مل کر آگے بڑھنا ہے

Published in Hilal Urdu April 2017

تحریر: طاہرہ جالب

کسی بھی ملک کو اپنے تحفظ کے لئے منصوبہ بندی کرنی پڑتی ہے اور منصوبہ بندی کرنے کے لئے اعداد و شمار کی ضرورت ہوتی ہے اور اعداد و شمار میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ ملک کی آبادی کیا ہے؟ کتنے گھرانے ہیں ؟ کتنے افراد ہیں ؟ ملک میں کتنے ادارے ہیں ؟ تعلیمی اداروں کی تعداد کیا ہے ؟ صحت کے اداروں کی تعداد کیا ہے؟ سماجی بہبود کے کون کون سے ادارے کام کررہے ہیں۔ خوراک، زراعت، صنعتی ترقی اور افرادی قوت کیا ہے ؟ غرضیکہ ہر شعبے کی تنظیم و تشکیل کے لئے دیگر عوامل کے علاوہ مردم شماری پر انحصار کرنا پڑتا ہے جس سے ملک کا مستقبل یقینی اورمحفوظ ہو جاتا ہے۔ ملک کی ترقی و تعمیر کا انحصار بھی مردم شماری پر ہے۔ کیونکہ کوئی بھی ملک اس وقت تک سیاسی ، سماجی ، معاشرتی اور معاشی طور پر ترقی نہیں کر سکتا جب تک کہ اپنے اندر بسنے والوں کی تعداد ، تعلیم، سماجی حیثیت اور معاشی کیفیت کے بارے میں بنیادی معلومات نہ رکھتا ہو۔ درست اعداد و شمار حاصل کرنے کے بعد حکومت اپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے بہترین پلاننگ کرتی ہے۔ مثلاً تعلیم کے شعبے میں تعلیمی پلاننگ جس سے معلوم ہو گا کہ کتنے افراد خواندہ ہیں اور کتنے ناخواندہ، کتنے مرد تعلیم یافتہ ہیں، کتنی خواتین تعلیم یافتہ ہیں اورکتنے افراد زیر تعلیم ہیں۔ جو سہولیات تعلیمی اداروں میں میسر ہیں اس کے اعداد و شمار سے الگ معلومات ملیں گی۔ مردم شماری کے ذریعے ہنر اور فنی مہارتوں کے بارے میں رحجان کا اندازہ لگا کر ملک میں ایسی صنعتوں کو فروغ دیا جا سکتا ہے جن کے لئے مستقبل میں افرادی قوت دستیاب ہو سکے۔ ذرائع آمد و رفت کے منصوبے بنانے کے لئے حکومت انہی اعداد و شمار کو استعمال کرتی ہے تاکہ ضرورت کے مطابق نقل و حمل کی ترقی کا پروگرام ترتیب دے کر معاشی اور معاشرتی ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔


اس کے علاوہ شرح افزائش کا اندازہ ہوتا ہے جس کی بنیاد پر زرعی پیداوار کی طلب کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اور غذائی قلت اور گرانی کو دور کیا جا سکتاہے۔ کسی بھی ملک کی تعمیر و ترقی مردم شماری کے صحیح اعداد و شمار پر انحصار کرتی ہے۔ ملک کی ترقی کے لئے جو منصوبہ بندی کی جاتی ہے مردم شماری اس کے لئے بنیاد فراہم کرتی ہے اور درپیش مسائل کو حل کرنے کے لئے لائحہ عمل تیار کرنے میں مدد دیتی ہے۔

 

milkaragybehna.jpgاگر اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہو گا کہ سب سے پہلے دو ہجری میں مدینہ شہر میں مردم شماری کرائی گئی۔ عہدِ رسالتؐ میں وسائل کی تقسیم کا منصفانہ نظام قائم کیا گیا جس کے تحت صاحبِ حیثیت افراد سے خیرات و صدقہ لے کر معاشرے کے ضرورت مند افراد میں منصفانہ طور پر تقسیم کئے گئے۔ اس کے بعد 15 ہجری میں حضرت عمر فاروقؓ نے باقاعدہ مردم شماری کروائی۔ قبلِ مسیح رومن سلطنت نے فوجی اور سیاسی مقاصد اور جائیداد کی رجسٹریشن کے لئے پہلی مرتبہ رومن تہذیب میں باقاعدہ مردم شماری کروائی۔ پھر باب الایران ، مصر ، چین اور جنوبی امریکہ میں مختلف مقاصد کے حصول کے لئے مردم شماری کروائی گئی۔ مسلم ممالک میں شہر کوفہ میں بھی مردم شماری کے شواہد ملتے ہیں۔ جرمنی میں چودھویں صدی عیسوی میں بہت منظم طریقے سے مردم شماری کروائے جانے کا ریکارڈ ملتا ہے۔ پندرھویں صدی عیسوی میں سپین میں باقاعدہ مردم شماری کی گئی۔ کینیڈا ، امریکہ اور سویڈن اس مردم شماری کے مؤجد ہیں جو آج کل ہوتی ہے۔ مردم شماری ہر دس سال بعد لازمی قرار دی گئی ہے۔


19 سال کے وقفے کے بعد پاکستان میں چھٹی مردم شماری ہو رہی ہے۔ 1998ء کی مردم شماری کے بعد 2008 میں یہ عمل ضروری تھا۔ مگر اب تک یہ مسئلہ وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں کے درمیان گیند کی طرح اچھالا جاتا رہا ہے۔ آخر کار سپریم کورٹ کے از خود نوٹس پر یہ عمل 15 مارچ سے شروع ہو چکا ہے جوملک کی معیشت کو بہتر طور پر چلانے کے لئے ممد و معاون ثابت ہو گا۔ ملک بھر میں 15مارچ 2017 سے شروع ہونے والی مردم شماری 2 مراحل میں مکمل ہو گی۔ چاروں صوبوں ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کے 63اضلاع پہلے مرحلے میں 15 مارچ سے 13اپریل تک خانہ اور مردم شماری ہو گی۔ باقی 88 اضلاع اور علاقوں میں مردم شماری دوسرے مرحلے میں کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔


19 سال بعد ہونے والی مردم شماری پر اعتراضات آنے شروع ہو گئے ہیں۔ سندھ میں شہری اور دیہی آبادی کے درمیان ایک دوسرے کی نسبت زیادہ کی جنگ ہے تو بلوچستان میں افغان مہاجرین کو شمار کرنے پر بھی اعتراضات موجود ہیں۔ گویا چھٹی مردم شماری کا انعقاد پھر ایک مرتبہ چند شبہات کے ماحول میں کیا جا رہا ہے۔ تاہم اس امر میں دو لاکھ فوجی اور ایک لاکھ بیس ہزار کے قریب سول ملازمین کی شمولیت کافی حد تک شفافیت لائے گی۔ اس بار مردوں اور عورتوں کے علاوہ خواجہ سراؤں کو بھی گنا جائے گا۔ اگر اس بار مردم شماری کا عمل کامیابی سے مکمل ہو گیا تو نہ صرف منصوبہ بندی کرنا آسان ہو گی بلکہ صوبوں اور اضلاع کے درمیان وسائل کی تقسیم بھی درست اور منصفانہ ہو گی۔
موجودہ مردم شماری کا فیصلہ اوراس کی
Execution
ایک بروقت اور قابلِ تحسین اقدام ہے مگر اس تمام کوشش میں پاک آرمی کے رول کی تعریف نہ کرنا بھی زیادتی ہوگی۔ موجودہ حالات میں پاک فوج کو بہت سے محاذوں پر بڑے بڑے چیلنجز کا سامنا ہے جن میں روایتی اور غیر روایتی دونوں شامل ہیں۔ ایک طرف اندرونی محاذ پر آپریشن ردالفساد کا آغاز کردیاگیا ہے جس کے اہداف یقینی طور پر ایک بھرپور عمل کے متقاضی ہیں۔ موجودہ آپریشن صر ف پاک افغان سرحد پر موجود دہشت گردوں کی پناہ گاہیں نہیں بلکہ پورے پاکستان میں فسادیوں کے تمام نیٹ ورک کا خاتمہ ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ پاک فوج کو لائن آف کنٹرول پر جارحانہ رویوں کا جواب بھی دینا پڑتا ہے۔ یہ ہماری افواج کی مستعدی اور پیشہ ورانہ قابلیت ہی ہے جس کی وجہ سے ہندوستان کی’’ سرجیکل سٹرائیک‘‘ محض ایک بے بنیاد دعویٰ ہی رہا۔ مگر ہمیں یہ دشمن کے عزائم کی خبر ضرور دیتا ہے کہ اگر بس چلے تو دشمن کوئی بھی کارروائی کرنے سے باز نہیں رہے گا۔ ان تمام کمٹمنٹس کے ساتھ جو پاکستان دشمنوں کی پیدا کردہ ہیں۔ پاک فوج کی ایک نہایت مناسب تعداد ہمیشہ اپنی ٹریننگ میں بھی مصروف عمل رہتی ہے۔ غرضیکہ ان حالات میں دو لاکھ فوج کو سپیئر کرنا دراصل ان کی ایک اضافی ذمہ داری بن جاتا ہے جس کو اٹھانے کے لئے پاک فوج کی ہائی کمان سے لے کر ایک سپاہی تک سب نے خیر مقدم کیا ہے۔


موجودہ ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی مردم شماری کے بارے میں مشترکہ پریس کانفرنس جس میں وزیر مملکت برائے اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب بھی موجود تھیں‘ ایک قومی یکجہتی اور سول ملٹری تعلقات میں مثالی ہم آہنگی کی غماز بھی تھی۔ میجر جنرل آصف غفور نے موضوع پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مردم شماری کی افادیت پر زور دیا۔ اس کے ساتھ انہوں نے کہا کہ پاک آرمی اور عوام کے درمیان ایک لازوال رشتہ ہے۔ اس مردم شماری کے دوران پاک فوج کے جوان ہر گھر کے دروازے تک آئیں گے۔ اس عمل کے دوران بے شک
Data Collection
بھی ہوگی مگر یہ پاک فوج کی طرف سے اپنی عوام کے لئے ایک جذبہ خیرسگالی کا پیغام بھی ہوگا۔ اب جب کہ مردم شماری کی مہم کا باقاعدہ آغاز ہوچکا ہے جو کامیابی سے جاری ہے، تو ہمیں اطمینان رکھنا چاہئے کہ حکومت اور افواج کی یہ کاوش ضرورآنے والے دنوں میں پاکستان کی ترقی میں ممد و معاون ثابت ہوگی۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 997 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter