پاک فوج اور بوسنیا

Published in Hilal Urdu April 2017

تحریر: حمیرا شہباز


وہ ایک خوبصورت صبح تھی۔ شفاف‘ روشن دن30جولائی، میری اٹھارویں سالگرہ تھی۔ میں اور میرا بھائی گھر پر اپنے والدین کے منتظر تھے۔ میں بہت خوش اور پرجوش تھی۔سینیلا بول رہی تھی اور اس کی آنکھوں سے مسکراہٹ اتر اتر کر اس کے ہونٹوں تک بکھر رہی تھی۔ اس کی ہوا میں کہیں تیر تی ہوئی نظر شاید ایک اٹھارہ برس کی لڑکی کے خوابوں کے ساتھ جھوم رہی تھی۔ پھر یکدم اس کا چہرہ سرخ تر ہوگیا۔ یہ سرخی غیر معمولی تھی، اب گویا اس کی آنکھیں خون آلود ہو رہی تھیں اور ان کی سرخی چھلک چھلک کر گالوں تک اتر آئی تھی۔میں نے سوچا تھا آج تو ضرور میں گھر سے باہر جا سکوں گی لیکن کسی کو میری سالگرہ یاد نہیں تھی شاید اس لئے کہ 15 مئی سے بوسنیا میں اعلان جنگ جو ہوچکا تھا۔سینیلا میرے برابر بیٹھی بول رہی تھی۔
سبز چائے اور کھجور کے بسکٹوں کے ساتھ ہم دونوں نئے سال کی پہلی شام منانے کی کوشش کر رہے تھے۔ میں سینیلا کو سولہ سال سے جانتی ہوں یہ الگ بات ہے کہ چوبیس گھنٹے قبل میں اس سے پہلی بار ملی تھی اور آج ہم دونوں بیٹھے ایک دوسرے کو کھوج رہے تھے۔ وہ سراپا زباں تھی اور میں ہمہ تن گوش۔


سال 1992 میں، میں توزلا کے گرامر سکول کے آخری سال میں تھی۔ اس دن جب جنگ چھڑی تو ہم سکول میں تھے۔ کلاس میں طلبا کی تعداد غیر معمولی طور پر کم تھی۔ بہت سے بچوں کے والدین ،جو کہ سرب اور کروشیائی تھے جانتے تھے کہ یوگوسلاویائی فوج شہر پر قبضہ کرنا چاہے گی، وہ راتوں رات کسی کو بتائے بنا شہر چھوڑ چکے تھے‘ میرے والدین کو اندازہ نہ تھا اور انہوں نے مجھے خبردار کئے بنا سکول بھیج دیا۔ ہمارے گھر کے نیچے ایک تہ خانہ تھا۔سکول سے گھر پہنچی تو اس دن سے ہم زیر زمین چلے گئے۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ باہر دنیا کتنی بدل چکی ہے۔ میں خود کو یقین نہیں دلا پا رہی تھی میری اٹھارویں سالگرہ کا دن یوں گزرے گا۔ امی ابو اس روز بھی خالی ہاتھوں اور لبریز آنکھوں کے ساتھ لوٹے۔ پورے اڑھائی ماہ... وہ سپاٹ لہجے میں کہتے کہتے رک گئی۔ اب وہ میری نمناک آنکھوں میں جھانک رہی تھی۔اس نے گہرا سانس لے کر پھر سے کہا۔ میں پورے اڑھائی ماہ اس تہ خانے میں رہی۔ میں اور میرا بھائی مختلف میوزک سن کر اور گیمزکھیل کر اپنا وقت گزارتے۔ اس نے میرا نام لے کر بڑی سادگی سے کہا: میں نے ابھی تک جنگ کا چہرہ نہیں دیکھا تھا۔

 

میں جو اس بوسینیائی مترجم کی زبانی پاکستانی فوج کی کارکردگی کے جواب میں شکریے کے طویل کلمات، بلکہ باقاعدہ قصیدہ خوانی کی منتظر تھی اس کی اس کاوش نے مجھ پر واضح کردیا کہ پاک فوج بوسنیا کے مسلمانوں کے لئے کیا معنی رکھتی ہے۔ سینیلا سوچ رہی تھی اور اس نے ایک گہری مسکراہٹ کے ساتھ کہا:ہم شاید پاکستانی فوج سے بہتر خدا سے کچھ اور نہیں مانگ سکتے تھے۔

سینیلا نے بہت کچھ بتایا، ان لفظوں کی شدت مجھ میں باقی رہ گئی ہے۔ کیسے اس کے ماں باپ یوگوسلاویائی فوج کی بمباری کے باوجود روز کام پر جاتے تھے اور کیسے وہ ہر روز اس امید پر سو جاتی کہ کل وہ ضرور سورج سے نظر ملا سکے گی۔اس نے بتایا کہ اگست کے آخر تک طے پا چکا تھا کہ سکول بند رہیں گے۔اس کا مطلب تھا کہ گھر بیٹھ کر اسے جنگ بندی کا انتظار کرنا تھا یا باہر نکل کر موت کا سامنا کیونکہ رہائشی علاقے شدید حملے کی زد میں تھے۔


مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ میں کیا کروں۔ گھر کا بچا کھچا راشن بھی ختم ہو رہا تھا۔ میں سخت مایوسی کا شکار تھی۔ پھر میرے ہاتھ ایک کتاب لگی، جس کا عنوان تھا:
'In Pursuit of Happiness'
۔ آخر کب تک گھر بیٹھے کچھ ہونے کا انتظار کیا جائے۔ پھر ایک دن میں نے فیصلہ کر لیا کہ مجھے یہ خانہ زندانی قبول نہیں۔ میں کب تک یوں اپنے ہی گھر میں قیدی بنی رہوں گی۔ مجھے اپنے لئے کام ڈھونڈنا ہو گا۔اس کتاب نے میری بہت مدد کی۔ میں نے اپنی تمام تر ہمت کو یکجا کیا اور جنگ کا سامنا کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ سینیلا کا جوش اب تک اس کے وجود میں زندہ تھا۔
میری ایک سہیلی اور میرے ایک ہم جماعت نے مجھ سے علاقے کے ایک ہسپتال میں ان کے ساتھ کام کرنے کے لئے پوچھا۔ بہت سا طبی عملہ شہر چھوڑ کر جا چکا تھا جبکہ فوجی اور سول زخمیوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا تھا۔ گولہ باری میں مارے جانے کے قوی امکان کے باوجود میں نے ہسپتال میں زخمیوں کی امداد کا فیصلہ کر لیا۔ وہاں چھ ماہ تک میں نے زخمیوں کی نگہداشت کا کام کیا لیکن مارچ 1993 میں یہ کام چھوڑ دیا۔ میں بہت جذباتی ہوں۔شاید اب میں مزید درد کی داستانیں اور خون کے منظر برداشت نہیں کر سکتی تھی۔ مجھے تو اس کے چھ ماہ تک یہ کام کرنے پر بھی حیرت تھی۔

pakfojaurbosniya.jpg
لیکن میں اپنے ملک اپنے لوگوں کے لئے کچھ کرنا چاہتی تھی۔ میں ایک مہاجر کیمپ میں چلی گئی۔یواین ایچ سی آر کی گاڑیاں سرب مہاجرین کو بھر بھر کر توزلا کیمہاجر کیمپوں میں لا رہی تھیں۔ ہمارے ملک میں مختلف ممالک کی امداد آرہی تھی لیکن امدادی عملے کی کارکردگی میں سب سے بڑا مسئلہ زبان کا تھا۔ وہ ہمارے مسائل کو دیکھ تو پا رہے تھے لیکن جان نہیں پا رہے تھے۔ میں اپنی ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں ان کی معاونت کرتی رہی اور پھر میں نے وہ انگریزی زبان سیکھنا شروع کردی جس کو زمانہ طالب علمی میں میں غیر ضروری سمجھ کر نظر انداز کرتی آرہی تھی۔ وہ نہایت شکستہ انگریزی میں کہے چلی جارہی تھی۔


حکومت نے تعلیمی اداروں کو کھولنے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے جنگ کے حالات میں اپنی تعلیم کو پھر سے جاری کرنے کا سوچا۔ میں ریاضی میں بہت ماہر تھی۔ انجینئرنگ کی تعلیم کے حصول کی غرض سے میں نے ایک ٹیکنیکل یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ بہت سخت سردیوں کے دن تھے، خستہ حال عمارت اور ٹوٹی چھتوں والی کلاس میں بنا چھتری کے بارش عذاب سے کم نہیں لگتی۔ میں بنا جرابوں ،ٹوپی اور دستانوں کے ٹھٹھرتی رہتی لیکن باقاعدگی سے کلاس میں حاضر ہوتی۔میرے جوتے پھٹ چکے تھے۔۔۔ اس نے جملہ مکمل نہیں کیا کیونکہ وہ جانتی تھی کہ مجھے معلوم ہے وہ نئے جوتے کیوں نہ لے سکی یا اس کو اپنی بیچارگی کا اظہار کرنا اچھا نہیں لگا۔


لیکن ایک دن میرا انجینئر بننے کا خواب منفی پندرہ ڈگری تک سرد پڑگیا۔ میں امتحان دے رہی تھی کہ میری ہاتھوں کی رگوں میں خون یخ ہوگیا۔ میں لکھ نہیں پا رہی تھی۔ میری انگلیاں الفاظ کی بناوٹ میں قلم کا ساتھ نہیں دے پا رہی تھیں۔ میں نے اپنے ہاتھ آپس میں رگڑنے چاہئے لیکن بے سود۔ موسم کی سردمہری اور جنگ کی سختی نے میرے وجود سے تمام حرارت نچوڑ لی تھی۔میں نے خود سے سوال کیا کہ آخر میں یہ کیا کر رہی ہوں؟ سردی تو گزر ہی جانی ہے لیکن جنگ ؟؟ جنگ کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں! سینیلا کے لفظوں میں چھپی سفاک سردی میرے اندر بھی سرایت کر رہی تھی۔


اقوام متحدہ کی طرف سے مترجمین کی کچھ اسامیوں کا اعلان ہوا۔ میرے لئے اس وقت وہ نوکری حاصل کرنا زندگی اور موت کا مسئلہ تھا۔ میں نے کتابوں کی مدد سے خود انگریزی زبان سیکھی اور امتحان بھی پاس کرلیا۔ وہ نظریں زمین پہ گاڑھے سوچ بھی رہی تھی اور مسکرا بھی رہی تھی کہ کیسے کیسے وہ حالات سے مقابلہ کرتی چلی گئی۔ اس نے بتایا: اس وقت میری نوکری بہت معنی رکھتی تھی۔ میں اپنے گھر میں میں اکیلی کمانے والے تھی۔ امی، ابو اور بھائی کی فعالیت جنگ سے بہت متاثر ہوئی۔ مجھے اقوام متحدہ کی ملازمت سے جو پیسے ملتے ہم اس سے اپنی ضرورت کے علاوہ محلے بھر کی ضرورتوں کو ممکنہ حد تک پورا کرتے۔


پاکستانی فوج بھی تو بوسنیا میں امن مشن پر آئی تھی؟ میرے پوچھنے پر اس نے بتایا۔ " 1994میں پہلی بار میں نے اقوام متحدہ کی باقاعدہ مترجم کی حیثیت سے پاکستانی فوج کے ساتھ کام شروع کیا۔ مجھے یہ تسلیم کرنے میں عار نہیں کہ میں نے سکول میں پڑھتے ہوئے انڈیا کانام سن رکھا تھا کیونکہ یوگوسلاویہ کے لیڈر مارشل ٹیٹو کے نہرو کے ساتھ اچھے تعلقات تھے، لیکن میں پاکستان کے بارے میں کچھ نہیں جانتی تھی۔میں چاہتی تو ڈچ یا سویڈش فوج کا انتخاب کر سکتی تھی لیکن میں نے پاکستانی فوج کو چنا کیونکہ مجھے کسی نے بتایا تھا کہ پاکستانی مسلمان ہوتے ہیں۔ بوسنیا کے مسلمانوں کی بقا کا مسئلہ تھا اس لئے مسلمان فوج کے ساتھ کام کرنے کا فیصلہ مجھے مناسب لگا"۔اس فیصلے کا اطمینان اس کے لہجے سے جھلک رہا تھا۔
پاک فوج کی امن مشنز میں کارکردگی کوئی پوشیدہ امر نہیں لیکن میں خود ،سینیلا کے منہ سے سننا چاہتی تھی جو کہ خود بھی جنگ سے متاثر تھی کہ آخر اس کا پاک فوج کے لئے مترجم کے فرائض انجام دینا کیسا رہا؟


مجھ سمیت دیگر مترجم خواتین کے لئے پاکستانی فوج کے ساتھ کام کرنا آسان نہ تھا۔ بہت سے کلچرل شاک سہنے پڑے۔ ہمارے لئے بہت عجیب تھا کہ پاکستانی مرد لڑکیوں سے ہاتھ نہیں ملاتے، ان کی طرف دیکھتے نہیں، بلکہ ان کو باقاعدہ نظر انداز کرتے ہیں اوروہ مردوں کے مقابلے میں خواتین سے مختلف رویہ رکھتے ہیں۔ مثلا ہیڈکوارٹرز میں رات کو جس مترجم کی ڈیوٹی ہوتی وہ اکثر کامن روم یا ٹی وی روم میں فوجیوں کے ساتھ بیٹھتی تھی۔ گپ شپ لگانا، کوئی گیم کھیلنا یا ٹی وی دیکھنا معمول تھا۔ لیکن جب ہم خواتین ٹی وی روم میں داخل ہوتیں تو تمام پاکستانی فوجی اٹھ کر چلے جاتے تھے۔ شروع شروع میں یہ رویہ ہمیں مضحکہ خیر بلکہ ہتک آمیز بھی لگتا تھا۔ کئی مترجمین نے تو ہیڈکوارٹر میں اس امتیازی سلوک کی شکایت بھی کی۔ میں اس کی بات سن کر مسکرا رہی تھی۔


پھر آہستہ آہستہ ہم اس صورت حال کے عادی ہو گئے اورہم نے جان لیا کہ یہ رویہ ان کی ثقافتی اقدار کا حصہ ہے۔ سب سے اہم بات یہ تھی کہ ہم نے مل کر کام کرنا تھا اور ہم دونوں کو ایک دوسرے کی ضرورت تھی، پاکستانی فوج نے ہماری ہر ممکن مدد کی۔ اپنے فرائض منصبی سے بڑھ کر۔ انہوں نے جنگی زخمیوں کے لئے ہسپتال بنایا اور بہت سے بوسنیا ئی لوگوں کوروزگار کے مواقع فراہم کئے۔ بعد میں ان ’ڈیزرٹ ہاکس‘(18پنجاب رجمنٹ) کی کوششوں سے پاکستان میں میری والدہ کا علاج بھی عمل میں آیا۔ اس اوپن ہارٹ سرجری کے بعد سے میری امی کے سینے میں پاکستانی دل دھڑکتا رہا۔وہ بہت ممنون تھیں۔


اور وہ پاکستانی بٹالین کی یادگار کا کیا معاملہ تھا؟ میں نے سنی سنائی بات کی تصدیق چاہی۔ہاں !بوسنیا میں پاک فوج کی بٹالین 17 پنجاب ،نے اپنے مشن کے دوران1996 میں ایک یادگار بھی بنائی تھی جو کہ بہادر فوج کی کارکردگی اور ان کے بوسنیا کے مسلمانوں کے ساتھ یک جہتی کی علامت تھی۔ یہ یادگار توزلا شہر کے بیچوں بیچ ایک پارک میں نصب تھی۔کچھ سال قبل میرا خیال ہے 2011 میں شاید ایک دن میر ے والد نے بوسنیا سے مجھے ہالینڈ فون کر کے بتایا کہ موجودہ ناظمین شہر نے اس یادگار کو وہاں سے ہٹا دیا ہے۔ اور اب وہاں وہ بوسنیا کی ہزاروں سال پرانی بادشاہت کی یاد میں ایک رائل تھیم پارک بنانے جا رہے ہیں جو کہ ہمارے شاہانہ ماضی کی یادگار ہو گا۔یہ امر میرے لئے بہت تکلیف دہ تھا کہ ہم ایسا کیسے کر سکتے ہیں؟ ہزاروں سال پرانی حقیقت کو زندہ کرنے کے لئے ہم چند سال پرانی حقیقت کو کیسے بھلا سکتے ہیں؟ سینیلا سخت نالاں دکھائی دے رہی تھی۔ اس نے مجھ سے استفسار کیا:انسان اتنا زود فراموش کیسے ہو سکتا ہے؟ بلکہ احسان فراموش؟ ہم اتنی جلد اپنوں کے دیئے گئے زخموں اور غیروں کے مرہم کو کیسے بھلا سکتے ہیں؟ اس بادشاہت نے ہمیں کیا دیا؟ جب ہم خاک و خون میں ڈوبے تھے تو کیا یہ بادشاہت ہمارے کام آئی ؟نہیں! وہ میری طرف دیکھے بنا بات کر رہی تھی جیسے اپنی قوم کی احسان فراموشی پر مجھ سے نظر نہ ملا پا رہی ہو۔


یہ بات میرے لئے ناقابل برداشت تھی۔ میں نے پاکستانی فوج کی تین یونٹوں کے ساتھ بطور مترجم کام کیا تھا۔ میرا اس یادگار سے جذباتی لگاؤ تھا۔ میں نے فیس بک پر تحریک چلائی ، ہم خیال لوگوں کو یکجا کیا تاکہ اس یادگار کو بحال کیا جائے۔ خودچھٹی لے کر بوسنیا گئی اور آخر کار انتظامیہ کو قائل کیا جس کے نتیجے میں اس یادگار کو توزلا شہر میں ایک اور پارک میں نمایاں جگہ پرپھر سے نصب کردیا گیاجو کہ آج بھی افواج پاکستان کی بوسنیا کے مسلمانوں کی مشکل وقت میں ساتھ نبھانے کی یادگار ہے۔


میں جو اس بوسینیائی مترجم کی زبانی پاکستانی فوج کی کارکردگی کے جواب میں شکریے کے طویل کلمات، بلکہ باقاعدہ قصیدہ خوانی کی منتظر تھی اس کی اس کاوش نے مجھ پر واضح کردیا کہ پاک فوج بوسنیا کے مسلمانوں کے لئے کیا معنی رکھتی ہے۔ سینیلا سوچ رہی تھی اور اس نے ایک گہری مسکراہٹ کے ساتھ کہا:ہم شاید پاکستانی فوج سے بہتر خدا سے کچھ اور نہیں مانگ سکتے تھے۔ اب سینیلابوسنیا کی ایک مترجم ،میرے لئے پاکستان کی ترجمان بھی ہے۔

حمیرا شہباز ڈھاکہ یونیورسٹی بنگلہ دیش سے فارسی میں ایم فل ہیں۔ان دنوں وہ نیشنل یونیورسٹی آف ماڈرن لینگویجز کے شعبہ فارسی میں لیکچرار کے فرائض انجام دے رہی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 1192 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter