قبیلے سے قومی ریاست تک اجتماعی شناخت کا انسانی سفر

Published in Hilal Urdu

تحریر: خورشیدندیم

یہ تاریخی واقعہ ہے کہ انسان اجتماعی صورت میں رہتے ہیں۔ ابنِ آدم کی معلوم تاریخ اسی کی تائید کرتی ہے۔ سماج کا نام ذہن میں آتے ہی اجتماعیت کا تصور سامنے آتا ہے۔ یہ ایک ایسی واضح حقیقت ہے جس سے کسی کو انکار نہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ اجتماعیت کیسے وجود میں آئی؟َ


انسانی تاریخ کا مطالعہ ایک دوسری حقیقت کی نشان دہی بھی کرتا ہے۔ جیسے جیسے انسانی سماج ارتقاء کے مراحل سے گزرتا گیا، انسانوں کے ایک سے زیادہ اجتماع پیدا ہوئے۔وقت آگے بڑھاتوانسانوں کے کئی گروہ بن گئے اور یہ ایک دوسرے سے متصادم بھی ہوئے۔ ہمیں ایک خطۂ زمین میں لوگوں کے کئی گروہ ملتے ہیں جو ایک طرف ایک دوسرے کے ساتھ ہیں اور دوسری طرف مخالف۔ گروہ سے گروہ برسر پیکار ہے اور یہ بات بھی ہمارے مشاہدے اور تجربے میں شامل ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ کیا قدرِ مشترک ہے جو انسانوں کو ایک گروہ کی شکل دیتی ہے اور انہیں کسی دوسرے گروہ سے ممتاز کرتی ہے؟


عمرانیات اور سیاسیات میں یہ سوال صدیوں سے زیر بحث ہے۔ عمرانیات کے ماہرین نے جب قدیم انسانی سماج کا مطالعہ کیا تو اس کے اسباب تلاش کیے کہ لوگ کیسے ایک گروہ کی صورت میں منظم ہوئے، قدیم قبائلی معاشرت کیسے وجود میں آئی۔ ارسطو جیسے لوگوں نے انسان کو سماجی حیوان قرار دے کر ، اجتماعیت کی خواہش کو انسان کا فطری وصف قرار دیا۔ اہل علم کے نزدیک یہ ضروریات ہیں یا بقا کی جبلت ہے جس نے انسان کو انسان کے قریب کیا۔ اس باب میں کوئی شبہ نہیں کہ اجتماعیت کی صورتیں وقت گزرنے کے ساتھ تبدیل ہوتی رہی ہیں۔ قبیلے سے ایک جدید قومی ریاست تک، اس تبدیلی اور ارتقاء کے مختلف مدارج، مراحل اور صورتیں ہیں۔ ہمارا مشاہدہ یہ ہے کہ اس اجتماعیت نے اگر انسانوں کو کسی مشترکہ مفاد کی خاطر جمع کیا ہے تو انسانوں کے مختلف گروہوں کے مفادات میں پیدا ہونے والے تصادم نے انسانوں کو بے پناہ نقصان پہنچایا ہے۔ دو عالمی جنگیں ایک طرف کروڑوں افراد کے لئے موت کا پیغام لے کر آئیں اور دوسری طرف بعض اقوام نے اس پر فتح کے جشن بھی منائے۔

 

جغرافیے کی طرح مذہب بھی تاریخ میں اجتماعیت کی ایک اہم اساس رہا ہے۔ دور جدید میں پاکستان اسی اجتماعی اساس پر قائم ہوا۔ ایک تاریخی عمل کے نتیجے میں، ایک خود مختار سیاسی اجتماعیت کی خواہش، جس کی بنیاد مذہب پر تھی، ایک اجتماعی شناخت کی بنیاد بن گئی۔ چنانچہ علاقائی عصبیتوں پر اس بڑی عصبیت نے غلبہ پا لیا۔

اس باب میں تو دوسری رائے نہیں کہ اجتماعیت امر واقعہ ہے، لیکن یہ وجود میں کیسے آتی ہے؟ اس کا کوئی واضح جواب ابھی تک تلاش نہیں کیا جا سکا۔ ابن خلدون نے عصبیت کو اجتماعیت کی اساس قرار دیا لیکن یہ عصبیت کیسے وجود میں آتی ہے، اس کا کوئی جواب ان کے پاس بھی نہیں تھا۔ اس سے پہلے یونانیوں نے انسانی نسل کو اجتماعیت کی اساس مانا۔ ’ نیشن کا تصور یونانی لفظ نیشو سے وجود میں آیا، جس کے لغوی معنی، پیدا ہونا ہے۔ ان کے ہاں نسل اور جائے پیدائش کا اشتراک اجتماعیت کی بنیاد بنتا ہے۔ فرانسیسی مفکر رینان کو اس سے اتفاق نہیں۔ وہ زبان یا نسل کو ’ نیشن ‘ یا اجتماعیت کی بنیاد نہیں سمجھتا۔ اس کے نزدیک جو امر لوگوں کے اجتماع کو ایک ’ نیشن ‘ بناتا ہے وہ یہ ہے کہ ماضی میں کچھ لوگوں نے متحد ہو کر کسی عظیم مقصد کو حاصل کیا ہو اور مستقبل میں وہ اس کا ارادہ رکھتے ہوں۔ سپینگلر بھی مادی اساسات کے مقابلے میں روحانی اساس کو اجتماعیت کی مضبوط تر بنیاد قرار دیتا ہے۔


اہل علم کے یہ نظریات اگر پیش نظر رہیں تو یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ انسانوں کے مابین کئی طرح کی اقدار مشترک ہوتی ہیں۔ ان میں رنگ ، نسل، جائے پیدائش اور مذہب شامل ہیں۔ یہ بعض تاریخی عوامل اور واقعات ہیں جو کسی ایک قدر کو ایک مضبوط بندھن کی صورت دے دیتے ہیں۔ یہ بندھن انسانوں کے ایک گروہ کو جمع کر دیتا ہے اور وہ ان کی دوسری مشترکہ اقدار پر غالب آ جاتا ہے۔ یوں وہ اس مشترکہ قدر کو اپنی اجتماعی شناخت کے طور پر قبول کر لیتے ہیں۔ ایسا کیوں ہوتا ہے، اس کا کوئی دو ٹوک جواب موجود نہیں، لیکن اس میں شبہ نہیں کہ ایسا ہوتا ہے اور یوں لوگ منظم ہو جاتے ہیں۔

 

انسانی تاریخ میں ایک مذہب کو ماننے والے ،اس سے پہلے بھی ایک اکائی کی صورت میں منظم رہے ہیں۔ اسلام بھی اسی اجتماعیت کو تسلیم کرتا اور اس اجتماعیت کو ملت قرار دیتا ہے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود رہا ہے کہ ملت ایک روحانی وحدت ہے یا سیاسی وحدت؟ عملاً تو یہ ایک روحانی وحدت ہے۔ مسلمان عرب کا ہو یا عجم کا، ایک ملت کا رکن ہے۔ اسی طرح مسیحی کہیں بھی رہتا ہو، دوسرے مسیحی کے ساتھ مل کر ایک ملت بناتا ہے۔ سیاسی وحدت ایک الگ عمل ہے جو حالات کے تابع ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد ’ قومی ریاست‘ کا جو تصور ابھرا، اس میں ’وطن‘ کو اجتماعیت کی اساس کے طور پر قبول کر لیاگیا۔ دنیا بھر میں اس کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے سے الگ ہوئے اور ایک دوسرے کے قریب بھی۔ بعض علاقوں میں زمین اور نسل، دونوں عصبیتیں مل گئیں جس نے ایک زیادہ مضبوط بندھن کو جنم دیا۔ وقت نے ارتقاء کے مراحل طے کئے اور لوگوں نے مختلف اسباب سے نقل مکانی اختیار کی تو جدید ریاست میں ’ شہریت ‘ کا تصور پیدا ہوا۔ ریاست کے عناصر ترکیبی میں جغرافیے کے علاوہ ایک عمرانی معاہدے کو بنیادی حیثیت حاصل ہو گئی۔ یہ کہا گیا کہ جو ایک ریاست کے جغرافیے اور اجتماعی مفاد کے ساتھ وفادار ہے اور عمرانی معاہدے کو قبول کرتا ہے ، وہ ریاست کا شہری ہے۔ قطع نظر اس بات کے کہ اس نے کہاں جنم لیا، اس کا رنگ کیا ہے، اس کا تعلق کس مذہب سے ہے اور اس کے آباء واجداد کون تھے۔ جدید ریاست اسی تصور پر کھڑی ہے۔


جغرافیے کی طرح مذہب بھی تاریخ میں اجتماعیت کی ایک اہم اساس رہا ہے۔ دور جدید میں پاکستان اسی اجتماعی اساس پر قائم ہوا۔ ایک تاریخی عمل کے نتیجے میں، ایک خود مختار سیاسی اجتماعیت کی خواہش، جس کی بنیاد مذہب پر تھی، ایک اجتماعی شناخت کی بنیاد بن گئی۔ چنانچہ علاقائی عصبیتوں پر اس بڑی عصبیت نے غلبہ پا لیا، جس کا اظہار تحریک پاکستان کی صورت میں ہوا۔ برصغیر ، جو مروجہ معنوں میں کوئی ’ قومی ریاست‘ نہیں تھا، اس میں ’ مسلم شناخت‘ نے ایک عصبیت کی صورت اختیار کر لی۔ اب یو پی سے بنگال اور سندھ سے خیبر تک، جو اس شناخت سے وابستہ تھا، اس نے ایک خود مختار سیاسی اکائی کو بطور اجتماعی شناخت قبول کر لیا۔ اس اکائی کا نام ’ پاکستان‘ ہے۔

 

آج انسان کے لئے اہم سوال یہ ہے کہ وہ کس حد تک اجتماعی شناخت کے اس عمل کو سمجھتا اور اس کا احترام کرتا ہے۔ ممالک کے مابین تصادم کی ایک وجہ مفادات کا تضاد ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ کسی اجتماعی شناخت کو ماننے سے انکار کر دیا جائے،

انسانی تاریخ میں ایک مذہب کو ماننے والے ،اس سے پہلے بھی ایک اکائی کی صورت میں منظم رہے ہیں۔ اسلام بھی اسی اجتماعیت کو تسلیم کرتا اور اس اجتماعیت کو ملت قرار دیتا ہے۔ تاہم یہ سوال اپنی جگہ موجود رہا ہے کہ ملت ایک روحانی وحدت ہے یا سیاسی وحدت؟ عملاً تو یہ ایک روحانی وحدت ہے۔ مسلمان عرب کا ہو یا عجم کا، ایک ملت کا رکن ہے۔ اسی طرح مسیحی کہیں بھی رہتا ہو، دوسرے مسیحی کے ساتھ مل کر ایک ملت بناتا ہے۔ سیاسی وحدت ایک الگ عمل ہے جو حالات کے تابع ہے۔ پاکستان اس کی ایک مثال ہے۔ برصغیر کے غیر مسلموں کی ایک بڑی تعداد نے اپنی مرضی سے پاکستان کا انتخاب کیا۔ یوں وہ مسلمانوں کے ساتھ اس سیاسی شناخت میں شریک ہو گئے جس کا نام پاکستان ہے۔ جس طرح نسل اور جغرافیہ کہیں ساتھ ساتھ چلتے ہیں اور کہیں الگ ہو جاتے ہیں، اسی طرح جغرافیہ اور مذہب کہیں ساتھ ساتھ ہیں جیسے سعودی عرب میں اورکہیں الگ ہیں جیسے انڈونیشیا اور پاکستان میں۔ یہ فطری بات ہے کہ جہاں ایک مذہب کے ماننے والوں کا غلبہ ہو گا، وہاں اسی مذہب کا تہذیبی رنگ نمایاں ہو گا۔ تاہم یہ سیاسی وحدت کو متاثر نہیں کرے گا۔، جس کی بنیاد شہریوں کے مفادات کا یکساں اعتراف اور احترام ہے۔
آج دنیا میں اجتماعی عصبیت کی کئی بنیادیں ہیں۔ خطہ زمین ہے جیسے یورپ کے لوگ خود کو ایک شناخت دیتے ہیں۔ خطہ زمین اور نسل ہے جیسے کشمیر کے لوگ ایک قوم ہیں۔ مذہب ہے، جیسے پاکستان۔ ایک عمرانی معاہدہ ہے جیسے امریکہ۔ اس کے ساتھ آج بین الاقوامی عصبیت کا تصور بھی سامنے آرہا ہے جسے عالمگیریت کا ایک منظقی نتیجہ قرار دیا جاتا ہے۔


آج انسان کے لئے اہم سوال یہ ہے کہ وہ کس حد تک اجتماعی شناخت کے اس عمل کو سمجھتا اور اس کا احترام کرتا ہے۔ ممالک کے مابین تصادم کی ایک وجہ مفادات کا تضاد ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ کسی اجتماعی شناخت کو ماننے سے انکار کر دیا جائے، جیسے کشمیر میں ہو رہا ہے۔ پہلی وجہ کو معاہدوں کے ذریعے ایک نظم کا پابند کر دیا جاتا ہے تاکہ تصادم کی صورت پیدا نہ ہو۔ دوسری وجہ خاتمے کے لئے جدوجہد کی جاتی ہے جیسے کشمیر کی تحریک آزادی ہے۔ کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو اگر مان لیا جائے تو جنوبی ایشیا میں امن آ سکتا ہے۔ کشمیر میں اس اجتماعیت سے انکار دراصل سماجی عمل سے متصادم ہے۔ تاریخ یہ کہتی ہے کہ جب کوئی اجتماعی عصبیت وجود میں آ جائے تو اسے قبول کرنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں ہوتا۔ بصورت دیگر تاریخ کے جبر سے جنگ کا نتیجہ بربادی کے سوا کچھ نہیں۔

مضمون نگار معروف دانشور ،سینئر تجزیہ نگار اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 139 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter