پُرامن اور بہتر مستقبل کی شاہراہ پر گامزن شمالی وزیرستان

Published in Hilal Urdu April 2017

تحریر: عقیل یوسف زئی

ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار عقیل یوسف زئی کے حالیہ دورۂ وزیرستان کے بعد ہلال کے لئے خصوصی تحریر

شمالی وزیرستان ہر دور میں مختلف تحاریک‘ سرگرمیوں اور جنگوں کا مرکز رہا ہے۔ یہاں پر صدیوں سے مقیم پشتون قبائل کا اپنا الگ مزاج اور طرز حیات رہا ہے۔ اس پس منظر نے اس علاقے کو دوسروں سے ممتاز بنا دیا ہے اور غالباً اسی کا نتیجہ ہے کہ نائن الیون کے بعد شمالی وزیرستان عالمی سیاست کے علاوہ تبصروں، خبروں اور تجزیوں کا بڑا مرکز بنا رہا۔ بنوں سے کچھ ہی فاصلے پر واقع یہ ایجنسی طویل عرصے تک نہ صرف ریکارڈ درون حملوں بلکہ غیرملکی جنگجوؤں اور جہادی تنظیموں کی آماجگاہ بنی رہی۔ اسی ایجنسی کو اس حوالے سے بھی بین الاقوامی اہمیت حاصل ہے کہ اس کے آخری سرے پر غلام خان نامی وہ کراسنگ پوائنٹ یا سرحد موجود ہے جس کے ذریعے افغانستان اور سنٹرل ایشیا تک آسانی کے ساتھ پہنچا جا سکتا ہے۔ شمالی وزیرستان ایجنسی کا ہیڈکوارٹر میران شاں بنوں سے محض 61کلومیٹر جبکہ غلام خان 79کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ غلام خان سے کچھ فاصلے پر خوست صوبہ واقع ہے۔ میران شاہ سے کابل 277، دوشنبہ 860 جبکہ تاشقند 1414کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ اس سے یہ اندازہ لگانا اور بھی آسان ہو جاتا ہے کہ شمالی وزیرستان کا یہ عالمی روٹ پاکستان‘ بلکہ پورے برصغیر اور وسط ایشیا کے لئے سب سے مناسب اور قریب ترین راستہ ہے۔ 2001کے بعد جب افغانستان میں ایک پیچیدہ اور علاقائی جنگ کا آغاز کیا گیاتو جنوبی اور شمالی وزیرستان پر مشتمل یہ اہم جغرافیائی پٹی اس سے بری طرح متاثر ہوئی۔ پاکستانی طالبان کے علاوہ عرب‘ ازبک‘ چیچن اور تاجک جنگجو تنظیموں نے اس پورے علاقے کو یرغمال بنا کر رکھ دیا اور اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہاں کے لاکھوں قبائلی باشندوں ان کے مشران‘ تعلیم یافتہ حلقوں اور تاجروں کو دوطرفہ حملوں اور دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ دوسری طرف ڈرون حملوں کے ذریعے یہاں کے باشندوں کو بدترین عدم تحفظ اور خوف سے دو چار ہونا پڑا۔ اگر یہ کہا جائے کہ شمالی وزیرستان اپنے لوگوں کے لئے کئی برسوں تک نوگوایریا بنا رہا تو غلط نہیں ہو گا۔ ایک وقت میں یہ علاقہ فقیر آف ایپی کی جدوجہد اور مزاحمت کے باعث برطانیہ اور اس کے مخالف کیمپ کے لئے جتنی اہمیت اختیار کر گیا تھا‘ نائن الیون کے بعد ویسی ہی صورتحال پھر سے بنی رہی۔ اور شمالی وزیرستان اپنوں کے علاوہ غیروں کی سازشی سرگرمیوں اور جنگوں کا مرکز بنا رہا۔ 10تحصیلوں پر مشتمل اس ایجنسی کے اہم مراکز یا علاقوں میں میران شاہ کے علاوہ میر علی‘ رزمک‘ شوال‘دتہ خیل اور غلام خان شامل ہیں۔ یہ ایک پرخطر پہاڑی خطہ مگر انتہائی خوبصورت علاقہ ہے جبکہ یہاں رہنے والے قبیلے نہ صرف صدیوں پر محیط تاریخ رکھتے ہیں بلکہ ان کو خطے کی سیاست اور معیشت کے علاوہ ثقافت کے فروغ میں ہر دور میں بڑی اہمیت حاصل رہی ہے۔ 2002 کے بعد امریکہ اور اس کے اتحادی مسلسل اصرار کرتے رہے کہ اس ایجنسی میں بھرپور آپریشن کرایا جائے تاہم اس کا آغاز 2014میں کیا گیا۔ جو کہ نہ صرف کامیاب رہا بلکہ اس پر عالمی اطمینان کی شرح بھی تسلی بخش رہی اور اب یہ علاقہ ریاستی رٹ میں لایا جا چکا ہے۔ جون 2014 کو شروع کئے گئے آپریشن کے نتیجے میں 10لاکھ کے لگ بھگ لوگ بنوں‘ ڈی آئی خان‘ کوہاٹ اور پشاور سمیت دیگر علاقوں میں نقل مکانی کر گئے۔ فورسز نے مرحلہ وار مختلف علاقوں میں کارروائیاں کیں جہاں پر موجود مضبوط دہشت گرد ٹھکانے تباہ کئے گئے۔ نوگوایریاز کو ریاستی رٹ میں لایا گیا اور ان علاقوں میں مستقل طور پر فورسز تعینات کی گئیں جہاں سے طالبان لشکروں کی دو طرفہ آمدورفت اور سرگرمیاں ممکن تھیں۔ عوام نے حکومت اور فورسزکا ساتھ دینے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی بلکہ امن اور ریاستی رٹ کی خواہش میں نہ صرف یہ کہ جان و مال دے کے بے مثال قربانیاں دیں بلکہ ڈھائی سال تک مہاجرت کے مصائب بھی خندہ پیشانی سے برداشت کئے۔ اس وقت حالت یہ ہے کہ تقریباًتمام علاقے میں ریاستی رٹ بحال کی جا چکی ہے۔ لیویز نہ صرف پوری صلاحیت کے ساتھ فوج کی معاونت کر رہی ہیں بلکہ تمام سرکاری ادارے بھی تیزی کے ساتھ فعال ہونے لگے ہیں۔ آپریشن سے قبل سول اداروں کا علاقے میں وجود ہی ختم ہو کر رہ گیا تھا ۔ 80فیصد علاقے پر لشکروں یا جہادی تنظیموں کا قبضہ اور غلبہ تھا بلکہ سرکاری دفاتر اور اہلکار جان بچانے کے لئے بنوں میں ڈیرے ڈال چکے تھے۔ آپریشن کے بعد سرکاری اداروں کی بحالی پر توجہ دی گئی اور ویران دفاتر پھر سے بحال ہونے لگے۔ اگرچہ اب بھی حکومت کوسہولیات کی فراہمی اور اداروں کی بھرپور معاونت میں کئی مشکلات اور دشواریوں کے علاوہ فنڈز اور وسائل کی کمی جیسے حالات کا سامنا ہے تاہم یہ بات خوش آئند ہے کہ ریاستی ادارے کی واپسی کے علاوہ زندگی کی رونقیں تیزی کے ساتھ بحال ہوتی نظر آ رہی ہیں اور تعمیر نو کا کام بھی جاری ہے۔ سرکاری سرپرستی میں‘ فوجی حکام کی معاونت کے ساتھ‘ بحالی اور تعمیر کا کام سست ہی سہی مگر کافی حد تک اطمینان بخش قرار دیا جا رہا ہے۔

puramanaurbehter.jpg
23مارچ کی تقریبات کے سلسلے میں میران شاہ کے یونس خان سپورٹس کمپلیکس میں ایک شاندار پریڈ کے علاوہ کھیلوں اور ثقافتی پروگرامز کا انعقاد کیا گیا جس میں اعلیٰ فوجی حکام‘ اہلکاروں کے علاوہ تقریباً 20ہزار مقامی لوگ‘ طلباء اور نوجوان شریک ہوئے۔ اس تقریب میں دوسروں کے علاوہ جنرل آفیسرز کمانڈنگ میجر جنرل اظہر حیات اور پولیٹیکل ایجنٹ کامران آفریدی بطور خاص شریک ہوئے۔ جنرل اظہر حیات نے اس موقع پر کہا کہ وہ امن کے قیام میں فورسز کے کردار کے علاوہ عوام کی معاونت اور قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہیںٖ جن کے عزم اور کوششوں سے نہ صرف علاقے سے دہشت گردوں کا خاتمہ ممکن ہوابلکہ متاثرین کی واپسی اور تعمیر نو کی سرگرمیوں کا آغاز بھی ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے جرگوں، جنازوں اور سرکاری تنصیبات کے علاوہ تعلیمی مراکز اور ہسپتالوں کو بھی نہیں بخشا۔ تاہم اب ان کو پھر سے یہاں گھسنے نہیں دیا جائے گا اور اس خطے کو امن اور ترقی سے ہمکنار کرکے مثالی اور پرامن علاقہ بنایا جائے گا۔ بعد ازاں صحافیوں سے تفصیلی بات چیت میں پی اے کامران آفریدی نے ان فیصلوں کی تفصیلات بتائیں جو کہ حکومت نے علاقے کی ترقی کے لئے شروع کر رکھی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عسکری حکام کی معاونت اور مشاورت سے عوام کے تحفظ اور علاقے کی ترقی کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں تاکہ ماضی کے حالات و واقعات کی تلافی کی جا سکے۔


جی او سی میجر جنرل اظہر حیات اور پی اے کامران آفریدی نے صحافیوں کے ساتھ اپنی خصوصی نشستوں کے دورران بتایا کہ افغانستان جانے والے وزیرستانی باشندوں کی واپسی کے لئے بہت جلد ایک نئے مرحلے کا آغاز کیا جائے گا تاکہ ان کو باعزت طریقے سے ان کے علاقوں میں واپس لا کر بسایا جائے۔ ان کے بقول تقریباً 90فیصدآئی ڈی پیز واپس آ چکے ہیں۔ اب ان کی بحالی اور علاقے کی تعمیر نو پر توجہ دی جا رہی ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ بحالی اور تعمیر نو کے سلسلے کو تیز کرنے کے لئے اسلام آباد اور پشاور کے اعلیٰ حکام اور اداروں کو زیادہ سے زیادہ وسائل کی فراہمی پر قائل کیا جائے تاکہ عملی اقدامات کے ذریعے نہ صرف یہ کہ برسوں تک حالات کے جبر کا شکار ہونے والے لوگوں کو بنیادی سہولتیں فراہم کی جا سکیں بلکہ ان کو یہ باورکرایا جائے کہ حکومت امن کے قیام اور سہولیات کی فراہمی میں سنجیدہ ہے۔ دونوں اعلیٰ حکام نے بتایا کہ شمالی وزیرستان کے لوگوں کے اقتصادی مسائل حل کرنے اور غلام خان سرحد کو دوبارہ کھولنے کے لئے بھی اقدامات کئے جا رہے ہیں تاکہ اس روٹ کو پھر سے فعال بنایا جائے اور اس کے ذریعے مقامی آبادی کو کاروبار کے مواقع فراہم کئے جائیں۔ دونوں اعلیٰ عہدیداروں نے یہ بھی بتایا کہ جن لوگوں کے گھر، مارکیٹیں اور دکانیں متاثر ہو ئیں ان کی از سر نو تعمیر کا کام شروع ہے اور حکومت اس سلسلے میں نقصانات کے ازالے کے لئے قابل ذکر اور اطمینان بخش اقدامات اٹھا رہی ہے۔ ان کے مطابق یہ کوشش کر رہے ہیں کہ شمالی وزیرستان کے ٹی ڈی پیز کو مردم شماری کے دوران وزیرستان ہی کے شہری قرار دینے کے لئے متعلقہ اداروں کے ساتھ ایک فارمولے کے پلان کے ذریعے یقینی بنایا جائے تاکہ ان کے شہری حقوق اور وسائل کا حصہ دار بننے کا راستہ ہموار کر کے انہیں ہر قسم کے وسائل اور حقوق سے مستفید کیا جائے۔ ان کے مطابق سول اور عسکری ادارے باہمی مشاورت کے ذریعے جہاں ایک طرف علاقے کے امن اور ریاستی رٹ کی بحالی کے لئے یکسو ہو کر کام کر رہے ہیں وہاں تعمیر نو اور بحالی کے منصوبوں میں بھی مشاورت سے کام لیا جا رہا ہے اور کوشش کی جا رہی ہے کہ وزیرستان کے انتظامی ڈھانچے کے علاوہ یہاں کی معاشرت اور معیشت کو بھی اپنے پاؤں پر کھڑا کیا جائے۔


قبل ازیں مقامی عمائدین، صحافیوں اور سیاسی کارکنوں نے آپریشن کو کامیاب قرار دیتے ہوئے امن کے قیام پر مکمل اعتماد اور اطمینان کا اظہار کیا تاہم انہوں نے تعمیر نو اور بحالی کے منصوبوں اور کاموں کو مستقل امن کے لئے ناگزیر قرار دیتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کی شکایات اور ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے شمالی وزیرستان کے لئے جاری منصوبوں کی رفتار تیز کرنے کے لئے فنڈز کی فراہمی کو یقینی بنائے اور جن لوگوں کے گھروں، مارکیٹوں اور کاروبار کو نقصان پہنچا ہے اس کی فوری تلافی کی جائے ان کے مطابق وہ کبھی بھی نہیں چاہیں گے کہ شدت پسند یا ان کے حامی پھر سے ادھر کا رخ کریں کیونکہ یہ لوگ انسانیت، پاکستانیت اور قبائل کے دشمن رہے ہیں اور ان کے منفی عزائم نے اس خطے کے عوام کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کو وہ حقوق اور وسائل دیئے جائیں جو کہ پاکستان کے دوسرے شہریوں اور علاقوں کو حاصل ہیں۔ انہوں نے 23مارچ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ بھی ایسے پروگرامز ہوتے رہیں گے تاکہ اس جنگ زدہ وزیرستان کے باسیوں کو خوشی اور تفریح کے مواقع ملتے رہیں اور ایسے پروگرامز کے ذریعے عوام اور ریاستی اداروں کو یکجا ہونے کا موقع بھی ملتا رہے ۔


قدرتی وسائل میں قبائل برابر کے حصہ دار
فاٹا اور وزیرستان کی تاریخ میں غالباً پہلی دفعہ یہ فیصلہ سامنے آیا ہے کہ قدرتی وسائل یا معدنیات جن علاقوں میں دریافت ہوں گے وہاں کے مقامی باشندوں یا عوام کو نہ صرف ایک مناسب رائلٹی دی جائے گی بلکہ ترجیحی بنیادوں پر ان کو ملازمتیں بھی دی جائیں گی۔ اس سلسلے میں شمالی وزیرستان کے متعلقہ حکام نے گزشتہ دنوں تحصیل بویہ کے علاقے محمد خیل میں دریافت کے گئے قیمتی معدنیات (کاپر) کی آمدن میں سے مقامی قبائل یا لوگوں میں 18فیصد کی رائلٹی کے چیک تقسیم کئے۔ حکام کے مطابق معدنیات اور دیگر قدرتی ذخائر جس بھی علاقے میں دریافت ہوں گے‘ وہاں کے عوام کو 18فیصد کے حساب سے رائلٹی دی جائے گی اور لیزنگ کمپنیوں کو باقاعدہ اس فیصلے کا پابند بنایا گیا ہے۔ ان کے مطابق ایک فارمولے کے تحت یہ فیصلہ بھی کیا گیا ہے کہ جس علاقے میں معدنیات کا کوئی مرکز دریافت ہو گا وہاں کے عوام کو ملازمتیں دی جائیں گی اور لیبر اور ٹرانسپورٹ کی سہولتیں بھی ان کو دی جائیں گی تاکہ اس طریقے سے مقامی آبادی کو نہ صرف پروڈکشن میں حصہ دار بنایا جائے بلکہ ان کو روزگار اور ملازمتوں کے مواقع بھی فراہم کئے جائیں۔ حکام کے مطابق وزیرستان میں کرومائیٹ ، کاپر‘ کوئلے، تیل،جپسم اور متعدد دیگر قدرتی معدنیات کے لامحدود وسائل، ذخائر موجود ہیں اور ان ذخائر کی لیزنگ کا سلسلہ تیزی کے ساتھ جاری ہے۔ دیگان نامی علاقے میں بھی رائلٹی کی مد میں گزشتہ دنوں لوگوں میں چیک تقسیم کئے گئے۔


شمالی وزیرستان میں 60ہزارسکیورٹی اہلکار متعین
اعلیٰ سرکاری حکام کے مطابق شمالی وزیرستان میں فوج اور پیراملٹری فورسز کی بڑی تعداد متعین کی گئی ہے جبکہ اہم علاقوں کے پہاڑوں پر درجنوں مورچے بھی بنائے گئے ہیں تاکہ علاقے اور یہاں کے عوام کو محفوظ بنایا جائے۔ حکام کے مطابق اس وقت اس اہم ایجنسی میں تقریباً 60ہزار سکیورٹی اہلکار موجود ہیں جن میں 35000 لیویز بھی شامل ہیں۔ لیویز‘ فوجی جوانوں کے شانہ بشانہ سڑکوں اور چوٹیوں پر فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور ان کی فعالیت اور کارکردگی کو عوام کے علاوہ فوجی حکام بھی سراہتے آ رہے ہیں۔


آپریشن ضرب عضب کے باقاعدہ آغاز سے قبل شمالی وزیرستان سے غلام خان کراسنگ پوائنٹ کے ذریعے افغانستان والے ہزاروں خاندانوں کی پاکستان واپسی کا دوبارہ آغاز اپریل کے پہلے ہفتے کے دوران متوقع ہے اس مقصد کے لئے اعلیٰ سول اور فوجی حکام کے درمیان ایک باقاعدہ شیڈول کے لئے تیاریاں آخری مراحل میں ہیں۔ اعلیٰ فوجی اور سول حکام نے گزشتہ روز میران شاہ میں غیررسمی بات چیت کے دوران بتایا کہ افغانستان جانے والے متاثرین کی واپسی میں تاخیر اس لئے ہوئی کہ ایک تو ان کی غیرمعمولی چیکنگ لازمی تھی جس کے لئے غیرمعمولی وقت درکار تھالہٰذا واپسی دو تین مراحل میں مکمل ہوئی ان مراحل کے دوران لوگوں کے درمیان تعداد کم رہی جبکہ دوسری وجہ یہ تھی کہ پاکستان میں مسلسل حملوں کی وجہ سے سرحد سیل کی گئی اور متاثرین کی بحالی میں بعض انتظامی رکاوٹیں حائل رہیں تاہم توقع کی جانی چاہئے کہ متاثرین کی واپسی کا سلسلہ پھر سے شروع ہو سکے گا اور اب کی بار کوشش کی جائے گی کہ تمام لوگ واپس آ جائیں ۔متعلقہ حکام نے استفسار پر بتایا کہ آپریشن سے قبل یا اس کے دور ان شمالی وزیرستان سے تقریباً 12000 خاندان غلام خان کے راستے افغانستان کے سرحدی صوبے خوست منتقل ہو گئے تھے۔ آپریشن کی تکمیل اور ٹی ڈی پیز کی واپسی کے اعلان کے بعد دو تین مراحل کے دوران تقریباً 1800سے زائدخاندان اپنے علاقوں میں واپس آ گئے۔ تاہم 9000 کے قریب خاندان اب بھی افغانستان میں مقیم ہیں۔ حکام کے مطابق اگر ملک میں دہشت گرد حملوں کا سلسلہ نہیں چل پڑتا اور حالات نارمل رہتے تو اب تک ان خاندانوں کو واپس لایا جا چکا ہوتا۔ اگر چہ غیرمعمولی صورت حال کے باعث یہ سلسلہ تاخیر کا شکار ہوا تاہم اب ان کی واپسی کے لئے ایک اور فیز کا آغاز ہونے والا ہے جس کے دوران ان کی واپسی اور بحالی کو یقینی بنایا جائے گا۔ حکام نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ غلام خان کے کراسنگ پوائنٹ کو دوبارہ کھولنے کے آپشن اور امکان کا بھی اعلیٰ سطحی جائزہ لیا جا رہا ہے کیونکہ شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے ہزاروں افراد کا روزگار اور کاروبار اس روٹ سے وابستہ ہے اور حکومت کی کوشش ہے کہ ایک مربوط طریقہ کار کے مطابق دونوں جانب کی عام آمدورفت کے علاوہ تجارت کا سلسلہ بھی جلد بحال ہو سکے۔


بنوں اور بعض دیگر علاقوں میں آباد ٹی ڈی پیز کی مکمل واپسی کے بارے میں کئے گئے سوال کے جواب میں متعلقہ حکام کا کہنا تھا کہ یہ سلسلہ کسی رکاوٹ کے بغیر جاری ہے اور روزانہ کی بنیاد پر ٹی ڈی پیز کی واپسی اور بحالی کا سلسلہ جاری ہے تاہم دوسری طرف مقامی عمائدین صحافیوں اور متاثرین کا کہنا ہے کہ امن و امان کی بحالی کے باوجود ٹی ڈی پیز کی واپسی سست روی کا شکار ہے اور اس کی ایک بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہزاروں گھر مسمار کئے جا چکے ہیں اور گھروں کی تعمیر کے لئے جو طریقہ کار وضع کیا گیا ہے اس میں چند خامیاں بھی ہیں۔ ان کے مطابق اب بھی تقریباً 40فیصد ٹی ڈی پیز واپسی کے منتظر ہیں جو واپس آ گئے ہیں ان میں سے کچھ یا تو رشتہ داروں کے ہاں ٹھہرے ہوئے ہیں یا عارضی بنیادوں پر خیمے لگا کر حکومتی امداد کا انتظار کر رہے ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق ابھی حکومتی کارندوں کے مزید کام کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ پاک فوج نے اپنا رول ادا کردیا ہے۔ اب باقی اداروں پر منحصر ہے کہ وہ روایتی سست روی اور بیوروکریٹک ڈیلے کی وجہ سے حاصل شدہ کامیابیوں کے ثمر حاصل کریں‘ نہ کہ اپنے عمل سے اُن کے حُسن کو گہنا دیں۔

مضمون نگار ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ کا پروگرام بھی پیش ک رتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

’’اے مری سَر زمیں !‘‘
کس قدر پُرکشش‘ کس قدر دلنشیں‘ یہ بہاریں تری‘ یہ نظارے ترے
تُو ہے کتنی حسیں‘ اے مری سَرزمیں‘ کوہ و صحرا تلک کتنے پیارے ترے
تُوہے ماں کی طرح مُونس و مہرباں‘ تجھ سے آباد و شاداں ہمارا جہاں
تُو نسیمِ سحر از کراں تا کراں‘ تُجھ میں اُڑتے پھریں ہم غبارے ترے
تُجھ سے جب بھی کبھی دُور جانا پڑا‘ دل جدائی میں تیری تڑپتا رہا
ہم سراپا وفا‘ بندگانِ صفا‘ تُوہے دریا تو ہم ہیں کنارے ترے
تجھ کومیلی نظر سے جو دیکھے کوئی‘ تُجھ سے دَست و گریباں جو ہو مُدعی
اُس سے ہو جائے اپنی لڑائی کھلی‘ ہم ہیں شمشیر کے تیز دھارے ترے
تیری بنیاد دینِ مبیں پر پڑی‘ تو عطائے خدا‘ تو دعائے نبیﷺ
فکرِ اقبالؒ ‘ و قائدؒ کے صدقے ملی‘ تیرا اصغر پرےؔ جائے وارے ترے
خواجہ محمداصغر پرے

*****

 
Read 991 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter