بنگلہ دیش میں بڑھتی ہوئی تعصب کی آگ

Published in Hilal Urdu April 2017

تحریر: ڈاکٹر شائستہ تبسم

1971ء کے واقعات اور سقوطِ ڈھاکہ پاکستان کی تاریخ کا ایک انتہائی تکلیف دہ اور سیاہ باب ہے۔بنگلہ دیش آج کی دنیا کی حقیقت ہے ۔ پاکستان نے بہت جلد بنگلہ دیش کو تسلیم کرلیا تھا اور دونوں ممالک نے مختلف معاہدوں پر بھی رضامندی سے دستخط کئے تھے۔ لیکن بنگلہ دیشی حکومت کی طرف سے نہ ختم ہونے والے الزامات کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو گیا جس نے وقت کے ساتھ ساتھ شدت اختیار کرلی ہے۔ خاص کر موجودہ بنگلہ دیشی حکومت گزشتہ تمام حکمرانوں پر بازی لے گئی ہے۔


مارچ کے پہلے ہفتے میں حکومت بنگلہ دیش نے پارلیمنٹ میں ایک قرار داد پیش کی جو بلا مخالفت منظور ہوگئی۔ اس قرارداد میں25 مارچ کا دن ’’یومِ نسل کشی‘‘ کے طور پر منانے کی منظوری دی گئی۔یہ دن 25 مارچ 1971 کے دن کی یاد میں منایا جائے گا جب بقول حکومتِ بنگلہ دیش افواجِ پاکستان نے آپریشن سرچ لائٹ کے تحت بنگالیوں کا قتل عام کیا اور بلاامتیاز بنگالیوں کو موت کے گھاٹ اُتار دیا۔


25مارچ کو افواجِ پاکستان کی جانب سے کی جانے والی نسل کشی کی حقیقت کیا ہے۔ بنگلہ دیش حکومت کی طرف سے لگایا گیا یہ الزام کہ تین لاکھ نہتے بنگالیوں کا قتل عام کیا گیا۔ کیا واقعی یہ حقیقت ہے یا فسانہ۔۔۔ ان سب سوالات کے جوابات کے لئے بہتر ہے کہ ایک غیر جانبدارانہ اور غیر جذباتی تحقیق کی جائے اور پوری دیانتداری سے گزرے ہوئے حالات کا جائزہ لیا جائے۔

Genocide
یا نسل کشی کا مطلب ایک منظم سازش کے تحت کسی گروہ یا قوم کی پوری نسل کو ختم کردیناہے۔ اس گروہ کی بنیاد نسلی یا مذہبی ہو سکتی ہے۔ جن کو بے دریغ اور بلاتفریق صرف ایک خاص گروہ سے تعلق کی بنیاد پر موت کے گھاٹ اُتار دیاجائے تاکہ اس گروہ کا خاتمہ ہو سکے۔ 90 کی دہائی میں یوگوسلاویہ کے ٹکڑے ٹکڑے ہونے کے بعد سربیا اور کروشیا نے بوسنیا میں مسلمانوں کی نسل کشی کے دوران لاکھوں افراد کو موت کے گھاٹ اُتارا۔ بنگلہ دیش میں یہ خیال 1990 کی دہائی کے بعد زیادہ شدو مد سے اُبھرا۔


اب جبکہ تین لاکھ بنگالیوں کے نام نہاد قتل عام کی یاد میںیومِ نسل کشی منانے کا اعلان کیاگیا ہے بذاتِ خود ناقابلِ یقین ہے۔ یہ تین لاکھ کی تعداد کا حوالہ بنگلہ دیش کے سابق صدر مجیب الرحمن کے ڈیوڈفراسٹ کو دیئے گئے انٹر ویو میں استعمال کیا گیا تھا جو آج کے بنگلہ دیش میں آسمانی صحیفے کے طور پر بار ہا استعمال کیا جاتا ہے۔ روزنامہ ہندو نے بھی حمود الرحمن کمیشن کی رپورٹ کا حوالہ دیا ہے جس میں یہ تعداد 26,000 ہے۔ کلکتہ سے تعلق رکھنے والی شرمیلا بوس
نے اپنی کتاب
Dead Reckoning:Memories Of 1971
میں تیکنیکی سوالات اٹھائے ہیں۔ ان کے مطابق یہ یک طرفہ تصویر ہے۔ کیونکہ اس نوعیت کا کوئی واقعہ اس طرح ہوا ہی نہیں تھا۔ ان کے مطابق سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں ہلاک ہونے والوں کی لاشیں کہاں گئیں۔ انہوں نے تین لاکھ کی تعداد کو ایک جھوٹ قرار دیا اور کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں ہلاکتیں کسی سطح پر ثابت نہ ہوسکیں اور نہ ہی کسی سرکاری رپورٹ میں اس تعداد کا حوالہ یا ثبوت موجود ہے۔ خاص کر ڈھاکہ یونیورسٹی میں ہونے والے واقعے کے بارے میں شدید تحفظات موجود ہیں۔ بین الاقوامی میڈیا سے بھی اس تعداد کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ ڈاکٹر سجاد حسین جو کہ ڈھاکہ یونیورسٹی اور راج شاہی یونیورسٹی کے اس وقت کے وائس چانسلر تھے انہوں نے اپنی یادداشتیں
The Wastes of Time
کے نام سے شائع کرائی ہیں۔ انہوں نے یہ واضح نشاندہی کی ہے کہ اس وقت ڈھاکہ یونیورسٹی میں تاریکی اور سائے کا راج تھا۔ اساتذہ کے آفس اور کلاس روم مکتی باہنی کے کیمپ میں تبدیل ہو چکے تھے جہاں مسلح تربیت اور ساتھ ہی پاکستان سے محبت کرنے والوں کے لئے ٹارچر سیل قائم کئے گئے تھے۔ جہاں تک تدریسی سٹاف کا قتل اورطلباء سے جھڑپ اور قتل کا معاملہ ہے اس کے بارے میں ڈاکٹر شرمیلا بوس نے لکھا ہے کہ ان تمام واقعات کی کوئی تفصیل نہیں ملتی بلکہ حقیقتاً جھڑپ کا آغاز بنگالی طلبہ کا غیر بنگالی طلبہ پر حملے سے ہوا تھا جس کو قابو میں لانے کے لئے پاک فوج کے دستے ڈھاکہ یونیورسٹی میں داخل ہوئے۔ اگر ڈاکٹر سجاد حسین کی کتاب کا تفصیل سے جائزہ لیا جائے تو معاملات، خاص کر بنگالی طلبہ کا جنون اور نفرت بہت واضح طور پر سمجھ آتے ہیں۔ بنگالی عوام کا قتلِ عام اور ملک میں انتشار کی اس پوری کہانی میں بھارت کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ بھارت کا پوری تحریک میں انتہائی اہم اور فعال رول تھا۔ اس بات کا اعادہ مختلف بھارتی لیڈران نے عوام اور ذرائع ابلاغ کے سامنے کیا ہے، جس میں مرار جی ڈیسائی‘ راہول گاندھی‘ بنگلہ دیش کے سابق سپیکر شوکت علی اور بھارتی ڈی جی ایف آئی میجر جنرل زیڈ اے خان شامل ہیں، کہ بھارت کا بنگلہ دیش تحریک میں مدد کرنے کا مقصد پاکستان توڑنا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ شدید انتشار پھیلانا- عوامی رائے کو پاکستان مخالف کرنے کے لئے آسان ہدف نہتے عوام ہی بنے کیونکہ جب عوام کے جان و مال کو خطرہ ہوگا تب ہی نفرت کی آگ زیادہ بھڑکے گی اور مخالفت زیادہ پھیلے گی۔ اس انتشار کی ذمہ داری، جیسا کہ اس معاملے میں ہوا اگر پاکستان پر ڈال دی جائے تو ایسی نفرت اور انتشار پر قابو پانا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔


ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا بھارتی مداخلت صرف1970 اور1971میں شروع ہوئی۔ یقیناًیہ سازش سالوں پہلے تیار کی گئی تھی اور اس پر عمل درآمد بھی کئی سال پہلے شروع ہوچکا تھا۔1970 میں تو بھارتی حکومت کھل کر سامنے آئی تھی کئی سالوں سے اسلحے کی برآمد اور مسلح تربیت شروع ہو چکی تھی۔ ساتھ ہی بھارتی جاسوسی کی نتظیم را کے افراد مشرقی پاکستان میں نفرت پھیلانے کا کام شروع کر چکے تھے۔ پاکستان کو توڑنا بھارت کا اولین ہدف رہا ہے۔ کیا آج کے بنگالی اسکالر کو یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ کیا اس ہدف کی تکمیل میں بھارت نے ہر ممکن حربے استعمال نہ کئے ہوں گے چاہے اس کے لئے کتنے ہی بنگالیوں کو قتل کرنا پڑا ہو یا عورتوں کی بے حرمتی کرنی پڑی ہو۔


مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں مکتی باہنی کا کردار بہت اہم ہے۔ ان کو بھارت کی مکمل حمایت حاصل تھی۔ مکتی باہنی کی فوجی تربیت اور اسلحہ کہاں سے آیا۔ یہی نہیں مکتی باہنی کی صورت میں ایک بہت بڑی تعداد میں بھارتی فوجی لڑائی میں شامل تھے۔ مکتی باہنی وہ دہشت گرد تنظیم تھی جس نے عوام کا بے دریغ قتل عام اور لوٹ مار کی۔ خاص کر دیہاتوں اور چھوٹے قصبوں میں اور دور دراز علاقوں میں جہاں وہ بے یارومددگار تھے۔ کئی شہری علاقوں میں نہتے بنگالیوں کو پاک فوج نے بچایا۔ ڈھاکہ گزٹ کے اگست‘ دسمبر1971 کاReview کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تقریباً 76,000 کی تعداد میں بنگالی مرد اور عورتوں کو مکتی باہنی اور عوامی لیگ کے کارکنوں نے موت کے گھاٹ اتارا ( منیراحمد
‘(Bangla Desh Myth Exploded
سب سے اہم بات جس کی نشاندہی شرمیلابوس نے بھی کی ہے کہ مرنے والوں کی زیادہ تعداد بہاریوں یا غیر بنگالیوں کی تھی جو یقیناًپاکستان فوج کا نشانہ نہیں بنے تھے۔ بقول بنگلہ دیشی حکام کے پاک فوج بنگالیوں کا قتل عام کررہی تھی تو کیا اس تین لاکھ کی تعداد میں زیادہ تر بہاریوں یا غیر بنگالوں کی ہے جو کہ بلاشبہ مکتی باہنی کے تعصب کا شکار ہوئے۔


ایک اور اہم نکتہ جو بارہا اٹھایا جاتا ہے۔ وہ نہتے اور غیر تربیت یافتہ ہونے کا ہے۔ مکتی باہنی کے افراد نہ ہی نہتے اور نہ ہی غیر تربیت یافتہ تھے بلکہ وہ ببانگِ دہل اور مسلح جدو جہد کررہے تھے۔ آج بھی 1971 کی یادداشتوں میں مکتی باہنی کے رضاکاروں کی تربیت اور مسلح کرتے ہوئے تصاویر موجود ہیں۔ جس سے اس تنظیم کی ساخت اور مقاصد کے بارے میں کوئی شبہ نہیں رہتا۔ اس بات کا اعادہ مجیب الرحمن نے اپنی 9 جنوری1972کی تقریر میں کیا تھا۔ انہوں نے مکتی باہنی کے چھاپہ ماروں سے ہتھیار پھینکنے کی اپیل کی مگر اس یقین دہانی کے ساتھ کہ دشمنوں کا صفایا کرنے کی ذمہ داری باضابطہ فورسز کے حوالے کردی جائے گی۔ ایک طرف تو بنگلہ دیش ایک مغالطے میں تین لاکھ افراد کے قتل کی ذمہ داری پاک فوج پر ڈال رہی ہے لیکن ان لاتعداد غیر بنگالی‘ پاکستان سے محبت کرنے والے افراد اور ان کے خاندانوں کا جس طرح قتل عام کیا گیا ان کے خون کا حساب کون دے گا جو تعصب کی بھینٹ چڑھ گئے اور جن کی قربانیوں کا کہیں ذکر نہیں ہے۔ جیسا کہ مجیب الرحمن کی 9 جنوری کی تقریر سے واضح ہے کہ ملکی سطح پر باضابطہ دہشت گردی کا اعلان اور حکم دے دیا گیا تھا۔


اس تعصب اور نفرت کی آگ صرف شہروں اور سویلین علاقوں تک محدود نہ تھی بلکہ بنگالی فوجیوں نے اپنے ساتھی غیر بنگالی فوجیوں کو انتہائی بے دردی سے قتل کیا۔ جن کی تعداد بھی تاریخ کے صفحات سے غائب کردی گئی یا وہ بھی پاک فوج کے کھاتے میں ڈال دی گئی۔


اس تمام معاملے کی ایک غیر جانبدارانہ ریسرچ کی ضرورت ہے لیکن ایک اور مسئلہ یہ ہے کہ پچھلے47 سالوں میں بنگلہ دیش میں یہ معاملہ قوم پرستی پر مبنی دیومالائی بن چکا ہے۔ بنگلہ دیش میں پاکستان اور اس کی حمایت میں بات کرنا ایک جرم بنا دیا گیا ہے۔ خاص کر جب حال ہی میں پاکستان سے محبت کے جرم میں سیاسی لیڈران کو تختہ دار تک پر چڑھا دیا گیا۔ جب کہ ان کا جرم بھی ثابت نہ ہو سکا تھا۔ آج بنگلہ دیش کی شیخ حسینہ کی حکومت ایک جمہوری آمریت کی مثال ہے۔ وہاں حکومت مخالف بڑی سیاسی جماعتیں خاص کر بی این پی اور جماعت اسلامی جن مقدمات میں الجھی ہوئی ہیں اُن میں سے زیادہ تر کا تعلق1971 کے واقعات سے ہے ایسے وقت میں یہ جماعتیں اپنی بقا کی جدو جہد میں ہیں اور خود کو زیادہ محب وطن ثابت کرنے پر زور دے رہی ہیں۔ لہٰذا ایسے وقت میں جب ملک میں سیاسی دہشت گردی کی فضا قائم ہو‘ پاکستان پر جمع کی ہوئی قرار داد کی مخالفت کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ اس کے باوجود 350 کے ایوان میں 56 اراکین نے بحث میں حصہ لیا۔


موجودہ حکومت پاکستان مخالفت پر اپنا سارا زور لگائے ہوئے ہے پاکستان مخالف اقدامات کرکے بھارت سے زیادہ تعلقات بڑھائے جارہے ہیں۔ تاکہ نہ صرف سیاسی بلکہ معاشی فوائد بھی حاصل کئے جاسکیں۔ یہ ایک الگ عنوان ہے کہ بھارت اور بنگلہ دیش کے تعلقات آگے جاکر کن کن مسائل اور پیچیدگیوں کا شکار ہونے جارہے ہیں۔بلکہ فی الوقت شیخ حسینہ اپنے آئندہ ماہ اپریل میں شروع ہونے والے دورے پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔


بھارت اور بنگلہ دیش کا ایک مشترکہ مقصد یقیناًنہ صرف پاکستان کو دنیا بھر کے سامنے ایک
rogue
ریاست کے طور پر پیش کرنا ہے بلکہ ساتھ ہی پاک فوج کو ناتجربہ کار اور غیر پیشہ ورانہ ادارہ ثابت کرنا بھی ہے۔
موجودہ بنگلہ دیشی حکومت نفرت کا ایک ایسا جال بُن رہی ہیں جس میں آہستہ آہستہ پوری قوم پھنستی جارہی ہے۔ یہ قوم پرستی جس کی بنیاد پر اُنہوں نے پاکستان سے علیحدگی کی اسی طرح کی نفرت ہی کے بل بوتے پر پروان چڑھتی ہے۔ متعصب قوم پرستی کی ایک صاف مثال جرمن قوم اور ہٹلر کی ہے۔ جو اپنے تعصب اور قوم پرستی میں اتنا آگے بڑھ گئے کہ یہ قوم پرستی دوسری قوموں سے برتری اور انتقام کی صورت اختیار کرگئی کہ جرمن کو تباہی وبربادی کا سامنا کرنا پڑا۔ شیخ حسینہ کا طرزِ حکومت اور ان کی بنگالی قوم پرستی اور نفرت اس ملک و قوم کو کہیں اس نہج پر نہ لے جائے جہاں سے واپسی کا کوئی راستہ نہ بچے۔

مضمون نگار کراچی یونیورسٹی کے شعبہ بین الاقوامی تعلقات کی چیئرپرسن ہیں۔
اساتذہ کے آفس اور کلاس روم مکتی باہنی کے کیمپ میں تبدیل ہو چکے تھے جہاں مسلح تربیت اور ساتھ ہی پاکستان سے محبت کرنے والوں کے لئے ٹارچر سیل قائم کئے گئے تھے۔ جہاں تک تدریسی سٹاف کا قتل اورطلباء سے جھڑپ اور قتل کا معاملہ ہے اس کے بارے میں ڈاکٹر شرمیلا بوس نے لکھا ہے کہ ان تمام واقعات کی کوئی تفصیل نہیں ملتی بلکہ حقیقتاً جھڑپ کا آغاز بنگالی طلبہ کا غیر بنگالی طلبہ پر حملے سے ہوا تھا جس کو قابو میں لانے کے لئے پاک فوج کے دستے ڈھاکہ یونیورسٹی میں داخل ہوئے

*****

ایک سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا بھارتی مداخلت صرف1970 اور1971میں شروع ہوئی۔ یقیناًیہ سازش سالوں پہلے تیار کی گئی تھی اور اس پر عمل درآمد بھی کئی سال پہلے شروع ہوچکا تھا۔1970 میں تو بھارتی حکومت کھل کر سامنے آئی تھی کئی سالوں سے اسلحے کی برآمد اور مسلح تربیت شروع ہو چکی تھی۔ ساتھ ہی بھارتی جاسوسی کی نتظیم را کے افراد مشرقی پاکستان میں نفرت پھیلانے کا کام شروع کر چکے تھے۔

*****

 
Read 1142 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter