ایھہ پُتر ہٹاں تے نئیں وکدے

Published in Hilal Urdu March 2017

تحریر: محمد اعظم خان

ستمبر1965کی جنگ کے دوران ریڈیو پاکستان لاہور نے ملی اور جنگی ترانے پیش کر کے ثقافتی محاذ پر ایک نئی تاریخ رقم کی۔ آج ہم تیسرے نغمے کی کہانی بیان کر رہے ہیں۔ یہ نغمہ 10ستمبر 1965کو ریکارڈ کیا گیا۔ پاکستانی افواج اپنے جنگی محاذ پر دشمن کو تاریخ ساز شکست دینے کے لئے کوشاں تھیں۔ ہمیں اطلاع ملی کہ ہمارے کچھ فوجی جوان زخمی ہو کر لاہور سی ایم ایچ میں داخل ہوئے ہیں۔ میں،میڈم نورجہاں اور میوزک کمپوزر حسن لطیف فوری طور پر پھول لے کر ان زخمی جوانوں کو ملنے سی ایم ایچ گئے۔ میڈم نورجہاں اور میں نے ان تمام جوانوں کی عیادت کی، پھول پیش کئے۔ میڈم نورجہاں نے وہاں پر ایک اور ملی نغمہ گا کر سنایا تاکہ ان زخمی جوانوں کی ہمت افزائی ہو سکے۔ ایک جوان ایسا تھا جس کی بم لگنے سے ایک ٹانگ ضائع ہو گئی تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ میں دوبارہ محاذ پر جانا چاہتا ہوں۔ میری زندگی اس قوم کی امانت ہے۔ اپنے ملک اور قوم کے لئے جان کی قربانی دینے کے لئے ہم سب ہر وقت تیار ہیں۔ ہم نے دشمن کو کسی صورت آگے نہیں بڑھنے دینا۔ واپس ریڈیو سٹیشن آ کر میں نے صوفی تبسم کو اس واقعے کے متعلق بتایا اور گزارش کی کہ ان جذبات کے لحاظ سے کوئی خوبصورت ترانہ ہونا چاہئے۔ صوفی تبسم نے کافی سوچ بچار کے بعد یہ استھائی لکھ دی۔


اے پتر ہٹاں تے نئیں وکدے
کیہہ لبھ نی ایں وچ بازار کڑے


اس استھائی کو لے کر میں پوری ٹیم کے ساتھ اسٹوڈیو نمبر2چلا گیا۔ اور اس کی دھن راگنی بھیرویں میں موزوں کی۔ راگ بھیرویں تمام کومل سروں کا مجموعہ ہے اور اس کا تاثر دوسرے راگ راگنیوں سے بالکل مختلف ہے۔ اس شہرہ آفاق نغمے کی بنیادی دھن میں نے ترتیب دی اور اس کے انترے میڈم نورجہاں اور ماسٹر مھنوں نے مل کر بنائے۔ نہایت عمدہ دھن بن گئی۔ تمام دن میں یہ شہرہ آفاق نغمہ لکھا گیا۔ کمپوز ہوا اور شام کے وقت اس کی ریکاڈنگ مکمل ہوئی۔ میڈم نورجہاں نے اس کے بولوں کے مطابق ایسے دل گداز انداز میں اس کو گایا کہ یہ نغمہ امر ہو گیا۔ یقین مانیں جب یہ نغمہ ریکارڈ ہونے کے بعد میں نے میڈم نورجہاں اور صوفی تبسم سے سنا تو ہم سب کی آنکھیں اشک آلود ہو گئیں۔ کہ کس کمال کا نغمہ تخلیق ہوا ہے۔ حالات اور جنگی محاذ کے منظر کو بیان کرنے میں اس نغمے کے ہر بول اور دھن نے دلوں پر بہت مثبت اثر کیا۔ یہ نغمہ نشر ہونے کے بعد ہمیں متعدد ٹیلیفون موصول ہوئے کہ آپ نے کیسا خوبصورت نغمہ پروڈیوس کیا ہے۔ یہ سب ہماری ٹیم کی مشترکہ کوشش تھی کہ ریکارڈنگ کے درمیان صوفی تبسم ہمارے پاس رہے۔ ایک استھائی اور انترہ مکمل ہونے کے بعد نغمے کی شکل نکل آئی۔ ہم نے اس کی تیاری میں کافی وقت لیا۔ جوں جوں صوفی صاحب انترے لکھ کر دیتے ہم ان کو بڑے اچھے انداز میں شامل کرتے جاتے۔ ایک استھائی اور تین انترے تھے۔ ان انتروں کے ہر بول میں وقت کی صورت حال اور ہمارے جوانوں کا جذبہ نمایاں تھا۔ یعنی موت سے نہ ڈرنا اور جذبہ شہادت سے سرشاری، ان بہادر جوانوں کا طرہ امتیاز تھا جیسا کہ اس انترے میں نمایاں ہے۔


ایہہ شیر بہادر غازی نیں۔ ایہہ کسے کولوں وی ہردے نئیں
ایہناں دشمناں کولوں کیہہ ڈرنا۔ ایہہ موت کولوں وی ڈر دے نئیں
ایہہ اپنے دیس دی عزت توں جان اپنی دیندے وار کڑے

دھن بھاگ نے اوہناں مانواں دے جناں مانواں دے ایہہ جائے نئیں
دھن بھاگ نیں بہن بھرانواں دے جناں گودیاں ویر کھڈائے نئیں
ایہہ مان نیں ماناں والیاں دے۔ نئیں ایس دی تینوں کار کڑے

ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے کی لبھ نی ایں وچ بزار کڑے
ایہہ دین اے میرے داتا دی ۔ ناں ایویں ٹکراں مار کڑے

ایہہ پتر وکاؤ چیز نہیں، مل دے کے جھولی پائیے نی
ایہہ ایناں سستا مال نئیں۔ کتوں جا کے منگ لیایئے نی
ایہہ سودا نقد وی نئیں وگدا تو لبھدی پھریں اُدھار کڑے
ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے کی لبھ نی ایں وچہ بزار کڑے


اس نغمے میں شیربہادر جوانوں کے ذکرکے ساتھ ان ماؤں اور بہنوں کا بھی ذکر ہے جن کی گود میں انہوں نے پرورش پائی، یہ شیرجوان ان ماؤں کا مان ہیں۔ صوفی تبسم صاحب نے کمال مہارت سے ترانہ لکھا اور ہم نے اپنی پوری پوری صلاحیت کے ساتھ اس کی دھن بنائی اور میڈم نے بولوں کی مناسبت سے بہت عمدہ نغمہ گایا۔


میرے اپنے خیال میں میرے تمام پروڈیوس کئے ہوئے نغموں میں یہ سب سے اعلیٰ نغمہ ہے۔ باقی تمام نغمے بھی وقت کی مناسبت سے اچھے ہیں مگر اس نغمے کی بات ہی کچھ اور ہے۔ اسی نغمے کی ریکارڈنگ کے دوران میڈم نورجہاں کے گھر سے ظل ہما کا ٹیلیفون آتا کہ اماں ہوائی حملے کا اعلان ہو رہا ہے۔ فوراً گھر آ جائیں۔ مگر میڈم اور میرا یہی کہنا ہوتا تھا کہ موت جہاں بھی آنی ہے اس کا ایک وقت مقرر ہے‘ ہم اپنا آج کا کام نہیں چھوڑ سکتے۔ باقی زیادہ تر لوگ باہر گراؤنڈ میں کھودی ہوئی خندق میں چلے جاتے اور ہم سب کو آنے کا کہتے۔ مگر میرا اپنی ریکارڈنگ ٹیم کو یہی کہنا تھا کہ ہم میں سے کوئی نہیں جائے گا۔ ریکارڈنگ چلتی رہے گی ہم اپنے کام میں مگن پوری توجہ کے ساتھ ریکارڈنگ کرتے رہتے۔ صوفی صاحب کا یہ مصرعہ ہماری بہت ہمت افزائی کرتا۔


ایہہ شیربہادر غازی نیں ایہہ کسے کولوں وی نیں ہردے نئیں
ایناں دشمناں کولوں کِیہہ ڈرنا ایہہ موت کولوں وی ڈر دے نئیں


پاک فوج کے جوانوں کی شہادت کی خبریں بھی ملتیں مگر ان کی ثابت قدمی اور فتح کے پیغام بھی خبروں میں ملتے رہتے۔ اسی مناسب سے ہم اگلا نغمہ صوفی صاحب سے لکھواتے اور اس کی دھن بنا کر ریکارڈ کرتے اور فوری طور پر نشر کر دیتے۔ ہمیں ہمارے سٹیشن ڈائریکٹر (مرحوم) شمس الدین بٹ کا یہی حکم تھا۔ اﷲ پاک کے فضل و کرم سے کسی دن کوئی ناغہ نہیں کیا۔ ہر روز نیا نغمہ لکھوانا یا منتخب کرنا اور اس کو ریکارڈ کر کے نشر کرنا میری ڈیوٹی میں شامل تھا۔ میں نے دن رات محنت کر کے اس کام کو پوری ذمہ داری سے نبھایا۔ اس کے لئے مجھے کیا کچھ کرنا پڑتا یہ میرا اﷲ ہی جانتا ہے۔


مجھے بہت مشکلات پیش آئیں مگر میں نے حوصلہ نہیں ہارا۔ اور پوری قوت اور جذبہ ایمانی سے اپنے کام کو پورا کیا۔ میڈم نورجہاں مجھے کہتیں کہ اعظم میاں تم کس قدر محنتی انسان ہو تھکتے نہیں۔ یہ سب اﷲ پاک کی مجھ پر مہربانی تھی کہ میں نے اپنی قوم اور ملک کے لئے انتھک محنت اور کوشش کی یہی وجہ تھی کہ اﷲپاک نے مجھے اپنے کام میں کامیابی عطا فرمائی۔
(جاری ہے)

ڈاکٹر نثار ترابی

اپنے مان اپنے پاکستان کے نام
(۲۳؍ مارچ کے تناظر میں)

سورج چمکے بن کر تیری گلیوں کا بنجارا
تیرا جوگی ہو کر نکلے ‘ شام کا پہلا تارا
تو ہے مان ہمارا
تیری شامیں خوشبو تھامیں ‘ نس نس جوت جگائیں
تیرے نام پہ قریہ قریہ پھیل گیا‘ اجیارا
تو ہے مان ہمارا
تیری دُھن میں رنگ جمائیں ‘ چار سُروں کے پالے
تیری موج میں گاتا جائے ‘ تیرا راوی دھارا
تو ہے مان ہمارا
کیوں نہ تیری آن ہمیں ہو ‘ اپنی جان سے پیاری
ہم نے ڈوب کے دریا دریا تیرا نقش ابھارا
تو ہے مان ہمارا
تیرے خواب سجا کے پلکیں ‘ قوس قزح شرمائیں
تیری مٹی کو چومے تو جگنو بن جائے تارا
تو ہے مان ہمارا
تو آنکھوں میں ٹھہرا سپنا ‘ تجھ پہ نازاں جیون اپنا
تو ہی ناؤ ‘ تو ہی دریا ‘ تو ہی آس کنارا
تو ہے مان ہمارا

*****

 
Read 414 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter