تحریر: شوکت نثار سلیمی

کیپٹن اسامہ شہید کے حوالے سے ان کے والدِ محترم شوکت نثار سلیمی کے قلم سے ہلال کے لئے ایک خصوصی تحریر

یہ 6جون 1989کی ایک سعید گھڑی تھی جب میری گود میں تم نے آنکھ کھولی۔ یوں لگا تھا جیسے چاند میرے آنگن میں اتر آیا ہو۔ خوشبو، روشنی ہماری رگ و پے میں سرائت کر گئی۔ زندگی کی کرنیں جگمگا اٹھیں۔ تال، رقص اور سرور کی کئی شمعیں ضوفشاں ہو گئیں۔ بربط زندگی کی لے پر نغمے پھوٹنے لگے۔ روش روش بہار تھی۔ زندگی اتنی مسحور لگنے لگی تھی جیسے مسرت و شادمانی کی اوک سے خوشبوؤں کا رس پی رہی ہو۔

 

merashahedbeta1.jpgکاروان حیات اپنے جلو میں کتنی ہی گردشوں کے ساتھ رواں دواں تھا کہ 15دسمبر 2015 کو ہوا کے ایک ہی جھونکے سے امیدوں کے چراغ گل ہو گئے۔ میرے چٹکی چٹکی تمام خواب سراب بن گئے۔ عروس وقت نے کالی قبا پہن لی۔ اجل کا یہ پیغام آ گیا کہ ہم نے تمہارا جواں سال اکلوتا بیٹا اسامہ تم سے چھین لیا ہے۔ اب تم اکیلے بیٹھ کر یادوں کے پرنوچتے رہنا۔ دل پر لگے کاری زخم کی تمازت میں چپ چاپ سلگتے رہنا۔ صبح کو رو رو کر شام کیا کرنا اور اپنی آرزوؤں کو کفن پہنا کر پیوندِ خاک کر دینا۔ اسامہ بن نثار میرا لخت جگر، اپنی ماں کا نور نظر اور دو بہنوں کا اکلوتا بھائی، خاندان کے ہر فرد کی آنکھ کا تارا تھا۔ قدرت نے اسے بے پناہ ذہانت، زبان کی حلاوت اور ہاتھ کی فیاضی سے نوازا تھا۔ تعلیم کا آغاز ڈویژنل پبلک سکول فیصل آباد سے کیا۔ چہارم تک سی ڈی اے ماڈل سکول اسلام آباد کا طالب علم رہا۔ پانچویں جماعت انتہائی نمایاں پوزیشن کے ساتھ لاسال ہائی سکول فیصل آباد سے پاس کی۔ چھٹی سے ایف ایس سی تک اسلام آباد کالج فار بوائز F-8/4 اسلام آباد میں تعلیمی کیئرئر کی شاندار کامیابیاں سمیٹیں۔ اعلیٰ تعلیمی مدارج اور گولڈ میڈل حاصل کئے۔ 2007 میں بہت ہی اعلیٰ پوزیشن میں میڈیکل مضامین کے ساتھ ایف ایس سی کیا اور آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی میں ایم بی بی ایس کے بتیسویں کورس میں بطور ملٹری کیڈٹ داخلہ لیا۔ کالج کی قاسم کمپنی کا یہ مکیں اپنی تحریروں، تقریروں اور نصابی و غیرنصابی سرگرمیوں سے ہر جگہ تموج پیدا کرتا رہا۔


سینئر کمپنی انڈر آفیسر ہونے کا اعزاز بھی حاصل کیا۔ 20اپریل 2013 کو کاکول اکیڈمی سے پاس آؤٹ ہونے کے بعد بطور کیپٹن ڈاکٹر میڈیکل کور جوائن کی اور اڑھائی سال کے مختصر ترین پیشہ ورانہ عرصے میں اپنی یادوں کے انمٹ نقوش چھوڑ کر 15دسمبر 2015کو ڈیوٹی کے دوران دنیا کے بلند ترین جنگی محاذ سیاچن کے بلتورو سیکٹر میں شہادت کے بلند مرتبے پر سرفراز ہو کر اپنے خالقِ حقیقی سے جا ملا۔

 

میرے شہید! تمہاری تُربت پر جا کر عہد کرنا ہے کہ وطن کا جو تصور تمہارے ذہن میں تھا اس کے خاکے میں رنگ بھرنا ہے۔ یہ دھرتی اب تک تقریباً ہزاروں شہیدوں کا لہو جذب کر چکی ہے۔ ہمیں یہ پیماں باندھنا ہے کہ جس طرح تم نے دنیا کے بلند ترین محاذ سیاچن پر ساتھیوں کے روکنے اور یہ جاننے کے باوجود کہ سامنے موت باہیں پھیلائے کھڑی ہے۔ آگے ہی بڑھتے رہنے کے عزم پر کاربند رہے تاکہ وطن کا پرچم سرنگوں نہ ہو۔ ہمیں بھی اس پرچم کو بلند رکھنا ہے۔


میرے شام! تم ہمیشہ چہکتے رہتے تھے۔ لیکن ستمبر 2015کے آخری ہفتے سیاچن جانے کے آرڈر موصول ہوئے۔ حج کی غرض سے سعودی عرب کے قیام کے دوران ہماری عدم موجودگی میں ہی تم نے اپنے دوستوں سے کہنا شروع کر دیا تھا کہ مجھے شہادت بلا رہی ہے اور اپنے دوستوں کو یہ بھی بتا دیا تھا کہ سرجری پارٹ ون کے پیپر نہیں دے سکوں گا کیونکہ میری تیاری کہیں اور کی ہے۔ بیٹے تم نے ہمیں خبر تک نہ ہونے دی کہ تم نے اگلے سفر کی تیاری کر لی ہے۔
تمہاری روحانی آرزوؤں کا مجھے کچھ کچھ اندازہ تھا جو اس وقت یقین میں بدل گیا جب میں نے باتوں باتوں میں ازراہ مذاق آپ سے کہا بیٹا اسامہ! اگر اﷲ سے پیار کرنا ہے تو پہلے عشق مجازی کا روگ بھی پال کر دیکھ لینا چاہئے جس کے جواب میں آپ نے کہا، پاپا جی! جب اﷲ سے ہی پیار کرنا ہے تو دنیا کو بیچ میں ڈالنے کی کیا ضرورت ہے۔ براہ راست کیوں نہ کیا جائے۔ تمہارے چہرے پر اس سے پہلے ایسی سنجیدگی کبھی نہیں دیکھی تھی۔ دراصل تم اپنے اﷲ سے سودا کر چکے تھے اور میں کورے ذہن کا خاکی انسان تمہاری شہادت کی تڑپ کو جان ہی نہ پایا۔ تم اپنی تمناؤں میں مولانا رومی اور اقبال ؔ کے فلسفہ فنا فی اﷲ کے بالکل قریب پہنچ چکے تھے جن کے بے پناہ مطالعے نے تمہاری روح کو بالیدگی عطاکردی تھی۔


تمہاری سہرہ بندی یا سالگرہ ہوتی تو گھر کی منڈیروں پر دیئے جلاتا۔ خوشبوؤں کا چھڑکاؤ کرتا خوشیوں کی لَے اور تال پر تمہارا استقبال کرتا آنکھوں میں امیدیں جاگ اٹھتیں۔ لیکن اب تو تمہاری برسی آتی ہے اسے کس طرح سے مناؤں جس گھر میں تمہارے قہقہے بکھرتے تھے اب وہاں اداسی ڈیرے جمائے رہتی ہے۔ ہم دونوں رات ہوتے ہی دروازوں کی کنڈیاں چڑھا کر اپنی اپنی تنہائیوں میں کھو جاتے ہیں۔ تمہارے متعلق لکھنے لگتا ہوں ہوں تو پور پور جل اٹھتی ہے۔ تمہارا رابطہ نمبر بند ہو گیا، اس نمبر کو ملاتا ہوں تو کوئی جواب نہیں آتا۔ کلیجہ شق ہے۔ گریۂ شب کون دیکھے، نالۂ شب گیر کو کون دیکھے۔ چہرے پر آنکھیں نہیں دو دہکتے انگارے ہیں جو زخموں کی صورت تمہاری راہ تکتی ہیں ۔ چشم خوں بستہ سے لہو ٹپکتا ہے۔ آنسوؤں کا سیلِ رواں مجھے شرمسار کرتا ہے۔ ضبط غم کے سارے بندھن آپ ہی آپ ٹوٹ جاتے ہیں لوگ حوصلہ دینے آتے ہیں تو غم اور بڑھا جاتے ہیں۔ ٹیس ایسے اُٹھتی ہے کہ دیوارِ جاں ٹوٹ ٹوٹ جاتی ہے۔ بیٹے ! تمہارے سوا میرا رازدان تھا بھی کون، کس کو پکاروں؟ ایسی دیوارِ خستہ ہوں جو کسی بھی وقت گرا چاہتی ہے۔ بہار جاں فزا ہے۔ جس زندگی کو مہمیز دیتی تھی وہ اب اک بے زبان باندی کی طرح ہے۔ شکن آلود وقت کی پیشانی کی جھریاں بہت گہری ہو چکیں اور آئینوں کے عکس یوں دھند لا گئے ہیں کہ ہم اپنی ہی صورت نہیں پہچان پاتے۔


شہید بیٹے! رات ڈھل چکی، پو پھٹنے والی ہے۔ ابھی تمہاری تُربت پہ جا کر پھول رکھنے ہیں۔ یہ پھول تمہارا سہرا باندھتے وقت اس گھر کی دہلیز پر رکھنے تھے جو تنکا تنکا جوڑ کر تمہاری آرزوؤں کے مطابق تعمیر کیا تھا۔ عمر بھر کی جمع پونجی سے تمہارے لئے جو آشیاں بنایا تھا وہاں رہنا تمہارے نصیب میں نہ تھا۔ اب وہاں میں اور تمہاری ماں ہیں اور سلگتی یادوں کے بے پناہ ہجوم اور تنہائیوں کے عفریت۔


میرے شہید! تمہاری تُربت پر جا کر عہد کرنا ہے کہ وطن کا جو تصور تمہارے ذہن میں تھا اس کے خاکے میں رنگ بھرنا ہے۔ یہ دھرتی اب تک ہزاروں شہیدوں کا لہو جذب کر چکی ہے۔ ہمیں یہ پیماں باندھنا ہے کہ جس طرح تم نے دنیا کے بلند ترین محاذ سیاچن پر ساتھیوں کے روکنے اور یہ جاننے کے باوجود کہ سامنے موت باہیں پھیلائے کھڑی ہے۔ آگے ہی بڑھتے رہنے کے عزم پر کاربند رہے تاکہ وطن کا پرچم سرنگوں نہ ہو۔ ہمیں بھی اس پرچم کو بلند رکھنا ہے۔
میرے شہید بیٹے! آپ کے ساتھ ساتھ اور بھی کتنی ہی ماؤں کے جگر گوشے، جوانِ رعنا، مہوشوں کے سہاگ، بہنوں کے بھائی اور نازک اندام بچوں کے باپ اپنی جوانی اس مٹی کی نذر کر چکے ہیں۔ دشمن عددی برتری کے زعم میں مبتلا ہے اور خبث باطن کی حیلہ گری ہمارا راستہ روکے کھڑی ہے۔ لیکن اسے خبر ہونی چاہئے کہ پاکستان کی بہادر اور جری افواج کا ہر سربکف جوان اور افسر، سرفروشی کی داستانیں رقم کر نے کو ہمہ وقت تیار ہے۔ تاکہ وطن عزیز کے گل رنگ سویروں پر کبھی تاریکی کے سائے نہ پڑیں۔


اسامہ بیٹے! آپ نے جس ایثار، جرأت، فرض شناسی اور شجاعت کا مظاہرہ کیا، آپ کو ایسا ہی کرناچاہئے تھا۔ آپ اس سفر میں اکیلے نہیں افواج پاکستان کا ہر فرد شہادت کے ایسے ہی جذبے سے سرشار ہے۔

 
Read 415 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter