نظریہ، بیانیہ اور ہماری مشکل

Published in Hilal Urdu March 2017

تحریر: ملیحہ خادم

نظریہ قوموں کی فکری اساس ہے۔ نظریہ اس جذبے کو جلا بخشتا ہے جس کی بنیاد پر ہجوم میں سے قوم بنتی ہے اور پھر اسی جذبے کی آبیاری کرتے ہوئے قوم اپنی سرحدوں کا تعین کرتی ہے۔ لہٰذا نظریے سے جڑے رہنا ہی ملک و قوم کی بقا کی ضمانت ہے۔ کہتے ہیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جذبہ سرد پڑنے لگتا ہے۔ یہ انسان کی جبلت ہے کہ زندگی کے جھمیلوں سے لڑتے ہوئے وہ اپنے تمام جذبات کو روزمرہ زندگی سے ہم آہنگ کرلیتا ہے۔ یہی معاملہ قوموں کے ساتھ ہے یعنی جوں جوں وقت گزرتا جاتا ہے اور ایک نسل کی جگہ دوسری نسل لیتی جاتی ہے تو وہ جذبہ اور نظریہ جس نے انہیں یکجا کیا ہوتا ہے، وہ یا تو ماند پڑنے لگتا ہے یا کسی مقدس چیز کی طرح لپیٹ کر رکھ دیا جاتا ہے۔ پھر صرف اہم دنوں پر ہی اس کی زیارت اور تجدید کرلی جاتی ہے۔ اس صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دشمن ہمیشہ نظریات پر شکوک و شبہات کی گرد چڑھادیتے ہیں۔ اور ایک بار یہ گرد جم جائے تو اسے ہٹانے کی قیمت قوموں کو اپنی آزادی اور خون سے چکانی پڑتی ہے کیونکہ اگر بنیاد ہی ہل جائے تو عمارت زیادہ دیر کھڑی نہیں رہ سکتی۔ اس لئے تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ جن اقوام نے اپنے نظریات کی جڑیں کھوکھلی کرلیں انہیں سنبھلنے کا موقع مشکل سے ہی ملا یا یوں کہہ لیں کہ نظریات کے دفاع کے لئے جان دی اور لی جاتی ہے کیونکہ اگر نظریہ دم توڑ جائے تو ولولہ اور امنگ بھی باقی نہ رہے اور ان دو چیزوں کے بغیر قوم میں زندگی کی رمق باقی رہنا بھی مشکل ہے ۔


پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریے نے رکھی اور دو قومی نظریے کی وجہ برصغیر میں ہندوؤں کی مسلمانوں کے خلاف سازشیں اور معاندانہ رویہ بنا۔ یہ دو قومی نظریہ ہی تھا جس نے پہلے قرارداد پاکستان کی شکل اختیار کی اورپھر پاکستان کو ناگزیر قرار دیا۔ بد قسمتی سے ہمارے اپنے نادان دوست اس نظریے کو متنازعہ بنا کر دانا دشمن کے ہاتھ مضبوط کرتے رہتے ہیں۔ دو قومی نظریہ کہتا ہے ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں جن کا مذہب، تہذیب، معاشرت سب الگ الگ ہے۔ آج ہمارے اپنے بہت سے وہ پاکستانی جن کی رسائی قومی اور بین الاقوامی فورمز اور میڈیا تک ہے، ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں کہ پاکستان اور بھارت کی تہذیب اور معاشرت ایک جیسی ہے۔ ہم میں کوئی فرق نہیں ہے۔ کبھی کوئی فنکار بالی وڈ میں کام ملنے کی آس میں یہ پرچار کرتا ہوا پایا جاتا ہے تو کبھی کوئی صحافی یا دانش ور کسی انڈین کا مہمان یا میزبان بنتے ہوئے پاکستان اور بھارت کے کلچرکو ایک ہی بنادیتا ہے۔
تاہم یہ بات واضح رہے کہ دو قومی نظریئے کی آڑ میں کوئی گروہ پاکستان میں بسنے والے دیگر مذاہب کے لوگوں کو مذہبی تعصب کا نشانہ نہ بنا سکے۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستان میں بسنے والے تمام شہری بغیر کسی مذہبی، لسانی یا زبان کی تخصیص کے برابر کے شہری ہیں۔

پاکستان کی بنیاد دو قومی نظریے نے رکھی اور دو قومی نظریے کی وجہ برصغیر میں ہندوؤں کی مسلمانوں کے خلاف سازشیں اور معاندانہ رویہ بنا۔ یہ دو قومی نظریہ ہی تھا جس نے پہلے قرارداد پاکستان کی شکل اختیار کی اورپھر پاکستان کو ناگزیر قرار دیا۔ بد قسمتی سے ہمارے اپنے نادان دوست اس نظریے کو متنازعہ بنا کر دانا دشمن کے ہاتھ مضبوط کرتے رہتے ہیں۔

اس سوچ نے نوجوان نسل کے ذہنوں کو پراگندہ کرنا شروع کیا ہوا ہے۔ ہم کتابوں سے دور ہوچکے ہیں اور چونکہ مطالعہ اور تحقیق متروک کرچکے ہیں لہٰذا جو بھی غلط سلط معلومات ہم تک پہنچائی جاتی ہیں ہم یا تواسے صحیح مان لیتے ہیں یا پھر الجھ جاتے ہیں۔ اذہان میں پلتی اور بڑھتی سوچ کی اس الجھن کا فائدہ بھارت خوب اٹھاتا ہے اور اپنی ثقافتی یلغار کے سہارے غیر محسوس طریقے سے مزید زہریلی تبلیغ کا عمل جاری رکھتا ہے۔ حالات اب یہاں تک آ پہنچے ہیں کہ کچھ فنکار بھارت مخالف کوئی بھی پروجیکٹ کرنے سے گھبراتے ہیں کہ مبادا انہیں انڈیا میں کام ملنا بند نہ ہوجائے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ سرجیکل اسٹرائیک کے ڈرامے کے بعد بالی وڈ نے پاکستانی فنکاروں کو دودھ میں سے مکھی کی طرح باہر نکال پھینکا حالانکہ ’’بیچارے‘‘ ہمارے فنکار، بھارت کے آگے بچھ بچھ کر صفائیاں بھی دیتے رہتے ہیں لیکن بند دروازے اب تک نہیں کھل پائے۔


درحقیقت چار جنگوں کے تجربے نے بھارت کو سکھادیا ہے کہ پاکستان کو روایتی جنگ میں ہرانا آسان نہیں ہے اس لئے اب اس نے چومکھی لڑائی شروع کررکھی ہے۔ وہ ایک طرف جغرافیائی سرحدوں پر جارحیت کررہا ہے اور دوسری طرف ہمارے ملک میں دہشت گردی کرکے معصوم لوگوں کی جانیں لے رہا ہے۔ ماننے کی بات ہے کہ اس کھیل میں میں ہماری اپنی کالی بھیڑیں بھی شامل ہیں لیکن زیادہ بڑے پیمانے پر افغانستان بھارت کی لاٹھی بنا ہوا ہے جو تیس سال تک پاکستانیوں کی جانب سے کی گئی میزبانی کا قرض یوں پیٹھ میں چھرا گھونپ کر اتار رہا ہے۔ لیکن اس سب سے زیادہ خطرناک وہ جنگ ہے جو انڈیا نے پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کے خلاف چھیڑ رکھی ہے اور ہماری اپنی صفوں میں موجود لوگ بالواسطہ یا بلاواسطہ طریقے سے اس جنگ کو ایندھن فراہم کررہے ہیں۔ مودی سرکار بالادستی اور طاقت کی خواہش میں حقائق اور تاریخ کو مسخ کرکے پاکستان کے خلاف پراپیگنڈا جاری رکھے ہوئے ہے اور اپنے ایسے عزائم کو چھپانے کا تردد بھی بھارت کی طرف سے نہیں کیا جاتا بلکہ ہر اس چیز کی پشت پناہی کی جاتی ہے جو پاکستان کے مثبت تاثر اور نظریات پر ضرب لگائے۔ طارق فتح جیسے پاکستان بدر کئے گئے خود ساختہ دانشور کی سرکاری سرپرستی اور ریاستی حمایت اس کی واضح مثال ہے۔ اس کے علاوہ بھارت نے اس مقصد کے لئے خوب سرمایہ کاری کی ہے اور جن پر کی ہے وہ قتا فوقتا اپنی کمائی حلال بھی کرتے رہتے ہیں۔ یہ الزام نہیں ہے بلکہ بہت سے لوگوں کے قول و فعل چیخ چیخ کر خود کو بے نقاب کرتے رہتے ہیں۔

 

درحقیقت چار جنگوں کے تجربے نے بھارت کو سکھادیا ہے کہ پاکستان کو روایتی جنگ میں ہرانا آسان نہیں ہے اس لئے اب اس نے چومکھی لڑائی شروع کررکھی ہے۔ وہ ایک طرف جغرافیائی سرحدوں پر جارحیت کررہا ہے اور دوسری طرف ہمارے ملک میں دہشت گردی کرکے معصوم لوگوں کی جانیں لے رہا ہے۔ ماننے کی بات ہے کہ اس کھیل میں میں ہماری اپنی کالی بھیڑیں بھی شامل ہیں۔

صدرمشرف دور کے آخری سالوں سے جس گروہ نے سول سوسائٹی کا لقب اپنایا ہے، اُس میں سے بعض عناصر نے بد قسمتی سے ان دوہی چیزوں کو نشانے پر رکھا ہوا ہے۔ ان میں سے پہلے نمبر پر ہمارے عسکری ادارے ہیں اوردوسرے نمبر پر قیام پاکستان کی بنیاد اور عوامل ہیں۔ بظاہر ہمسایوں سے دوستی کا خواہاں یہ گروہ بھارت نوازی میں اس حد تک آگے چلا گیا ہے کہ انڈیا کی پاکستان دشمنی کی تاریخ ہی مسخ کرنا شروع کردی ہے۔ سول سوسائٹی اور لبرل طبقہ ہونے کے دعویدار کچھ لوگ جانتے بوجھتے ہر اس بات پر’ درست ہے‘ کا ٹھپہ لگارہے ہیں جو انڈیا کے حق میں جائے۔


اس گٹھ جوڑ نے منظم طریقے سے نظریہ پاکستان اور ریاست پاکستان کے خدوخال پر سوالات کھڑے کردئیے ہیں۔ اس نے پاک بھارت جنگوں کی وجوہات اور نتائج کو چیلنج کردیا ہے۔ اس نے تقسیم کے وقت ہونے والے قتل عام کی ذمہ داری قیام پاکستان پر ڈال دی ہے۔ اس نے پاکستان میں جاری دہشت گردی سے بھارت کو بری الذمہ قرار دے دیا ہے۔ ان کی اس جزوی کامیابی کے پیچھے جدید مواصلاتی اوزاراور انگریزی زبان کا دخل ہے کیونکہ اب دنیا انہی دو چیزوں پر کھڑی ہے اور پاکستان دنیا سے الگ نہیں رہ سکتا۔ انہوں نے ان دو چیزوں کے سہارے اپنا متبادل نظریہ بمع بیانیہ اندرون اور بیرون ملک بیچنا شروع کردیا ہے۔ اندرون ملک تو نظریات کی پیروی کرنے والوں کی بھی تقسیم در تقسیم ترقی پسند اوررجعت پسند میں، کردی گئی۔ لہٰذا ان کے نووارد نظریات کا خریدار ’’پڑھالکھا‘‘ بن جاتا ہے اور جو اصل نظریات کی حفاظت کرتے ہوئے ان سے اختلاف کرے وہ سازشی تھیوری کا پرستار قرار دے دیا جاتا ہے۔

 

آپ اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ ہمارے بیانیے میں خلا پیدا ہوچکا ہے اس لئے درسی کتابوں سے باہر گردش کرتے تمام سوالات کے جواب مبہم ہوتے جارہے ہیں۔ ۔اس کی سب سے بڑی وجہ اس سوچ کے حامل لوگوں کی انگریزی ذرائع معلومات اور سوشل میڈیا پر قلیل تعداد میں موجودگی ہے۔

پاکستان کی آج کی شہری نوجوان نسل پڑھی لکھی ہے۔ وہ ابلاغ اور روابط کے تمام تر ذرائع تک پہنچ رکھتی ہے، آئندہ نسل اوربھی زیادہ باشعور ہوگی۔ انہیں مطمئن کرنا آسان نہیں ہے کیونکہ یہ معلومات اور علم کو ایک کلِک سے حاصل کرلیتے ہیں۔ ہر چیز کو جزئیات سمیت جاننا ان کا حق ہے لیکن ایک نظریاتی ملک ہونے کے باوجود ہم اپنے بنیادی نظریے کی تعریف اور اس کی توثیق نئی نسل تک منتقل کرنے میں ناکام ہورہے ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ نوجوانوں کی اردو کے بجائے انگریزی اور کتب کے بجائے انٹرنیٹ پر انحصار ہے۔ طالبعلم درس گاہوں میں یہ سب پڑھتا تو ہے لیکن صرف مطالعہ پاکستان کا پرچہ پاس کرنے کے لئے۔ اس کے بعد وہ اپنی معلومات کے لئے انٹر نیٹ پرانحصار کرتا ہے اور وہاں پر پایا جانے والا بیشتر مواد پڑھائے گئے حقائق اور تاریخی واقعات کی ضد ہوتا ہے۔


آپ اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ ہمارے بیانیے میں خلا پیدا ہوچکا ہے اس لئے درسی کتابوں سے باہر گردش کرتے تمام سوالات کے جواب مبہم ہوتے جارہے ہیں۔ ۔اس کی سب سے بڑی وجہ اس سوچ کے حامل لوگوں کی انگریزی ذرائع معلومات اور سوشل میڈیا پر قلیل تعداد میں موجودگی ہے۔ اگر اب بھی ہم نے ثقیل توجیہات کوسینے سے لگائے رکھا اور دور جدید کے طریقوں سے پراپیگنڈے کا جواب دینا نہیں سیکھا تو بہت مشکل ہوجائے گی کیونکہ یہ ہی نوجوان کل والدین، استاد، سیاست دان، سول سرونٹ وغیرہ بنیں گے، مگرجب ان کی اپنی معلومات میں ہی جھول ہوگا تو وہ بھارت کے ساتھ اور دنیا کے سامنے مختلف مسائل پر پاکستان کا دیرینہ موقف کیسے پیش کریں گے۔ وہ اپنی تاریخ کے مقدمے کا دفاع کیسے اور کیوں کر کر پائیں گے اور نئی پود کو کیا سکھائیں گے۔


مکالمہ اور اختلاف معاشرے کی صحت کے لئے ضروری ہے لیکن صرف اس وقت تک جب وہ سرخ لکیر کے پار جاکر ملک و قوم کی وحدت کی اکائی کو نقصان نہ پہنچائے اور اگر کوئی فریق بار بار حد فاضل سے آگے جارہا ہے تو پھر سمجھ لینا چاہئے کہ وہ ایسا کسی خاص مقصد کے تحت یا کسی کے اشارے پر کررہا ہے اور اس صورتحال میں دوسرے فریق کو بھی مقابلے کے لئے اپنی تمام چھوٹی بڑی خامیوں پر قابو پاکر میدان میں اترنا چاہئے ۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

یومِ پاکستان مبارک

 

اے صبحِ یومِ وطن تیری دلکشی کو سلام
جنابِ بابائے قائدؒ کی آگہی کو سلام
یہ خوابِ حضرتِ اقبالؒ کیسا رنگ لایا
الگ وطن کی فضاؤں کی روشنی کا سلام
بہت کٹھن تھا سفر رب نے کر دیا آسان
جو زخم زخم ہوئے ان کی بے بسی کو سلام
یہ دیس کلمۂ حق کی صدا سے پایا ہے
عجب کمالِ حقیقت کی بندگی کو سلام
مرے وطن تِرا پرچم سدا بلند رہے
تری وفا کے تقاضوں کی تازگی کو سلام
خدا کرے کہ یہ یومِ وطن مبارک ہو
پیامِ امن و اخوت کی چاشنی کو سلام
مرے لہو سے بقائے وطن ہو گر راشد
تو ایسی موت کو اور ایسی زندگی کو سلام

راشد منہاس

*****

 
Read 290 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter