصے سے پوچھا ’’آخر یہ بااثر آدمی کیا کاروبار کرتا ہے۔‘‘ جواب ملا ’’سر وہ گدھوں کا کاروبار کرتا ہے۔‘‘


بیچلر سی او
یہ ان دنوں کی بات ہے جب لوگ سیر و تفریح اور شاپنگ کے لئے پشاور کا رخ کیا کرتے تھے۔ پی ایم اے میں جب ہماری پوسٹنگ اناؤنس کی گئی تو ساتھ ہی سٹیشن پشاور کینٹ بتایا گیا۔ یار لوگوں نے پشاور کی دلکشی کے قصے خوب مزے لے لے کر سنائے اور ہمارے شوق کو اور مہمیز کیا۔ لیکن قسمت کے لکھے کو کون ٹال سکتا ہے۔ خلیل خان جب فاختہ اڑانے کے لئے پشاور پہنچے تو ہاتھوں کے طوطے فی الفور اڑ گئے۔ یہ جان کر ہمارے بن کھِلے ارمانوں پر منوں اوس پڑ گئی کہ ہمارے سی او بیچلر ہیں۔ فورسڈ بیچلر نہیں بلکہ سچ مچ کے، اصلی والے بیچلر۔ ان کے پاس پروفیشن کے علاوہ اور کوئی کام نہ تھا۔ ہم صبح سے لے کر شام تک یونٹ میں ان سے عزت افزائی کروانے کے بعد کمرے کا رخ کرتے تو احتیاط کے مارے سانس بھی آہستہ لیتے کہ ساتھ والا کمرہ ان کا تھا۔ کھانا کھانے کے لئے میس کا رخ کرتے تو وہاں پر بھی ان کی پرہیبت شکل نظر آتی۔ اس پر مستزاد یہ کہ انہوں نے اپنی سروس کا زیادہ تر حصہ انٹیلی جنس میں گزارا ہوا تھا اور ہر بات کی ٹوہ لگانا ان کی فطرتِ ثانیہ بن چکی تھی۔ آرٹلری کا یہ کریلا جاسوسی کی نیم چڑھ کر حد درجہ کڑوا ہو چکا تھا۔

targitapril17two.jpg
عام طور پر ان کو یہ خدشہ لاحق رہا کرتا تھاکہ افسران ان کے خلاف متحدہ محاذ تشکیل دے رہے ہیں۔ یہ عنایات صرف افسروں کے لئے خاص نہ تھیں بلکہ سارا زمانہ ان کے قدموں میں تھا کیا جے سی او، کیا این سی او اور کیا سپاہی کوئی بھی ان کی مہربانیوں سے مستثنیٰ نہیں تھا۔ ان کی کوشش ہوتی کہ لوگوں کو ہر وقت ڈرا سہما کر رکھا جائے اور اس قسم کا نظام تشکیل دیا جائے کہ ان کو پل پل کی خبر ملتی رہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وہ کوئی بھی طریقہ روا رکھنے کے قائل تھے۔


ایک مرتبہ ہم میس کے ٹی وی روم میں بیٹھے کھانا لگنے کا انتظار کر رہے تھے۔ یکایک ایک ویٹر نے چپکے سے آکر کان میں بولا کہ آپ کو سائیڈ روم میں کیپٹن جمیل اور لیفٹیننٹ کبیر یاد کر رہے ہیں۔ یہ دونوں افسران ہم سے دو ڈھائی سال سینئر تھے اور ان کا تعلق ایک دوسری یونٹ سے تھا۔ہم پہلے تو شش و پنج میں پڑ گئے کہ ان کو ہم سے آخرکیا کام آن پڑا ہے جو ہمیں تخلیے میں طلب کیا جا رہا ہے۔ یہی کچھ سوچتے ہوئے سائیڈ روم میں پہنچے تو دیکھا کہ دونوں افسران ایک صوفے پر براجمان ہیں۔ ہم نے سلام کیا تو سامنے والے صوفے پر بیٹھنے کا اشارہ کیا گیا۔ رسمی سلام دعا کے بعد لیفٹیننٹ کبیر نے پوچھا کہ سنا ہے کہ آج کل آپ کے سی او آپ پر بہت ظلم رو ا رکھے ہوئے ہیں۔ کیپٹن جمیل بھی ساتھ میں گویا ہوئے کہ آپ لوگ تو بہت سختی جھیل رہے ہیں۔ ایسے سی او کے ساتھ کام کرنا تو انتہائی جان جوکھوں کا کام ہے۔ ہم کچھ دیر تو سنتے رہے پھر بولے ’’سر آپ لوگ ہوتے کون ہیں میرے سی او کے خلاف کوئی بات کرنے والے۔ ان جیسا قابل اور محنتی افسر روئے زمین پر اور کوئی نہیں ہے۔ ہم انہیں دل و جان سے پیار کرتے ہیں اور ان کے خلاف کوئی بات سننا ہمیں ہرگزگوارا نہیں۔معاف کیجئے گا !آپ لوگ مجھ سے بہت سینئر ہیں لیکن آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ ایک سینئر آفیسر کی غیر موجودگی میں اس کے خلاف اس طرح سے بات کرنا اخلاقی اور قانونی تقاضوں کے عین منافی ہے اور اگر میں ان کو اس بارے میں مطلع کر دوں تو آپ دونوں کے خلاف سخت ایکشن بھی لیا جا سکتا ہے۔‘‘


ان دونوں افسران کو ہم سے اس قسم کی حق گوئی و بیباکی کی توقع ہرگز نہیں تھی۔ وہ تو ہم سے سی او کی برائیاں سننا چاہ رہے تھے لیکن یہاں تو معاملہ بالکل الٹ نکلا۔ بہرحال ہم تو اپنے سی او کی شان میں قصیدہ پڑھنے کے بعد سکون سے ڈائننگ روم میں پہنچ گئے۔ کھانا کھا کر فارغ ہوئے ہی تھے کہ سی او کا بیٹ مین پیغام لے کر پہنچ گیا کہ ہمیں یاد فرمایا جا رہا ہے۔ ہم سی او کے کمرے میں پہنچے تو انہوں نے کھڑے ہو کر ہمارا استقبال کیا۔ ہمارے لئے چائے منگوائی گئی اور جاتے ہوئے پندرہ دن کی چھٹی بھی عنائت فرمائی۔ بات دراصل یہ تھی کہ جب ہمارا انٹرویو لیا جا رہا تھا تو موصوف بنفسِ نفیس پردے کے پیچھے چھپ کر ساری باتیں سن رہے تھے اور انہوں نے خود ہی ان دونوں افسروں کو اس واہیات کام کے لئے تیار کیا تھا۔ مقصد اس کا یہ تھا کہ وہ ساری برائیاں جو ہم ان کی پیٹھ پیچھے کیا کرتے تھے، وہ اپنے کانوں سے سن سکیں۔ لیکن ہمارے منہ سے برائی کے بجائے اپنی اس قدر تعریف سننے کے بعد ہمارے بارے میں ان کا موقف یکسر تبدیل ہو گیا۔ اب ان کو پوری یونٹ میں ہم سے زیادہ لائق افسر کوئی اور نظر نہیں آتا تھا۔


(اب آپ سے کیا چھپائیں کہ ویٹر نے ہمیں پیغام دیتے ہوئے کان میں یہ بھی کہہ دیا تھا’’سر! سی او صاحب پردے کے پیچھے چھپے ہوئے ہیں۔ آپ بات چیت کرتے ہوئے احتیاط کیجئے گا۔)

...جاری ہے

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 1393 times

4 comments

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter