قراردادِ پاکستان کا پس منظر

Published in Hilal Urdu

تحریر: ڈاکٹر صفدر محمود

میں اُن مغربی مورخین سے متفق نہیں ہوں جو محض اس وجہ سے ظہور پاکستان کو ایک فوری واقعہ قرار دیتے ہیں کہ پاکستان مختصر سے عرصے میں وجود میں آ گیا۔ تاریخ اس امر کی شاہد ہے کہ پاکستان کا ظہور مسلمان عوام اور مسلمان رہنماؤں کی طویل جدوجہد کا نتیجہ تھا۔ دراصل یہ کئی عشروں پر محیط عمل کا نقطہ عروج تھا۔ صدیوں تک ہندوؤں کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کے باوجود ہندی مسلمان ہمیشہ ایک آزاد مسلم مملکت کے خواب دیکھتے رہے۔ کیونکہ انہوں نے اس امر کا ادراک کر لیا تھا کہ متحارب اکثریت کے ہاتھوں ان کے دینی، ثقافتی اور سیاسی تشخص کو زبردست خطرات لاحق ہیں۔ اس غیریقینی اور مبہم صورت حال کو قائداعظم نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے۔ ’’ہم جانتے ہیں کہ گزشتہ بارہ صدیوں کی تاریخ ہم میں اتحاد پیدا کرنے میں ناکام رہی ہے۔ اس تمام عرصے میں ہندوستان، ہندو انڈیا اور مسلم انڈیا میں تقسیم ہوتا رہا ہے۔ اس وقت جو مصنوعی اتحاد نظر آتا ہے وہ محض برطانوی اقتدار کا نتیجہ ہے۔‘‘


مسلمانوں میں ایک علیحدہ وطن کی ضرورت کا احساس تدریجاً پیدا ہوا اور جوں جوں ان پر ہندوؤں کے عزائم اور ذہنیت کھلتی گئی‘ اس میں شدت پیدا ہوتی چلی گئی۔ اس طرح ہندوستان میں سرگرم سیاسی عوام نے انہیں اس منطقی نتیجہ پر پہنچایا ہے۔ چنانچہ 1940کی قرارداد لاہور ان کی انہی اجتماعی خواہشات کا عملی اظہار تھا۔ ایک طرح سے یہ ان کے صدیوں پرانے خواب کی تعبیر تھی اس لئے یہ قرارداد تاریکی میں بھٹکنے والے مسلمان عوام کے لئے روشنی کی کرن ثابت ہوئی اور پھر اسے ہماری تاریخ میں ایک مینارۂ نور کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ اس قرارداد نے مشکلات سے بھرپور ہماری جہدِ آزادی کی راہوں کو روشن کر دیا۔ قرارداد لاہور (جسے بعد میں قرارداد پاکستان کا نام دیا گیا) بڑی تیزی سے مسلمانوں میں مقبول ہو گئی او رمسلم لیگ کی قیادت اور کارکنوں کے لئے طاقت کا سرچشمہ ثابت ہوئی۔
مسلمان برصغیر میں ایک فاتح کی حیثیت سے آئے تھے لیکن اپنے پیشروؤں کی طرح نہ تو انہوں نے مقامی لوگوں کی تذلیل کی اور نہ ہی ان سے اچھوتوں کا سا سلوک کیا۔ وہ یہیں بس گئے۔ یہاں انہوں نے سلطنتیں قائم کیں اور اپنی نسلوں کو آباد کیا۔ وہ صدیوں ہندوستان پر حکومت کرتے رہے۔ لیکن پُرامن بقائے باہمی کے باوجود مسلمان ہندو ہر لحاظ سے دومختلف اقوام رہیں۔ البیرونی نے صدیوں پہلے کہا تھا۔ ’’ہندواور مسلمان ایک دوسرے سے قطعاً مختلف ہیں اور انہیں دور سے بھی بآسانی پہچانا جا سکتا ہے۔‘‘


یہی وہ سیاق و سباق تھے جس کے حوالے سے قائداعظم نے علی گڑھ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا:
’’پاکستان اسی روز قائم ہو گیا جب پہلا ہندو مسلمان ہوا۔‘‘
یہ برصغیر میں مسلم حکومت قائم ہونے سے بہت پہلے کی بات ہے۔


مسلمانوں کو جب تک فوجی بالادستی حاصل رہی‘ ہندو انہیں برداشت کرتے رہے۔ لیکن جیسے ہی ان کی حکومت میں انحطاط پیدا ہوا وہ سکھوں، جاٹوں اور مرہٹوں سے مل کر ہندوستان میں مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دینے پر تل گئے۔ شاہ ولی اﷲ کی تحریک اور ان کی طرف سے احمد شاہ ابدالی کو ہندوستان پر حملے کی دعوت کا اصل مقصد بھی مسلمانوں کو ان خطرات سے بچانا تھا جو ہندوستان کے افق پر منڈلا رہے تھے۔ شاہ ولی اﷲ کی تحریروں سے مترشح ہوتا ہے کہ انہیں یقین تھا کہ برصغیر میں مسلمانوں کے دین اور قومی تشخص کو بچانے کے لئے اس علاقہ کے کسی نہ کسی حصے میں مسلمانوں کی سیاسی حاکمیت اور اقتدار کا برقرار رہنا ضروری ہے۔ برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کے لئے ایک آزاد ملک اور حکومت کے خواب کی جڑیں ہماری تاریخ میں نہایت گہری تھیں۔ لیکن ہندوستان پر برطانوی اقتدار کے تسلط نے سیاسی منظر ہی بدل دیا لہٰذا مسلمانوں نے بھی اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی۔ چنانچہ وہ مشترکہ دشمن یعنی برطانیہ سے نجات حاصل کرنے کے لئے ہندو مسلم اتحاد کے بارے میں سوچنے لگے۔ سرسید پہلے مسلمان رہنما تھے جنہوں نے ہندومسلم اتحاد کے لئے کام کیا۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ہندو اور مسلمان ایک خوبصورت دلہن کی دو آنکھیں ہیں۔ ان میں سے کسی ایک کو نقصان پہنچا تو دلہن کا حسن ماند پڑ جائے گا۔


لیکن جوں جوں ان پر ہندوؤں کے عزائم کھلے‘ وہ اس نتیجہ پر پہنچے کہ دونوں اقوام زیادہ عرصے تک اکٹھی نہیں رہ سکتیں‘ ایک دن انہیں الگ ہونا ہو گا اور یہ امر مسلمانوں کے وسیع تر مفاد میں ہو گا۔ انہوں نے ہندوستان میں برطانوی جمہوری اداروں کے قیام کی اسی لئے مخالفت کی کہ ان سے ہندو اکثریت کے اقتدار کو دوام حاصل ہو جائے گا۔ سرسید کے یہ الفاظ ان کے تاریخی شعور اور فہم کا بہترین ثبوت ہیں۔
’’یہ ممکن نہیں کہ ان میں ایک قوم حاکم رہے اور دوسری محکوم بن جائے۔‘‘


قائداعظم محمد علی جناح نے بھی اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز ہندو مسلم اتحاد کے ایک مخلص حامی کی حیثیت سے کیا۔ یہاں تک کہ انہوں نے 1906 میں مسلم لیگ کے قیام اور مسلمانوں کے جداگانہ نیابت کے فیصلہ کی محض اس لئے مخالفت کی کہ ان کے نزدیک مسلمانوں کے اس اقدام سے اتحاد کے تصور کی پیش رفت کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔ ہندومسلم اتحاد کے لئے ان کی پرجوش مساعی کے نتیجہ میں 1916کے مشہور لکھنو پیکٹ پر دستخط ہوئے اور قائداعظم کو ہندومسلم اتحاد کے سفیر کا خطاب ملا۔ اگلی دو دہائیوں میں انہوں نے اپنی اس حیثیت کو برقرار رکھنے اور یقینی بنانے کے لئے بھرپور کوشش کی جس پر معاہدہ لکھنو میں اتفاق رائے ہوا تھا۔ دہلی کی مسلم تجاویز (1917) کل جماعتی مسلم کانفرنس کی قرارداد (1929) جناح کے چودہ نکات (1929) گول میز کانفرنس میں پیش کی جانے والی شرائط (1930-1933) اور کانگرسی رہنماؤں سے مذاکرات کا صرف ایک ہی مقصد اور مدعا تھا کہ مسلمانوں کے لئے ایسے تحفظات حاصل کئے جائیں کہ جن کے ذریعے ان کی جداگانہ دینی اور ثقافتی حیثیت کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔ پروفیسر شریف المجاہد کے الفاظ میں


’’ان کا مطالبہ تھا۔۔۔۔ آئین وفاقی ہو جس کے تحت فاضل اختیارات صوبوں کے پاس ہوں۔ مرکزی اسمبلی اور کابینہ میں مسلمانوں کی نیابت کم از کم ایک تہائی ہو۔ پنجاب اور بنگال میں مسلمانوں کی مستقل اکثریت تسلیم کی جائے۔ شمال مغربی سرحدی صوبے اور بلوچستان میں اصلاحات جاری کی جائیں۔ سندھ کو بمبئی سے علیحدہ کر دیا جائے۔ مسلمانوں کے لئے جداگانہ نیابت کو اور فرقہ ورانہ امور میں دوہرے ووٹ کی شق کو برقرار رکھا جائے اور آئین میں وفاق میں شامل تمام اکائیوں کی رضامندی کے بغیر کوئی تبدیلی نہ کی جائے۔‘‘


’’ان تمام مطالبات کے پس منظر میں یہ خواہش کارفرما تھی کہ ایک صحیح وفاقی آئین کے تحت جس میں تحفظ و حقوق کا مناسب اہتمام ہو‘ تو ازن قائم کرنے کے لئے چھ ہندو صوبوں کے مقابلے میں پانچ مسلم صوبے تشکیل دیئے جائیں۔ لیکن ان تمام مطالبات پر کانگریس کا ردعمل شرانگیز‘ غیرمنطقی بلکہ توہین آمیز تھا۔‘‘


دریں اثنا قائداعظم کانگریسی رہنماؤں سے بتدریج مایوس ہوتے چلے گئے۔ اس مایوسی کا آغاز کانگرس کے اجلاس منعقدہ ناگپور 1920 سے ہوا تھا جس میں قائداعظم نے کانگرس کی طرف سے گاندھی کے زیراثر نئی سیاسی حکمت عملی اپنانے کے فیصلے کی نہایت جرأت مندی سے مخالفت کی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ جب قائداعظم ناگپور سے روانہ ہوئے تو ان کی طبیعت میں تلخی اور غم و غصہ پیدا ہو چکا تھا۔ بعد ازاں مسلمانوں کو ہندو بنانے کی شدھی اور سنگھٹن تحریکوں سے شروع ہو کر گاندھی کی ستیہ گرہ، نہرو رپورٹ،کل جماعتی کلکتہ کنونشن اور سات صوبوں میں کانگریس راج کے واقعات نمودار ہوئے‘ جن سے فرقہ ورانہ فسادات کو فروغ ملا اور لکھنو پیکٹ کی پیدا کردہ دوستانہ فضا ختم ہو کر رہ گئی۔ ان واقعات نے مسلمانوں پر ہندوؤں کے اصل عزائم بے نقاب کر دیئے۔


برطانوی راج کے جانشین کی حیثیت سے چونکہ ہندوؤں نے ’’ہندوراج‘‘ قائم کرنے کا پختہ ارادہ کر رکھا تھا اس لئے دونوں قوموں کے درمیان اختلافات میں بتدریج اضافہ ہوتا چلا گیا۔ چنانچہ قائداعظم نے نہرو رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے اسے بجاطور پر ’’راستے الگ‘‘ ہونے کی دستاویز قرار دیا تھا۔ اسی طرح کانگریسی وزارتوں نے مسلمانوں میں یہ تکلیف دہ احساس پیدا کیا کہ اگر صوبوں میں کانگریسی راج کے تحت رونما ہونے والے واقعات ہندو قومی حکومت کی ایک تصویر ہیں تو پھر یقیناًاس حکومت میں مسلمانوں کے لئے کوئی جگہ نہیں ہے۔۔۔۔ اس صورت حال کا حتمی تجزیہ انتہائی مایوس کن اور تکلیف دہ تھا اور اسی تجزیے نے ہندی مسلمانوں کو مطالبۂ پاکستان پر مجبور کیا۔
ہندی مسلمان ابھی جداگانہ ملک کے دھندلے دھندلے خواب ہی دیکھ رہے تھے کہ علامہ اقبال نے 1930 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس الہ آباد سے خطاب کرتے ہوئے اپنے صدارتی خطبے میں ایک جداگانہ مملکت کا ایک واضح اور جامع تصور پیش کر دیا۔ علامہ اقبال نے مسلمانوں کے لئے جداگانہ وطن کا جو تصور پیش کیا وہ جغرافیائی اور نظریاتی عوامل پر مبنی تھا۔ انہوں نے فرمایا۔
’’میرے نزدیک پنجاب، شمالی مغربی سرحدی صوبہ، سندھ اور بلوچستان کے صوبوں کو ایک واحد مملکت میں ضم کر دینا چاہئے جسے برطانوی ایمپائریا اس سے باہر مکمل خود مختاری حاصل ہو۔ کیونکہ میرے نزدیک شمال مغربی ہندوستان میں آزاد مسلم ریاست کا قیام ہی شمال مغربی ہند کے مسلمانوں کے لئے واحد ذریعہ نجات ہے۔‘‘
اس ریاست کے نظریاتی جواز پر بحث کرتے ہوئے انہوں نے کہا


’’مسلم مملکت کا میرا یہ مطالبہ ہندوؤں اور مسلمانوں کے لئے منفعت بخش ہو گا۔ ہندوستان کو اس سے حقیقی امن اور سلامتی مل جائے گی اور اسلام کو اس سے ایسا موقع میسر آ جائے گا کہ جس سے یہ اپنے قوانین، تعلیم اور ثقافت کو پھر سے زندگی اور حرکت عطا کر سکے اور انہیں عصرِ حاضر کی روح کے قریب آنے کے قابل بنا سکے۔‘‘


گویا علامہ اقبال نے پاکستان کی صورت میں ایک ایسی مسلم ریاست کا تصور پیش کیا تھا جہاں قوانین، تعلیم اور ثقافت کو پھر سے حقیقی اسلامی سانچے میں ڈھالا اور عصر حاضر کی روح کے قریب لایا جائے گا۔
پاکستان کا تصور یکایک پیدا نہیں ہوا اور نہ ہی اچانک آسمان سے اترا تھابلکہ اس نظریئے نے بتدریج ارتقا پایا۔ اکثریتی اور اقلیتی صوبوں کے مسلم رہنماؤں کے اتفاق رائے کے لئے اس پر تفصیلی بحثیں ہوئیں تاکہ اسے ہندی مسلمانوں کا اجتماعی واحد اور آخری مطالبہ قرار دیا جا سکے۔ سندھ مسلم لیگ نے 1938میں جو قرارداد منظور کی تھی وہ مسلم رہنماؤں کے اذہان کی ٹھیک ٹھیک اور صحیح عکاسی کرتی تھی کہ وہ کیا سوچتے تھے قرارداد میں مسلمانوں کے ساتھ کانگرس کی زیادتیوں اور نانصافیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا۔


’’اس کی فرقہ ورانہ ذہنیت اور مسلم کش پالیسی کے باعث اکثریتی قوم سے کسی نیکی کی توقع نہیں کی جا سکتی۔‘‘
قرارداد میں زور دیا گیا:
’’مسلمانوں کے ہندوؤں سے جو اختلاف ہے‘ اس کا اصل منبع دین، زبان، رسم الخط، ثقافت، معاشرتی قوانین اور زندگی کے بارے میں اندازِ فکر ہے۔‘‘
پروفیسر خالد بن سعید کے الفاظ میں:
’’اس قرارداد میں مسلم لیگ نے پہلی مرتبہ سرکاری طور پر مسلمانوں اور ہندوؤں کو دو مختلف اقوام قرار دیا تھا۔‘‘
چنانچہ سندھ مسلم لیگ کانفرنس نے آل انڈیا مسلم لیگ سے سفارش کی کہ وہ ایسی آئینی سکیم تیار کرے جس کے تحت مسلمانوں کو مکمل آزادی حاصل ہو جائے۔ چنانچہ سندھ مسلم لیگ کی 1938 کی اس قرارداد کو 23مارچ 1940 کی قرارداد لاہور سمیت اس مسئلہ پر منظور کی جانے والی تمام قراردادوں پر سبقت اور فوقیت حاصل ہے۔


بہرحال 1939 میں تقسیم ناگزیر نظر آتی تھی۔ اس وقت مسلم رہنماؤں کی اکثریت اس کی قائل ہو چکی تھی۔ ستمبر 1939میں قائداعظم نے وائسرائے سے دوران گفتگو فرمایا۔’’ وہ قائل ہوچکے ہیں کہ ہندوستان کے مسئلہ کا حل اس کی تقسیم ہے۔ ‘‘آل انڈیا مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے اپنے مارچ 1939 کے اجلاس میں قائداعظم کی صدارت میں ایک کمیٹی قائم کی‘ تاکہ علامہ اقبال، چودھری رحمت علی، ڈاکٹر سید عبداللطیف اور دوسرے لیڈروں کی طرف سے پیش کی جانے والی تمام تجاویز اور مسودوں کا جائزہ لیا جائے۔ شاہ نواز ممدوٹ کے علاوہ اس کمیٹی کے دوسرے دو ممبران عبداﷲ ہارون اور سکندر حیات نے بھی اپنی طرف سے تجاویز پیش کیں۔ لیگ کمیٹی نے ان تمام تجاویز اور منصوبوں پر تفصیل سے غوروخوض کیا جس کے بعد مسلم لیگ کی ورکنگ کمیٹی نے مسلم لیگ کے لاہور اجلاس سے کچھ دیر پہلے ہونے والی میٹنگ میں ایک سکیم کی منظور دے دی جو 23مارچ 1940 کو منظور ہونے والی ’’قرارداد لاہور‘‘ کی بنیاد رکھے۔
قائداعظم نے اجلاس لاہور میں اپنی صدارتی تقریر میں ہندی مسلمانوں کی تاریخ کا نچوڑ پیش کرتے ہوئے کہا


’’ہندو اور مسلمان الگ الگ فلسفۂ مذہب رکھتے ہیں۔ دونوں کی معاشرت جدا جدا ہے اور دونوں کا ادب ایک دوسرے سے مختلف ہے۔ ان میں باہمی شادیاں نہیں ہوتیں۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ کھانا بھی نہیں کھاتے۔ وہ دو الگ تہذیبوں سے تعلق رکھتے ہیں جن کی بنیادیں متضاد تصورات پر قائم ہیں۔ ان کا تصور حیات اور طرز حیات الگ الگ ہے۔ یہ حقیقت بالکل واضح ہے کہ ہندو اور مسلمان دو مختلف تاریخوں سے وجدان اور ولولہ حاصل کرتے ہیں۔ ان کا رزمیہ ادب الگ ہے۔ ان کے مشاہیر الگ الگ ہیں اور ان کا تاریخی سرمایہ جدا جدا ہے۔ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ایک کے ہیرو دوسرے کے دشمن ہوتے ہیں اور اسی طرح ان کی فتح اور شکست ایک دوسرے کے لئے مختلف حیثیت رکھتی ہے۔


دو ایسی قوموں کو ایک نظامِ سلطنت میں جمع کر دینا جہاں ایک قوم عددی لحاظ سے اقلیت ہو اور دوسری اکثریت ہو، نہ صرف باہمی مناقشت کو بڑھائے گا بلکہ بالآخر اس نظام کی بربادی کا باعث ہو گا جو ایسے ملک کی حکومت کے لئے وضع کیا جائے گا۔ مسلمان ہر اعتبار سے ایک مستقل قوم ہیں اور انہیں ان کا الگ وطن، ان کا اپنا علاقہ، اور اپنی حکومت ملنی چاہئے۔‘‘


قراردادِ لاہور مولوی فضل الحق نے پیش کی اور 23مارچ 1940 کو منظور کر لی گئی۔ اس میں ایسی آزاد مسلم ریاست یا ریاستوں کا مطالبہ کیا گیاتھا جو ہندوستان کے شمال مغربی اور مشرقی منطقوں میں جغرافیائی لحاظ سے متصل ایسے علاقوں پر مشتمل ہوں جہاں مسلمان ہر اعتبار سے بہ تعداد آبادی اکثریت رکھتے ہوں۔ اس قرار داد میں ترمیم اس وقت کی گئی جب مسلم لیگ نے منتخب ارکان اسمبلی کے اجلاس منعقدہ دہلی 1946 میں واحد مسلم ریاست کا مطالبہ کیا۔ بہرحال قرارداد لاہور نے اسلامیان ہند کو تصورات سے نکال کر ان کے سامنے ان کی منزل متعین صورت میں پیش کر دی جو ان کے گزشتہ نصف صدی کے خوابوں کی تعبیر تھی۔ ابھی تک وہ تاریکی میں بھٹکتے رہے تھے لیکن اب انہیں غار کے دوسرے سرے پر روشنی کی کرن نظر آنے لگی تھی۔


مارچ 1940کے بعد ان کی تمام توانائیاں اس مینارۂ نُور تک پہنچنے کے لئے وقف ہو گئیں اور انہوں نے اس کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے سے گریز نہیں کیا۔ گویا یہ ان کی زندگی میں ایک انقلاب آفریں دَور کا نقطۂ آغاز تھا۔ ان کا یہ کاروانِ شوق اپنے قائد کی قیادت میں ’’اتحاد، ایمان اور تنظیم‘‘ کے جذبہ سے سرشار اس طرح آگے بڑھا کہ بالآخر اپنے تصورات اور اپنے خوابوں کے جزیرے۔۔۔ پاکستان تک پہنچ کر ہی دم لیا۔

مضمون نگار ممتاز محقق اور دانشور ہیں۔ ایک قومی اخبار میں کالم لکھتے ہیں اور متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔ پاکستانیات کے حوالے سے وہ ایک مستند شناخت رکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 181 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter