زندگی گزرانے کا ’’پرفیکٹ‘‘ ماڈل

Published in Hilal Urdu March 2017

تحریر: یاسرپیرزادہ

فی زمانہ زندگی گزارنے کا ایک پرفیکٹ ماڈل مارکیٹ میں دستیاب ہے۔ اس ماڈل کے تحت آپ کسی اربن مڈل کلاس گھرانے میں پیدا ہوں( اس ضمن میں آپ کو کسی قسم کی کوشش کرنے کی ضرورت نہیں۔ آپ کا کام پیدائش کے بعد شروع ہو گا) اپنے والدین کے خرچے پر کھیلیں کودیں، سکول جائیں، بہت اچھے نمبروں میں میٹرک یا او لیول کا امتحان پاس کریں، کالج میں داخلہ لیں، ابا سے حسب توفیق گاڑی یا موٹر سائیکل کی فرمائش کریں، گریجویشن کریں، جتنے نمبر آئیں اس حساب سے انجینئرنگ، میڈیکل یا ایم بی اے وغیرہ میں داخلہ لیں یا پھر سی ایس ایس کی تیاری کریں، کینیڈا آسٹریلیا، یو کے یا امریکہ میں پڑھنے کے لئے پر تولیں، تعلیم مکمل کریں، ملازمت تلاش کریں یا ابا کی فیکٹری سنبھال لیں، شادی کروائیں (اپنی)، بچے پیدا کریں اور پھر ان بچوں کو اسی ماڈل کے تحت بڑا کریں، ان کے سکول کالج کے فیسوں کی ٹینشن لیں، ان کے لئے ملازمت کا بندوبست کریں،ان کی شادیاں کریں۔۔۔۔ اور باقی زندگی خدا کی یاد میں بسر کر دیں


اس ماڈل میں بظاہر کوئی خرابی نہیں سوائے اس کے کہ ایک روز جب آپ ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے گھر کے دالان میں آرام کرسی پر بیٹھے اخبار پڑھ رہے ہوں گے تو یہ گزری ہوئی زندگی ایک فلم کی طرح آپ کی آنکھوں کے سامنے چلے گی۔ اس وقت آپ کو یوں نہیں لگنا چاہئے کہ آپ نے زندگی میں بس جھک ہی ماری! ہر امتحان میں اچھے نمبروں سے پاس ہونا ضروری ہے مگر ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ آپ اپنے سکول کی کلاس کے پچاس بچوں میں سے وہ نہ ہوں جن کا نام ہی استاد کو یاد نہیں رہتا، جسے کبھی سزا ہی نہ ملی ہو، جس کے سوالات سے ٹیچرز گھبراتے نہ ہوں، جو صرف پڑھائی میں ہی اے گریڈ نہ لیتا ہو بلکہ ہاکی میں سینٹر فارورڈ بھی کھیلتا ہو، جس نے کالج میں کبھی کوئی کلاس ’’بنک‘‘ نہ کی ہو جو اپنے دوستوں کی پراکسی لگانے سے گھبراتا ہو، جس نے کینٹین پر بیٹھ کر دوستوں کے ساتھ گھنٹوں گپیں نہ لگائی ہوں، جس نے ہاسٹل کے کمرے میں صبح چار بجے تک تاش نہ کھیلی ہو، جسے کالج میں عشق نہ ہوا ہو، جس کا یونیورسٹی میں کوئی جھگڑا نہ ہوا ہو، جس نے اپنی کلاس فیلو کوخط نہ لکھا ہو، جس نے فرسٹ ایئر میں سگریٹ نہ پیا ہو، جسے دوستوں کے ساتھ لاہور سے مری جانے کی اجازت نہ ملی ہو، جس نے ’’ڈیٹ‘‘ پر جانے کے لئے دوست سے موٹر سائیکل نہ مانگی ہو۔۔۔

 

zindagiguzarny.jpgعجیب بات یہ ہے کہ ہماری زندگیوں میں یہ یادیں انمول ہیں مگر جوں جوں وقت گزرتا ہے، یہ باتیں ہماری زندگی سے آؤٹ ہوتی چلی جاتی ہیں اور ہمیں احساس بھی نہیں ہو پاتا، جن دوستوں کے ساتھ گھنٹوں ہم بے تکی باتیں کیا کرتے تھے وہ دوست چھوٹ جاتے ہیں، کچھ ملک سے باہرسیٹل ہو جاتے ہیں ،کچھ شہر چھوڑ جاتے ہیں، کچھ کو زندگی کی دھوپ جھلسا دیتی ہے اور کسی کی دوٹکے کی نوکری جان نہیں چھوڑتی، کچھ دوست رابطے میں رہتے ہیں مگر رسمی انداز میں، کچھ کو ہم رابطہ نہیں کرتے۔ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ زندگی کی دوڑ میں ہم ان سے بہت آگے نکل چکے ہیں۔ گویا جن باتوں کو ہم اپنا اثاثہ سمجھتے ہیں، ان باتوں کو زندگی کی دوڑ دھوپ کے نام پر خود ہی اپنی زندگیوں سے نکال باہر کرتے ہیں اور پھر کافی کا مگ ہاتھ میں لے کر یاد کرتے ہیں کہ ہائے وہ بھی کیا دور تھا، لڑکیوں کا حال تو اور بھی عجیب ہے۔ سکول کالج کے زمانے میں جن سہیلیوں کی ایک دوسرے میں جان ہوتی ہے، شادی کے بعد برسوں ان میں ملاقات ہی نہیں ہو پاتی۔ آج وہ مہ جبیں چار بچوں بمعہ ایک ہونق قسم کے خاوند کے ساتھ ملتی ہے تو احساس ہوتا ہے کہ زندگی نے اس کے اور اس نے زندگی کے ساتھ کیا سلوک کیا


لیکن ہم بھی کیا کریں جب سائیکل ملتی ہے تو سوچتے ہیں کہ کب وہ دن آئے گا جب اپنی موٹر سائیکل کو کک لگا کر سٹارٹ کریں گے۔ جب موٹر سائیکل ملتی ہے تو سوچتے ہیں کہ کیا وہ دن بھی آئے جب اپنی گاڑی ہو گی۔ جسے جب چاہیں گے سٹارٹ کرکے کہیں بھی لے جائیں گے۔ جب پانچویں جماعت میں تھے تو حسرت بھری نگاہوں سے سینئر سیکشن کو دیکھا کرتے تھے کہ کب ہمارا یونیفارم بھی ان بڑے بچوں جیسا ہو گا۔ جب سینئر سیکشن میں پہنچتے تو میٹرک کے امتحان کی ٹینشن جینے نہیں دیتی تھی۔کیونکہ فلموں میں دیکھا کرتے تھے کہ ہیروفقط دو تین کتابیں لے کر سارا وقت کینٹین میں بیٹھ کر دوستوں کے ساتھ مستیاں کرتا ہے اور کالج کی سب سے خوبصورت لڑکی اس پر فدا ہوتی ہے۔ کالج پہنچے تو پتا چلا کہ ایف ایس سی کرنے والوں کے لئے کالج میں بھی سکول جیسا ماحول ہے۔ پھر بی اے کے لئے دن گننے شروع کئے کہ بی اے میں یقیناًایسی پڑھائی ہو گی، جس کا کوئی بوجھ نہیں ہو گا، بی اے میں پہنچے تو احساس ہوا کہ اصل موج تو یونیورسٹی میں ہے جہاں لڑکے لڑکیاں اکٹھے پڑھتے ہیں یونیورسٹی میں سوچتے تھے کہ کب یہاں سے نکلیں گے اور اچھی سی نوکری کریں گے۔ اپنے پیسے کمائیں گے۔ جب نوکری ملی تو سوچا کب امیگریشن ملے گی اور اس ملک سے جان چھوٹے گی اور جب امیگریشن ملی تو سوچتے ہیں کہ کیوں نہ فیس بک پر ایک گروپ بنا کر اپنے سکول کالج کے دوستوں سے رابطہ کر کے پرانی سنہری یادوں کو تازہ کیا جائے۔


اپنی زندگی کو پرفیکٹ بنانے کے چکر میں کہیں ہم اسے

imperfect

تو نہیں بنا دیتے؟ شاید ہاں اور شاید نہیں۔ نہیں اس لئے کیونکہ باعزت طریقے سے زندہ رہنے کے لئے اچھا تعلیمی ریکارڈ، آگے بڑھنے کی لگن، ڈسپلن، اچھی ملازمت، کاروبار، ازدواجی زندگی سب ضروری ہے مگر زندگی اس سے بڑھ کر بھی کچھ مانگتی ہے۔ کروڑوں لوگ امتحانات میں اچھے گریڈ لیتے ہیں، کروڑوں لوگ دنیا میں بزنس کرتے ہیں، مگر زندگی صرف ملازمت کرنے یا کاروبار کرنے کا نام نہیں۔ زندگی صرف سولہ جماعتیں پاس کر کے نوکری ڈھونڈ کر شادی کرنے کا نام نہیں، زندگی یقیناًاس سے بڑھ کر کچھ مانگتی ہے۔ سو زندگی میں کوئی ایک ایسا کام ہمیں کر جانا چاہئے کہ جب زندگی کی فلم ریوائنڈ کر کے دیکھیں تو یہ نہ سوچیں کہ کاش میں نے کالج میں اس لڑکی سے اظہار محبت کر دیا ہوتا جو مجھے پسندتھی۔ کاش میں محکمہ جنگلات میں ملازمت کرنے کی بجائے وائلڈ لائف فوٹو گرافر بن جاتا، کاش میں اتنی دولت کمانے کے ساتھ ساتھ کوئی دو چار فلاحی ادارے بھی بنا دیتا، کاش مجھ میں سچ کہنے کی جرأت ہوتی اور میں دوٹکے کے ذاتی مفاد کی خاطر کسی کے سامنے نہ جھک جاتا۔ کاش میں اتنی پھیکی اور بے مزہ زندگی نہ گزارتا!

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 628 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter