تحریر: میجر مظفر احمد

حوالدار (ر) تاج مسیح مارچ 1939کو ضلع بہاولپورکی تحصیل حاصل پور میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم مارٹن پرائمری سکول کرسچین کالونی حاصل پور میں حاصل کی۔ وہ پست قد مگر نہایت ہی چاق چوبند اور پھرتیلے تھے۔ بچپن سے ہی کھیلوں سے رغبت تھی اور سپورٹس میں نام کمانا چاہتے تھے۔ اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنے کے لئے انہوں نے ہاکی کے کھیل کو چنا اور اُس میں مہارت حاصل کرنا شروع کی۔ انہی اوصاف کی وجہ سے انہوں نے اوائل عمری میں ضلع بہاولپور کی ہاکی ٹیم میں اپنی جگہ بنالی اور ٹیم کے ہر دلعزیز کھلاڑی بن گئے۔
جب انہوں نے جوانی میں قدم رکھا تو پاک فوج میں بطور سینٹری ورکر شمولیت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا اور یوں 15جنوری 1957کو پاکستان آرمی کی 3پٹھان رجمنٹ کا حصہ بن گئے (جو بعد میں12ایف ایف رجمنٹ کہلائی)۔

 

22فرنٹیر فورس رجمنٹ جانباز بٹالین جب مشرقی پاکستان جیسور میں تعینات تھی توان کی پوسٹنگ مئی 1970کو اس میں کر دی گئی۔ یونٹ نے جلد ہی ان کی اسپورٹس کی صلاحیتوں کو جانچ لیا اور بھرپور مواقع فراہم کرنا شروع کر دئیے۔ انہوں نے یونٹ کے اعتماد پر پورا اُترتے ہوئے نہ صرف کھیل کو ترجیح دی بلکہ بطور سینٹری ورکر اور دفاعِ وطن کے لئے بحیثیت سپاہی بھی پیش پیش رہے۔ ان جیسے بہادر اور فرض شناسوں کی وجہ سے ہی 22فرنٹئیر فورس رجمنٹ اپنے کمانڈنگ آفیسر لیفٹیننٹ کرنل سمین جان بابر کی سربراہی میں مکتی باہنیوں کی بغاوت کے سامنے سیسہ پلائی دیوار کی مانند کھڑی رہی۔مزید برآں جب انڈین لڑاکا طیارے، ٹینک،آرٹلری اور راکٹ بارش کی طرح برس رہے تھے، تب بھی حوالدار تاج مسیح یونٹ کے ساتھ دشمن کے خلاف محاذ پر برسرپیکار رہے۔ یہاں یہ اَمر قابلِ ذکر ہے کہ 8دسمبر ( یونٹ بیٹل ڈے) کو جانباز بٹالین نے بینا پول - جگرگاچا روڈ پر

Y

جنکشن جے مقام پر دشمن کی پیش قدمی کو نہ صرف روکا بلکہ اُس کے ٹینکوں اور توپ خانے کو بھی شدید نقصان پہنچایا۔ مزید برآں 16دسمبر 1971کو دشمن کے آگے ہتھیار نہ ڈالے اور18دسمبر1971کو ہتھیار ناکارہ بنا کر کھلنا دریا میں بہانے کے بعد حکومتی احکامات کی تکمیل کرتے ہوئے جنگی قیدی بن گئے۔
تذکرہ کتاب
"The Warden of Marches"
(لیفٹیننٹ جنرل (ر) عتیق الرحمن)
حوالدار تاج مسیح مسلسل دو سال تک آگرہ کی جیل میں دشمن کے مظالم اور قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کرنے کے بعد 1973کے آخر میں رہا ہو ئے۔

khamoshspihai.jpg
1974میں جانباز بٹالین کی تنظیم نو کے موقع پر وہ دوبارہ ملتان کینٹ میں یونٹ کا حصہ بنے اور یونٹ کی کھیلوں کی سرگرمیوں میں نئی روح ڈالنی شروع کی۔ انہوں نے 1975میں شب وروز محنت کرتے ہوئے 17ڈویژن کھاریاں کے حصہ کے طور پر یونٹ کو کھیلوں میں رنر اپ کی ٹرافی دلوائی ۔ انہوں نے صحیح معنوں میں مختلف اسٹیشنوں پر یونٹ کے پرچم کو کھیلوں میں بالعموم اور ہاکی میں بالخصوص سرنگوں نہ ہونے دیا۔
ان کی سروس سا ل 1976میں اختتام پذیر ہوئی۔ ان کی خداداد صلاحیتوں سے استفادہ حاصل کرنے کے لئے اپریل1977میں جانباز بٹالین نے ان کو بحیثیت ہاکی کوچ منتخب کر لیا۔ 19سال تک کوچنگ کے فرائض سرانجام دیتے ہوئے انہوں نے یونٹ کے عَلم کوکسی بھی ڈویژن میں نیچے نہ آنے دیا ۔انہی خدمات کو سراہتے ہوئے سال 2003کے14ڈویژن اوکاڑہ کے ہاکی مقابلوں کے موقع پر اُس وقت کے جنرل آفیسر کمانڈنگ میجر جنرل احتشام ضمیر جعفری نے ان کو انعام سے نوازا اور تعریف کی۔


یہ یونٹ کے ساتھ ان کی لگن تھی کہ اپنی بگڑتی ہوئی صحت اور لیفٹیننٹ کرنل ملک محمد انور اقبال سی او جانباز بٹالین کے آرام کے مشورے کے باوجود انہوں نے2004-2006تک آپریشن المیزان میں جنوبی اور شمالی وزیرستان میں یونٹ کا ساتھ دینے کو ترجیح دی۔ ان کی موجودگی سروکئی، وانا، جنڈولا، ٹل، شیوہ اور سپین وام جیسی پر خطر جگہوں پر بھی یونٹ کے جوانوں کے لئے حوصلے کی بلندی کا باعث تھی۔ عمر زیادہ ہونے کے باوجود بھی وہ 2007-2009 تک آپریشن راہِ راست میں یونٹ کے ساتھ ساتھ رہے ۔
سال2010 میں جب ان کی صحت انتہائی خراب ہو گئی اور ان کا جسم بیماری سے لاغر ہو گیا تو یونٹ نے ان کو دوبارہ گھر میں آرام کرنے کا مشورہ دیااور ان کی خدمات کے صلے میں یونٹ نے ان کے بیٹے جمیل مسیح کو بطو ر سینٹری ورکر بھرتی کر لیا۔


اس عظیم، جرأت مند اور محب وطن خاموش سپاہی کا انتقال 20دسمبر 2016 کو ہواانہیں کرسچن کالونی قبرستان حاصل پور میں سپردخاک کر دیا گیا۔حوالدار تاج مسیح کی زندگی سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ پاکستان ہم سب کا ملک ہے۔ ہم سب کی ذمہ داری ہے اور پاکستان کے تمام بیٹوں نے بلاامتیاز مذہب، رنگ، نسل اور زبان کے اس کی خدمت اور حفاظت کرنی ہے۔

 
Read 392 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter