محوِ حیرت ہے چشم بینا

تحریر: مجاہد بریلوی

اسلامی ملکوں کی بادشا ہتوں کو چھوڑ کر ساری دنیا میں جو جمہوریتیں موجود ہیں اُن میں دوہی نظام رائج ہیں ایک صدارتی ہے تو دوسرا پارلیمانی نظام۔ برصغیر پاک وہند میں پارلیمنٹ کا سربراہ ہی چیف ایگزیکٹو ہوتا ہے جبکہ’’ صدر‘‘کا عہدہ بس علامتی ساہی ہے۔ امریکہ میں بظاہر صدارتی نظام ہی ہے اور اس کے لئے براہِ راست ووٹ بھی پڑتے ہیں مگر پاپولر یعنی عام ووٹروں کے مقابلے میں صدر کی کامیابی اُن 270ووٹوں پر منحصر ہوتی ہے جو 50امریکی ریاستوں کے الیکٹورل سے اُسے ملتے ہیں۔ اب یوں تو ہیلری کلنٹن پاپولر ووٹ میں 2لاکھ کے مارجن سے کامیاب ہوئیں مگر ریاستوں کے مختص الیکٹورل ووٹروں سے وہ بڑے مارجن سے پیچھے رہ گئیں۔ ٹرمپ جیسے
Out Sider
یعنی باہر کے آدمی کی پہلے مرحلے میں یعنی انٹرا پارٹی الیکشن میں 14پرانے آزمودہ کار ریپبلیکن کوشکست دے کر صدارتی نامزدگی حاصل کرنا اور پھر پاپولر ووٹنگ میں دولاکھ کم یعنی ہیلری کلنٹن کے 47.7فیصد (5کروڑ97لاکھ94ہزار ووٹ) کے مقابلے میں 47.5 فیصد (5کروڑ95لاکھ84ہزار ووٹ)لینے کے باوجود ریاستوں کے الیکٹورل ووٹ کی بنیاد پر ٹرمپ کی کامیابی نے امریکی انتخابی سسٹم پر بڑے سوال کھڑے کردیئے ہیں۔ امریکی میڈیا کے پنڈت کھل کر اسے جمہوریت کے منافی قرار دے رہے ہیں اور ٹرمپ کی کامیابی کے فوراً بعد ملک بھر میں جو مظاہرے اور پولیس سے تصادم ہورہے ہیں‘ اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ امریکی عوام
popular
ووٹنگ میں جیتنے کے باوجود محض الیکٹوریل ووٹ کی بنیاد پر کسی صدارتی امیدوار کی کامیابی سے اتنے بددل اور مشتعل ہیں کہ انہوں نے امریکی انتخابی تاریخ میں پہلی بار سڑکوں اور چوراہوں پر اپنے شدید ردِعمل کااظہار کیا ہے۔ یہ درست ہے کہ بارک اوبامہ دونوں بار یعنی 2008 اور 2012 میں بھاری اکثریت سے الیکٹورل ووٹ سے ہی کامیاب ہوئے اور شاید اسی سبب الیکشن کی رات ہیلری کلنٹن نے اپنی شکست کے بعد اپنی
popular
ووٹ سے جیت کا ذکر نہیں کیا۔ ڈونلڈٹرمپ کی بد زبانیوں بلکہ بدلگامیوں کے حوالے سے بھی کہا جاتا ہے کہ امریکی صدر چاہے کتنا ہی طاقتور کیوں نہ ہومگر اس پر یوایس اور کانگریس یعنی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان کا بڑا سخت چیک ہوتا ہے۔ کانگریس کی احتسابی کمیٹی کسی بھی صدر کو کٹہرے میں کھڑا کر سکتی ہے جس کی مثال بل کلنٹن کے مشہورِزمانہ اسکینڈل سے ملتی ہے۔ امریکی انتخابات کومہینہ ہونے کو آرہا ہے مگر 8نومبر کو جو
" upset"
ہوا ہے۔اُسے سامنے رکھتے ہوئے ساری دنیا اس بات کی منتظر ہے کہ ’’ٹرمپ‘‘نے انتخابی مہم میں جو امیگریشن کے ساتھ ساتھ ڈیموکریٹ کی بنیادی پالیسی میں تبدیلی کے دعوے کئے تھے کیا وہ اس پر عمل بھی کریں گے؟


IDENTITY CRISIS
mahvharat.jpgصحافت اورسیاست کے طالب علم کی حیثیت سے امریکی انتخابات کے حیران کن نتائج پر اگر ’’طویل‘‘ تبصرے اور تجزیئے کو دو لفظوں میں سمیٹنا چاہیں تواسے
Identity Crisis
یعنی ’’تشخص کا بحران‘‘ کہا جائے گا۔سال رواں میں چوتھی بار امریکہ آنا ہوا۔ مارچ میں نیویارک کی ایک تقریب میں تین دہائی سے مقیم پاک امریکن لائر کے صدر رمضان رانا نے پیشگوئی کی کہ اگر ڈیموکریٹ نے برنی سینڈرز کو صدرِ نامزد نہ چنا تو ری پبلیکن کا ممکنہ نامزد صدارتی امیدوار ڈونلڈ ٹرمپ
Clean Sweep
سے جیتے گا کہ امریکی عوام ان دونوں یعنی میاں بیوی کلنٹن سے سخت بیزار ہیں!چار ماہ بعد جب باقاعدہ امریکی انتخابات کے پہلے مرحلے کی کوریج کے لئے
OHIO
میں ری پبلیکن کے کنونشن میں تین دن اور پھر فلاڈلفیا میں ڈیموکریٹ کے چار روزہ کنونشن کو لمحہ بہ لمحہ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور ہزاروں کی تعداد میں نوجوان ڈیموکریٹس کو ہیلر ی سے شدید برہم پایا تو اُس وقت بھی یہ اندازہ لگانے میں مشکل پیش نہیں آئی کہ صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں 45 فیصد پارٹی کے پاپولر ووٹ حاصل کرنے والے برنی سینڈرز کو کلنٹن خاندان نے انتہائی چالبازی سے صدارتی نامزدگی سے باہر کیا ہے۔ کنونشن کے آخر میں برنی سینڈرز نے اپنے پُرجوش خطاب میں اپنے حامیوں سے درخواست کی کہ وہ ہیلری کی انتخابی مہم میں اپنا سارا زور لگادیں ورنہ ٹرمپ کی جیت کی صورت میں امریکہ کو اپنی تاریخ کے سب سے بڑے بحران کا سامنا کرنا پڑے گا کہ ’’ٹرمپ‘‘آج کے دور کا ہٹلر ہے اور جو امریکی قوم کو
Vertical
اور
Horizontal
بنیادوں پر تقسیم کردے گا۔اگر اس تقسیم کو مزید واضح کیا جائے تو اس کے لئے
Polarization
سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے جو اس سے قبل امریکی انتخابات میں نہیں دیکھا گیا۔ ڈونلڈ ٹرمپ جس کی شہرت اُس کی بے پناہ دولت، امیگرنٹس اور خواتین سے نفرت کے حوالے سے تھی۔ بہرحال ’’وہ آیا،اُس نے دیکھااور فتح کرلیا۔‘‘ ہیلری کلنٹن اور صدر بارک اوبامہ کے بارے میں واشنگٹن کے پنڈت یہ کہتے ہیں کہ انہوں نے اپنے سارے دورمیں
Deliver
نہیں کیا۔ دولت اور طاقت سے مالا مال وائٹ ہاؤس کے مکین نے جہاں امریکہ کو معاشی طور پر تباہی کے دہانے پر کھڑاکر دیا، جس کے سبب ایک کروڑ سے زیادہ امریکی غربت سے نیچے کی زندگی گزارنے پر مجبور تھے،وہیں خارجی محاذ پر لیبیا،عراق اور شام پر جس طرح چڑھائی کی گئی، اُس کے ردِعمل میں
ISIS
جیسی دہشت گرد تنظیم کا جن بوتل سے باہر آیا اور جو آج اُسامہ کی القاعدہ سے زیادہ بڑا خطرہ امریکہ، بلکہ ساری مغربی دنیا، کے لئے بن گیا۔ جہاں تک ڈونلڈ ٹرمپ کا تعلق ہے تو انہوں نے کبھی اپنے خیالات چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ اُن کے اس نعرے نے کہ ’’امریکہ کو واپس اپنا وقار دلائیں گے‘‘واقعی ہفتوں مہینوں میں امریکیوں کو جگادیا۔ اُس کے بعد انہوں نے ٹرمپ کی بڑھکوں،بلکہ گالیوں تک کو مخصوص انداز میں کندھے اچکاتے ہوئے
So What
کہہ کر درگزر کر دیا۔ نیویارک،واشنگٹن میں الیکشن سے ہفتہ بھر پہلے جو بھی افریقن،ہسپانوی، میکسیکن، عرب یا پاکستانی ملتا، اُس کا ایک ہی جواب ہوتا
’’ Trump‘‘
سوال ہی پیدا نہیں ہوتااُن کے مقابلے میں سفید فام امریکی اول تو بہت زیادہ
Vocal
نہیں ہوتے۔ اگر جواب بھی آتاتو ایک معنی خیز مسکراہٹ اور اس جملے کے ساتھ
’’Let's see‘‘
امریکی انتخابات کے نتائج جیسا کہ میں نے ابتداء میں لکھا ’’حیران کن‘‘ ہی نہیں ’’ششدر‘‘ کردینے والے تھے۔ 8نومبر یعنی انتخابات کی شام جب ابتدائی انتخابی نتائج آنا شروع ہوئے توانڈیانا میں تو80/20کا فرق تھا ہی کہ یہ ری پبلیکن کاروایتی گڑھ تھا مگر جب ڈیموکریٹ کے گڑھ فلاڈلفیا میں فرق صرف ایک دوفیصد کا آنا شروع ہوا تویہ ٹرینڈرات گئے تک جاری رہا۔ امریکہ کی 50میں سے 30ریاستوں میں ٹرمپ الیکٹورل ووٹنگ میں ساری شب سر پٹ دوڑتے رہے۔الیکشن میں کامیابی کے اگلے ہی دن ٹرمپ نے اپنے پہلے خطاب میں دوٹوک الفاظ میں کہا’’30لاکھ امیگرنٹس کو جیل جانا پڑے گا یا اپنے گھر‘‘ ٹرمپ کے اس بیان کے بعد امریکی سوسائٹی میں واضح طور پر نسلی،لسانی اورمذہبی دراڑیں پڑتی نظر آرہی ہیں۔یہ ایک
National Identity Crisis
ہے۔امریکی معاشرے پر ا س کے دیرپا اور دور رس نتائج مرتب ہوں گے۔ زیادہ بڑی بد قسمتی یہ ہے کہ پاکستان سمیت مسلم دنیا ابھی تک اس بات کا ادراک ہی نہیں کر پارہی کہ وہ ٹرمپ کی جیت پر ’’قہقہے‘‘ لگائیں یا آنسوبہائیں۔

مضمون نگار پاکستان کے ایک معروف صحافی اور تجزیہ نگار ہیں۔ آپ ایک نجی چینل پر حالات حاضرہ سے متعلق ایک پروگرام کے میزبان بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

جہاں تک ڈونلڈ ٹرمپ کا تعلق ہے تو انہوں نے کبھی اپنے خیالات چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ اُن کے اس نعرے نے کہ ’’امریکہ کو واپس اپنا وقار دلائیں گے‘‘واقعی ہفتوں مہینوں میں امریکیوں کو جگادیا۔ اُس کے بعد انہوں نے ٹرمپ کی بڑھکوں،بلکہ گالیوں تک کو مخصوص انداز میں کندھے اچکاتے ہوئے

So What

کہہ کر درگزر کر دیا۔

*****

 
Read 204 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter