تحریر: مجاہد بریلوی

مَیں وزیر اعلیٰ سندھ(مراد علی شاہ)کے آبائی شہر سیہون شریف میں ہوں۔ جمعرات کی شام اپنے لائیو شو کا آغاز ہی کیا تھا کہ کان میں دہلا دینے والا پیغام ملا اور پھر اسکرین دم توڑتے بچوں، بوڑھوں sehwansharif.jpgاور چیختی بلبلاتی بچیوں سے لہو لہان ہو گئی۔ ابتدائی خبریں اتنی بڑی تعداد میں اموات کا اشارہ نہیں دے رہی تھیں۔ مگر وقت گزرنے کے ساتھ جب ابتدائی طبی امداد نہ ملنے کے سبب زخمیوں نے دم توڑنا شروع کیا تو رات کے آخری پہر میں یہ تعداد 88کے قریب پہنچ چکی تھی۔ ایک پروفیشنل صحافی کے ناتے، اور اس سے زیادہ افسردگی اور غم زدگی نے ایسا بے سکون اور بے چین کیا ہوا تھا کہ رات ہی کو سیہون جانے کی تیاری شروع کر دی۔ مگر ایک تو کراچی سے حیدرآباد اور پھر سیہون تک اُدھڑی ہوئی سڑکیں اور اُن پر دیو قامت ٹرکوں اور ٹرالروں کا ایسا ہجوم تھا کہ سیہون پہنچتے پہنچتے دوپہر کا ایک بج گیا۔ سیہون شریف کا سارا بازار بند تھا اور مقامی آبادی سہمے ہوئے چہروں سے لعل شہباز قلندر کی درگاہ کے ارد گرد سر جھکائے آنسو بہاتے نظر آئی۔ مگر جیسے ہی کیمرہ اُنکے سامنے آیا ڈرے سہمے سوگ میں ڈوبے لوگوں کی زبانیں دہشت گردوں کے خلاف آگ اُگلنے لگیں۔ میڈیا کی دی ایس این جی گاڑیاں اور مائیک بھی بس بریکنگ خبریں چلا رہے تھے۔ یہ اپیل نہیں کر رہے تھے کہ ڈاکٹر آئیں، خون دیں، ایمبولینسیں پہنچیں۔ ’’سائیں‘‘ ہم برباد ہو گئے، گھر اُجڑ گئے۔ چہار جانب سے یہی صدائیں آ رہی تھیں۔ مزار شریف کے اندر داخل ہوا تو مائیک کے سامنے زبان گنگ ہو گئی۔ خونی اعضاء کے لوتھڑے، اجرکیں، چادریں، جوتے اور چپلیں خون آلود۔۔۔ بتایا گیا کہ سکیورٹی کے اداروں نے سختی سے کہا ہے کہ کوئی چیز اِدھر سے اُدھر نہ ہو حتیٰ کہ فرش پر بُو دیتے خون کے دھبے بھی۔ وزیر اعظم نواز شریف کے بارے میں معلوم ہوا کہ سرکٹ ہاؤس میں اعلیٰ سطحی اجلاس میں مقامی انتظامیہ سے بریفنگ لے رہے ہیں۔ سخت سکیورٹی سے لگا کہ وزیر اعظم لعل شہباز قلندر کے مزار پر حاضری بھی دیں گے۔ مگر گھنٹے بھر بعد معلوم ہوا کہ انٹیلی جنس نے اجازت نہیں دی۔


وزیر اعظم کی مزار شریف نہ آنے کی تصدیق ہوئی تو گھنٹوں سے انتظار کرتے زائرین کے لئے دروازے کھول دئیے گئے۔ ٹھیک اُسی وقت یعنی 24 گھنٹے پہلے 6 بج کر58 منٹ پر خودکش حملہ آور نے دھمال ڈالنے والوں کو خون میں نہلا دیا تھا۔ لعل شہباز کے عقیدت مند وجدمیں آکر اُسی وسیع وعریض احاطے میں دھمال ڈال رہے تھے۔ سخی شہباز قلندر۔۔۔ دما دم مست قلندر۔۔۔ یہ پیغام تھا دہشت گردوں اور خود کش حملہ آوروں کو جو ایک دہائی سے تعلیمی اداروں، بازاروں، درگاہوں اور امام بارگاہوں پر خودکش حملے کر کے یہ سمجھتے ہیں کہ وہ ’’اپنی شریعت‘‘ کی دہشت سے پوری قوم کو موت کی نیند سلا دیں گے۔ لعل شہباز قلندر کا مزار ایک وسیع وعریض رقبے پر پھیلا ہوا ہے جہاں عام دنوں میں تین چار ہزار اور جمعرات اور جمعے کو آٹھ دس ہزار زائرین محض اندورن سندھ ہی نہیں،سارے ملک سے آتے ہیں جو 88 زائرین شہید ہوئے اُن میں صرف 13کا تعلق سیہون شریف سے تھا۔ 35کا تعلق سندھ کے دیگر شہروں سے جبکہ باقی 40کا تعلق جنوبی پنجاب اور خیبرپختونخواہ سے تھا۔ خودکش حملوں میں ساڑھے تین سو زخمیوں میں سے بھی بیشتر کا تعلق سندھ سے باہر کے شہروں سے تھا اور یہ بات بھی اپنی جگہ حیرت انگیز ہے کہ دہشت گردی کا شکار ہو کر موت کی نیند سونے والوں میں چار افراد کا تعلق ہندو اقلیت سے تھا۔ لعل شہباز قلندر کے مزار کے بیرونی احاطے سے نکل کر جب اندورنی دروازے میں داخل ہوا تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ لعل شہباز قلندر کے مزار شریف پر کوئی آنچ آئی نہ ہی چھت پر لگے جہازی سائز فانوس کا کوئی شیشہ ٹوٹا۔ اتنے بڑے سانحے کے محض 20گھنٹے بعد سارا ماحول تبدیل ہوچکا تھا۔ خوف و دہشت کی جگہ دھمال ڈالتے زائرین کے تمتماتے چہرے اور سخی شہباز قلندر کی سر شاری میں ڈوبے زائرین کی دل دوز صدائیں۔ یہاں میں اپنے قبیلے یعنی میڈیا کے دوستوں سے یہ شکوہ ضرور کروں گا کہ وہ اپنی ہر بریکنگ خبر میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والوں کی تو ایک ایک بات پر لعنت ملامت کر رہے تھے مگر خود کش حملہ آوروں اور دہشت گردوں کے بارے میں مصالحانہ اور عاجزانہ حد تک رویہ معذرت خواہانہ تھا اور یہ محض اس سانحہ کی بات نہیں۔ پچھلی ایک دہائی میں ہونے والے 450 خودکش حملوں کے بعد
TALIBAN APOLOGIST
کایہی رویہ کم وبیش دیکھنے میں آیا۔ اب سے سال بھر پہلے تک تو یہ حال تھا کہ نام نہاد طالبان اور القاعدہ کے ترجمانوں کے باقاعدہ لائیو انٹرویوز گھنٹوں چلتے تھے جن میں وہ ہماری حکومتوں اور عوام کو درس دیتے کہ وہ اُن کی دہشت کی شریعت کے آگے سر خم کرلیں۔ میڈیا کا
TALIBAN APOLOGIST
حلقہ گو ضرب عضب کی کامیابی کے بعد ایک حد تک حقیقت پسندانہ سوچ اختیار کرنے لگا ہے مگر ایک ایسے وقت میں جبکہ ساری قوم اور قانون نافذ کرنے والے ادارے متحد ہوچکے ہیں کہ یہ خود کش حملہ آور مسلمان تو کیا انسان کہلانے کے بھی مستحق نہیں تو پھر ’’میڈیا‘‘ کے سرخیلوں کو بھی اپنی سوچ کو
Revisit
کرنا چاہئے کہ کم از کم دہشت گردی کے سوداگروں پر میڈیا اور قوم کو ایک آواز ہوناچاہئے۔

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 355 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter