فسادیوں اورسہولت کاروں کے خلاف آپریشن

Published in Hilal Urdu

تحریر: جویریہ صدیق

دہشت گردی کی نئی لہر نے عوام کو شدید رنج و غم میں مبتلا کردیاہے۔گزشتہ دنوں بم دھماکوں اور خودکش حملوں میں ایک سو بائیس سے زائد افراد شہید ہوئے اور تین سو کے قریب زخمی ہوئے۔ فروری میں یکے بعد دیگرے دہشت گردی کے ان واقعات نے عوام کو نشانہ بنایاہے۔ضرب عضب کی کامیابی کے بعد عوام اپنے روزمرہ زندگی کے معمولات کو سر انجام دے رہے تھے کہ پاکستان سپر لیگ کے فائنل کے لاہور میں اعلان کے بعد یک دم دہشت گردی کے واقعات میں تیزی آگئی۔ ان واقعات کے بعد عوام کی نظریں پاک فوج کی طرف مرکوز ہوگئیں کہ کس طرح مسلح افواج انہیں دہشت گردی کے اس نئے عذاب سے بچائیں گی۔


حالیہ دہشت گردی کے فوری بعد طورخم بارڈر کو سیل کردیا گیاجس کا عوام نے سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر خیر مقدم کیا۔جن گروپس نے حالیہ دھماکوں کی ذمہ داری قبول کی تھی ان میں تحریک طالبان، جماعت الاحرار، داعش اور الافامی گروپ شامل ہیں اور یہ گروپ افغانستان سے آپریٹ کئے جارہے ہیں۔ طورخم بارڈر سیل کرنے کے بعد افغان سفارت خانے سے منسلک آفیشلز کو جی ایچ کیو راولپنڈی طلب کرکے انہیں 76 مطلوب دہشت گردوں کی فہرست دی گئی جو افغانستان میں چھپے بیٹھے ہیں۔17 فروری کو پاکستان نے افغانستان میں کنڑ اور ننگرہار میں دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی‘ جماعت الاحرار کے تربیتی کیمپ تباہ کئے جس میں متعدد دہشت گرد جہنم واصل ہوئے۔


پاکستانی عوام کی تکلیف اور بے چینی کو مدنظر رکھتے ہوئے 22فروری کوچیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملک بھر میں آپریشن ’رد الفساد‘ کا اعلان اور آغاز کر دیا۔ پاک فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور نے ٹویٹ کیا کہ پاکستان آرمی، نیوی ،فضائیہ،رینجرز،پولیس، سول آرمڈ فورسز اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں اس آپریشن کا حصہ ہوں گی۔ اس آپریشن کا مقصد نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد، ملک سے ناجائز اسلحے کا خاتمہ، باڈر سکیورٹی مینجمنٹ اور انسداد دہشت گردی ہے۔ پنجاب میں رینجرز کا آپریشن بھی ’رد الفساد‘ کا حصہ ہے۔


آپریشن ’رد الفساد‘ سے پہلے بھی پاکستان آرمی مختلف آپریشنزبھرپور کامیابی سے سرانجام دے چکی ہے‘جس میں جنرل پرویز مشرف کے دور میں آپریشن المیزان، جنرل اشفاق پرویز کیانی کے دور میںآپریشن راہ راست اور راہ نجات، جنرل راحیل شریف کے دور میں ’ضرب عضب‘ شامل ہیں۔ ان آپریشنز کے دوران وانا‘ سوات اور وزیرستان سے دشمن کی کمین گاہوں کا خاتمہ کیا گیا۔ان علاقوں میں ریاستی رٹ قائم کی گئی اور ترقیاتی کاموں پر عمل درآمد شروع ہوا۔آپریشن رد الفساد میں پورے ملک کے ساتھ ساتھ پنجاب کے ان علاقوں کو فوکس کیا جائے گا جن کے حوالے سے بہت عرصے سے آواز بلند کی جارہی تھی کہ ان علاقوں میں بہت سے دہشت گرد اور ان کے سہولت کار مقیم ہیں۔ کراچی میں سندھ رینجرز کی طرح آپریشن پنجاب رینجرز کرے گی جس سے صوبے بھر میں دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ ہوسکے گا۔


آپریشن رد الفساد کا نام بہت معنی خیز ہے۔قرآن پاک میں لفظ ’’تفسدوا‘‘ استعمال ہوا ہے جوکہ فساد سے اخذ کیا ہے۔فساد کرنے والوں کو ’’المفسدون‘‘ کہا گیا ہے۔
سورۃ البقرہ کی آیت نمبر گیارہ اور بارہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے
اورجب ان سے کہا جاتاہے کہ زمین میں فساد نہ ڈالو تو کہتے ہیں کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔’’ سنتا ہے وہی فسادی ہیں مگر انہیں شعور نہیں‘‘۔
سورۃ المائدہ کی آیت نمبر 33 میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔


ترجمہ:۔ وہ کہ اللہ اور اس کے رسول سے لڑتے اور ملک میں فساد کرتے پھرتے ہیں ان کا بدلہ یہی ہے کہ گن گن کر قتل کئے جائیں یا سولی دیئے جائیں یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور دوسری طرف کے پاؤں کاٹے جائیں یا زمین سے دور کردیئے جائیں یہ دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے بڑا عذاب ہے۔


ان آیات مبارکہ کی روشنی میں دہشت گردوں اور خوارجیوں کے خلاف آپریشن ردالفساد کا آغاز کیا گیا ہے۔ پاکستان فوج اور رینجرز کے جوان ملک بھر میں سرچ آپریشن میں مصروف ہیں۔کراچی میں کارروائی کرتے ہوئے افغان اور ازبک باشندوں سمیت 30 افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔پنجاب میں لیہ،کروڑ اور راولپنڈی میں آپریشن کے دوران جماعت الاحرار کے سہولت کاروں،افغان باشندوں سمیت 600 افراد کو گرفتار کیا گیاہے۔4 دہشت گرد فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک ہوئے ہیں۔اس دوران بہت سے موبائل سیٹ، ٹیلی فونز، جہادی لٹریچر اور اسلحہ بھی برآمد کیا گیاہے۔اس کے ساتھ پنجاب پولیس بھی مشکوک افراد کے کوائف کی بائیو میٹرک تصدیق کررہی ہے۔پشاور‘ مرادن‘ صوابی اور ہنگو سے بھی ’’جہادی ‘‘مٹیریل اور اسلحہ برآمد کیا گیاہے۔ پشاور سے 80، مردان سے 27، چارسدہ سے 20 اور صوابی سے بھی 4مشکوک افراد کو گرفتار کیا گیا۔بلوچستان میں رد الفساد کے تحت کارروائی کرتے ہوئے ایف سی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں نے لورالائی میں تحریک طالبان پاکستان اور جماعت الاحرار کے خلاف کارروائی کی۔پاکستان آرمی اور پاکستان رینجرز نے ایم ون اور ایم ٹو موٹروے پر مشترکہ چیک پوسٹیں بھی قائم کردی ہیں۔


تاہم فوج اور رینجرز کے آپریشن کے ثمرات تب ہی عوام تک پہنچ سکتے ہیں جب ساتھ ساتھ فوجی عدالتوں کا قیام بھی عمل میں لایا جائے۔ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کیونکہ’ فساد فی الارض‘ کرنے والوں کو سزا دیئے جانا بہت ضروری ہے۔اگر ہمارے ملک کا ایک جوان اپنی جان پر کھیلتے ہوئے ایک دہشت گرد کو پکڑتا ہے تو اس دہشت گرد کو فوری طور پر سزا ملنی چاہئے۔اس کے ساتھ ان افراد پر بھی کڑی نظر رکھی جائے جو ان دہشت گردوں کے لئے دل میں نرم گوشہ رکھتے ہیں۔ایسے لٹریچر اور سوشل میڈیا پر موجود مواد کو تلف کرناہوگا جوکہ ہماری مسلح افواج اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے خلاف ہو۔


آپریشن رد الفساد کے اعلان کے بعد ہی سوشل میڈیا پر ایک فیک سرکلر کے ذریعے سے صوبہ پنجاب اور صوبہ خیبر پختون خوا میں نفرت پھیلانے کی کوشش کی گئی کہ شاید پشتونوں کے خلاف امتیازی سلوک برتا جارہا ہے۔اس طرح کے زہریلے پروپیگنڈے اور افواہوں کے لئے بھی آپریشن رد الفساد کی ضرورت ہے ایک ایسے سوشل میڈیا کی بھی ضرورت ہے جو وطن مخالف پروپیگنڈے کا سدِباب کرے۔ سوشل میڈیا پر نفرت اور فرقہ واریت پھیلانے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے۔ اب جنگیں صرف میدان میں ہی نہیں‘ سوشل میڈیا پر بھی لڑی جارہی ہیں۔ اس لئے اب یہ نہایت ضروری ہے کہ صرف زمین پر نہیں بلکہ میڈیا اور سوشل میڈیا پر بھی جنگ لڑی جائے ،پاکستان کی بقا کی جنگ۔


اس کے ساتھ ساتھ معاشی دہشت گردی کے لئے بھی آپریشن رد الفساد کی ضرورت ہے۔ہنڈی ’حوالہ‘ منی لانڈرنگ سے پیسے دہشت گردوں کو بھیجے جاتے ہیں۔ دہشت گردوں کی معاشی طور پر کمر توڑنے کے لئے ان کے پیسوں کی سپلائی ختم کرنا ہو گی۔ ان افراد سے بھی بازپرس ہونی چاہئے جو اب تک نیشنل ایکشن پلان پر عمل درآمد نہیں ہونے دے رہے تھے۔ان لوگوں سے بھی چھان بین کرنی چاہئے جو رینجرز آپریشن کی راہ میں رکاوٹ بنے رہے جن کی وجہ سے حالیہ دہشت گردی کی لہر میں قیمتی جانوں کا ضیاع ہوا۔


سی پیک اور گوادر بندرگاہ کو دشمنوں سے بچائے رکھنے کے لئے بھی زمینی قوت کے ساتھ سفارتی اور سوشل میڈیا کی قوت کی اشد ضرورت ہے۔ہم ہر جنگ اسلحے کے زور پر نہیں لڑ سکتے۔ دنیا بھر سے ممالک سی پیک میں شمولیت اختیار کرنا چاہتے ہیں جو وطن دشمنوں کو ایک آنکھ نہیں بھا رہا اس لئے وطن عزیز کے خلاف مختلف سازشیں کی جارہی ہیں۔جس میں افغان سرزمین استعمال ہورہی ہے۔ کل بھوشن بھارت کے خلاف ہمارے پاس سب سے بڑا ثبوت ہے۔لیکن اب تک کی خاموشی سمجھ سے باہر کہ اس معاملے کو عالمی سطح پر کیوں نہیں اٹھایا جارہا۔ بلوچستان میں بدامنی کے پیچھے بھارت ہے جو افغانستان میں داعش کو سپورٹ کررہا ہے نہ جانے ہماری سفارت کاری گونگی کیوں ہوکر رہ گئی ہے۔


رد الفساد کی ضرورت مدارس اور این جی اوز میں بھی ہے اس چیز پر کڑی نظر رکھی جائے کہیں کوئی وطن دشمنی تو نہیں کی جارہی۔ہمارے بچے مدارس میں خودساختہ ’’جہادی‘‘ لٹریچر تو نہیں پڑھ رہے، انہیں جدید تعلیم دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔اسی طرح این جی اوز پر مکمل اکاونٹیبیلیٹی ہونی چاہئے کہ وہ فنڈنگ کا پیسہ کہیں پاکستان کے خلاف تو نہیں استعمال کررہے۔


ایک اور اہم سوال یہاں یہ پیدا ہوتا ہے کیا دہشتگرد صرف طورخم باڈر سے ہی آرہے ہیں یا وہ پہلے سے پاکستان میں اپنے سہولت کاروں کی کمین گاہوں میں چھپے بیٹھے ہیں۔اگر ایسا ہے تو سب سے پہلے ان سہولت کاروں کو پکڑا جانا چاہئے۔ ان کی وابستگی کسی بھی سیاسی پارٹی‘ تنظیم ‘ گروہ ‘ فرقے یا صوبے سے ہو بنا کسی تفریق کے کارروائی کریں۔ملک کے اندر بیٹھے دہشتگردوں کا خاتمہ سب سے پہلے ضروری ہے۔اس آپریشن میں وقفہ نہیں آنا چاہئے کسی بھی دہشتگرد کو بھاگنے کا موقع نہیں ملنا چاہئے۔افغانستان کے ساتھ سرحد پر چیک پوسٹوں کی تعداد بڑھا دی جائے اور کسی کو بنا کاغذات کے پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔افغان مہاجرین کو باعزت طور پر ان کے وطن واپس بھیجا جائے۔اسی طرح ہم ملک میں فسادیوں کے خلاف رد الفساد کرسکتے ہیں۔

جویریہ صدیق ممتاز صحافی اور مصنفہ ہیں ۔ ان کی کتاب ’سانحہ آرمی پبلک سکول‘ شہدا کی یادداشتیں حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ ان کا ٹویٹر اکاونٹ ہے

@javerias

نغمہ

خاکی وردی پہنے جوان
دیکھ کے جذبے سب حیران
یہ ہیں اللہ کی بُرہان
اِن سے قائم پاکستان
پربت، رائی اِن کو لگے ہے
دریا خود قدموں میں گِرے ہے
دھاک ہے اِن کی ہیبت واللہ
دشمن ڈر کے دَبتا چلے ہے
ہر اک اِن میں سیفِ خدا ہے
اِن کا نہ کوئی وار ٹلے ہے
جیت کے آئیں ہر میدان
اِن سے قائم پاکستان
برق و تَلاطُم میں یہ پلے ہیں
موت کے آگے جا کے ڈٹے ہیں
بڑھتے ہیں تو برق سے بڑھ کر
جھپٹیں تو شاہین لگے ہیں
جگمگ جگمگ تارے ہیں یہ
سینوں پر جو تمغے سجے ہیں
یہ ہیں غازی شیر جوان
اِن سے قائم پاکستان
وقت کٹھن جب آن پڑا ہے
ہر اک آگے بڑھ کے کھڑا ہے
تان کے سینہ ،جگر فولادی
ہر طوفان سے ڈٹ کے لڑا ہے
دشمن میں کہُرام مچا کر
تیغوں میں بھی آگے بڑھا ہے
ملک و قوم کا یہ ہے مان
اِن سے قائم پاکستان


awais_khalid.jpg
(شاعر : اویسؔ خالد)
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

*****

 
Read 573 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter