شہرِلاہور کے شان دار سماجی اثرات

Published in Hilal Urdu March 2017

تحریر: فرخ سہیل گوئندی

لاہور، پاکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے لیکن تاریخی، علمی، ادبی، سیاسی، فکری اور ثقافتی حوالے سے اسے پاکستان کا دِل کہا جاتا ہے۔ صدیوں سے آباد اس شہر کی تاریخ پُراسرار بھی ہے اور سحرانگیز بھی۔ مؤرخ اسے ڈیڑھ ہزار سال قدیم شہر قرار دیتے ہیں۔ لیکن ماہرینِ آثارِقدیمہ کا کہنا ہے کہ یہ ’ہڑپائی‘ شہر ہے۔ موہنجوداڑو اور ہڑپہ کے زمانے کا شہر۔ اس حوالے سے ماہرینِ آثارِ قدیمہ کا دعویٰ ہے کہ دریاکے اس طرف جہاں یہ شہر آج آباد ہے، قدرتی اور انسانی آفات کے سبب یہ شہر کئی مرتبہ اجڑا اور آباد ہوا۔ پنجاب بھر میں ماہرینِ آثارِقدیمہ نے ہڑپائی بستیوں کے جو آثار دریافت کئے ہیں، اس میں چند آثار دریائے راوی کے دوسرے کنارے سے بھی ملے ہیں جوکہ اسی بستی سے تعلق رکھتے ہیں۔ اگر ماہرین آثارِقدیمہ کے دعووں کو تسلیم کیا جائے تو لاہور برصغیر کا وہ واحد شہر ہے جسے موہنجوداڑو دَور کا زندہ وآباد شہر قرار دیا جائے تو غلط نہ ہوگا۔


لاہور صدیوں سے اُن واقعات کو اپنے سینے میں دفن کئے بیٹھا ہے جس نے اس شہر ہی نہیں بلکہ خطے کی تاریخ پر انمٹ اثرات مرتب کئے۔ اسی لئے اس شہرِاسرار کو اس خطے کا علمی وفکری، ادبی وسیاسی ، ثقافتی وسماجی گہوارہ قرار دیا جاتا ہے۔ اگر ہم لاہور کی گزشتہ چند صدیوں کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو بڑے دلچسپ حقائق بے نقاب ہوتے ہیں۔ مغل شہنشاہ ہمایوں، چودہ سال ہندوستان کے تخت وتاج سے محروم رہا اور اسے اس دوران جلاوطن ہونا پڑا۔ 1554ء میں ہمایوں نے لاہور کو درحقیقت دوبارہ فتح کیا۔ وہی لاہور جسے شیرشاہ سوری اور اس کا بیٹا خاک میں ملا دینا چاہتے تھے۔ جب ہمایوں کی آمد لاہور ہوئی تو لاہور کے باسیوں نے پورے شہر میں چراغاں کرکے اُس کا استقبال کیا۔ ہمایوں کے انتقال کے بعد 1556ء میں اکبر اعظم کی تخت نشینی کے دوران لاہور اپنے دورِعروج میں داخل ہوا۔ اس دوران لاہور برصغیر کی طلسماتی بستی بن گیا۔ اسی لئے اکبر 1584ء سے 1598ء تک لاہور میں مقیم رہا۔ یورپی سیاح اس دوران لاہور کی شان وشوکت دیکھنے آتے تھے۔ متعدد یورپی سیاحوں سمیت ابوالفضل نے بھی اس شہر کے اس طلسماتی عہد کو سپردِقلم کیا۔

 

sherlahorekishan.jpgمغل دَورِحکمرانی میں اس شہر نے برصغیر سے لے کر وسطی ایشیا تک اپنے سیاسی وفکری اثرات مرتب کئے۔ اسی دَور میں دریائے راوی میں بحری جہازوں سے سندھ اورپھر بحیرۂ عرب تک تجارتی راستہ قائم تھا۔ عہدِ جہانگیری میں لاہور کی سیاسی، فکری اور ادبی زندگی کو مزید طاقت ملی۔رنجیت سنگھ کے زمانے میں لاہور کو اگر تلاش کیا جائے تو مزید دلچسپ حقائق اُبھر کر سامنے آتے ہیں۔ اس کے دَور میں فوجی تربیت کے لئے یورپ سے فوجی انسٹرکٹر یہاں آئے۔ اسی لئے اُس کے دربار میں پنجابی اور فارسی کے علاوہ فرانسیسی زبان بھی رائج تھی۔ 1821ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے ایک افسر ولیم مور کروفٹ نے جب رنجیت سنگھ کے لاہور کو دیکھا تو ورطۂ حیرت میں ڈوب گیا کہ اس پنجابی حکمران نے فوج کے نظم ونسق کو کس جدید انداز میں جدید تقاضوں کے مطابق قائم کررکھا ہے۔


لاہوریوں کی انگریز سامراج کے خلاف پہلی بغاوت بھی اس شہر کی تاریخ کا جھومر ہے۔ 1849ء میں چیلیاں والا (گجرات) میں برطانوی سامراج نے برصغیر میں کالونائزیشن کی تکمیل کے لئے آخری جنگ لڑی جس میں پنجاب کے سپوتوں نے بے مثال شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ بدقسمت پنجابی سپاہی، انگریز افواج کے ہاتھوں شکست سے دوچار ہوئے۔ اس کے بعد انگریزوں نے اس طلسماتی بستی (لاہور) میں قیام کے انتظامات شروع کر دئیے اور مسیحی عبادت کے لئے بھی کوششیں شروع کردیں۔ اس کے لئے یہاں پر موجود مقبرہ انارکلی کو انگریزوں نے جون 1851ء میں ’’سینٹ جیمز چرچ‘‘ قرار دے دیا اور عمارت کے گرد خاردار تار لگا دئیے۔ جب لاہوریوں کو انارکلی کے مقبرے کو گرجاگھر میں بدلنے کی خبر ملی تو اہلیانِ لاہور اس (گرجاگھر قرار دی گئی) عمارت کی طرف چڑھ دوڑے۔ اس دوران برطانوی سامراج کے مسلح اہلکاروں نے نہتے شہریوں پر بے دریغ گولیاں برسائیں جس سے متعدد لاہوری شہید ہوگئے۔ اس کے بعد 1857ء کی جنگِ آزادی میں بھی لاہور چھاؤنی میں موجود دیسی جوانوں نے علمِ بغاوت بلند کیا۔ اس شہر کے لوگوں نے جو تحریکیں برپا کیں وہ اپنی جگہ، لیکن اس شہر کے باسیوں نے کئی ایسے واقعات بھی دیکھے کہ ان کی آنکھیں کھلی کی کھلی رہ گئیں۔ ہاتھیوں، گھوڑوں، اونٹوں اور دیگر جانوروں سے چلنے والی سواریاں تو یہاں عام تھیں۔ لیکن 1862ء میں لاہوریوں نے پہلا سٹیم انجن جب راوی کنارے اترتے دیکھا تو اُن کے لئے یہ’ سیاہ جن‘ ایک عجوبہ تھا۔ (انڈس سٹیم فلوٹیلا کمپنی اسے کراچی کی بندرگاہ سے دریائی راستے سے لاہور لائی تھی۔) سٹیم انجن راوی کنارے اتارنے کے بعد لاہور ریلوے سٹیشن پہنچایا جانا بھی حیران کن منظر تھا۔ ایک سو دو بیل اور دو ہاتھی اس انجن کو لاہور ریلوے سٹیشن تک کھینچ کر لائے۔ سٹیم انجن کا راوی کنارے اترنا، پھر چوبرجی سے ہوتے ہوئے ریلوے سٹیشن تک جانا، اس موقع پر شہر میں میلے جیسی تقریب کا اہتمام کیا گیا۔


اسی شہرِ لاہور میں پیسہ اخبار اور زمیندار اخبار جیسے اخباروں کے اجراء نے برصغیر بھر میں دھوم مچا دی اور صحافت کے شعبے میں ناقابل فراموش نام بھی پیدا کئے۔ ان اخبارات سمیت دیگر اخبارات نے ہی تحریکِ آزادی کے چراغ جلائے۔ پہلی جنگ عظیم کے دوران یہاں پر بغاوت برپا تھی۔ پنجاب بھر سے لوگ جنگ عظیم، جنگ بلقان میں برطانوی سامراج کی چیرہ دستیوں کے خلاف علمِ بغاوت بلند کررہے تھے۔ عبیداللہ سندھی اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کابل منتقل ہو چکے تھے جن میں لاتعداد نوجوان شامل تھے۔ ان باغیوں میں مسلمان، ہندو اور سکھ سب ہی لوگ شامل تھے۔ وہاں جلاوطن حکومت بھی قائم کی گئی۔ آزادی کے یہ متوالے اس وقت روس، افغانستان، جرمنی اور سلطنت عثمانیہ کے ساتھ رابطوں میں تھے۔ میرے مطالعے میں اس دَور کی ایسی سرکاری دستاویزات آئی ہیں جن میں لاہور میں انٹیلی جینس والوں کو خاص ہدایت نامہ جاری کیا گیا کہ اُن سیاسی، سماجی، ادبی اور متحرک لوگوں پر نظر رکھیں جو کابل میں موجود آزادی پسندوں، باغیوں کے ساتھ یا پھر روس، جرمنی، افغانستان اور سلطنتِ عثمانیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ جن لوگوں پر نظر رکھے جانے کی ہدایت کی گئی، اُن میں علامہ محمد اقبالؒ بھی شامل تھے کہ وہ ایسی محفلوں میں شامل ہوتے تھے جو برطانیہ سے آزادی چاہتے تھے اور محمد اقبالؒ ان محفلوں میں باغیانہ شاعری کرکے بغاوت پر آمادہ کرتے تھے۔ اسی لئے برطانوی سامراج نے 1919ء میں رولٹ ایکٹ پاس کیا۔ اس کا نام تھا
The Anarchical and Revolutionary Crimes Act 1919

اس ایکٹ کے تحت، برٹش سرکار نے اختیارحاصل کیاکہ آزادی، انقلاب اور برطانوی سامراج کے خلاف بغاوت کرنے والوں کو بغیر مقدمہ چلائے گرفتار کیا جاسکے۔ اس سیاہ قانون کے خلاف لاہور کے شہریوں نے شدید احتجاج شروع کیا تو 13اپریل 1919ء کو پنجاب کے لیفٹیننٹ گورنر مائیکل ایڈوائر نے لاہور میں مارشل لاء نافذ کرکے احتجاج کرنے والوں کو گولی مار کر ہلاک کرنے کا حکم نامہ جاری کردیا۔ مارشل لاء کے نفاذ کے بعد لاہور اور امرتسر احتجاجی مظاہروں کا گڑھ بن گئے۔ اس دوران لاہور کی سڑکیں خون سے سرخ ہوگئیں کہ یہ لاہوریئے آزادی چاہتے تھے۔ انہی مظاہروں کے سلسلے میں جلیانوالہ باغ کا سانحہ برپا ہوا جس میں 380نہتے پُرامن آزادی پسندوں کو برٹش راج نے موت کی نیند سلا دیا۔


لاہور متعدد علمی، فکری، ادبی اور سیاسی تحریکوں کا مرکز اور نقطۂ آغاز بننے کا اعزاز بھی رکھتا ہے۔ علامہ اقبالؒ کی تعلیمی آبیاری تو مختلف سکولوں اور یونیورسٹیوں میں ہوئی۔ مگر یہ لاہور شہر ہے جس نے اس فلسفی اور شاعر کو شاعرِ مشرق اور مفکر پاکستان جیسی معراج پر پہنچایا کہ لاہور میں ان کی فکر، شاعری اور سیاسی سوچ پروان چڑھی اور اسی شہر سے اُن کی دھاک پورے ہندوستان میں پھیلی۔ 6جنوری 1923ء کو مقبرہ جہانگیر پر ایک گارڈن پارٹی میں گورنر پنجاب سر ایڈورڈ میکلیگن کی صدارت میں علامہ اقبالؒ کے اعزاز میں تقریب منعقد ہوئی جہاں انہیں ’’سر‘‘ کا خطاب دیا گیا۔ اس تقریب میں چھے سو سے زائد معززینِ شہر شریک ہوئے جن میں رنجیت سنگھ کی پوتی (بمبا سدر لینڈ) اور سر فضل حسین بھی شامل تھے۔


قراردادِ لاہور جس نے مسلمانانِ برصغیر کے مقدر کا فیصلہ کیا، اسی شہرِ لاہور میں پیش ہوئی۔ 22سے 24مارچ تک منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں مسلمانانِ برصغیر کی تاریخ کا سب سے بڑا فیصلہ ہوا۔ لاہور شہر میں پیش ہونے والی اس قرارداد نے برصغیر میں ایک نئی ریاست کے وجود کی بنیاد رکھی۔ لیکن ایک اور بڑی حقیقت ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوچکی ہے کہ اسی شہر لاہور میں آل انڈیا کانگریس نے ایک اجلاس میں تاریخ ساز فیصلہ کیا۔ 31دسمبر 1929ء کو راوی کنارے آل انڈیا کانگریس نے مرحلہ وار آزادی کے مطالبات کی بجائے مکمل آزادی کے لئے ایک اعلامیہ جاری کیا جسے ’’پورنا سوراج‘‘ یعنی مکمل آزادی قرار دیا گیا۔ اس سے پہلے ہوم رُول، ڈومینین رُول جیسے مطالبات کئے جاتے تھے۔ اسی شہرِ اسرار میں کانگریس نے برطانوی سامراج سے مکمل آزادی کا عہد کرکے یہ ثابت کیا کہ جو فیصلے لاہور میں کئے جائیں، وہی سیاسی مقدر ہوتے ہیں۔ 31دسمبر 1929ء نئے سال کے آغاز کے وقت نہرو نے دریائے راوی کنارے نصف شب تین رنگوں کے جھنڈے کشائی کرکے اس تحریک کی بنیاد رکھی جس نے آزادئ ہند اور بعد میں آزادئ پاک وہند کے راستے متعین کئے۔


لاہور نے 20فروری 1974ء کو اسلامی تاریخ میں ایک ایسا نظارہ کیا کہ جہاں عالمِ اسلام کے چالیس سے زائد حکمران اور لیڈر اکٹھے ہوئے۔ اسلامی کانفرنس کے اس اجلاس میں آزادئ فلسطین کے سرکردہ رہنما یاسر عرفات اور اُن کی تنظیم پی ایل او کو آزادئ فلسطین اور فلسطین کی نمائندہ تنظیم قرار دیا گیا اور یاسرعرفات کو پہلی مرتبہ بحیثیت سربراہِ حکومت کے پروٹوکول کے تحت ریسیو کیا گیا۔ اس وقت پی ایل او کو اسرائیل اور اس کی ہمنوا عالمی طاقتیں دہشت گرد قرار دیتی تھیں۔ اسی کے نتیجے میں، اقوامِ متحدہ میں یاسر عرفات کو خطاب کی دعوت دی گئی جہاں سے تحریک آزادئ فلسطین ایک نئے مرحلے میں داخل ہوئی۔ اس تاریخ ساز فیصلے کی بنیاد لاہور میں ہی رکھی گئی۔


لاہور نے اپنے ہاں دنیا کے نامور سپوتوں کو جنم بھی دیا اور اپنی جھولی میں ان نامور سپوتوں کی پرورش بھی کی۔ اس شہر کے پانچ سپوتوں کے سینے پر دنیا کا سب سے بڑا عالمی اعزاز نوبل پرائز بھی سجا۔ ان پانچ سپوتوں نے اس بستی میں پرورش پائی اور اپنے شعبے میں کامیابی کا آغاز کیا۔ رڈیارڈ کپلنگ، سول اینڈ ملٹری گزٹ کے ایڈیٹر اور نامور ادیب کو اپنے مشہورِعالم ناول
Kim
پر 1907ء میں نوبل انعام ملا۔ وہ ایک عرصہ لاہور میں مقیم رہے اور لاہور میوزیم کے سامنے رکھی توپ آج تک
Kim
سے منسوب ہے۔آرتھر کومپٹن، جنہیں 1927ء میں کیمسٹری میں ایک نئی شاخ
Magnetochemistry
کی بنیاد رکھنے پر نوبل انعام ملا، پنجاب یونیورسٹی لاہور سے وابستہ رہے۔ ہرگوبند کھرانہ جنہیں 1968ء میں جینیات میں نوبل انعام ملا، برٹش دَور میں لاہور میں پیدا ہوئے اور پنجاب یونیورسٹی سے ایم ایس سی کی۔ ڈاکٹر عبدالسلام جنہیں 1979ء میں فزکس ہی میں نوبل انعام سے نوازا گیا، پیدا تو جھنگ میں ہوئے لیکن انہوں نے اسی شہر لاہور میں اپنے علمی اور تحقیقی کاموں کو پروان چڑھایا اور گورنمنٹ کالج میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد یہیں پڑھاتے بھی رہے۔ 1983ء میں فزکس میں نوبل انعام پانے والے سبھرامنائن چندرشیکھر بھی یہیں پیدا ہوئے، ان کے والد ریلوے ورکشاپ مغل پورہ میں انجینئر تھے۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی اور یہیں پڑھاتے بھی رہے۔ لاہور اپنے کئی حوالوں سے جس قدر تاریخ ساز شہر ثابت ہوا ہے، اس کی مثال برصغیر کے کسی دوسرے شہر میں نہیں ملتی۔

مضمون نگار معروف صحافی ‘ کالم نگار اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 868 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter