آپریشن رَدّا لفساد

Published in Hilal Urdu March 2017

تحریر: علی جاوید نقوی

پاک فوج نے ملک بھرسے دہشت گردوں کے خاتمے کے لئے آپریشن ردالفساد شروع کردیاہے،اوریہ کامیابی سے جاری ہے۔اس آپریشن کااعلان ہوا توملک بھرمیں اس کاخیرمقدم کیاگیا۔عوام کے تمام طبقات کی خواہش اورمطالبہ تھا کہ دہشت گردوں کے خلاف آپریشن کوکسی خاص علاقے تک محدود نہ رکھاجائے، دہشت گرد جہاں اورجس علاقے میں بھی چھپے ہوں انھیں نشانہ بنایا جائے۔ اب نہ صرف دہشت گردوں کاخاتمہ کیاجائے گا،بلکہ ان کے سہولت کاروں اورغیرقانونی اسلحے کاکام کرنے والوں کوبھی پکڑاجائے گا۔پاکستان کے بیس کروڑ عوام کی نگاہیں فوج پرلگی ہیں اورانھیں یقین ہے اس آپریشن کے بعد امن وامان کی صورتحال میں مزید بہتری آجائے گی۔دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عوام اورسکیورٹی اداروں نے بے مثال قربانیاں دی ہیں اورعزم وہمت کی مثالیں قائم کی ہیں،ان قربانیوں کوپوری دنیا نے سراہا ہے۔عوام کے حوصلے بھی بلند ہیں اور وہ ہرمحاذپرفوج کے ساتھ کھڑے نظرآئے ہیں۔

 

urduoptradufsad.jpgدہشت گردوں کے خلاف اب تک مرحلہ وار کئی کامیاب آپریشن ہوچکے ہیں،یہ آپریشن سوات ،باجوڑ ایجنسی،شمالی اورجنوبی وزیرستان،خیبرایجنسی اور اورکزئی ایجنسی میں کئے گئے ،ضرب عضب کے نتیجے میں کافی بہتری آئی، لیکن نیشنل ایکشن پلان پرسست روی سے عمل ہونے کے باعث بہت سے پہلو باقی رہ گئے۔دہشت گردوں کومکمل شکست دینے کے لئے ضروری ہے کہ ریاست کے چاروں عناصر،مقننہ،عدلیہ، فوج اورمیڈیاایک پیج پرہوں۔قوم ان سب کی پشت پرہو ۔دہشت گردی کے خلاف سب کی سوچ ایک جیسی ہو۔اگرکسی بھی ادارے کاکوئی شخص کسی قسم کی کوتاہی کاذمہ دار ہوتواسے بھی سزادی جائے۔ اگرہم سوفیصد نتائج چاہتے ہیں تو سکیورٹی فورسز کے ساتھ ساتھ باقی اداروں کوبھی متحرک ہوناہوگا۔خوش قسمتی سے اس وقت پوری قوم دہشت گردوں کے خلاف متحد ہے ریاست کے تمام عناصر کی سوچ ایک ہے کہ ان دہشت گردوں کے ساتھ سختی سے نمٹنا جائے اور ایک بے رحم آپریشن کیا جائے، جو دہشت گردوں کی نسلیں اور ان کے سرپرست بھی یاد رکھیں۔ماضی میں ہماری کمزوریوں کا فائدہ ہمارے دشمنوں نے اٹھایا،اب ہمیں اس کاموقع نہیں دیناچاہئے۔دوسری طرف ہمیں دشمن کی کمزوریوں سے بھی فائدہ اٹھا نے کی ضرورت ہے اب اس جنگ کوخود دشمن کے ملک میں دھکیل دینا چاہئے، بعض اوقات اینٹ کاجواب پتھرسے دیناضروری ہوجاتاہے۔ ہم سب اس بات کوبھی بخوبی جانتے ہیں کہ دہشت گرداپنی شکلیں اورطریقہ کاربدل چکے ہیں۔یہ چاہے کسی شکل اورروپ میں ہوں ان کاسدباب ضروری ہے۔ ایک اہم پہلو دہشت گردی کے لئے آنے والا پیسہ ہے۔دہشت گردوں کے مالی وسائل پرضرب لگانابھی ضروری ہے۔ غیرقانونی طریقوں سے پاکستان آنے والے پیسوں کے علاوہ کرپشن ،جرائم اوراسمگلنگ کاپیسہ بھی دہشت گردی میں استعمال ہو رہا ہے۔ اس پرکنٹرول کرنابھی بہت ضروری ہے۔ غیرقانونی پیسے کی آمد بند ہو جائے تودہشت گردوں کودستیاب وسائل بھی ختم ہوجائیں گے۔غیرقانونی پیسے کے بغیرمنظم دہشت گردی ممکن نہیں۔بہت سے کیسز میں جرائم پیشہ افراد دہشت گردوں کے ساتھی اورسہولت کاربنے ہیں ،وہ بھاری معاوضے کے عوض کچھ بھی کرنے کوتیارہوتے ہیں ۔اُنھیں اس سے غرض نہیں کہ ان دھماکوں سے ملک کو کتنا نقصان ہورہاہے،کتنے بچے یتیم ہو رہے ہیں، اورکتنے سہاگ اجڑ رہے ہیں۔


اس ساری صورتحال میں میڈیا کوبھی دیگراداروں کی طرح اپنا رول متعین کرنا ہو گا،دہشت گرداوران کے سہولت کار کسی ہمدردی کے مستحق نہیں۔بعض اوقات ایک دوسرے سے بازی لے جانے کے چکرمیں صحافتی اخلاقیات اور اصولوں کو پس پشت ڈال دیا جاتاہے۔یہ رویہ درست نہیں۔ کارکن صحافی تنظیمیں اورمیڈیا مالکان کواپنے رول کافیصلہ خودکرناہوگا۔ دہشت گردی کے خلاف اس جنگ میں کسی غلطی کی گنجائش نہیں۔ ہم سب کوایک سوچ کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا اپنی ذمہ داروں کااحساس کرناہوگا،تب ہی کامیابی ممکن ہے۔


عوامی رائے یہ ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف بے رحم آپریشن ہونا چاہئے، اگرفوجی عدالتیں مدت ختم ہونے کے فورًا بعد بحال کردی جاتیں اور دہشت گردوں کوسزائے مو ت دینے کاسلسلہ جاری رہتا توشایدانھیں دوبارہ سر اٹھانے کاموقع نہ ملتا،لیکن بدقسمتی سے بعض حلقوں کی طرف سے نہ صرف سستی کا مظاہرہ کیا گیا بلکہ فوجی عدالتوں کے خلاف بیانات دے کرانہیں متنازعہ بنانے کی کوشش کی گئی ۔ ایسے قوانین بنانے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں اورہمدردوں کوبھی سخت سزائیں دی جاسکیں ۔دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے نئی قانون سازی اوربعض قوانین میں تبدیلی ناگزیر ہے۔


پاکستان کے قبائلی عوام اوران کے نمائندے ایک عرصے سے مطالبہ کررہے ہیں کہ ان علاقوں کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔پاکستان کے موجودہ قوانین کادائرہ قبائلی علاقوں تک بڑھا دیا جائے ۔لاہور اورکراچی میں جرائم کی جوسزا ہے ،قبائلی علاقوں میں بھی وہی ہو۔بعض سیاسی جماعتیں اس حوالے سے مصلحتوں کاشکارنظرآتی ہیں۔ دنیا بھرمیں جوممالک دہشت گردی کاشکارہوئے ،وہاں سکیورٹی فورسز کااستعمال کرنے کے ساتھ ساتھ سیاسی وسماجی حوالوں سے بھی اصلاحات لائی گئیں ،قانون سازی بھی کی گئی ۔زندگی کے ہرشعبے نے اس پہلو پرتوجہ دی پھرکہیں جاکردہشت گردی پرقابوپایا گیا۔ ہمارے یہاں بدقسمتی یہ رہی ہے کہ سکیورٹی فورسز سے یہ توقع بھی کی جاتی ہے کہ وہ دہشت گردوں کوختم کرنے کے ساتھ ساتھ باقی سیاسی وسماجی معاملات کوبھی ٹھیک کریں۔جبکہ ایک مربوط نیشنل ایکشن پلان اوراختیارات کے بغیر ایساممکن ہی نہیں۔ یہ بھی دیکھا گیاہے کہ چندعلاقوں میں آپریشن شروع کیاگیاتوبچ جانے والے دہشت گرد دوسرے علاقوں میں منتقل ہوگئے۔اسے روکنے کے لئے کوئی انتظام نہیں کیا گیا۔ پنجاب کے بعض علاقوں کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ یہاں دہشت گردوں کی محفوظ پنا ہ گاہیں ہیں۔پنجاب میں رینجرز کوآپریشن کے اختیارات ملنے کے بعد امید ہے کہ دہشت گردوں اوران کے سہولت کاروں کی یہ محفوظ پناہ گاہیں ختم کردی جائیں گی۔دہشت گرد ملک بھرمیں غیرقانونی طورپرمقیم افغان مہاجرین کو اپنے مقاصد کے لئے استعمال کررہے ہیں۔ایسے مہاجرین کوواپس افغانستان بھجوا دیناچاہئے جو پاکستانیوں کی مہمان نوازی کاصلہ دہشت گردی کی شکل میں دے رہے ہیں۔دہشت گردی کی موجودہ لہرکے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں،ٹھوس معلومات اورشواہد کے بعد پاک فوج نے دہشت گردوں کے بعض ٹھکانے مکمل طورپرتباہ کردئیے ہیں،لیکن سازشوں کے اس کھیل کے جلد ختم ہونے کی توقع نہیں ۔

دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ضروری ہے کہ دہشت گردوں کوہرجگہ نشانہ بنایاجائے۔

لشکرجھنگوی ،مجلس الاحرار اورٹی ٹی پی کی ڈوریں ،افغانستان اوربھارت سے ہلائی جارہی ہیں۔

دہشت گرد تنظیموں کی سرپرست اعلی بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را ‘‘ ہے۔

اس بات کوبھی ذہن میں رکھناچاہیے کہ دشمن ،افغان فورسز کو پاکستان کے خلاف الجھاناچاہتاہے۔

دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ انھیں فنڈنگ کرنے والوں کوبھی ختم کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستانی فوج اپنی مہارت اورصلاحیتوں کے باعث دنیا کی بہترینا فواج میں شامل ہے۔

پاکستان کے 20کروڑ عوام دہشت گردی کے خاتمے کے لیے فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔

ماضی کی طرح پاکستان کا مستقبل بھی روشن ہے۔

افغانستان اورخطے میں امن قائم رکھنے کے لئے چین، پاکستان،افغانستان اورتاجکستان کے درمیان ایک فوجی معاہدہ اورالائنس موجود ہے ۔اس کاایک اہم اجلاس گزشتہ سال اگست میں ہواتھا،جس میں یہ فیصلہ کیاگیا تھا کہ چاروں ممالک خطے میں دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مل کرکام کریں گے۔چین میں ہونے والے اجلاس میں چاروں ممالک کے آرمی چیف موجودتھے۔افغان آرمی چیف نے یقین دلایا تھا کہ وہ دیگرممالک سے تعاون کریں گے۔ تاہم افغان فوج اور حکومت پربھارت کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کے باعث اس بات کاخدشہ محسوس کیا جارہاتھا کہ افغانستان دہشت گردی کے خاتمے کے لئے مؤثراقدامات نہیں کرے گا۔اب بھی اس بات کاامکان زیادہ ہے کہ افغان حکومت دہشت گردوں کے کیمپ ختم کرنے کے بجائے پاکستان کے خلاف الزام تراشی کاسلسلہ جاری رکھے ،یہ خدشہ بھی موجود ہے کہ افغان فوج، بھارتی خفیہ ایجنسی کی کسی چال کاشکارہوجائے اورپاکستان کے خلاف ہی جارحیت کربیٹھے۔یہ خطرہ بہرحال موجودہے۔ہمیں چین کے تعاون سے افغانستان کواس بات کے لئے رضامند کرنا ہو گاکہ وہ الزام تراشی اورکسی دوردراز ملک کے مفادات کاتحفظ کرنے کے بجائے اپنے عوام کے مفادات کودیکھے۔ افغان حکومت کے منفی رویے کاخمیازہ افغان عوام کوبھگتناپڑ ے گا۔افغانستان میں لشکر جھنگوی،ٹی ٹی پی اورجماعت الاحرارکے تربیتی کیمپ موجود ہیں۔ان سب دہشت گردوں کی سرپرست اعلی بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را ‘‘ ہے۔افغان حکومت کی غیرسنجیدگی کااندازہ اس بات سے بھی لگایاجاسکتاہے کہ پاکستان نے افغانستان میں موجود دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لئے ایک فہرست افغانستان کے حوالے کی توجواب میں افغان حکومت نے اپنی ایک فہرست کابل میں موجود پاکستانی سفارت کارکوپکڑا دی۔


پاکستان کے دشمن پاکستان کی اقتصادی ترقی اورکامیابیوں سے پریشان ہیں۔چین اورپاکستان کے درمیان شروع ہونے والا اقتصادی راہداری منصوبہ، سی پیک ایک گیم چینجرمنصوبہ ہے۔ بعض دشمنوں کاخیال تھا کہ پاکستان اپنے مسائل اورمشکلات پرقابونہیں پاسکے گا ،لیکن معاملہ بالکل الٹ نکلا ،پاکستان نے نہ صرف درپیش چیلنجزکا مقابلہ کیابلکہ خودکومضبوط بھی کیا۔سی پیک منصوبے نے پاکستان کے لئے ترقی کے دروازے کھول دئیے ہیں،جس سے بھارت کی نیندیں اڑگئی ہیں ۔


آپریشن ردالفساد اورپہلے کیے جانے والے آپریشنزمیں ایک بڑا اوربنیادی فرق یہ ہے کہ پہلے تمام آپریشنزٹارگٹڈ آپریشن تھے اورخاص علاقوں تک محدودرہے لیکن ردالفسادملک بھرمیں چھپے ہوئے فسادیوں کے خلاف ہے ۔سیاسی جماعتوں ،رہنماؤں اوردانشوروں اورادیبوں کے ساتھ ساتھ علمائے کرام نے بھی آپریشن ردالفساد کی حمایت کی ہے ،تمام مکاتب فکرکے علمائے کرام اس بات پرمتفق ہیں کہ دہشت گردی کرنے والے اورانھیں سہولتیں فراہم کرنے والے یادہشت گردوں کی کسی طرح بھی حمایت کرنے والے فسادفی الارض کے مرتکب ہورہے ہیں، تمام مکاتب فکرکے جید علمائے کرام نے نہ صرف فسادیوں کے خلاف فتوی دیا ہے بلکہ سکیورٹی فورسزکے شانہ بشانہ ان دہشت گردوں سے لڑنے کابھی اعلان کیاہے۔


بائیس فروری کولاہورمیں آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کی صدارت میں ہونیوالے اجلاس میں دہشت گردوں سے نمٹنے کے لئے اہم فیصلے کئے گئے۔ اس اجلاس میں پنجاب کے تمام کورکمانڈرزاورڈی جی رینجرزبھی موجود تھے۔ آئی ایس پی آر کے مطابق اس آپریشن کا مقصد دہشت گردوں کی باقیات اور دہشت گردی کے چھپے ہوئے خطرے کے خلاف بلاتفریق کارروائی کرنے کے علاوہ اب تک کی کارروائیوں میں حاصل ہونی والی کامیابیوں کو مستحکم اور سرحدوں کی سکیورٹی کو یقینی بنانا ہے۔ پاک فضائیہ، بحریہ، سول آرمڈ فورسز اور دیگر سکیورٹی و قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کی لعنت کے خاتمے کے لئے کوششیں جاری رکھیں گے۔پنجاب رینجرز کی طرف سے وسیع البنیاد سکیورٹی اور انسداد دہشت گردی کے آپریشن بھی کئے جائیں گے۔ ملک بھر میں عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھنے کے علاوہ سرحدوں کی مؤثر نگرانی پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ آپریشن ’ردالفساد‘ کے تحت ملک بھر کو اسلحے سے پاک کیا جائے گا۔ گولہ و بارود پر کنٹرول بھی کیا جائے گا۔اگران تمام نکات اورفیصلوں پرغورکیاجائے تویہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے انتہائی اہم ہیں۔


دہشت گردوں اورجرائم پیشہ افراد کے خلاف اب تک جتنے آپریشن کیے گئے ہیں اکثر کامیاب ہوئے ہیں۔اگرصرف کراچی آپریشن کاہی تنقیدی جائزہ لیں تویہ آپریشن بھی اپنے اہداف میں کامیاب رہا۔کراچی میں ٹارگٹ کلنگ میں بھی کمی آئی ہے اورکراچی کی رونقیں بھی لوٹ آئی ہیں۔ جوبازارخوف کے باعث سرشام بندہوجاتے تھے اب وہاں رات گئے تک لوگوں کی چہل پہل رہتی ہے۔ گزشتہ سال 2016 میں 2015 کے مقابلے میں ٹارگٹ کلنگ میں 72فیصد کمی آئی۔ انسپکٹرجنرل سندھ پولیس کی جاری کی جانے والی ایک رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ فورسز کے کامیاب آپریشن کے باعث کراچی میں امن وامان کی صورتحال ماضی کے مقابلے میں بہت بہترہے۔نہ صرف ٹارگٹ کلنگ بلکہ بھتہ خوری ،ڈکیتی اورقتل کے واقعات بھی بہت کم ہوگئے ہیں۔اسی طرح سوات ،شمالی وجنوبی وزیرستان،باجوڑ اورقبائلی علاقوں میں آپریشن کے بعد حالات بہتر ہورہے ہیں ،اگران اعداد وشمار کودیکھا جائے توصورتحال بہت حوصلہ افزأ ہے۔جہاں تک دہشت گردی کی موجودہ لہر کاتعلق ہے یہ ختم ہوتے دہشت گردوں اوران کے سہولت کاروں کی آخری کوشش ہے ۔ فسادیوں کے خلاف جاری آپریشن ردالفساد سے امید ہے کہ ان کاجلد خاتمہ ہوجائے گا۔قوم پورے جذبے کے ساتھ فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔پاکستان کامستقبل پاکستان کے ماضی کی طرح روشن ہے۔

اخبارات اورٹی وی چینلز سے وابستہ رہے ہیں۔آج کل ایک قومی اخبارمیں کالم لکھ رہے ہیں۔قومی اورعالمی سیاست پر آٹھ کتابیں شائع کرچکے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 716 times
More in this category: فہرست »

1 comment

  • Comment Link Naeem Naeem 23 March 2017

    Good knoweldge base article of Ali Javaid Naqvi Sb

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter