پاکستان نیوی کی امن مشقیں 2017

Published in Hilal Urdu March 2017

تحریر: لیفٹیننٹ عاصمہ ناز

(پاک نیوی)

Together For Peace

 

دنیا میں امن و آشتی کے فروغ اور اقوام عالم کے مابین تعاون اور اعتماد بڑھانے کے لئے پاک بحریہ نے2007 میں ’’امن‘‘ کے نام سے جن کثیرالملکی بحری مشقوں کا سلسلہ شروع کیاتھا’امن17‘ اس سلسلے کی پانچویں کڑی ہے۔ 2007 کے بعد سے پاک بحریہ ہر دو سال بعدامن مشقوں کا انعقاد کرتی رہی ہے اس برس’امن17‘ میں 37ممالک کی بحری افواج کے نمائندوں اور بحری اثاثوں کی شرکت جہاں پاکستان میں امن و امان کی بہتر صورتحال کی عکاس ہے وہاں میری ٹائم سیکٹر میں امن کے قیام کے لئے پاک بحریہ کی طرف سے کی جانے والی جہد مسلسل کا ثمر بھی ہے۔ امن2017 کی بحری مشقوں کا انعقاد اور بین الاقوامی بحری افواج کی شرکت بھی اسی اعتماد کا مظہر ہے۔
Together for Peace
کے اصولِ عمل کے ساتھ ان مشقوں کا مقصد یہ شعور پیدا کرنا ہے کہ باہمی مشاورت اور مذاکرات کے ذریعے دنیا کے مسائل کے بہتر اور قابل عمل حل تلاش کئے جا سکتے ہیں۔
یہ مشقیں ہاربر اور سی فیز
(Harbour & Sea Phase)
پر مشتمل ہوتی ہیں ہاربر فیز کا مقصد باہمی دلچسپی کے امور اور نئے خیالات پر غور و فکر ہے جبکہ سی فیز میں مختلف آپریشنز مشترکہ طور پر کئے جاتے ہیں۔امن مشقیں نہ صرف مختلف ممالک کی بحری افواج کے مابین مشترکہ آپریشنز کی صلاحیتوں میں اضافے کا باعث ہیں بلکہ باہمی اعتماد میں بہتری کا سبب بھی ہیں۔ ان مشقوں میں شریک تمام ممالک نئے تجربات سے استفادہ حاصل کرتے ہیں اور اپنی آپریشنل صلاحیتوں کو مزید نکھارتے ہیں۔
یہ مشقیں صرف آپریشنل نوعیت کے معاملات پر مشتمل نہیں بلکہ ان کا اصل مقصد ایک ایسا ماحول پروان چڑھانا ہے جہاں اقوام عالم کے مابین اعتمادکی فضا قائم ہو۔اسی لئے امن میں شریک ممالک کی تہذیب و ثقافت کے بارے میں آگہی بھی ان مشقوں کا ایک اہم حصہ ہے۔امن مشقوں کے دوران ہونے والاثقافتی شو شریک ممالک کی ثقافت اور تہذیب کی عکاسی کے ساتھ ساتھ اقوام عالم کو باہمی اخوت اور محبت کا درس بھی دیتا ہے۔ جس کی بدولت انسانی ہمدردی اور محبت کے جذبات فروغ پاتے ہیں۔امن مشقوں میں شریک بحری افواج کے نمائندے مختلف ممالک کی ثقافت کے رنگ دیکھ کر نہ صرف ان ممالک کے ساتھ ایک نئی وابستگی محسوس کرتے ہیں بلکہ دنیا میں امن کے سفیر کا کردار بھی ادا کرتے ہیں۔


امن مشقیں جہاں اقوام عالم کے مابین روابط کو فروغ دیتی ہیں وہیں پاکستان کے بارے میں دیگر ممالک کا تصور تبدیل کرنے میں بھی نہایت اہمیت کی حامل ہیں۔اقوام عالم میں پاکستان کا ایک امن پسند تصور پیش کرنے میں ان مشقوں کا اہم کردار ہے۔’امن 17‘ میں37 ممالک کے نمائندوں کی شرکت اس امر کا ثبوت ہے کہ پاکستان پراقوام عالم کونہ صرف اعتماد ہے بلکہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر امن کے فروغ کے لئے کام کرنے میں بھی دلچسپی رکھتی ہیں۔
’امن 2017‘ کی کامیابی صرف پاک بحریہ یا شرکت کرنے والی بحری افواج کی کامیابی نہیں بلکہ دنیا کی خواہشِ امن کی کامیابی ہے۔ ایسی جنگوں کے اہتمام کا آغاز ہے جو میدان کشت وخوں سے باہر برتری کے فیصلے کریں،جہاں مقصدخون بہانا نہیں بلکہ صرف اور صرف تقویتِ امن کا حصول ہو ۔

pneewsamanmask.jpg

 
Read 451 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter