یوم وطن ۔۔یوم عہد ۔۔۔ مشترکہ پریڈ

Published in Hilal Urdu April 2017

تحریر: غزالہ یاسمین

23مارچ ہماری قومی تاریخ میں غیرمعمولی حیثیت رکھتا ہے۔ اس دن برصغیر کے مسلمانوں نے اپنے لئے ایک علیحدہ وطن کا پیمان باندھ کر اس کے حصول کی باقاعدہ جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔اس عہد کو تاریخ نے ’’قرارداد پاکستان‘‘ کا نام دیا اور تحریک پاکستان کا یہ نقطہ عروج کہلایا۔اسی مناسبت سے یہ دن ہر سال پاکستان کی قومی خوشیوں کا بھی نقطہ عروج ہوتا ہے۔ خاص طور پر جہاں برّی، بحری اور فضائی افواج کی مشترکہ پریڈ قومی جذبوں اور ولولوں کو جلا بخشتی ہے وہیں ہمارے اس عہد کی تجدید بھی کرتی ہے کہ ہم وطن عزیز کی آزادی، وقار اور حرمت کے لئے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ اس سال یوم پاکستان کی تقریب اس لئے بھی یادگار تھی کہ اس میں ہماری افواج کے شانہ بشانہ ہمارے دوست ممالک، سعودی عرب اورعوامی جمہوریہ چین، کے فوجی دستوں نے بھی حصہ لیا اور قومی فضائیں قدیم ترک ملٹری بینڈ کی خوبصورت دھنوں سے مہک اٹھی تھیں۔جیوے جیوے پاکستان کی دھن بکھیر کر نہ صرف انہوں نے پاکستان سے اپنی دوستی کا اظہار کیا بلکہ ہمارے جذبوں کو بھی مہمیز لگا دی۔


اس مرتبہ یہ دن اس عہد کی تجدید کے طور پر بھی منایا گیا کہ پاکستان کے خلاف ریشہ دوانیوں میں مصروف دہشت گردوں اور سماج دشمن عناصر کو ہر صورت میں شکست دینا ہے۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاویدباجوہ نے اس موقع پر پاکستان کو فسادیوں سے پاک کرنے کے عہد کی تجدید کے طور پر ’’ہم سب کا پاکستان‘‘ کا جو سلوگن دیا اس کی جھلکیاں مسلح افواج کی شاندار پریڈ ، شاہینوں کی بلند پرواز، ملک بھر میں قومی نغموں کی گونج اور سبز ہلالی پرچموں کی بہار میں نمایاں طور پر نظر آئیں۔ مگر سب سے زیادہ اس نعرے کا رنگ اسلام آباد کے سنگم پر واقع شکرپڑیاں کے پریڈ ایونیو میں مسلح افواج کی مشترکہ پریڈ میں نظر آیا۔ جس کا آنکھوں دیکھا حال ہم اپنے قارئین سے بیان کرتے ہیں۔

23marchparade2017one.jpg
راولپنڈی اسلام آباد کے سنگم پر واقع شکرپڑیاں جو گزشتہ تین سال سے پریڈایونیو ہے وہاں سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کئے گئے تھے۔ پریڈ گراؤنڈ میں سب سے پہلے تینوں مسلح افواج کے سربراہان آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، وائس چیف آف ایئر سٹاف اسد لودھی جوچیف آف ائر سٹاف ایئر چیف مارشل سہیل امان کی فلائی پاسٹ کی کمانڈ کرنے کی وجہ سے سٹیج پر ان کی نمائندگی کررہے تھے اور نیول چیف ایڈمرل محمد ذکاء اﷲ سلامی کے چبوترے پر موجود تھے۔ اس کے بعد چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات اور وزیردفاع خواجہ محمد آصف پریڈ وینیو میں پہنچے۔ وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف کی آمد پر تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے ان کا استقبال کیا۔ صدر مملکت ممنون حسین جو پریڈ کے مہمان خصوصی تھے، ان کی آمد کا اعلان بگل بجا کر کیا گیا۔ وہ پریذیڈنٹ باڈی گارڈز کے جلو میں روایتی بگھی میں سوار ہو کرتقریب میں پہنچے تووزیراعظم اور تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے ان کا استقبال کیا۔ جس کے بعد قومی ترانہ بجایا گیا۔


پریڈ کمانڈر بریگیڈیئر عامر حسین نواز نے صدر مملکت کو پریڈ میں شامل پنجاب رجمنٹ، فرنٹیئرفورس ، ناردرن لائٹ، انفنٹری، پاک بحریہ، پاک فضائیہ، مجاہد فورس، فرنٹیئر کور خیبر پختونخوا، پاکستان رینجرز پنجاب، پاکستان پولیس، ٹرائی سروسز لیڈیز آفیسرز، آرمڈ فورسز نرسنگ آفیسرز، بوائز سکاؤٹس، گرلز گائیڈز اورسپیشل سروسز گروپ کے دستوں کا معائنہ کرایا۔


پریڈ کے معائنے کے بعدپاک فضائیہ کا فلائی پاسٹ شروع ہوا جس کی قیادت ایئر چیف مارشل سہیل امان کررہے تھے۔ ایئر چیف ایف 16 طیارے میں سوار سلامی کے چبوترے پرسے گزرے تو طیارے کی گھن گرج نے ایک سماں باندھ دیا۔ ایف 16،جے ایف تھنڈر طیاروں کے شاندار پاسٹ نے حاضرین کا لہو گرما دیا۔ حاضرین نے زبردست مظاہرے پر دل کھول کر داد دی۔ کچھ دیر کے بعد ایئر چیف مارشل سہیل امان بھی سلامی کے چبوترے پر پہنچ تو پریڈ گراؤنڈ تالیوں سے گونج اٹھا۔اس کے بعد صدر پاکستان ممنون حسین نے پریڈ سے خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج پاکستان کا دفاع مضبوط اور ناقابل تسخیر ہے۔ ہم تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ امن دوستی اور بھائی چارہ چاہتے ہیں۔ بھارت کے غیرذمہ دارانہ طرز عمل لائن آف کنٹرول اور ورکنگ باؤنڈری کی مسلسل خلاف ورزی نے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ صدر پاکستان نے مزید کہا کہ پاکستان چند برسوں سے دہشت گردی کے خلاف برسرپیکار ہے۔ اس جنگ میں ہماری افواج اور سکیورٹی اداروں نے کمال بہادری کے ساتھ کام کیا۔ ہمارے ان شہیدوں اور غازیوں کی قربانیوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج پاکستان پہلے کی نسبت زیادہ محفوظ ہے۔ انہو نے واضح کیا کہ آپریشن ضربِ عضب کے بعد ردالفساد کے تحت کارروائیاں بچے کھچے دہشت گردوں کے خاتمے تک جاری رہیں گی۔

صدرِ مملکت کے خطاب کے بعد مسلح افواج کے دستے باوقار انداز سے سلامی کی چبوترے کی طرف بڑھے۔ پاک فوج کے سپیشل سروسز گروپ کے دستے نے بھی اپنے مخصوص انداز میں پریڈ کرتے ہوئے چبوترے پر موجود مہمانِ خصوصی کو سلامی دی۔ اس کے بعد آرمڈ کور کا دستہ جو الخالد ٹینک اور الضرار ٹینکوں پر مشتمل تھا، سلامی کے چبوترے کے سامنے سے گزرا۔ اس کے بعد بکتر بند (اے پی سیز) آرٹلری، آرمی ایئر ڈیفنس ‘ میزائل اور ٹریکنگ ریڈار سسٹم سے لیس ایف ایم90 کور آف انجینئرنگ‘ کور آف سگنلز کے دستوں نے بھی صدر ممنون حسین کو سلامی دی۔ پریڈ میں پاکستان کے جدید ترین نصر میزائل سسٹم، بغیر پائلٹ طیارے شہپر اور براق سمیت دفاعی سامانِ حرب کا بھی بھرپور مظاہرہ کیا گیا۔


اس پریڈ کی سب سے خاص بات سعودی عرب اور چین کے مسلح افواج کے دستوں کی پریڈ تھی۔ جنہوں نے حاضرین سے خوب داد وصول کی۔ چینی فوجی دستہ جب سلامی کے چبوترے کے سامنے سے گزرا تو حاضرین نے پاک چین دوستی زندہ باد کے نعرے لگائے۔ ترکی فوجی بینڈ نے ’’دل دل پاکستان‘‘اور ’’جیوے جیوے پاکستان ‘‘ دھن بجا کرپاکستان سے اپنی دوستی کا دم بھرا۔


آرمی اور بحریہ ایوی ایشن کے کوبرا۔ ایم ٹی17- پیونک ہیلی کاپٹروں پر مشتمل دستوں نے تین سو فٹ کی بلندی پر پرواز کرتے ہوئے شاندار فضائی مارچ پاسٹ کا مظاہرہ کیا۔ شیردل ٹیم، جے ایف 17تھنڈر اور ایف- 16 طیاروں کے فلائی پاسٹ نے فضا میں خوبصورت رنگ بکھیرے اور طیاروں کو آواز سے دوگنی اور کم رفتار سے دائروں میں گھومتے‘ اُلٹی پروازوں‘ ورٹیکل رول بناتے اور تھنڈر ٹرن سمیت مختلف مظاہرے کرکے حاضرین کو ورطۂ حیرت میں ڈالے رکھا۔ کمانڈوز کا 10 ہزار فٹ کی بلندی سے فری فال کا مظاہرہ بھی شاندار تھا۔ تینوں مسلح افواج کے پیرا شوٹرز میجر جنرل طاہر مسعود بھٹہ کی قیادت میںیکے بعد دیگرے سلامی کے چبوترے کے سامنے اُترے تو صدرِ مملکت نے فرداً فرداً تمام پیرا شوٹرز سے مصافحہ کیا۔


پاکستانی ثقافت کے سب رنگ بھی پریڈ کا نمایاں حصہ تھے جنہوں نے لوگوں سے خوب داد وصول کی۔ کشمیر فلوٹ میں لوک فنکاروں نے کشمیری لباس پہن رکھا تھا۔ بلوچستان کا فلوٹ بلوچیوں کی روایتی تہذیب کی عکاسی کرتا ہوا جب سلامی کے چبوترے کے سامنے سے گزرا تو بلوچی لوک فنکار اپنے صوبے کی ثقافت کو اجاگر کررہے تھے۔ اس کے علاوہ سندھ‘ پنجاب‘ گلگت بلتستان کے فلوٹس نے بھی اپنے اپنے علاقوں کی ثقافت کو بہت خوبصورتی سے اُجاگر کیا۔
پریڈ کے اختتام پر مختلف سکولوں کے بچوں نے راحت فتح علی خان کے ساتھ قومی و ملی نغمہ ’’ہم سب کا پاکستان‘‘ پیش کیا اور حاضرین کے جوش و جذبے میں اضافہ کیا اور اپنی موجودگی کا احساس دلایا کہ پاکستان کی نئی نسل بھی اپنے بڑوں کی طرح اپنی مسلح افواج کے ساتھ کھڑی ہے۔یوں جوش اور جذبے کا عزم دل میں لئے وفاقی وزراء، پارلیمنٹ کے ارکان‘غیر ملکی مندوبین ‘ سفیروں اور ہائی کمشنروں کے علاوہ عوام کی ایک بڑی تعداد نے پریڈ میں شرکت کی۔وفاقی دارالحکومت میں اس ولولہ انگیز پریڈ کے ساتھ ساتھ تمام صوبوں میں متعدد تقریبات کا انعقاد ہوا۔الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے خصوصی پروگرام اور ایڈیشنز کا اہتمام کیا۔ جس میں تحریک پاکستان اور جدو جہدِ پاکستان کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ قومی ہیروز کو شاندار انداز میں خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔

23marchparade2017two.jpg

 
Read 1034 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter