ہمارے ہاں اپنے کلچر کو بُرا کہنا ایک کلچر بن گیا ہے:ڈاکٹر فوزیہ سعید

Published in Hilal Urdu March 2017

انٹرویو: صبا زیب

کسی بھی ملک یا علاقے کی ثقافت کو جاننے کے لئے وہاں کے لوگوں کا رہن سہن، زبان اور طور طریقے دیکھنے پڑتے ہیں۔ ملک کی پہچان ثقافت ہوتی ہے اور اسے زندہ رکھنے کے لئے اسے فخر کے ساتھ اپنایا جاتا ہے۔ زندہ قومیں اپنی ثقافت کا پرچار دنیا کے ہر کونے میں عزت اور وقار کے ساتھ کرتی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ قومیں وہی زندہ رہتی ہیں جنہوں نے اپنی تہذیب اور ثقافت کو دنیا میں زندہ رکھا۔ یہ بات بھی حقیقت پر مبنی ہے کہ ثقافت میں تبدیلی کی گنجائش ہوتی ہے اور یہ تبدیلی اسے وقت کے تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرتی ہے۔ جب بات ہم اپنے پیارے ملک پاکستان کی ثقافت کی کریں تو یہ کہنا بالکل بھی غلط نہیں ہو گا کہ یہاں کی ثقافت اپنے اندر ایک جہاں کو سموئے ہوئے ہے ۔ اس کی وسعت اور زرخیزی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ہمارے ملک میں 70سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں اور ان میں سے کچھ زبانیں ایسی بھی ہیں جو پوری دنیا میں کہیں اور نہیں بولی جاتیں۔ اپنی اس ثقافت کو دنیا میں زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لئے ہمارے ملک کے بہت سے لوگ اور ادارے کام کر رہے ہیں انہی میں ایک معتبرنام فوزیہ سعید کا ہے جو آج کل لوک ورثہ میں بطور ایگزیکٹو ڈائریکٹر کام کر رہی ہیں۔ قارئین کی دلچسپی کے لئے ہم نے ان سے ثقافت کے حوالے سے کچھ سوالات کئے ہیں جو یقیناًدلچسپی کا باعث ہوں گے۔
سوال: آپ ثقافت یا کلچر کو کیسے ڈیفائن کریں گی؟
جواب: ثقافت یا کلچر کے دو حصے ہیں۔
Tangible
اور
Intangible Intangible
ثقافت کا وہ حصہ ہے جسے ہم چھو نہیں سکتے۔ مثلاً زبان، رسم و رواج، رہن سہن وغیرہ اور
Tangible
میں لباس شامل ہے جسے ہم چھو سکتے ہیں تو بنیادی طور پر کلچر میں یہی چیزیں شامل ہیں۔

hamryhanapnykachar.jpg
سوال: پاکستانی کلچر کی تعریف کیسے کریں گی؟
جواب: میں یہی کہوں گی کہ صدیوں سے اس دھرتی‘ اس سرزمین پرجو مختلف تہذیبیں آتی رہی ہیں اور مختلف مذاہب آتے رہے ہیں ان کا
Composite
کلچر ہے میں یہ کبھی نہیں کہوں گی کہ ہمارا کلچر 1947میں آیا۔ اس سے پہلے بھی جو اس دھرتی پر آیا سب ہمارے کلچر کا حصہ ہے۔ اس میں انڈس ویلی ہے گندھارا ہے۔ جو اس سرزمین پر ہوا ہم اس سب کو اون کرتے ہیں کیونکہ اس سب کی جھلک ہمارے کلچر میں ہے۔ ہم پاکستانی ہیں۔ اس سرزمین کا جو ماضی ہے اس سب کے ساتھ ہم پاکستانی ہیں۔ اکثر ہم اپنے کلچر کو صرف عرب مسلمانوں کے ساتھ جوڑتے ہیں میں سمجھتی ہوں کہ یہ بہت محدود تعریف ہے جو کچھ یہاں ہوا وہ سب ہمارے کلچر پر اثرانداز ہوا اور وہ سب ہماری ثقافتی شناخت کا حصہ ہے۔
سوال: ہم ایک ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں دیہات زیادہ ہیں۔ ہمارا کلچر بھی دیہی ہے۔ اگر ہم ماڈرن کلچر، جو صنعتی ترقی اور ٹیکنالوجی سے تشکیل پا رہا ہے، کی بات کریں تو آپ اس کے ہمارے دیہی کلچر پر کیااثرات دیکھتی ہیں؟
جواب: بہت زیادہ فرق پڑتا ہے جو بھی آپ کی ویلیوز ہیں وہ تبدیل ہوتی ہیں۔ جب لوگ دیہاتوں سے شہروں کی طرف آتے ہیں تو اس میں اکنامک فیکٹر زیادہ ہوتا ہے اس وقت لوگوں کو لگتا ہے کہ جب تک ہم اچھی اردو نہیں بولیں گے یا اچھی انگریزی نہیں بولیں گے ہمیں اچھی نوکری نہیں ملے گی تب ہم اپنے کلچر سے
Disassociate
کرتے ہیں۔ اپنی زبان سے
Disassociate
کرتے ہیں لباس سے کرتے ہیں اور پھر جب ہمیں ایسی جگہ نوکری ملتی ہے تو وہاں کا ماحول ہمارے کلچر پر اثر انداز ہوتا ہے۔ اس وقت اگر ہم انگریزی کو کسی اور کے لہجے میں بولیں گے تو لوگ ہم پر ہنسیں گے تب ہمارے لئے یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ ہم انگریزی سمجھیں، بولیں اس طرح ہماری ترجیحات میں انگریزی سب سے پہلے ہے۔ پھر اردو۔۔۔ اور وہ بھی ایک خاص لہجے والی اور پھر ایک لمبے گیپ کے بعد علاقائی زبانوں کی باری آتی ہے۔ ایک زمانہ تھا، ہمارے ہاں شہروں میں بھی بڑے آرام سے کڑھائیاں، سلائیاں ہوتی تھیں۔ سکول کی چھٹیوں میں بچیاں بڑے آرام سے سلائیاں کڑھائیاں کرتی تھیں۔ تحائف بھی اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے دیئے جاتے تھے لیکن پھر آہستہ آہستہ یہ ہوا کہ جب آپ نے بازار سے خرید کر کوئی چیز تحفہ دی تو اس کی قدر زیادہ کی جانے لگی بہ نسبت اس کے جو گھر میں ہاتھ سے بنا کر دی جاتی ۔ جیسے پہلے ہم
Potato
پینٹگ سے کارڈز گھروں میں بناتے تھے پھر ان کی قدر بازار کے کارڈز نے ختم کر دی۔ اسی طرح ہمارا کلچر تبدیل ہوتا گیا۔ یہاں یہ بات بہت افسوس سے کہنی پڑتی ہے کہ ہمارے ہاں اپنے کلچر کوبرا کہنا ہی ایک کلچر بن گیا ہے۔ ہم اپنے کلچر کو عزت کے ساتھ اپناتے ہی نہیں بلکہ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کلچر کے ساتھ ہماری عزت کم ہو جائے گی۔ جدت پسندی کے لئے ضروری نہیں ہوتا کہ آپ اپنے کلچر کو پیچھے چھوڑ دیں۔
سوال: پاکستانی کلچر کو فروغ دینے کے لئے ہم ماڈرن ٹیکنالوجی کو کیسے استعمال کر سکتے ہیں؟
جواب: اس سے پہلے میں یہ بتانا چاہوں گی کہ کلچر تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ یہ بات کبھی نہیں سوچنی چاہئے کہ کلچر جامد ہے۔ مثال کے طورپر آپ اپنے ذہن میں لے کر آئیں کہ ایک بڑے پیڑ کے نیچے ایک چرواہا بانسری بجا رہا ہے۔ اب اس تصویر میں رومانس بہت ہے لیکن فوک کلچر یہ بھی ہے کہ بھرے بازار میں لوگ ہیں اور کسی گھر کی اوپر والی منزل سے ٹوکری نیچے لٹکائی جاتی ہے اور اس میں سامان ڈالا جاتا ہے یہ بھی ہمارے کلچر کا حصہ ہے، یہ حقیقت ہے کہ ہمارا کلچر تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ ہمارے گیت تبدیل ہوتے ہیں۔ ہمارے ہیروز تبدیل ہوتے ہیں۔ اس لئے ہم نے اپنے کلچر اپنی ثقافت کو تبدیل کرنا ہے۔ اسے ترجیح دینا ہے، جب چیزوں کے بارے میں آگاہی بڑھتی ہے توہم کچھ چیزوں کو اپنے کلچر سے نکال دیتے ہیں۔ اسے میں
Pruning
کا عمل کہتی ہوں۔ جیسے پودوں اور درختوں کی بہتر نشوونما کے لئے ان کی کانٹ چھانٹ ضروری ہوتی ہے اسی طرح اپنے کلچر میں سے بری چیزیں نکالنا اس کی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ اپنے کلچر کو ہم نے ایسے ہی گروم کرنا ہے۔ ہمیں ایسی چیزوں کو نکالنا ہے جو ہمارے لئے ٹھیک نہیں جو ہمیں کہتی ہیں کہ اس بات پر ماں کو مار دو۔ بہن کو مار دو وغیرہ وغیرہ۔ یہ وہ بدعتیں اور جڑی بوٹیاں ہیں جن کو نکالنا بالکل جائز ہے۔ مجھے کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ لوک ورثہ کاروکاری کو پروموٹ کرنے کے لئے کیا کر رہا ہے۔ کیونکہ وہ بھی ہمارے کلچر کا حصہ ہے لیکن ہم اسے آگے لے کر نہیں جا سکتے۔ ہماری ہیومن رائٹس کی اتنی معلومات ہو گئی ہیں۔ جس سے ہمیں یہ پتا چل گیا ہے کہ
Discrimination
کیا ہے تو اب ہم ان آلات سے اپنے کلچر کی
Pruning
کرتے ہیں ساری دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے جب آگاہی بڑھتی ہے تو ان Measures
کے مطابق آپ اپنے کلچر کو ٹھیک کرتے چلے جاتے ہیں اور یہ
Collective
Wisdom سے ہوتا ہے ۔ میرا تعلیم حاصل کرنا مجھے نہیں روکتاکہ میں اپنی ثقافت پر عمل نہ کروں۔ میں ایک پی ایچ ڈی پاکستانی خاتون ہوں اور میں اپنی روایات سے پیار کرتی ہوں۔ بہت سے ینگ لوگوں کولگتا ہے کہ ثقافت کو اپنانا قدامت پسندی ہے اور ان کو لگتا ہے کہ اگر ماڈرن ہونا ہے تو ثقافت کو چھوڑنا ہے لیکن میں کہتی ہوں کہ ثقافت کو ساتھ لے کر چلنا چاہئے اس کو کھڑکی سے باہر نہیں پھینکنا چاہئے۔ مثال میں دیتی ہوں لباس کی، ایک زمانہ تھا جب ہمارے ہاں غرارے اور شرارے چلتے تھے۔ بہت وزنی زیورات پہنے جاتے تھے لیکن وقت بدلتا گیا۔ اب عورتیں ملازمت کرتی ہیں وہ غرارے شرارے نہیں پہنتیں لیکن ہماری شلوارقمیض میں اتنی گنجائش تھی کہ اس میںآرام سے کام کر سکتے ہیں۔ اپنی ثقافت کو
Transform
کر لیں گے تو یہ ہمیں
Modernization
میں مدد کرے گی۔ دنیا میں اس کی بہت سی مثالیں ملتی ہیں۔ جیسے ماضی میں جاپان میں کیمونوز پہنے جاتے تھے لیکن یہ ایسا لباس تھا جو ان کے کام میں مشکل پیدا کرتا تھا۔ اس لباس میں تبدیلی لانے کے بجائے انہوں نے اسے استعمال کرنا ہی چھوڑ دیا۔ آہستہ آہستہ وہ بہت کم نظر آنے لگا۔ اب آپ جاپان میں بھی وہی یورپی اور امریکن لباس دیکھتے ہیں۔ جب آپ اپنے کلچر کو
Modify
نہیں کریں گے تو پھر ایک بالکل الگ چیز آپ کے معاشرے میں نظرآنے لگے گی۔ اس سے نقصان بہت ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں عورتوں کے لباس میں کافی تبدیلی نظر آتی ہے لیکن مردوں کے لباس میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی اور بالکل نئی چیز یعنی وہی مغربی لباس نظر آتا ہے کیونکہ مردوں نے اپنے لباس میں تبدیلی نہیں کی۔

 

hamryhanapnykachar1.jpgسوال: پاکستانی کلچر کے سٹرانگ پوائنٹس کیا ہیں؟
جواب: اگرلوگ اسے اپنا لیں تو مجھے لگتا ہے کہ ہمارے کلچر میں سب سے مضبوط چیز رشتے ہیں اور پھر جو یہ گروپ
Orientation
ہے یہ مجھے بہت پسند ہے۔ ہم بچپن سے ہی لفظ’ ہم‘ استعمال کرتے ہیں ہم لوگ ’ہم‘ کر کے سوچتے ہیں۔ میں جب لوک ورثہ کی بات کرتی ہوں تو ہم کر کے سوچتی ہوں۔ اپنی فیملی کی بات کرتی ہوں تو ہم کر کے سوچتی ہوں جبکہ بہت سے مغربی ممالک ایسے ہیں جنہیں ہم کر کے سوچنے میں بہت دقت ہوتی ہے۔ وہ ’میں‘ سے شروع ہوتے ہیں اور ’میں‘ پر ہی ختم ہوتے ہیں۔ جبکہ ہم لوگ گروپ کی بقاء کے بارے میں زیادہ سوچتے ہیں ہم لوگ کوشش کرتے ہیں کہ اپنوں کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچا سکیں۔ اگر ہم اپنے کلچر کا مغربی کلچر سے موازنہ کر کے دیکھیں تو اس میں جو چیز بالکل فرق نظر آئے گی وہ یہی ہے یعنی رشتوں کو نبھانا۔
سوال: آپ نے کہا کہ کلچر تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ آپ ہمیں بتائیں کہ ہمیں اپنے کلچر کو کن لائنز پر
Evolve
کرنا چاہئے؟
جواب: سب سے پہلے تو یہ کہ ہمیں اپنے کلچر کی عزت کرنی چاہئے۔ کلچر کو ہم نے ایک ہوّا بنا دیا ہے جتنی بھی بری چیزیں ہیں وہ ہم نے کلچر کے نام لگا دی ہیں اور اچھی چیزیں
Modernization
کے نام کر دی ہیں۔ ضرورت اس چیز کی ہے کہ ہم اپنے کلچر کی مثبت چیزوں کو سامنے لے کر آئیں اور اس کی عزت بڑھائیں۔ عزت کے ساتھ اس میں تبدیلی لے کر آئیں۔ آپ کو لگتا ہے کہ تبدیلی لانا مشکل ہے لیکن مجھے لگتا ہے کہ اگر پیار اور محبت سے یہ سب کیا جائے تو کچھ بھی مشکل نہیں۔ بہت سی ایسی چیزیں ہمارے کلچر کا حصہ بن چکی ہیں جن کا پہلے ہم سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ جیسے جیسے آگاہی بڑھتی ہے مہذب معاشرے ویسے ویسے پروان چڑھتے ہیں۔ ہمارے کلچر کے مستقبل کی سمت بھی یہی ہو گی۔ نئی رِیت، نئے رواج ایسے ہی جنم لیتے ہیں جیسے پہلے زمانے میں عورتیں کنویں پر اکٹھی ہوتی تھیں اور آپس میں باتیں شیئر کرتی تھیں وہی کچھ اب فیس بک پر ہوتا ہے۔ مجھے لگتا ہے جو
Hangout
گروپ بنتے ہیں یہ ویسے ہی ہیں جو کنویں پر ہوتے تھے۔
سوال: ہمارے معاشرے میں انتہا پسندی بہت عام ہوگئی ہے اپنے معاشرے کو پرامن بنانے کے لئے کلچر کیا کردار ادا کر سکتا ہے؟
جواب: کلچر بہت اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ کیونکہ کلچر لوگوں کے دلوں تک پہنچتاہے۔ جیسے بلھے شاہ، یا بابا فرید کی کافی ہو تو وہ سیدھی دل پر اثر کرتی ہے۔ کلچر میں بہت طاقت ہے یہ دلوں کے ساتھ بات چیت کرتا ہے۔ برصغیر میں اسلام تلوار کے زور پر نہیں آیا تھا بلکہ ان صوفیائے کرام نے پیار اور محبت کا درس دے کر اسلام کو پھیلایا۔ ہم ان جیسے عقلمند نہیں ہیں ہم انہی سے سیکھ سکتے ہیں کہ تبدیلی کیسے لانی ہے۔ اس کے علاوہ تخلیقی اظہار اور ابلاغ
(Creative Expression)
بہت ضروری ہے۔ یہ عسکریت پسند اس سے دور بھاگتے ہیں۔ کیونکہ یہ ان کی اینٹی بائیوٹک ہے یا یوں کہیں کہ ان کی ویکسین ہے میرے خیال سے جوبندہ ساز اٹھاتا ہے وہ ہتھیار نہیں اٹھا سکتا۔ جو
Creative
آدمی ہے وہ جان نہیں لے سکتا۔ یہ بم دھماکے کرنے کے لئے دلوں کو سخت کرنا پڑتا ہے۔ لہٰذا ہم اپنے معاشرے میں تخلیقی عمل کو بڑھا کر اسے امن پسند بنا سکتے ہیں۔ ہمیں اپنی تخلیقی کو دوبارہ حاصل کرنے کی سخت ضرورت ہے۔ پوری دنیا میں کوئی کمیونٹی ایسی نہیں جن کی اپنی زبان نہ ہو، موسیقی نہ ہو، رقص نہ ہو۔ اس سے ہمیں یہ پتا چلتا ہے کہ یہ چیزیں نیچرل ہیں تخلیقیہمارے ڈی این اے میں ہے اگر ہم اسے دبائیں گے تو پھر جنگلی جانور ہی بنیں گے اور اگر اسے ابھاریں گے تو انسانیت کی طرف آئیں گے۔
سوال: اکثر انڈین دانشور کہتے ہیں کہ ہمارا کلچر ایک ہے لیکن تاریخ بتاتی ہے کہ گنگا،جمنا اور دریائے سندھ کی تہذیبوں میں بہت فرق ہے۔ اس بارے میں آپ کیا کہیں گی؟
جواب: گئے وقتوں میں کہ ساؤتھ ایشیئن ممالک میں بہت سی چیزیں ایک جیسی ضرور تھیں۔ تاہم اب سب کی اپنی اپنی شناخت ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ہمارا منفی امیج بن ساگیا ہے جبکہ پاکستان کا نام سنتے ہی ان کے تیور بدل جاتے ہیں کیونکہ ہم نے دنیا کو اپنا کلچر بندوق والا زیادہ بتایا ہے اور باقی چیزوں پر ہم نے پابندی لگا رکھی ہے۔ ہم میں
Similarities
ہیں لیکن ہم بہت منفردبھی ہیں اپنی اس انفرادیت کو ہم نے ابھی تک استعمال نہیں کیا نہ کبھی ہم نے فخر کے ساتھ اپنی کسی ثقافت کو اپنایا۔ ابھی حالات یہ ہیں کہ انڈیا ہماری انڈس ویلی کو بھی اپنا کہہ رہا ہے دنیا میں لوگ انڈس ویلی کو پاکستان کے بجائے انڈیا کی وجہ سے پہچان رہے ہیں۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ہم کبھی فخر سے بتاتے ہی نہیں کہ ہم اس تہذیب سے تعلق رکھتے ہیں یہاں تک کہ مہر گڑھ کو نہیں پوچھتے۔ ہمارے نصاب میں وہ شامل ہی نہیں، نہ ہمارے بچوں کو اس کے بارے میں کچھ پتا ہے۔ جب آپ اپنی چیز کی رکھوالی نہیں کرتے تو پھر اسے لوگ ہتھیا لیتے۔ اب انڈیا اور پاکستان کی عورتوں کے مسائل ایک جیسے ہیں لیکن دنیا میں انڈیا کی عورتوں کو بہادر مانا جاتا ہے۔ جبکہ پاکستان کی عورت کو مظلوم تصور کیا جاتا ہے۔ کیونکہ ہم نے اپنا
image
ہی ایسا بنایا ہے ۔
سوال: پاکستان کی ثقافت دنیا کی باقی ثقافتوں سے کیسے منفردہے؟
جواب: ہماری ثقافت بہت زرخیز ہے ہماری 70زبانوں میں سے 25 کے قریب ایسی زبانیں ہیں جن میں باقاعدہ ادب موجود ہے۔ اب جیسے میں کہتی ہوں کہ مجھے اپنی ثقافت میں رشتے بہت پسند ہیں۔ رشتے اور بھی بہت جگہوں پر اہم ہیں لیکن ہمارے ہاں ایک الگ انداز ہے۔ جیسے آپ ماں کے رشتے کو لے لیں کہ آپ بوڑھے ہو جاتے ہیں لیکن ماؤں کے ساتھ وابستگی ویسی ہی رہتی ہے۔ یہ بہت منفرد چیز ہے۔ پھر ہمارا میوزک ہے، قوالی ہے، ہماری تربیت ہے۔ ہمارے گلگت بلتستان میں یاک پولو کھیلی جاتی ہے جو اور کہیں نہیں کھیلی جاتی۔
سوال: لوک ورثہ ہمارے کلچر کو فروغ دینے کے لئے کیا کر رہا ہے؟
جواب: مجھے یہاں آئے ہوئے دو سال ہو گئے ہیں ہم نے اپنی ترجیحات سیٹ کیں۔ ہماری پہلی ترجیح نوجوان نسل اور بچے ہیں ہم نے انہیں اپنی ثقافت سے روشناس کروانا ہے۔ دوسری ترجیح یہ کہ پہلے
Documentation
اور
Publications
پر زیادہ زور دیا گیا مگر
Dissemination
پرکم زور دیا۔ اس لئے ہم نے یہ فیصلہ کیا کہ جو بھی ہم کام کریں گے اس کی پراڈکٹ بنا کر معاشرے میں پھیلانی ہے۔ میڈیا کے ذریعے اسے آگے لے کر جائیں گے تاکہ وہ ہمارے بچوں کے کام آئے اور آنے والی نسل اپنی شناخت زیادہ بہتر طریقے سے کر سکے۔ اس کے علاوہ اب ہم ہر سال سمر کیمپ لگاتے ہیں جس کی
Theme
کوئی بھی قومی یا علاقائی زبان ہوتی ہے۔ پہلے سال ہم نے بلوچی زبان کی
Theme
استعمال کی جس میں بچوں کو بلوچی زبان میں ایک گیت بھی سکھایا گیا۔ اس سمر کیمپ میں ہر قسم کا
Fun
اور
Games
بھی ہوتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہم ’رباب‘ پر بہت کام کر رہے ہیں کیونکہ یہ ہماری ثقافت کا ایک اہم حصہ ہے۔ میں خیبرپختوخواہ کے لوگوں سے کہتی ہوں کہ تم لوگ چاہے جتنے مرضی ماڈرن ہو جاؤ لیکن رباب بجانا نہ چھوڑنا کیونکہ یہ ہمارے کلچر کا نشان ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ دہشت گردی کو توڑتا ہے۔ اس کے بجانے سے دل میں نرمی پیدا ہوتی ہے ہم نے لوک ورثہ میں رباب بجانے کا مقابلہ کروایا اور اس مقابلے میں جیتنے والوں میں ایک رکشہ ڈرائیور تھا اور ایک پھل فروش۔
ہم نے لوک ورثہ میں چھوٹے بچوں کاٹیلنٹ ہنٹ کروایا جو بہت کامیاب رہا۔ لوک ورثہ اپنے ہیروز کو پروموٹ کر نے میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ حبیب جالب، احمد فراز، جون ایلیا ان کے بارے میں ہم لوگوں کو بتا رہے ہیں۔ پھر ہم
"Dying Instruments"
پر بھی کام کر رہے ہیں۔ انڈس ویلی کی تہذیب میں ایک ساز ہوتا تھا۔
Brindio
اس کو ہم بنوا رہے ہیں۔ لوک ورثہ میں اب میلوں کا انعقاد بہت زیادہ ہو رہا ہے جس سے لوگوں میں میل ملاپ بڑھ رہا ہے۔
سوال: متوازن معاشرے کے لئے مرد اور عورت کے تعلقات کو بہتر کرنے کے لئے کیا اقدامات کرنے چاہئیں؟
جواب: اس کے لئے میں یہی کہوں گی کہ ہمیں رِیت اور رواج کوآہستہ آہستہ
Modify
کرنا ہے۔ ہمیں اپنے معاشرے میں سے عورتوں کے ایسے رول تلاش کرنے ہیں جن میں عورت مضبوط رہی ہو۔ اس میں میں ایک مثال ہیر کی دوں گی۔ بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ وہ ایک بہت بہادر خاتون تھی اور اپنے سارے فیصلے خود کرتی تھی۔ وارث شاہ نے ہیر لکھی۔ ہیر کے مزار میں رانجھے کی قبر بھی ہے۔ لیکن لوگ اسے ہیر کا مزار ہی کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ سندھ میں ایک مومل کا کردار تھا جسے زیادہ تر لوگ صرف ایک طوائف کے طور پر جانتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ ایک بہت بہادر عورت تھی اس نے اپنے باپ کا بدلہ لیا تھا۔ اس لئے میں کہتی ہوں کہ ہم نے معاشرے میں توازن اپنی ہی جڑوں سے لے کر آنا ہے۔
سوال: آپ کو اپنا مقام حاصل کرنے میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا؟
جواب: میری کہانی بھی عام عورتوں کی طرح ہے۔ ابتدا میں بہت سے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ گھر میں پابندیاں بھی تھیں۔ پہلی بار جب میں ٹیلی ویژن پر آئی تو اس وقت میں کالج میں پڑھتی تھی۔ اس وقت میری دادی گھر پر ٹیلی ویژن لگانے ہی نہیں دیتی تھیں کہ اگر دادا نے دیکھ لیا تو بہت برا ہو گا۔ لیکن وقت کے ساتھ ساتھ تبدیلی آئی۔ مجھے لگتا ہے کہ پیار اور محبت سے اگر ان رشتوں کو ساتھ لے کر چلا جائے تو سب کام آسان ہو جاتے ہیں آپ کے والدین بھی آپ کے ساتھ ساتھ
Grow
کرتے ہیں۔ میری اپروچ یہ ہے جو کہ میں ہر بچی کو بتاتی ہوں کہ اپنے لئے
Elbow-room
بنائیں۔ اس میں کسی بھی اصول کو توڑا نہیں جاتا بلکہ آہستہ آہستہ اپنے لئے جگہ بنائی جاتی ہے۔

hamryhanapnykachar2.jpg

 
Read 1133 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter