دہشت گردی کی نئی لہر

Published in Hilal Urdu March 2017

تحریر: سمیع اللہ خان

دنیا میں جس قدرمہارت اور حوصلے سے پاکستان نے دہشت گردی پر قابو پایاہے اس قدرچابکدستی سے کرۂ ارض پرموجود کوئی بھی ملک اپنا دامن اس عفریت کے خوفناک شکنجے سے محفوظ نہیں کرپایا۔ جہاں یہ امر پاکستانی قوم کے عزم صمیم کی عکاس ہے، وہیں پاکستان حکومت اورسکیورٹی کے اداروں پرعوام کے اعتماد اوران کے باہمی روابط اورایک پیج پرہونے کاثبوت بھی ہے۔ 2015-16 کے دوران ضرب عضب سے دہشت گردی میں 70فیصدکمی واقع ہوئی۔ اس سے قبل 2007اور 2009 میں سوات آپریشن اور 2011-12میں جنوبی وزیرستان آپریشن کے ذریعے بھی ان کی سرکوبی کی گئی۔ محدودوسائل‘ ازلی دشمن کی موجودگی‘ معاشی ناہمواریوں سمیت عالمی استعمارکی آنکھ میں کھٹکتے سی پیک منصوبے پردجالی قوتوں کے ناپاک عزائم سمیت ہرمشکل پر پاکستان کی بہادر افواج نے خوش اسلوبی سے قابو پایااوردیکھتے ہی دیکھتے پاکستان میں امن کی بحالی نظر آنے لگی۔ مگرہرسوپھیلی امن کی خوشبوانسانیت کے دشمنوں کونہ بھائی اورانہوں نے چیئرنگ کراسنگ لاہور‘کوئٹہ ‘مہمندایجنسی ‘ پشاور‘ ڈیرہ اسماعیل خان آواران‘ چارسدہ اور سیہون شریف جیسے مقامات کو اپنے مذموم عزائم کی بھینٹ چڑھا کر معصوم جانوں کے لہوسے ایسی ہولی کھیلی کہ انسانیت خون کے آنسورونے لگی۔ 5 دنوں میں ہونے والے ان 8واقعات میں سوسے زائد پاکستانی شہید ہوئے مگر پاکستانی باہمت ہیں۔ وہ جوابی وار بھی کریں گے اور جیت کر بھی دکھائیں گے۔
ٹونی موریسن امریکن ناول نگارہیں۔ ان کے ناول
Beloved
میں ایک کردار بے بی سگزکاہے جوسفید چمڑی والے جابروں کے خلاف اپنے ہم نسل کالوں کو اس بات پراکساتی ہے کہ وہ ان کے ظلم کا مسکراکرجواب دیں ۔ان کامسکرانا درحقیقت غاصبوں کے منہ پر زوردار طمانچہ ہوتاہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ دھماکے کے دوسرے روز شہباز قلندرکے عقیدت مندوں کادھمال
laughter as a resistance
ہے ۔جواس بات کابین ثبوت ہے کہ اس قوم کا مورال بلند ہے۔ گیارہویں صدی کا قلندرخود ہی فرماگیا


تو آں قتل کہ از بہر تماشا خونِ من ریزی
من آں بسمل کہ زیرِخنجرِخوں خوارمی رقصم
(تم وہ قاتل ہو کہ محض تماشارچانے کو میراخون بہاتے ہو اورمیں وہ بسمل ہوں کہ خنجرِ خوں خوار تلے بے نیازی سے رقص کرتاہوں)

 

dehshatgerdikinai.jpgدہشت گردی کی اس نئی لہرکے تانے بانے جوڑنے کے لئے اگر واقعات کی کڑیاں ملائی جائیں توحقیقت کھل کرسامنے آجاتی ہے کہ ان بہیمانہ کارروائیوں کے پیچھے کون سے بے حس ہاتھ کارفرماہیں۔ اتوارکوکراچی میں میڈیاکارکن کی شہادت کے بعد تیرہ فروری کو مال روڈ پر دھماکہ کیا گیا۔ اسی دن بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں فائرنگ کے ذریعے دوپولیس اہلکاروں کی شہادت اوراس کے کچھ ہی دیربعد بھمبرسیکٹرمیں بھارتی فوج کی فائرنگ سے تین پاکستانی فوجیوں کی شہادت اس بات کی غمازی کررہی ہے کہ دشمن کس قدرمنظم انداز میں پاکستان کے جسم کوایذاء پہنچارہاہے۔ پاکستان کی جانب سے بھارتی مداخلت کے جوثبوت امریکہ اور اقوام متحدہ کو دیئے گئے تھے‘ ان پرتاحال کوئی تسلی بخش ایکشن نہیں لیا گیا جس کامطلب بھارت سمجھ گیا ہے ۔


مقبوضہ کشمیرمیں جاری اندرونی عوامی تحریک سے دلبرداشتہ بھارتی آرمی چیف کا بے بسی سے اسے اندرونی شورش تسلیم کرنا‘ پاک چائنا اکنامک کاریڈورہرحال میں سبوتاژکرنے کے بھارتی ممبران اسمبلی کے تابڑتوڑ بیانات‘ اپنے طفیلی ممالک سے پاکستان کے خلاف زہراگلوانے کی حالیہ بھارتی پالیسی یہ سب ثابت کررہے ہیں کہ دشمن فائنل راؤنڈکھیلناچاہتاہے۔ اس کے تمام ترارادوں کو خاک میں ملانے کے لئے ہمیں دہشت گردی کے خلاف اپنی تمام تر کوششیں فزوں ترکرناہوں گی۔ پولیس‘ سی ٹی ڈی‘ سپیشل فورس اور نیکٹاکو ازسرنوتشکیل دینا ہو گا۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیاکوریٹنگ کے چکرسے نکل کرعوام کو آگاہی دیناہوگی۔


لاہورسانحہ میں ڈی آئی جی مبین احمداورایس ایس پی زاہد گوندل سمیت پندرہ افراد شہید ہوئے۔ان افسران کی شجاعت اوربہادری نے قوم میں ایک نئی روح پھونک دی ہے۔پنجاب حکومت نے فوری کارروائی کرتے ہوئے نہ صرف ان کا نیٹ ورک تلاش کیابلکہ سہولت کار انوارالحق کوبھی گرفتارکرلیاجس کا تعلق باجوڑ ایجنسی سے ہے جبکہ حملہ آور کا تعلق افغانستان کے علاقہ کنٹر سے ہے ۔ اسی طرح پشاورکے حیات آباد کے حملہ آور کی ملافضل اللہ کے ساتھ تصاویر بھی جاری کردی گئیں۔ جمعرات کوسیہون شریف میں لعل شہباز قلند رکے دربار پر خود کش حملے میں 88 افراد کی شہادت ہوئی اور343زخمی ہوئے۔دھماکے میں مسلمانوں سمیت 3 ہندو بھی چل بسے جوکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ مسلمانوں کی صوفی درگاہیں ہر مذہب کے پیروکاروں کوروحانی تسکین پہنچاتی ہیں اور یہ بھی کہ دہشت گردوں کاکوئی مذہب نہیں ہوتاوہ بغیرکسی تمیزکے حملہ کرتے ہیں۔ اس قدر شدید نقصان کاازالہ توممکن نہیں لیکن اس سانحۂ عظیم نے قوم کے حوصلے مزید بلند کر دیئے ہیں اوروہ فوری اوربے رحم کارروائی کے متمنی دکھائی دے رہے ہیں ۔


پاکستان میں زیادہ تردہشت گرد افغانستان کے راستے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں اور انڈس ہائی وے کااستعمال کرتے ہوئے دوسرے علاقوں تک پہنچتے ہیں ۔یہی انڈس ہائی وے اندرون سندھ سے گزرتی ہے ۔
پاکستان میں ہونے والی دہشت گردانہ کارروائیوں میں ٹی ٹی پی سے الگ ہونے والا ایک دھڑا جماعت الاحرارملوث ہے جوکہ ببانگ دہل اپنی مذموم کارروائیوں کا اعتراف کررہاہے ۔اس کی لیڈرشپ افغانستان میں موجودہے ۔اسے پاکستان میں لشکرجھنگوی کی اعانت حاصل ہے اور کچھ حصہ داعش سے بھی مددلیتاہے جبکہ دوسری جانب اس کی کڑیاں تحریک طالبان افغانستان تک بھی جاتی ہوئی نظرآتی ہیں۔ داعش کاپھیلتاہوانیٹ ورک الاحرارکی دیدہ دلیری اور ہمسایہ ملک کی ریشہ دوانی ہمیں اس بات پر مجبورکررہی ہے کہ ہم افغانستان کے متعلق اپنی خارجہ پالیسی کو نئے خطوط پر استوارکریں اوراس کے ساتھ ساتھ عالمی استعمارکی شطرنج کی بازی اوردورُخے پن سے بھی خبرداررہیں۔ لیکن ہمیں ایک قومی بیانیہ اپنانے کی بھی شدت سے ضرورت ہے۔راقم گزشتہ برس کے دوران مختلف مقامات پر دینی وعصری علوم کی درسگاہوں کے طلباء سے دہشت گردی کے موضوع پر گفتگو کرتا رہا ہے۔ ان میں سے بیشترایسے تھے جو ٹی ٹی پی کو تو غلط قراردے رہے تھے لیکن شام‘ عراق اوردیگرمسلم ممالک میں متحرک عسکری گروہوں کودبے لفظوں میں حق بجانب قرار دے رہے تھے۔ان کے ذہنوں سے ابہام دورکرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے ریاست کی حفاظت کرنی ہے یامسلم امہ کی ؟مسلم امہ کی حفاظت سرحدوں کی محتاج نہیں اوریہی وہ بیانیہ ہے جس کی بنیاد پر نجی عسکری گروہ معاشی‘ اخلاقی وافرادی قوت حاصل کرتے ہیں ۔جب تک ہم اس بیانیے کامتبادل قومی بیانیہ دین میں تلاش نہیں کرلیتے ان گروہوں کوشعوری و لاشعوری مدد ملتی رہے گی۔ دوسرے، پاکستان میں کچھ مسلم ممالک فرقہ واریت کی بنیاد پر اپنی اپنی پراکسی وارلڑ رہے ہیں ۔ اس کاسدباب مذہبی لٹریچر کی کڑی نگرانی اور مدارس کا ایک نصاب بنا کر کی جاسکتی ہے۔ہمیں سخت ایکشن لیتے ہوئے فقہ کی کتابوں میں سے کسی بھی مذہبی گروہ کی اکابرہستیوں کے خلاف نازیباالفاظ کو کتاب بدر کرنا ہو گا۔ مساجدمیں سرکاری خطیب ومؤذن کی تقرری سمیت تعلیمی اداروں میں ایسی فضا قائم کرنا ازحدضروری ہے جس سے انتہاپسندی کے ناسورکوپنپنے کی جگہ نہ ملے۔


پاکستان آرمی چیف قمرجاویدباجوہ نے کہا ہے کہ ہم خون کے ایک ایک قطرے کاحساب لیں گے ۔انہوں نے افغانستان میں موجودریزولیوٹ سپورٹ مشن
(Resolute Support Mission)
کے امریکی کمانڈر جنرل جان نکولسن کوپاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال پرتحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کامطالبہ کیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر میجرجنرل آصف غفور کاکہناہے کہ افغان سفارتخانے کے حکام کو جی ایچ کیومیں طلب کرکے ان 76دہشت گردوں کی فہرست دی گئی ہے جو پاکستان میں کارروائیاں کرتے ہیں۔ انھیں واضح اور دوٹوک اندازمیں کہا گیا کہ ان کے خلاف کارروائی کریں وگرنہ پاکستان خود کارروائی کرے گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ضمن میں مجرموں کے باہمی تبادلے پرمستقل قانون سازی کی جائے تاکہ اس عفریت کے پنپنے کے تمام راستے ہمیشہ کے لئے مسدودکئے جاسکیں۔


افغانستان کی اسمبلی ہم آواز ہوکرپاکستان کے خلاف ہرزہ سرائی کرتی ہے۔ یہ صرف سابق صدرحامدکرزئی اشرف غنی اورچیف ایگزیکٹوعبداللہ عبداللہ کی ہی پالیسی نہیں بلکہ اس میں بھارت کی ایک عشرے کی چانکیانہ پالیسیوں کا عمل دخل ہے۔ پاکستان 2004کے بعد افغانستان کی تمام تر پالیسی امریکہ پر چھوڑ کربے نیازہوگیامگربھارت نے اپنااثرورسوخ بڑھاناشروع کردیا۔ویزہ پالیسی میں نرمی کی افغان طالب علموں کو اپنی جامعات میں جگہ دینے کے ساتھ ساتھ افغان کابینہ کے اخراجات برداشت کرنے کا بِیڑا بھی اٹھایااوراس طرح پاکستان مخالف کابینہ اورپالیسی کی تشکیل میں آخری کیل بھی ٹھونک دیا۔


جبکہ دوسری جانب پاکستان کی مسلسل پکارکے باوجود افغانستان نے ٹی ٹی پی کے گروہوں کے خلاف ایکشن نہیں لیاکیونکہ وہ چانکیانہ دلدل میں دھنستے جارہے تھے اورپاکستان بھی طالبان اورافغان حکومت کے درمیان متوازن پالیسی پر کاربند رہنے پرمجبورتھا۔پاکستان اورافغانستان کے مابین 124برس پہلے کی کھینچی گئی ڈیورنڈلائن پربارڈرسیفٹی مینجمنٹ کے نام سے پابندیوں نے دوریوں میں مزید اضافہ کیا لیکن پاکستان کے پاس اس کے علاوہ کوئی دوسرا چارہ نہ تھا کیونکہ افغان حکومت مسلسل بے نیازی برت رہی تھی۔ 2014میں بھی پاکستان نے افغانستان کو کمیونیکیشن ٹاورزکی معلومات شیئرکرنے کی درخواست کی لیکن اس پر بھی تاحال کوئی جواب نہیں آیا۔ضرورت اس امرکی ہے کہ افغانستان اس ضمن میں ہاتھ بڑھائے تاکہ دونوں ممالک میں امن کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو دور کیا جا سکے۔ ہردوممالک کاامن ایک دوسرے سے مشروط ہے۔ افغان مہاجرین کی نقل وحمل کی کڑی نگرانی وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ افغان انٹیلی جنس این ڈی ایس میں موجود را کے ایجنٹ انھیں اپنے مقاصد کے لئے استعمال نہ کر سکیں۔

 

اس بات کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے کہ جنوری میں اپنی مدت پوری کرنے والی فوجی عدالتوں کو سیاسی جماعتوں کی جانب سے گرین سگنل ملنے کوہے۔ آئین اورآرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے قائم ان عدالتوں نے مختصروقت میں فوری اورمؤثرفیصلے کر کے دہشت گردی جیسے ناسورکوتقویت بخشنے والے کئی درندوں کو پھانسی گھاٹ کی راہ دکھلائی اورمزید فیصلے متوقع تھے کہ ان کی مدت ختم ہوگئی۔


عالمی منظرنامے پرنظردوڑائی جائے تو ماضی قریب میں افغانستان اورپاکستان سمیت اس خطے میں بلیک واٹرنامی امریکن تنظیم کے ہزاروں کارکن امریکن مفادات کی حفاظت کرتے ہوئے پائے گئے۔اس تنظیم کے مالک ایرک پرنس جسے جیرمی سکاہل جیسے لکھاری جنونی عیسائی کہتے ہیں اس وقت ڈونلڈٹرمپ کابینہ کی تشکیل میں اہم کرداراداکررہے ہیں۔ ان کی بہن وزیرتعلیم جیسااہم عہدہ پر فائز ہیں۔اس سارے منظرنامے میں جہاں امریکہ میں سچ اورجھوٹ کے درمیان لکیرواضح ہوتی جارہی ہے وہیں ٹرمپ کی داعش کے خلاف شام اورعراق میں کارروائیاں اسے افغانستان اور پاکستان کی جانب دھکیل سکتی ہیں۔ اس باراستعماری قوتیں پاکستان کے محروم وپسماندہ طبقات کواپناآلہ کاربناتے ہوئے لسانی وعلاقائی تعصبات سے بھی افرادی قوت حاصل کرسکتی ہیں۔ ہمیں ہرحال میں نیکٹاکوفعال کرناہوگا۔وزیراعظم کو اس کے باقاعدگی سے اجلاس بلاکرکارکردگی کوبہتربنانے کے لئے مثبت جامع اور دیرپالائحہ عمل تشکیل دیناہوگا۔


اگر کاؤنٹرٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی کارکردگی کاجائزہ لیاجائے تو سندھ وپنجاب سمیت پورے ملک میں اس کی کارکردگی میں بہتری آ رہی ہے ۔ کوئی ایسا دن نہیں جب اس نے کارروائی نہ کی ہو۔ مرکزی حکومت نے صوبائی سطح پرسویلین کاؤنٹر ٹیررازم فورس بنائی ہے جو آٹھ ہزارنفوس پرمشتمل ہے۔سی ٹی ڈی نے بروزجمعہ پنجاب کے شہرسرگودھامیں دودہشت گردوں کو واصل جہنم کیا۔ اسی طرح کراچی میں دہشت گردوں کوپکڑ کربڑی مقدارمیں اسلحہ برآمدکیا۔ ہفتہ کے روزلیہ میں الاحرارگروپ کے پانچ دہشت گردوں کوہلاک کرکے اسلحہ برآمدکیاگیا۔


اس بات کی بازگشت بھی سنائی دے رہی ہے کہ جنوری میں اپنی مدت پوری کرنے والی فوجی عدالتوں کو سیاسی جماعتوں کی جانب سے گرین سگنل ملنے کوہے۔ آئین اورآرمی ایکٹ میں ترمیم کے ذریعے قائم ان عدالتوں نے مختصروقت میں فوری اورمؤثرفیصلے کر کے دہشت گردی جیسے ناسورکوتقویت بخشنے والے کئی درندوں کو پھانسی گھاٹ کی راہ دکھلائی اورمزید فیصلے متوقع تھے کہ ان کی مدت ختم ہوگئی۔ فوجی عدالتوں کو ایکسٹینشن دینے کے ساتھ ساتھ ہمیں ججز کے لئے سکیورٹی کا انتظام اوراس سسٹم میں مزید بہتری کے لئے ایک مربوط حکمت عملی اپناناہوگی تاکہ آنے والی حکومتوں کو ان عارضی عدالتوں کے سہارے کی ضرورت پیش نہ آئے۔
فاٹاکوکے پی کے میں ضم کئے بغیرچارہ نہیں ۔ہم کب تک 27ہزارمربع کلومیٹرکے اس علاقے کو انگریز حکومت کی طرح چلائیں گے جس کی ایک کروڑ قبائلی آبادی پاکستان سے والہانہ محبت کرتی ہے ۔ہمیں فاٹامیں عصری علوم کو اس قدرعام کرناہوگاکہ دنیاکی رائے اس کے متعلق بدل جائے اورکوئی بش، کوئی مائیکل ہیڈن (سابق ڈائریکٹرسی آئی اے)یامائیک مولن اس خطے کے متعلق ہرزہ سرائی نہ کرسکے۔


جمعے کے روز پاکستان نے افغانستان میں پہلی کارروائی کرتے ہوئے مہمند اور خیبرایجنسی کے دوسری طرف بنائے گئے الاحرارگروپ کے تربیتی مرکزسمیت چار کیمپوں کو نشانہ بنایاجس میں متعدد دہشت گردمارے گئے۔جماعت الاحرارکے ڈپٹی کمانڈرعادل باچہ کے کیمپ پربھی ٹارگٹڈ کارروائی کی گئی۔ اندرون ملک کارروائی کرتے ہوئے سوسے زائد دہشت گردوں کوموت کے گھاٹ اتار دیا گیا۔ اسی طرح ہفتے کے روز کارروائی کرتے ہوئے پاک فوج نے خودکش بمباروں کے تربیت کار رحمان باباسمیت بیس کے قریب دہشت گردافغانستان کی سرحدمیں ہلاک کردیئے۔ افغان وزارت خارجہ نے پاکستانی سفیر ابرارحسین کو طلب کرکے کنٹراورننگرہارمیں ہونے والے حملے پر تشویش کااظہارکیاجسے پاکستانی سفیرابرارحسین نے مستردکرتے ہوئے پاکستانی موقف کومدلل اندازمیں پیش کیا کہ کس طرح علاقائی مفاد کی خاطرایک شرپسند ملک پاکستان کے خلاف افغانستان کی زمین استعمال کررہاہے۔افغان نائب وزیرخارجہ نے پاکستان میں ہونے والے حملوں کی مذمت کرتے ہوئے طورخم اورچمن سے پاک افغان سرحدکھولنے کے ساتھ ساتھ150 افغان باشندوں کی رہائی کامطالبہ بھی کیا۔ یاد رہے ہفتے کی رات کارروائی کرتے ہوئے پاکستان کے سکیورٹی اداروں نے 330 مشتبہ افراد کوگرفتارکیاتھا جن میں غیرملکی بھی شامل ہیں ۔

آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے جب سیہون شریف کے زخمیوں کی عیادت کی تو ان زخمی چہروں پر اپنے سپہ سالار کی محبت کا عکس اس بات کا بین ثبوت تھا کہ یہ قوم مشکلات سے گھبرانے والی ہرگز نہیں۔سیہون شریف پر خود کش حملے کے بعد آرمی چیف نے جوبیان جاری کیا اور اس کے بعد ہونے والی کارروائیاں اس بات کاثبوت ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کی بیخ کنی میں کتنا سنجیدہ ہے اورقوم کے خون کے قطرے قطرے کاحساب چکانے کے لئے سکیورٹی ادارے کس قدرمستعدوچوکناہیں۔نیزپنجاب میں رینجرزکی تعیناتی ایک احسن اقدام ہے جس سے 18اضلاع میں قائم دہشت گردوں کے سلیپرزسیل ختم کرنے میں مددملے گی


نیٹوکے ترجمان نے پاک افغان کشیدگی پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے اس کے مناسب حل کی طرف توجہ مبذول کرائی۔امریکی دفترخارجہ کے قائم مقام ترجمان مارک ٹونرنے بھی دہشت گردی سے ہونے والے پاکستانی نقصانات پرتشویش کااظہارکرتے ہوئے کہاکہ ہم پاکستانی عوام کے ساتھ ہیں۔


آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے جب سیہون شریف کے زخمیوں کی عیادت کی تو ان زخمی چہروں پر اپنے سپہ سالار کی محبت کا عکس اس بات کا بین ثبوت تھا کہ یہ قوم مشکلات سے گھبرانے والی ہرگز نہیں۔سیہون شریف پر خود کش حملے کے بعد آرمی چیف نے جوبیان جاری کیا اور اس کے بعد ہونے والی کارروائیاں اس بات کاثبوت ہیں کہ پاکستان دہشت گردوں کی بیخ کنی میں کتنا سنجیدہ ہے اورقوم کے خون کے قطرے قطرے کاحساب چکانے کے لئے سکیورٹی ادارے کس قدرمستعدوچوکناہیں۔نیزپنجاب میں رینجرزکی تعیناتی ایک احسن اقدام ہے جس سے 18اضلاع میں قائم دہشت گردوں کے سلیپرزسیل ختم کرنے میں مددملے گی ۔تاریخ گواہ ہے کہ جنگیں افواج اور ملک کی عوام مل کر لڑاکرتے ہیں اورجس ملک کی عوام میں غیورباہمت اوردادشجاعت دینے والے افراد، سپاہی اور افسرموجود ہوں وہ کبھی بھی دہشت گردوں کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکتی۔ دہشت گردی کی حالیہ لہران بچے کچھے دہشت گردوں کی موت ثابت ہورہی ہے جو اپنی بلوں میں گھسے ہوئے تھے۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 780 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter