فاٹا کی پسماندگی۔ وسیع تر اصلاحات کی ضرورت

Published in Hilal Urdu March 2017

تحریر: عقیل یوسف زئی

سات قبائلی ایجنسیوں پر مشتمل پاکستان کے سرحدی علاقے یعنی فاٹا میں اصلاحات کا مطالبہ کئی دہائیوں سے چلا آرہا ہے اور مختلف ادوار میں اس مقصد کے لئے حکومت کی جانب سے تبدیلیاں یا اصلاحات لانے کے لئے کمیٹیاں بھی تشکیل دی گئیں تاہم افسوسناک امر یہ ہے کہ اصلاحات کا عمل محض اعلانات تک محدود رہا اور کسی بھی حکومت نے عملاً ایسی کوئی کوشش نہیں کی کہ اس اہم ترین جغرافیائی یونٹ کو مین سٹریم پالیٹکس یا سسٹم کا حصہ بنایا جائے اور غالباً اسی غفلت یا رویّے کا نتیجہ ہے کہ فاٹا ماضی میں نہ صرف یہ کہ انتہاپسندوں کا مرکز بنا رہا بلکہ یہاں کے لاکھوں عوام بنیادی انسانی حقوق اور ضروریاتِ زندگی سے بھی محروم رہے۔ برٹش راج نے ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت بعض دیگر نوآبادیات کی طرح فاٹا کو بھی اس مقصد کے لئے بفر زون کے طور پر تخلیق کیا کہ اس سرحدی پٹی کو برٹش انڈیا یعنی ہندوستان اور روس (سوویت یونین) کے درمیان حدِ فاصل کے طور پر استعمال میں لایا جائے اور اس مقصد کے لئے اس علاقے میں خصوصی یا کالونین قوانین بنائے گئے۔ قبائل پر ایسے قوانین اور ضابطے لاگو کئے گئے جن کی آج بھی مہذب دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ 1947 سے قبل متحدہ ہندوستان میں بھی درجنوں ایسے علاقے تھے جہاں اس نوعیت کے قوانین موجود تھے۔ تاہم آزادی کے بعد ایسے علاقوں کو نئی ریاستوں کے مروجہ قوانین کے اندر لایا گیا اور ان علاقوں کے عوام کو دوسرے علاقوں جیسے حقوق اور وسائل دیئے گئے۔ بدقسمتی سے فاٹا کو ان قانونی اور انتظامی تبدیلیوں یا اصلاحات سے بوجوہ محروم رکھا گیا اور یہ علاقے تا حال کالونین سسٹم کے ذریعے چلائے جارہے ہیں۔ یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ پاکستان کے بعض حکمرانوں نے بھی جمہوریت پسند ہونے کے باوجود جمہوری ادوار میں بھی یہاں کے عوام کو کالونین سسٹم سے نکالنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی بلکہ حالت تو یہ رہی کہ ذوالفقار علی بھٹو جیسے لیڈر نے اپنے دورِ اقتدار میں فاٹا میں بعض ایسے علاقے بھی شامل کرائے جو کہ ان کی حکومت سے قبل خیبر پختونخوا (صوبہ سرحد) کا حصہ تھے۔ ان کے دورِحکومت تک فاٹامیں ایجنسیوں کی تعداد چار یا پانچ تھی۔ انہوں نے یہ تعداد چھ یا سات کردی مگر اس کی کوئی خاص وجہ بتانے سے گریزکیا اور ایسا کرنے سے قبل متعلقہ علاقوں کے عوام سے ان کی رائے معلوم کرنے کی کوئی کوشش بھی نہ کی۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ متعدد اہم لیڈروں نے بھی فاٹا کو مین سٹریم میں لانے کی کوشش تو درکنار ان علاقوں میں موجود کالونین قوانین کو آزادی کے باوجود دوسرے علاقوں تک توسیع دینے یا پھیلانے کا رویہ اختیارنہیں کیا اور بعض ایجنسیاں70 کی دہائی میں قائم کی گئیں۔ بعض ماہرین کے مطابق جناب بھٹو نے یہ اقدامات افغانستان کے ساتھ تعلقات کے تناظر میں اٹھائے تھے۔ فاٹا کے عوام کا یہ کہہ کر جذباتی استحصال کیا جاتا رہا کہ وہ آزاد اور غیور قبائل ہیں یا یہ کہ وہ پاکستانی سرحدوں کے بے تنخواہ سپاہی یا محافظ ہیں۔ مگر ان کے بنیادی حقوق یا ضروریات کا کسی بھی حکومت نے کوئی خیال نہیں رکھا اور ان کی انسانی حقوق کی عملاً حالت یہ رہی کہ وہ 90 کی دہائی تک بالغ رائے دہی کی بنیاد پر الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے حق سے بھی محروم تھے اور یہ حق بھی کسی جمہوری حکومت یا حکمران کی بجائے مرحوم سردار فاروق احمدخان نے نگران وزیرِاعظم کے طور پر ان کو دیا۔ سال1988 کے بعد جمہوری حکومتیں تسلسل کے ساتھ آتی رہیں اور ان حکومتوں کی پارلیمانی ضروریات یعنی تشکیل میں فاٹا کے آزاد ممبران اسمبلی کا ہر دور میں بنیادی کردار رہا۔ تاہم افسوسناک بات یہ رہی کہ ان حکومتوں یا پارلیمانی قوتوں نے نومنتخب قبائلی ارکان کو دوسرے آئینی حقوق کے علاوہ اس حق سے بھی محروم رکھا کہ وہ فاٹا کے لئے کی جانے والی قانون سازی میں حصہ لیں۔ یہ غالباً دنیا کا وہ واحد علاقہ رہا جس کے نمائندے اپنے ہی علاقے یا عوام کے لئے قانون سازی میں حصہ لینے سے محروم تھے اور یہ سلسلہ تا دمِ تحریرکسی تبدیلی کے بغیر جاری ہے۔ ان کے ساتھ دوسرا مذاق یہ ہوتا رہا کہ ان کو مروجہ پارلیمانی سسٹم یا سیٹ اپ کے ذریعے چلانے کے بجائے براہِ راست صدرِ مملکت کے بعض صوابدیدی اختیارات میں دیا گیا اور کسی بھی اہم فیصلے سے قبل فاٹا کے نمائندوں‘ اسمبلی یا عوام سے ان کی رائے لینے کی ضرورت ہی ختم کردی گئی۔ فاٹا کو 70 یا 80کی دہائی میں ایک پالیسی کے تحت ان گروپوں کا مرکز بنانے کی کوشش کی گئی جو کہ افغانستان میں پاکستان مخالف سرگرمیوں کی روک تھام کے لئے قائم کئے گئے تھے تاہم اس وقت غالباً حکمرانوں کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ ایسا کرنے سے فائدے کے بجائے نقصان زیادہ ہوگا اور بعد میں80 کی دہائی میں کرم ایجنسی اور بعض دیگر علاقوں میں بعض ممالک کی پراکسی وارز کے جس سلسلے کا آغاز ہوا اس کے اثرات اور نتائج پاکستان ابھی تک بھگت رہا ہے۔ کرم ایجنسی میں فرقہ واریت کی ایسی بنیاد رکھی گئی جس نے بعد کے ادوار میں پورے ملک تک اپنی شاخیں پھیلائیں اور اس علاقے کے فرقہ ورانہ اثرات نے دوسرے علاقوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لئے رکھا۔ ڈیورنڈ لائن کے نام نہاد تنازعے کی بنیاد پر فاٹا میں افغانستان کی مبینہ مداخلت کا سلسلہ بھی کسی وقفے کے بغیر جاری رہا اور کئی دہائیوں تک حالت یہ رہی کہ افغانستان کی حکومت سے قبائل کی نہ صرف وزارت قائم رہی بلکہ یہاں کے عوام کے لئے مختلف شعبوں میں کوٹہ سسٹم بھی رکھا جاتا رہا۔ اس طریقہ کار کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ علاقہ متنازعہ ہونے کے ساتھ ساتھ اپنی نوعیت کی عجیب وغریب انتظامی حیثیت کی پیچیدگیوں کا شکار رہا اور جب افغان جہاد کی تیاریاں شروع ہوگئیں تو اس علاقے کو فرنٹ ایریا کی اہمیت حاصل ہو گئی۔

 

1947 سے قبل متحدہ ہندوستان میں بھی درجنوں ایسے علاقے تھے جہاں اس نوعیت کے قوانین موجود تھے۔ تاہم آزادی کے بعد ایسے علاقوں کو نئی ریاستوں کے مروجہ قوانین کے اندر لایا گیا اور ان علاقوں کے عوام کو دوسرے علاقوں جیسے حقوق اور وسائل دیئے گئے۔ بدقسمتی سے فاٹا کو ان قانونی اور انتظامی تبدیلیوں یا اصلاحات سے بوجوہ محروم رکھا گیا اور یہ علاقے تا حال کالونین سسٹم کے ذریعے چلائے جارہے ہیں۔

90 کی دہائی میں جب قبائل کو بالغ رائے دہی کی بنیاد پر ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا تو آج کی اصلاحات کی طرح اس وقت بھی ’’سٹیٹس کو‘‘ کے حامی عناصر نے شور مچایا کہ قبائل جمہوری نظام سے نابلد ہیں اس لئے یہ تجربہ ناکام ثابت ہوگا۔ تاہم 1997 کے الیکشن میں ریکارڈ امیدوار میدان میں نکل آئے اور تنقید کاروں کے دعوے اس وقت غلط ثابت ہوئے جب باجوڑ ایجنسی کے ایک حلقے میں نہ صرف یہ کہ پورے ملک کی سطح پر ریکارڈ ووٹ ڈالے گئے بلکہ متعدد قبائلی علاقوں میں خواتین نے بھی ووٹ پول کئے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس کامیاب تجربے کے بعد فاٹا میں اصلاحات کے لئے عملی اقدامات کئے جاتے مگر بوجوہ ایسا کرنے سے گریز کیا گیا۔ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ فاٹا کی تقریباً تمام ایجنسیاں بعد کے حالات کے باعث انتہا پسندی کے مراکز میں تبدیل ہوگئیں اور یہاں کے عوام کو جو محدود حقوق حاصل تھے وہ ان سے بھی محروم ہوگئے۔ سال 2001 کے بعد پھر سے ضرورت اس بات کی تھی کہ نئے حالات اور تقاضوں کے تناظر میں فاٹا کو مین سٹریم پالیٹکس اور سسٹم کا حصہ بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جاتے اور یہاں سے کالونین قوانین اور ظالمانہ رواجوں کا خاتمہ کیا جاتا۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ انگریز کے ایف سی آر قوانین کو فوراً ختم کیا جاتا اور اس اہم جغرافیائی علاقے کی ترقی اور خوشحالی کے لئے حقوق پیکیجز کا اعلان کیا جاتا۔ مگر ایسا کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی گئی اور جب سرحدی تبدیلیوں کے تناظر میں پاک فوج کو پہلی بار فاٹا میں تعینات کیا گیا تو علم ہوا کہ یہاں کا انفراسٹرکچر تباہ حال‘ انتہائی فرسودہ اور ناقابلِ برداشت حالات سے دوچار ہے اور یہ علاقہ (فاٹا) زندگی اور سہولیات کی دوڑ میں ملک کے دیگر علاقوں سے بہت پیچھے ہے۔ سال 2003 میں اقوامِ متحدہ کے ایک ادارے نے فاٹا کو دنیا کا پسماندہ ترین علاقہ قرار دیا اور جب عالمی اداروں نے اس کی ترقی اور انفراسٹرکچر کی بحالی کے لئے فنڈز دینے شروع کئے تو کرپٹ ترین پولیٹیکل انتظامیہ کے وارے نیارے ہوگئے اور ایک وقت میں حالت یہ رہی کہ پشاور کے گورنر ہاؤس میں پولیٹیکل ایجنٹ اور دیگر افسران کی تعیناتی کے لئے کروڑوں کی باقاعدہ بولیاں لگنی شروع ہوگئیں۔ یہ سلسلہ تاحال جاری ہے اور یہ شرمناک حقیقت سب کو معلوم ہے کہ کسی بھی پولیٹیکل ایجنٹ کی تعیناتی کے لئے تین سے دس کروڑ تک کی بولی لگائی جاتی ہے۔ نائن الیون کے بعد جو امداد آتی رہی وہ متعلقہ حکام کے لئے ایک باقاعدہ کاروبار کی شکل اختیار کی گئی اور اس کاروبار میں پشاور اسلام آباد کے متعلقہ افسران‘ قبائلی مالکان اور منتخب نمائندے پولیٹیکل انتظامیہ کے شراکت دار بنے۔ فاٹا کے ساتھ سب سے بڑی زیادتی یہ کی جاتی رہی کہ اس کو این ایف سی ایوارڈ اور دیگر فورمز کا حصہ نہیں بنایا گیا بلکہ انتظامی اور اقتصادی طور پر اسے کوٹہ سسٹم کی طرز پر چلایا جاتا رہا۔2001 کے بعد گزشتہ چند برسوں تک اتنی بڑی آبادی کو نو سے بیس ارب روپے کے انتہائی قلیل بجٹ پر ٹرخایا جاتا رہا اور اس میں بھی آدھا بجٹ کرپٹ انتظامیہ کے اکاؤنٹس میں چلاجاتا تھا۔ ایف سی آر اور ایسے دیگر قوانین کے ذریعے قدم قدم پر عوام کے بنیادی حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری رہا۔ عدالتی نظام کی حالت اتنی شرمناک رہی کہ اگر کسی باشندے نے کسی فیصلے کے خلاف اپیل کرنا ہوتی تو اسے بھی اس اتھارٹی (پولیٹیکل ایجنٹ) کے پاس جانا پڑتا تھا جس نے اسے سزا سنائی ہوتی ہے۔ عدالتی نظام نہ ہونے کے باعث لاکھوں عوام پولیٹیکل انتظامیہ کے رحم و کرم پر رہے اوراجتماعی ذمہ داری کے انتہائی فرسودہ نظام کے باعث ہر روز سیکڑوں لوگ جبرو ستم کا نشانہ بنتے گئے۔ ترقی کی حالت کیا رہی اس کا اندازہ محض اس ایک مثال سے لگایا جاسکتا ہے کہ 70 لاکھ سے زائد کی آبادی کے اتنے وسیع وعریض علاقے میں آج ایک بھی یونیورسٹی موجود نہیں ہے۔ فاٹا کی سب سے ترقی یافتہ ایجنسی یعنی خیبر ایجنسی کی حالت یہ ہے کہ فروری 2017تک یہاں کے ہسپتالوں میں ایک میں بھی سٹی سکین مشین موجود نہیں تھی۔ یوں پورے فاٹا میں ایک بھی کالج موجود نہیں ہے اور65 فیصد علاقے بجلی جیسی سہولت سے محروم ہیں۔ فوج نے علاقے میں لاتعداد منصوبے شروع کئے ہیں جن میں متعدد بڑے طبی یونٹس‘ سڑکیں اور کیڈٹ کالجز شامل ہیں مگر سول حکومتوں کی کارکردگی انتہائی مجرمانہ رہی اور حالت یہ رہی کہ حال ہی میں پاکستان سے واپس جانے والے یو این ڈی پی کے ایک کنٹری ڈائریکٹر نے اقوامِ متحدہ کو اپنی ایک رپورٹ میں بتایا کہ فاٹا اکیسویں صدی میں بھی دنیا کے پسماندہ ترین علاقوں میں سرِ فہرست ہے اور یہاں کے عوام افریقہ کے بعد پسماندہ ممالک سے بھی بہت پیچھے ہیں۔ سال2013 کے الیکشن میں فاٹا کے بعض امیدواروں نے عوام کے مسلسل اصرار پر فاٹا میں وسیع اصلاحات کے ایجنڈے پر حصہ لیا تو عوام نے ان کو بھاری مینڈیٹ سے اسمبلیوں میں بھیجا۔ اسی دوران سال 2014 کے دوران جب نیشنل ایکشن پلان کا قیام عمل میں لایا گیا تو اس کے نکات میں تقریباً تین ایسے نکات تھے جن میں کہا گیا کہ فاٹا سے انتہا پسندی اور پسماندگی ختم کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں گے اور اسے مین سٹریم کا حصہ بنایا جائے گا۔ اس عزم کو عوام اور اکثر سیاسی قوتوں کی آشیرباد حاصل رہی۔ تاہم بدقسمتی سے سول حکومت نے اس جانب کوئی خاص توجہ نہیں دی اور آپریشن سے لے کر ٹی ڈی پیز اور بحالی کے کاموں تک سب معاملات فوج کے کندھوں پر ڈالے رکھے۔ ممبران اسمبلی نے اس رویے کو سینیٹ اور قومی اسمبلی میں مخاطب کیا اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کا اصرار بڑھتا گیا تو حکومت نے اصلاحات کے لئے ایک پانچ رکنی کمیٹی قائم کر دی جس نے تین ماہ تک فاٹا کی تمام ایجنسیوں کے دورے کرکے عوام‘ منتخب نمائندوں اور صاحب الرائے حلقوں سے ان کی رائے اور تجاویز معلوم کیں اور جب حکومت کو رپورٹ پیش کی گئی تو اس کا خلاصہ یہ تھا کہ فاٹا میں وسیع تر بنیادی اصلاحات نہ صرف یہاں کے جنگ زدہ عوام بلکہ پاکستان کے امن‘ استحکام اور خوشحالی کے لئے بھی ناگزیر ہیں۔ انتظامی تبدیلی کے بارے میں تین آپریشنز تجویز کئے گئے جن میں الگ صوبے کا قیام اورصوبہ خیبر پختونخوا میں ادغام بھی شامل تھا۔ رپورٹ میں تقریباً75فیصد رائے صوبے میں فاٹا شمولیت کے حق میں سامنے آئی اور اس رائے کو اکثریتی عوامی نمائندوں کے علاوہ ملک کی تقریباً تمام بڑی سیاسی قوتوں کی کھلی حمایت حاصل ہوئی جن میں پیپلزپارٹی‘ تحریکِ انصاف‘ جماعت اسلامی‘ عوامی نیشنل پارٹی‘ قومی وطن پارٹی‘ نیشنل پارٹی اور متعدد دیگر شامل ہیں۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ جب فاٹا کے ممبران نے ادغام اور دیگر اصلاحات کے لئے کمیٹی کی سفارشات اور عوامی مطالبات کے تناظر میں ایک بل اسمبلی میں پیش کیا اور اس کو تائید حاصل ہوئی تو دوچھوٹی جماعتوں نے بوجوہ اس کی مخالفت شروع کی جس کے باعث حکومت ابہام کا شکار ہوئی اور اپنی دو اتحادی جماعتوں کے دباؤپر مصلحت یا تاخیر کا شکار ہوگئی۔ اس سے قبل صوبہ خیبر پختونخوا کی اسمبلی سے دو قراردادوں کے ذریعے متفقہ طور پر مطالبہ کیا کہ فاٹا کو صوبے کا حصہ بنایا جائے۔ جو اس جانب اشارہ تھا کہ صوبے کے عوام بھی اپنے قبائلی بھائیوں کو گلے لگانے کے لئے تیار بلکہ بے تاب ہیں۔ نئے تقاضوں اور حالات کے تناظر میں جس قومی اتفاقِ رائے کا قیام سامنے آیا ہے اس کو پاکستان کی مقتدر قوتوں کی حمایت بھی حاصل ہے کیونکہ ان کو حالات کا بخوبی ادراک ہے اور وہ چاہتی ہیں کہ فاٹا کو پُرامن‘ خوشحال اور محفوظ بنایا جائے تاہم بعض نام نہاد سیاسی قوتوں کے رویے نے معاملے کو متنازعہ بنادیا ہے جس پر قبائلی عوام کا شدید ردِ عمل سامنے آیا ہے اور وہ اپنے بنیادی حقوق کے لئے پھر سے جدوجہد کرنے نکل آئے ہیں۔

انتظامی تبدیلی کے بارے میں تین آپریشنز تجویز کئے گئے جن میں الگ صوبے کا قیام اورصوبہ خیبر پختونخوا میں ادغام بھی شامل تھا۔ رپورٹ میں تقریباً75فیصد رائے صوبے میں فاٹا شمولیت کے حق میں سامنے آئی اور اس رائے کو اکثریتی عوامی نمائندوں کے علاوہ ملک کی تقریباً تمام بڑی سیاسی قوتوں کی کھلی حمایت حاصل ہوئی

سیاسی مبصرین کا متفقہ خیال اور رائے ہے کہ مزید تاخیر یا بہانوں کے بجائے اکثریتی رائے اور مخصوص حالات کا احترام اور ادراک کرتے ہوئے فاٹا کو اندھیروں‘ فرسودہ قوانین‘ کولونین گورننس اور پسماندگی سے نکالنے کے لئے فوری اور ٹھوس اقدامات کئے جائیں اور یہاں کے عوام کو وہ حقوق دیئے جائیں جو کہ پشاور‘ لاہور‘ کراچی اور کوئٹہ کے عوام کو حاصل ہیں۔ جو اقلیتی حلقے ریفرنڈم یا الگ صوبے کا مطالبہ پیش کررہے ہیں۔ ان کے مطالبے کا نہ تو کوئی سیاسی جواز ہے اور نہ ہی ان کی تجاویز کو سیاسی یا عوامی تائید حاصل ہے۔ ان کا مقصد فاٹا کے ایک بہتر مستقبل کو پھر سے سوالیہ نشان بنانا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ علاقہ حسبِ معمول وارزون بنا رہے اور یہاں کے بے بس ‘ فرسودہ قوانین‘ کرپٹ انتظامیہ اور نان اسٹیٹ ایکٹرز کے رحم و کرم پر ہو۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ اصلاحات اتفاقِ رائے کی بجائے کثرت رائے کے فارمولے کے تحت عمل میں لائی جائیں اور ایک ایسے فاٹا کی بنیاد رکھی جائے جہاں امن و خوشحالی اور استحکام آئے۔

مضمون نگار ممتاز صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ کا پروگرام بھی پیش کرتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 882 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter