ملی نغموں کی کہانی۔ پروڈیوسر کی زبانی

تحریر: محمد اعظم خان

ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران ریڈیو پاکستان لاہور نے ملی اور جنگی ترانے پیش کر کے اپنی بہادر افواج کے شانہ بشانہ ثقافتی محاذ پر ایک نئی تاریخ مرتب کی۔ جنگ ستمبر 65 کے دوران ملکہ ترنم نورجہاں کی آواز میں گیارہ نغمے پیش کئے گئے۔ یہ نغمات نہایت لگن، ایثار، قربانی اور حب الوطنی کی ترجمانی کرتے ہوئے تخلیق کئے گئے۔ یہ نغمے فوجی اور ثقافتی تاریخ کا ایک سنہرا باب ہیں۔ ستمبر 1965 کی جنگ کے دوران پاک فوج نے دشمن کو تاریخ ساز شکست سے دوچار کیا۔ جنگ ستمبر65کا جب بھی ذکر ہوتا ہے بہادر پاکستانی افواج کے ساتھ ساتھ پاکستانی فنکاروں اور شعراء کا ذکر بھی از حد ضروری ہے اس فرض میں سرفہرست ملکہ ترنم نورجہاں ہیں۔ ملکہ ترنم نورجہاں نے میرے ساتھ بطور میوزک پروڈیوسر لازوال نغمے تخلیق کئے۔ ان تمام نغموں کو پیش کرنے کا شرف مجھے حاصل ہوا۔ 6ستمبر کو جب بھارت نے رات کی تاریکی میں حملہ کیا توہمارے پاس میوزک کے حوالے سے جنگی اور ملی نغموں کا کوئی خاص میٹریل نہیں تھا۔ اس وقت کے اسٹیشن ڈائریکٹر مرحوم شمس الدین بٹ نے میرا انتخاب کیا۔ یہ میرے لئے بہت بڑا اعزاز اور امتحان تھا۔ ملکہ ترنم نورجہاں 8ستمبر کو ریڈیو اسٹیشن تشریف لائیں اور میٹنگ میں طے پایا کہ آج کا دن بھی ضائع نہیں کرنا چاہئے۔ میرے لئے بطور پروڈیوسر بہت بڑا امتحان تھا کہ کون سا نغمہ ریکارڈ کیا جائے۔ میں نے اﷲ پاک سے دعا مانگی ۔ یامالک مدد فرما۔ نعرہ تکبیر لگایا۔ مجھے فوراً ہی صوفی تبسم صاحب کا خیال آ گیا جو ہمارے سٹاف پر تھے۔ میری درخواست پر انہوں نے پہلا نغمہ میریا ڈھول سپاہیا لکھ دیا۔ اس کی کمپوزیشن میرے دوست موسیقار سلیم اقبال نے ترتیب دی۔ صرف ایک دن میں یہ نغمہ لکھا گیا۔ ریہرسل ہوئی اور جب رات کو فوری طور نشر کیا تو اس کا بہت اچھا ریسپانس ملا۔ دوسرے دن میں نے سوچا کہ کچھ کرنیل جرنیل کی بات بھی ہو جائے چنانچہ دوسرے دن ہم نے ’’میرا ماہی چھیل چھبیلا نی کرنیل نی جرنیل نی ‘‘ ریکارڈ کیا۔ چوتھے پانچویں دن جب ہمیں اپنے بہادر فوجیوں کی شہادت کی اطلاعات ملیں تو ہم نے اسی مناسبت سے یہ مقبول عام نغمہ ’’اے پتر ہٹاں تے نہیں وکدے‘‘ ریکارڈ کیا۔ ریکارڈنگ کے بعد جب یہ نغمہ میں نے، میڈم نورجہاں اور صوفی صاحب نے سنا تو ہم رونے لگ گئے۔ اس نغمے کو نشر کرنے کے بعد ہمیں بے شمار ٹیلیفون اور خطوط موصول ہوئے کہ کس قدر زبردست اور جذبات سے لبریز یہ نغمہ ریڈیو لاہور نے پروڈیوس کیا ہے۔ ان تمام نغموں کی موسیقی ملکہ ترنم نورجہاں اور میں نے مل کر ترتیب دی۔ ہمارا یہی جذبہ تھا کہ ہر حالت میں فوج کے شانہ بشانہ دشمن کو شکست سے دوچار کریں گے۔ اس وقت کے انجینئر ایم بی جیلانی نے گھر سے اپنا قیمتی مائیکروفون لا کر دیا جس سے ریکارڈنگ کی کوالٹی بہت بہتر ہو گئی۔ میڈم نورجہاں کہتی تھیں کہ اعظم صاحب میں تو ایک کمرشل آرٹسٹ تھی۔ آپ نے یہ نغمے پروڈیوس کر کے مجھے قوم کی نظروں میں ہیرو بنا دیا ہے۔ میں نے کہا میڈم آپ کے جذبے نے بھی قوم کا سرفخر سے بلند کر دیا ہے۔ بعض اوقات اچانک ہوائی حملے کا اعلان ہوتا سب لوگ ریڈیو سٹیشن کی گراؤنڈ میں خندق کے اندر چلے جاتے مگر ہم اپنے میوزیشن اور میڈم کے ساتھ اسٹوڈیو میں موجود رہتے اور اسی جذبے سے کام کرتے کہ موت جہاں بھی آنی ہے ہم اپنا کام جاری رکھیں گے۔ موسیقی سے فطرتِ انسانی کا ازلی لگاؤ ہے اور اس کا دل و دماغ پر براہ راست اثر ہوتا ہے۔ افواج پاکستان اپنے مقدس کام کی انجام دہی میں مصروف تھیں تو ہم اپنے ثقافتی محاذ پر ڈٹے ہوئے تھے۔ روزانہ ایک نیا نغمہ ماحول کے مطابق پروڈیوس کرنا میر ے لئے بہت بڑا امتحان تھا اور ملک کی سب سے بڑی فنکارہ کے ساتھ کام کرنابہت بڑا اعزاز تھا۔ سارا سارا دن یہ کام جاری رہتا۔ اکثر اوقات دیر کی وجہ سے مجھے ریڈیو اسٹیشن پر ہی سونا پڑتا۔ یہ سب کچھ وطن کی محبت کا صلہ تھا۔ ستمبر کی جنگ کے دوران تمام نغموں کی ایک مکمل کہانی ہے کہ کس طرح یہ نغمے لکھے گئے کس طرح ریکارڈ ہوئے اور کن کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کا احوال ہلال کے آئندہ شمارے میں ملاحظہ فرمائیے گا۔
(جاری ہے)

 
Read 337 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter