ارشد جبار سے گفتگو

Published in Hilal Urdu March 2017

فوجی وردیاں تیار کرنے کے ماہر ارشد جبار سے محمد امجد چودھری کی گفتگو

وہ چشم تصور میں سرحدوں پر ڈٹے، دشمن سے برسرپیکار پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کو دیکھتے ہیں تو ایک عجیب قسم کی طمانیت محسوس کرتے ہیں۔ ارشد جبار کو فخر ہے کہ دفاع وطن پر قربان ہونے والے افواج پاکستان کے بہت سے شہداء اور غازیوں کی وردی ان کے ہاتھوں سے سلی تھی۔ بہت سوں نے ان کے ہاتھوں سے تیار ہونے والی یونیفارم زیب تن کی ہوگی جس کی صورت میں وہ خود کو ان کے درمیان محسوس کرتے ہیں۔ یقیناان کے لئے یہ بات ایک اعزاز سے کم نہیں کیونکہ فوجی وردی کسی بھی سپاہی کے لئے ایک خاص معنی رکھتی ہے ۔ یہ نظم و ضبط اور ذمہ داریوں کا ایک ایسا سانچا ہے جس میں ایک سپاہی کو تربیت اور آزمائش کی بھٹی میں سے گزر کر خود کو ڈھالنا پڑتا ہے۔ اس کی چمک دمک ایک سپاہی کے وطن کی حفاظت کو اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز رکھنے کے عزم کی عکاسی کررہی ہوتی ہے۔ اس پر سجے میڈلز اس کی جرات و بہادری ، قربانی اور خطرات سے ٹکرانے کی داستان سنا رہے ہوتے ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر یہ قوم کی یکجہتی، عزت و وقار اور آزادی کی علامت ہے۔ ارشد جبار کو اس کے تقدس کا بخوبی ادراک ہے یہی وجہ ہے کہ وہ ایک خاص جذبے اور شوق سے اس کی تیاری کے فرض کو انتہائی سلیقے سے انجام دیتے ہیں۔

 

 

arshadjabarseguf.jpgارشد جبار نے جب آنکھ کھولی تو ان کے والد عبدالجبار کو یہ پیشہ اختیار کئے ہوئے ایک عرصہ بیت چکا تھا۔ انہوں نے قیام پاکستان سے قبل 1945ء میں راولپنڈی میں کشمیر روڈ پر ایک دکان کے باہر چھوٹے سے کام سے آغاز کیا۔ وہ اپنے کام میں مہارت سے جلد ہی اپنے گاہکوں میں مقبول ہو گئے۔ 1947ء میں ایک دکان کرائے پر حاصل کی۔ معروف بیوروکریٹ، ادیب اور دانشور قدرت اللہ شہاب اور ان کے بھائی اس دکان کے مالکان تھے۔ارشد جبار نے اپنی یادوں کو کریدتے ہوئے بتایا کہ اس وقت دکان کا کرایہ دوسو روپے تھا اور ان کے والد دونوں بھائیوں کوسو سو روپے کے دو علیحدہ چیک کی صورت میں ادائیگی کرتے تھے۔1983ء میں ان کے والد نے یہ دکان خرید لی۔


ارشد جبار بارہ جماعتیں پاس ہیں۔ انہوں نے میٹرک پبلک سکول ایبٹ آباد سے کیا۔ ان کے والد چاہتے تھے کہ انہوں نے جو کام شروع کیا ہے اسے مزید بہتر طریقے سے آگے بڑھائیں۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ارشد جبار کو اسی شعبے میں جدید مہارت کے لئے برطانیہ بجھوایا۔ 1972ء میں انہوں نے انگلینڈ ٹیلر اینڈ کٹر اکیڈمی ویلز سے ڈپلومہ حاصل کیا۔ 1973ء میں وطن واپسی پر انہوں نے اپنے والد کے کام کو مزید مہارت اور جدت سے کرنا شروع کیا اور خاص طور پر فوجی یونیفارم کی تیاری کے حوالے سے خوب نام کمایا۔ افواج پاکستان کی بہت سی اہم شخصیات نے ان کے ہاتھوں سے تیارہونے والی وردی زیب تن کی۔ وہ بتاتے ہیں کہ بہت سے افسر سیکنڈ لیفٹیننٹ کی حیثیت سے ان سے یونیفارم تیار کروانے آئے جو آج جنرل کے رینک تک پہنچ چکے ہیں اور طویل عرصے سے انہی کی تیار کردہ یونیفارم پہن رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی کامیابی میں مہارت اور جدت کے علاوہ اخلاص، وقت کی پابندی اور وعدے کی پاسداری نے انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے ان اصولوں کو کسی بھی شعبے اور کاروبار کی کامیابی قراردیا ہے کیونکہ گاہک کا اعتماد اسی سے بڑھتا ہے اوروہ طویل عرصے تک آپ کی خدمات سے استفادہ کرتا ہے۔ حتیٰ کہ نسلوں تک یہ تعلق چلتا ہے۔ بعض افراد کی تو تیسری نسل ان سے لباس تیار کروا رہی ہے۔


ارشد جبار کو وردی کے تمام لوازمات اور اقسام کا بخوبی علم ہے۔ انہیں رجمنٹل لوگوز، انسگنیاز، میڈلز، ٹائٹلز اور دیگر اشیاء میں کبھی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ ارشد جبار کو اپنے کام اور ہنر پر فخر ہے۔ ان کے تیارکردہ لباس کو گاہک زیب تن کر کے جب اطمینان کا اظہار کرتا ہے تو یہی ان کی سب سے بڑی خوشی ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا اس سے مجھے اپنے کام میں ایک عجیب سرشاری محسوس ہوتی ہے۔ میں اور بھی زیادہ محنت اور لگن سے کام کرنا شروع کردیتا ہوں۔ ان کی مہارت کے دلدادہ افراد کی ایک طویل فہرست ہے۔ ایک سپاہی سے لے کر جنرل تک اور ایک عام آدمی سے لے کر ممتاز سیاستدان ، بیوروکریٹ، کاروباری شخصیات ان میں شامل ہیں۔ ارشد جبار کے ایک بھائی خرم جبار اور بیٹا جنید جبار بھی اُن کے ساتھ اُن کے والد کی مہارت اور فن کی اس روایت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں جس کا آغاز 1945میں اُن کے والد نے کیا۔
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 387 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter