مستحکم اور طاقت ور- بن کے رہے گا پاکستان

Published in Hilal Urdu March 2017

تحریر:محمود شام

یہ آسمان چومنے کے لئے بے تاب مینار پاکستان ہم سے کچھ کہہ رہا ہے۔
اس کے گرد پھیلا ہوا سبزہ زار۔ ہمیں کہانیاں سنانے کے لئے بے چین ہے۔
کبھی دوڑتی بھاگتی۔ زر کی طلب میں گزرتی ساعتوں سے چند لمحات نکال کر اس کے سائے میں آکر بیٹھیں اور دل کے کان لگاکر سنیں کہ یہ زبان حال سے کیا کہہ رہا ہے۔
میں تو اس سے اس وقت محو کلام ہوا تھا۔ جب یہ ابھی زیر تعمیر تھا۔ میں اس کی طرح جوان تھا۔ میرے عزائم بہت بلند تھے۔ آفاق تسخیر کرنے کی آرزو بھی رکھتا تھا اور توانائی بھی۔ میں اس کی سیڑھیاں چڑھ کر اس کی چوٹی پر پہنچ گیا تھا ۔ میں یاد کررہا ہوں کہ 361کے قریب زینے تھے۔ میں اپنے آپ پر فخر بھی کرتا ہوں کہ میں نے مینار پاکستان بنتے دیکھا۔ مزار قائد کے مختلف مراحلِ تعمیر بھی میری نگاہوں سے گزرتے رہے۔ قومی اسمبلی اور سینیٹ۔ سپریم کورٹ میری نظروں کے سامنے بنے۔


خوش قسمت بھی خیال کرتا ہوں کہ میں اپنے وطن کا ہم عمر ہوں۔ بلکہ پانچ سال بڑا ہوں۔ میں نے اس وطن کو معرض وجود میں آتے دیکھا۔ میں انبالے سے اپنے والدین اور ایک بھائی کے ہمراہ ایک مال گاڑی کے ذریعے لاہور پہنچا تھا۔ مال گاڑی کے اس ڈبّے کی چھت نہیں تھی ۔دھوپ بہت تیز تھی۔ آس پاس سے بلوائیوں کی آوازیں بھی آرہی تھیں۔ یہ سفر اندھیرے سے روشنی کی جانب تھا۔ غلامی سے آزادی کی طرف اس لئے مجھے یہ سفر کبھی نہیں بھولتا۔


خون کی گردشوں میں شامل تھا
یہ وطن دھڑکنوں میں شامل تھا
بستے گھر چھوڑ۔ چل پڑے تھے سب
اک جنوں ولولوں میں شامل تھا
جسم پہ زخم پھول لگتے تھے
درد بھی لذتوں میں شامل تھا
جب سفر تھا سفر کا حاصل بھی
راستہ منزلوں میں شامل تھا
نقش ہجرت ہیں جن کی تصویریں
میں بھی ان قافلوں میں شامل تھا
اک نیا ملک تھا خیالوں میں
عزمِ نَو بازوؤں میں شامل تھا
مال گاڑی کا وہ کھُلا ڈبہ
ان دنوں جنتوں میں شامل تھا
ماں کی آغوش اس کا حصہ تھی
باپ کی شفقتوں میں شامل تھا
اس کی تعبیر ڈھونڈتے ہیں سبھی
خواب جو رَت جگوں میں شامل تھا


مجھ جیسے بے شُمار بچے، میرے والدین جیسے لاکھوں ماں باپ ان قافلوں میں شامل تھے۔ جن کی تصویریں اخبارات میں 23مارچ اور 14اگست کو شائع ہوتی ہیں۔ جن کی فلمیں ٹی وی چینلوں پر دکھائی جاتی ہیں۔
1940 میں ہم نے ایک عزم کیا۔ برصغیر، جسے اب جنوبی ایشیا کہتے ہیں کے گوشے گوشے سے لاہور کے اس منٹو پارک میں سارے مسلمان رہنما جمع ہوئے تھے۔ قیادت قائد اعظم محمد علی جناح کی تھی۔ بے لوث، اصولوں کی پرستار، ایک پائی کرپشن کی بھی سوچ نہیں تھی۔ بنگال بھی یہاں موجود تھا یوپی بھی، دہلی بھی، پنجاب، سرحد اور سندھ سب کا ایک نعرہ تھا، ایک عزم مصمم، ایک خواب، آج کل کی اصطلاح میں ایک روڈ میپ۔
کلکتے سے لے کر پشاور تک۔ دہلی سے لے کر دالبندین تک۔ راس کماری سے لے کر کراچی تک۔ ڈھاکے سے لے کر چٹا گانگ تک نوجوان ایک ہی نعرہ بلند کرتے ہوئے نکلتے تھے۔


بٹ کے رہے گا ہندوستان
لے کے رہیں گے پاکستان


قیادت سچی تھی۔ کسی کے دل میں کھوٹ نہیں تھا۔ اس لئے 7سال میں اس خواب کو تعبیر مل گئی۔ خیال حقیقت بن گیا۔ اس وقت بھی نوجوان پیش پیش تھے۔ کسی تحریک میں نوجوان خون شامل نہ ہو تو وہ اپنی منزل نہیں پاسکتی۔ قائد اعظم نے جو روڈ میپ دیا۔ سب اس پر قدم بڑھاتے رہے۔ 23مارچ 1940کو قرارداد لاہور، منظور ہوئی جس میں مسلم اکثریتی علاقوں میں الگ ملک بنانے کا ارادہ کیا جاتا ہے۔ اور ہم 7سال میں قائد اعظم کی قیادت میں وہ منزل حاصل بھی کرلیتے ہیں۔ دُنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج 77سال بعد یہ مملکت اسلامی دُنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے۔
ہم آزاد ہیں۔ ہماری مملکت آزاد اور خود مختار ہے۔ بہت سے مشکل مراحل ہم طے کر آئے ہیں۔ بہت سے المیے بھی رونما ہوئے۔ بہت سے طوفان بھی ہم نے جھیلے۔ ہمارا اکثریتی حصہ، ہمارا ایک بازو، بھی اپنوں کی سازشوں، دشمنوں کی یلغار سے الگ ہوچکا ہے۔ لیکن ہمارے نوجوان آج بھی ایک عزم مصمم رکھتے ہیں۔ آج اگردیکھا جائے تو 1940کی نسبت حالات کہیں زیادہ سازگار، موسم کہیں زیادہ خوشگوار ہے۔ نوجوان جذبۂ تعمیر سے کہیں زیادہ سرشار، البتہ قیادت کے بحران سے دوچار۔ مگر نوجوان اپنی قیادت کے لئے خود تیار۔


اس وقت پاکستان دفاعی حوالے سے ناقابل تسخیر ہے۔ ہماری جغرافیائی حیثیت بے نظیر ہے۔ ساری دُنیا یہ کہتی ہے کہ اقتصادی طور پر یہ ایک مثالی یونٹ ہے۔ جسے اللہ تعالیٰ نے بے حساب معدنی دولت سے نوازا ہے۔
سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن سب رہنما اور راہرو پاکستان کو آگے بڑھتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ سب کا خواب یہی ہے۔ مستحکم، طاقت ور پاکستان۔


یہ اللہ تعالیٰ کی عنایت بھی ہے اور مسلح افواج کی قیادتوں کی مستقل مزاجی، بلند عزمی اور اصولوں کی پاسداری کہ ہماری تینوں افواج، برّی، بحریہ اور فضائیہ کسی بھی ترقی یافتہ ملک کی دفاعی قوت کے ہم پلہ ہیں۔ ہمارے پاس جدید ترین ہتھیار بھی ہیں اور جدید ترین عسکری تربیت بھی۔ ان دنوں ہم اسلحے اور فوجی تربیت کے لئے پہلے کی طرح کسی ایک ملک پر انحصار نہیں کرتے ہیں۔ بلکہ اپنی دفاعی پیداوار کے حامل ہو چکے ہیں۔ خود انحصاری کی منزل گر نہیںآئی تو دور بھی نہیں۔ ہماری سرحدیں محفوظ ہیں دشمن کے عزائم اب بھی جارحانہ ہیں۔ مشرقی سرحد کے ساتھ اب مغربی سرحد پر بھی ریشہ دوانیاں بڑھ گئی ہیں۔ لیکن ہماری دفاعی قوت اتنی منظم اور مستحکم ہے کہ دشمن کو کسی دخل اندازی کی ہمت نہیں ہوسکتی ہے۔ ساری بڑی طاقتوں سے ہمارے دفاعی تعلقات بھی بہت خوشگوار ہیں۔


1979کی افغان پالیسی کی بدولت ہمارے لئے مشکلات پیدا ہوئیں۔ ہمارے معاشرے میں کلاشنکوف اور ہیروئن کا زہر پھیلا۔ مگر 2001میں نائن الیون کے بعد مملکت اور مسلح افواج نے جو پالیسیاں اختیار کیں اور دہشت گردی کے خلاف جس منظّم انداز میں مزاحمت کی ہے اس کا اعتراف ساری بڑی طاقتوں نے کیا ہے۔
پوری قوم مسلح افواج پر فخر کرتی ہے اور اسے عسکری قیادت پر ہمیشہ ایک اعتماد اور بھروسہ رہتا ہے۔


دفاعی اعتبار سے ہم کسی تشویش میں مبتلا نہیں ہیں۔ اس لئے اب ہماری ساری توجہ اور توانائی پاکستان کو اقتصادی، تہذیبی،تمدنی، علمی، صنعتی حوالے سے مستحکم اور منظّم بنانے کی طرف مبذول اور مرکوز ہوسکتی ہے۔ ہم 1940کی طرح پھر اسی مینار پاکستان کے سائے میں جمع ہوکر ایک نیا روڈ میپ تشکیل دے سکتے ہیں۔ اکیسویں صدی میں پاکستان کو جہاں ہونا چاہئے وہاں لے جانے کے لئے۔ قیام پاکستان سے استحکام پاکستان کی طرف سفر تیزی سے جاری کرنا ہے۔ درمیان میں کئی غفلتیں ہوچکیں۔ بہت سے سال ضائع ہوچکے ۔ ہم دُنیا سے بہت پیچھے رہ گئے ہیں۔ لیکن یہ خلا پُر کرنا یہ پسماندگی دُور کرنا مشکل نہیں ہے۔
اکیسویں صدی علم کی صدی ہے۔ معلومات، اطلاعات، تیز ترین رابطوں کی۔ ٹیکنالوجی ہمیں ان بحرانوں سے نکلنے میں ہماری مدد کرسکتی ہے۔ ترقی یافتہ ملکوں کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں ہم خود تجربے کرنے کے بجائے ان کے تجربوں سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ بے شُمار رول ماڈل ہمارے سامنے ہیں۔ مسلمان ملکوں میں انڈونیشیا، ملائشیا، ترکی اور ڈیڑھ دو گھنٹے کے فاصلے پر دوبئی، کویت، بحرین اور مسلمانوں کا مقدس ترین ملک، سعودی عرب، اور غیر مسلم ملکوں میں ہمارا سب سے قریبی دوست چین، جو ہمارے دو سال بعد آزاد ہوا لیکن آج دُنیا کی دوسری بڑی اقتصادی قوّت بن گیا ہے۔ جس سے سارے بڑے ملک خوف زدہ ہیں۔ ان سب سے ہم بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
میں تو یوں بھی کہتا ہوں کہ ہم تحریک پاکستان نئے سرے سے چلائیں۔ وہ تحریک قیام پاکستان تھی۔ یہ ہوگی تحریک استحکام پاکستان۔


اللہ تعالیٰ کی ہم پر سب سے بڑی مہربانی یہ ہے کہ آج کا پاکستان ایک نوجوان ملک ہے۔ دُنیا کے بیشتر ممالک ہم پر رشک کرتے ہیں کہ ہماری قریباً 62فی صد آبادی نوجوان ہے۔ یعنی 15 سے 25سال کی عمر کے درمیان۔ ماہرین کے مطابق 12کروڑ پاکستانی نوجوان ہیں۔ اس عمر میں توانائی بھرپور ہوتی ہے۔ دست و بازو میں بجلیاں۔ ذہنوں میں آفاق کی تسخیر کے عزائم، انہیں جدید ترین ٹیکنالوجی سے بھی مکمل آگاہی ہے۔ وہ انٹرنیٹ پر دیکھتے رہتے ہیں کہ دوسرے ملکوں نے ترقی کیسے کی۔ وہاں کے نوجوان کیا خواب دیکھتے ہیں۔ جہاں خواب دیکھنے، تمنّائیں کرنے، اُمنگوں سے سرشار، جذبوں سے لیس 12کروڑ ہوں اسے ترقی کرنے اور استحکام کی منزل تک پہنچنے سے کون روک سکتا ہے۔ یہ عمر ہوتی ہی خواب دیکھنے اور انہیں حقیقت میں بدلنے کی ہے۔ ایک طرف خیال کی طاقت دوسری طرف جسمانی طاقت۔


موسم اچھا، پانی وافر، مٹی بھی زرخیز
جس نے اپنا کھیت نہ سینچا وہ کیسا دہقان


قائد اعظم کے افکار ہماری رہنمائی کے لئے موجود ہیں۔ اقبال کے اشعار گرمئ عشق پیدا کرنے کے لئے دستیاب ہیں۔ ہم نبی آخر الزماںؐ کی اُمت میں سے ہیں۔ اس سر زمین پر اولیاء اللہ کی رُوحانی برکتیں۔ قدم قدم پر ہیں۔ داتا گنج بخشؒ ، فرید شکر گنجؒ ، شاہ لطیفؒ ، خواجہ فریدؒ ، بلھے شاہؒ ، شہباز قلندرؒ ، سلطان باہوؒ ، بری امامؒ ، عبداللہ شاہ غازیؒ کے کلام کا فیض جاری ہے ۔


ہمیں ایک روڈ میپ درکار تھا، پاک چین اقتصادی راہداری نے بڑی حد تک نشاندہی کردی ہے۔ اب ضرورت یہ ہے کہ ہماری یونیورسٹیاں، کالج، دینی مدارس، یہ طے کریں کہ ان کے ہاں سے فارغ التحصیل پاکستانی وہ اہلیت حاصل کرکے نکلیں جس کی پاکستانی معاشرے کو ضرورت ہے۔ پاکستان میں کیا کیا پیدا ہوتا ہے، وہ ہماری ضرورت پوری کررہا ہے یا ہمیں باہر سے منگوانا پڑتا ہے۔ پاکستان کو صنعتی شعبے میں کیا کیا تیار کرنا چاہئے جو نہ صرف ہماری اپنی ضرویات پوری کرے بلکہ برآمد بھی ہوسکے۔ پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبوں کے لئے کس قسم کے ہُنر مند چاہئیں۔ جن علوم کے اطلاق کی مانگ ہے کیا وہ علوم ہماری درسگاہوں میں پڑھائے جارہے ہیں۔ کیا وہ ٹیکنیکل تربیت دی جارہی ہے۔
ہمارے المیوں نے اوربعض خود غرض، بد عنوان اور ناجائز کمائی کے خواہشمند لیڈروں نے ملک کے نوجوانوں میں مایوسی پھیلائی ہے۔ انہیں احساس کمتری میں مبتلا کیا ہے۔ وہ بعض اوقات خودکشی جیسے اقدامات کی طرف مائل ہوجاتا ہے یا منشیات کا عادی بن جاتا ہے یا پھر اُسے مسلّح مذہبی اور علیحدگی پسند تنظیمیں اپنا آلۂ کار بنالیتی ہیں۔ اسے اس خبط میں مبتلا کردیا جاتا ہے کہ جنت جانے کا راستا ہمارے مسلک پر یقین نہ کرنے والوں کو ہلاک کرنے میں ہے۔ دشمن ممالک کی خُفیہ ایجنسیاں بھی ہمارے نوجوانوں کو اپنا ایجنٹ بنالیتی ہیں۔


اجتماعی طور پر ایک جامع منصوبہ بندی نہ ہونے اور متعلقہ ذمہ دار قومی اداروں کی کوتاہی کے سبب یہ بہت بڑی قوت بھرپور انداز میں قوم کے استحکام کے لئے استعمال نہیں ہوپارہی ہے۔ بہت سا حصہ ضائع ہورہا ہے۔
ایک روڈ میپ نہیں ہے۔ یہ 12کروڑ پاکستانی صاف شفاف میٹھے پانی کا دریا ہیں۔ جس میں طغیانی بھی آئی ہوئی ہے۔ جس سے بجلی بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ بنجر زمین بھی سیراب ہوسکتی ہے۔ لیکن ہم نے اس بڑے دریا پر ضرورت کے مطابق بڑے ڈیم بھی نہیں بنائے ہیں۔ اس دریا کے پانی کو ذخیرہ کرنے کا اہتمام بھی نہیں کیا ہے۔ اس لئے سیلابی ریلوں کی طرح یہ پانی ضائع بھی ہورہا ہے۔ تباہی بھی مچارہا ہے۔ بستیوں کو تاراج بھی کررہا ہے۔
اس دریا کو قابو میں لانے کے لئے ضرورت ہے ’’ایک نوجوان پالیسی ‘‘ تشکیل دیں۔ سب کے تعاون سے۔ ساری یونیورسٹیوں’ سرکاری اور پرائیویٹ‘ سے مشاورت کی جائے، دینی مدارس بھی اپنی تجاویز دیں، ماہرین تعلیم سے بھی مشورے کئے جائیں۔


کارپوریٹ سیکٹر اور یونیورسٹیاں مل کر ایک ٹاسک فورس تشکیل دے سکتے ہیں جو ملک کی اقتصادی، عمرانی، سماجی، علمی، تہذیبی صورتِ حال، بدلتے رُجحانات کا مسلسل جائزہ لیتی رہے۔ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کے کیا اثرات مرتب ہورہے ہیں۔ پرائیویٹ ٹی وی چینلز کی خبریں، مباحثے، ٹاک شوز نوجوانوں کے ذہنوں کو کس طرح متاثر کررہے ہیں۔ ہماری منزل کیا ہونی چاہئے اور اس منزل کے حصول کے لئے کون سے راستے اختیار کئے جائیں۔
قرار دادِ پاکستان کے 77سال بعد پاکستان کو جہاں ہونا چاہئے تھا، معیشت میں، تعلیم میں، صحت میں، زراعت میں اور ٹیکنالوجی میں آیا کہ وہاں ہے یا نہیں؟ کتنے سال پیچھے ہیں؟ اس تاخیر کو کیسے دور کیا جائے؟


پاکستان کی سر زمین کے پاس وسائل بھی ہیں، حساس حیثیت بھی ۔ اگر قیادت کا بحران ہے تو یونیورسٹیاں اوردرس گاہیں قیادت کرسکتی ہیں۔ قدرتی اور انسانی وسائل دونوں کی طاقت پاکستان کو بڑی اقتصادی، تہذیبی اور علمی قوت بناسکتی ہے۔
23مارچ ہم سے یہی تقاضا کررہی ہے۔ قائد اعظم، شیر بنگال مولوی فضل حق اور دیگر اکابرین کی روحیں ہماری طرف دیکھ رہی ہیں۔ 20لاکھ سے زیادہ شہدائے پاکستان ہمیں آواز دے رہے ہیں۔ نشانِ حیدر پانے والے، سرحدوں کی حفاظت میں اپنی جانیں نثار کرنے والے فوجی افسر اور جوان، سب آج کے نوجوان کے لئے اللہ تعالیٰ سے اقبال کی زبان میں کہہ رہے ہیں


جوانوں کو مری آہ سحر دے
پھر ان شاہیں بچوں کو بال و پر دے
خدایا آرزو میری یہی ہے
مرا نورِ بصیرت عام کردے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلوں کو مرکز مہرو وفا کر
حریمِ کبریا سے آشنا کر
جسے نان جویں بخشی ہے تو نے
اسے بازوئے حیدر بھی عطا کر
۔۔۔۔۔۔
77سال پہلے نعرہ تھا
بٹ کے رہے گا ہندوستان
بن کے رہے گا پاکستان
اب یہ نعرہ ہونا چاہئے۔
مستحکم اور طاقت ور
بن کے رہے گا پاکستان

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
 
Read 324 times

2 comments

  • Comment Link Ahmad Salaar Ahmad Salaar 01 April 2017

    خون گرما دینے والی تحریر

  • Comment Link Muhammad Naeem Muhammad Naeem 20 March 2017

    بہت خوب شام صاحب۔۔ مشکل کی اس گھڑی میں ایسی ہی حوصلے والی تحریروں کی اشد ضرورت ہے

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter