قوم رواں برس ستترواں یوم پاکستان ان حالات میں منا رہی ہے کہ جب اسے اپنے حوصلے اور بھی بلند رکھنے کی ضرورت ہے کہ دشمن گھناؤنی سازشوں اور دہشت گردی کے ذریعے اس وطن کی سالمیت کے درپے ہے۔ 23مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں جب قرارداد پاکستان پاس ہوئی تب پاکستان صرف ایک خواب تھا لیکن ٹھیک 7برس بعد برصغیر کے مسلمانوں کو قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ایک حسین تعبیر مل چکی تھی جو اس امر کی علامت ہے کہ جب کسی قوم کے جذبے جواں ہوں تو وہ ضرور کامیاب ٹھہرتی ہے۔ اس وقت قوم کے سامنے قیام پاکستان کی منزل تھی آج اس منزل کی تکمیل اور حفاظت ہے۔ قوم نے قربانیاں دے کر وطن عزیز حاصل کیا اور اب قربانیاں دے کر اس عظیم تحفہ خداوندی کی حفاظت بھی کر رہی ہے۔ نائن الیون کے بعد جس ثابت قدمی سے پاکستانی قوم اور اس کی افواج نے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑی اس کی مثال نہیں ملتی۔ آپریشن راہ راست، آپریشن راہ نجات اور پھر جون 2014میں شروع کئے گئے آپریشن ضرب عضب نے جس طرح سے دہشت گردوں اور ان کے نیٹ ورک کو کمزور بنانے میں کردار ادا کیا وہ قابل تحسین ہے۔

 

ظاہر ہے دہشت گرد اکیلے نہیں ہیں۔ان کے مذموم عزائم کے لئے انہیں بعض دشمن ممالک کی سرپرستی حاصل ہے۔ اُنہیں دہشت گردی کی کارروائیوں کے لئے فنڈنگ کی جاتی ہے۔ دشمن سے پاکستانی قوم اور اس کی افواج کی کامیابیاں اور ملک میں قائم ہوتا امن نہیں دیکھا جاتا لہٰذا وہ اس تاک میں رہتا ہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر کے پاکستانی قوم کے حوصلوں کو لرزاں کر دے اور افواج پاکستان کے قیام امن کے دعوؤں کو سبوتاژ کر کے قوم کی رواں دواں زندگی کو تکلیف دہ بنا دے۔ قوم کو ان سازشوں سے کماحقہ‘ آگاہ ہونے کے ساتھ ساتھ ان سازشوں کو اپنے غیرمتزلزل حوصلوں کے ساتھ ناکام بھی بنانا ہے۔


قوم کو یہ سمجھنا چاہئے کہ کس طرح ایک دشمن ملک ڈنکے کی چوٹ پر کہتا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی ہم کروا رہے ہیں۔ ایسے معاملات میں بین الاقوامی اداروں بالخصوص اقوام متحدہ کا کردار اور بھی اہم ہو جاتا ہے کہ کوئی ملک دوسرے ملک میں کیونکر دہشت گردی کروا سکتا ہے۔ لاہور اور سیہون شریف ایسے ناقابل برداشت سانحات دشمن کے اس مائنڈ سیٹ کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایسے میں ضرورت ہے کہ مقامی عناصر دشمنوں کا آلہ کار نہ بنیں اور اپنی ہی سرزمین کی تباہی کے لئے سہولت کار کے طور پر استعمال نہ ہوں۔ عام لوگ اپنے آس پاس مشکوک سرگرمیوں میں ملوث افراد پر نظر رکھیں اور یقین ہونے پر سکیورٹی حکام کو مطلع کریں۔


سکیورٹی فورسز اور ریاست اس وقت تک دم نہیں لیں گی جب تک اس ملک میں بسنے والے ایک ایک فردکی حفاظت کو یقینی نہیں بنادیا جاتا۔ اسی ضرورت کے پیش نظر سکیورٹی فورسز نے آپریشن ’’ردالفساد‘‘ شروع کیا ہے جس کے تحت افواج، رینجر ز اور سول سکیورٹی ادارے ملک بھر میں کومبنگ آپریشن کر کے فسادیوں اور شرپسندوں کو نشان عبرت بنانے کے لئے سرگرداں ہیں تاکہ یہ پاک سرزمین پھر سے خوبصورتیوں اور روشنیوں کی ایسی علامت بن سکے جس کی قوم ترقی کر کے دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی صف میں کھڑی ہو سکے۔ اس کے لئے قوم کو اپنے اعصاب مضبوط رکھتے ہوئے اپنے قدموں پر کھڑے رہنا ہو گا کہ قوم جتنی مضبوطی اور حوصلے کا مظاہرہ کرے گی اس کی افواج اور سکیورٹی سے متعلق ادارے اتنی ہی تندہی اور جذبے کے ساتھ ملک دشمنوں کا قلع قمع کر سکیں گے۔

Read 212 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter