اسلام آباد کا پارک سکول

تحریر: جبار مرزا

ماسٹر ایوب جو پیشے کے اعتبار سے اُستاد نہیں تھے نے لفظ ماسٹر کو اتنا معتبر کر دیا ہے کہ اب ہر کوئی احتراماً انہیں ماسٹر ایوب کے نام سے پکارتا ہے۔ ماسٹر ایوب آگ بجھانے والے محکمے میں بطور فائرمین ملازم ہیں۔ پندرہ سال تک اسلام آباد کے پاک سیکرٹریٹ کی سیڑھیوں تلے راتیں گزاریں جہاں نہ کوئی دروازہ تھا اور نہ ہی چھت اور آج کل اسلام آباد کی کرسچین کالونی کے نالے پر کچے کمرے میں قیام پذیر ہیں۔ 2015 میں حسن کارکردگی کا صدارتی ایوارڈ بھی انہیں مل چکا ہے۔ جولائی 2016 میں بلوچستان کی حکومت کی دعوت پر کوئٹہ میں ایک ہفتہ اُن کے مہمان رہے۔ ماہ رواں کے آغاز پر بیکن ہاؤس سکول سسٹم کی دعوت پر لاہور میں بین الاقوامی ایجوکیشن کانفرنس میں مندوب کی حیثیت میں شرکت بھی کی۔ وہ اب تک 6ہزار بچوں کو میٹرک اور ایف اے کروا چکے ہیں۔ جس طرح ٹھیلے والے، ردی اخبار کی خریداری کی آوازیں گلی محلوں میں لگاتے پھرتے ہیں اسی طرح ماسٹر ایوب نے اسلام آباد کی گلیوں میں پھرتے، ہوٹلوں میں کام کرتے ناخواندہ بچے اور گھروں میں کام کرتی خواتین کے بچوں کو آوازیں دے دے کر اور گھوم پھر کر اکٹھا کیا اور پڑھایا۔ ماسٹر ایوب کی کوئی سکول بلڈنگ نہیں۔ کمرہ چاردیواری ڈیسک یونی فارم نہ بچوں کے ہاتھوں میں لنچ بکس۔ نہ انٹری ٹیسٹ نہ فیس حتیٰ کہ میرٹ سفارش اور عمر کی بھی قدغن نہیں۔

isbkapark.jpgعجیب کرشماتی سکول ہے۔ بس جو ماسٹر ایوب کو بے کار اور آوارہ پھرتا مل گیا وہ داخل ہو گیا۔ رجسٹر میں نام درج ہوا پڑھائی شروع۔ بارہ سال کا ایک لڑکا جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اسلام آباد کی سپرمارکیٹ کے مکئی فروشوں کو فروخت کیا کرتا تھا۔ ماسٹر ایوب نے اسے پڑھنے کا مشورہ دیا۔ اس نے گھر کی ضرورتوں اور مجبوریوں کا رونا رویا۔ ماسٹر نے کہا ٹھیک ہے۔ آئندہ میں بھی تمہارے ساتھ لکڑیاں کاٹنے جاؤں گا اور یوں میری مدد سے تمہارا جو وقت بچے گا میں اس وقت تمہیں پڑھاؤں گا۔ گزشتہ دنوں میری جب اس فرحت عباس نامی لڑکے سے ملاقات ہوئی تو اس کا بی اے کا داخلہ جا چکا تھا۔


ماسٹر ایوب نے اس قول کو ثابت کر دکھایا ہے کہ علم پیسے سے نہیں جذبے سے حاصل ہوتا ہے اور جذبے صادق ہوں تو راستے آسان ہو جاتے ہیں۔ ماسٹر ایوب کو شروع شروع میں بہت مشکلات درپیش رہیں۔ مگر حوصلے، استقامت اور صبر سے صبر ایوبؑ کی سنت ادا کر دی۔


ماسٹر ایوب کے سکول میں گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی ہیں نہ بڑے دنوں کی۔ نہ احتجاج نہ یونین۔ نہ ٹاٹ نہ بجلی ہاں بارش ہو توپھر چھٹی ہو جاتی ہے۔ کیونکہ ماسٹر ایوب کھلے آسمان تلے پڑھاتے ہیں۔ ان کا سکول پارک سکول کے نام سے جانا جاتا ہے۔ امتحان کے دنوں میں صبح 5سے سات بجے تک سپیشل کلاس بھی ہوتی ہے۔ البتہ معمول کی کلاسیں روزانہ ساڑھے تین بجے سے سات بجے تک ہوتی ہیں۔ مغرب کے بعد کلاسیں سٹریٹ لائٹ کے نیچے چلی جاتی ہیں اور لوڈ شیڈنگ کی صورت میں مغرب کے بعد چھٹی ہو جاتی ہے۔


سکول کا آغاز کلام پاک سے ہوتا ہے اور پھر قومی ترانہ پڑھایا جاتا ہے۔ لڑکوں میں اتوار کو کرکٹ اور فٹ بال کے مقابلے ہوتے ہیں اور مہینے کے دوسرے اور آخری اتوار کو لڑکیوں میں بیڈ منٹن بقول ماسٹر جی چڑی چھکا کے مقابلے ہوتے ہیں۔ کمپیوٹر کسی نے تحفہ دیا تھا جس پر بچوں کو کھولنا بند کرنا اور کمپیوٹر کی نویں دسویں کی کتاب پڑھائی جاتی ہے۔ کمپیوٹر کی بیٹری ماسٹر جی گھر سے چارج کر کے لاتے ہیں۔ البتہ کمپیوٹر لیبارٹری نہ ہونے کی وجہ سے بچوں کے سائنس کے داخلے نہیں جاتے۔ صرف میٹرک آرٹس اور ایف اے کے داخلے جاتے ہیں۔ جو بچے میٹرک ایف اے کر جاتے ہیں کوئی بانڈ تو نہیں بھرتے مگر اخلاقی پابندی ہوتی ہے کہ وہ روزانہ شام اپنے سکول پڑھانے آیا کریں گے اس طرح اب ماسٹر ایوب اکیلے نہیں بلکہ درجنوں ٹیچرز کی انہیں خدمات حاصل ہیں۔ بعض دفعہ اسلام آباد میں قائم یونیورسٹیوں کے طلبا اور اساتذہ بھی ماسٹر ایوب کے کام سے متاثر ہو کر بچوں کو ایک دو پیریئڈ پڑھانے آ جاتے ہیں۔


1982میں ایک لڑکے سے شروع ہونے والے سکول میں اب قریب قریب تین سو تک بچے زیر تعلیم رہتے ہیں۔ ماسٹر ایوب کا اوپن ائیر سکول بڑی بڑی فلاحی تنظیموں، انسانیت کی بھلائی کی دعویدار این جی اوز کے لئے چیلنج ہے۔ اسلام آباد کے سیکٹر ایف سیکستھ تھری میں قائم بغیر کسی بنیادی سہولت کے اپنی مدد آپ کے تحت چلنے والی اس عظیم درس گاہ میں سردی گرمی سے بے نیاز پھٹے پرانے کپڑوں میں ملبوس ایسے بچے پڑھنے آتے ہیں جنہیں پیٹ بھر کے کھانا بھی میسر نہیں ہوتا۔ بچے اپنی اپنی چٹائیاں ساتھ لاتے ہیں بعض ایسے بھی ہیں جو چٹائیاں لانے کی سکت نہیں رکھتے ماسٹر ایوب کے سکول کی جنوبی گلی نمبر10 میں قیام پذیر عوامی نیشنل پارٹی کے حاجی بشیر بلور، ماسٹر ایوب سے وعدہ کر گئے تھے کہ وہ ان کے سکول کے لئے پشاور سے چٹائیاں لے کر آئیں گے مگر وہ پشاور سے واپس نہ آ سکے۔ دہشت گردی کا شکار ہو کر دھماکے میں جاں بحق ہو گئے۔


ماسٹر ایوب نے نومبر 1982 میں اپنے سکول کا آغاز اسلم نامی ایک ایسے لڑکے سے کیا تھا جو اسلام آباد کی سپرمارکیٹ میں کاریں دھویا کرتا تھا۔ ماسٹر جی نے اس کے حالات زندگی جانے تو اس نے بتایا کہ وہ پانچ بھائی اور تین بہنیں ہیں وہ بھی بہن بھائیوں کی کفالت کے لئے دن بھر محنت مزدوری اور شام کو پڑھا کرتا تھا۔ انہیں لگا،کار دھونے والا لڑکا کوئی دوسرا میسر نہیں وہ خود ہیں اور یوں اسے پڑھانا شروع کر دیا۔ کاپی پنسل لے دی ۔ وہیں سڑک پر ہی سکول کا افتتاح ہو گیا۔ اگلے روز دو تین مزید مل گئے مگر انہیں وہاں سے اٹھا دیا گیا۔ بعضوں نے جاسوس سمجھا چند ایک نے قبضہ گروپ کا سرغنہ کہا ان کی حرکات پر نگاہیں گاڑ دیں۔ ماسٹرایوب اپنے وہ چند بچے لے کر سڑک کنارے سے اٹھ کر سپرمارکیٹ پوسٹ آفس کے سامنے چلے گئے۔ وہاں سے مارکیٹ والوں نے اٹھا دیا۔ وہ پھر ایف جی پرائمری سکول نمبر9کی دیوار کے پاس گئے تو وہاں گھروں کی تو تکار اورجاروب کشوں کی آزادنہ ’’اناٹومی آفیسر‘‘ گالیوں سے عاجز آ کر ماسٹر ایوب فیلڈ مارشل ایوب خان سے منسوب ایوب چوک میں اپنا بے سروسامان سکول لے گئے۔ ایسے میں بعض لوگوں نے جنونی اور پاگل کہا مگر وہ ڈٹے رہے۔ آخر کب تک۔۔۔ وہاں سے بھی انتظامیہ نے اٹھا دیا۔ اس اٹھنے اور بیٹھنے میں دو برس بیت گئے۔ بچے تیسری چوتھی جماعت تک پہنچ گئے۔ مگر کسی نے ڈھنگ اور سکون سے ایک جگہ بیٹھنے نہ دیا۔ ماسٹر ایوب اس بات پر غم ناک رہتے تھے کہ امراء اور رؤسا کے بچے تو پڑھ رہے ہیں مگر عام اور غریب آدمی کے بچے گلیوں میں آوارہ پھرتے رہتے ہیں۔۔۔ ماسٹر جی کا جذبہ صادق تھا۔ ہمت نہ ہاری اور وہ اپنے سکول کو ایف سیکستھ تھری گلی نمبر 9میں لے گئے۔ وہاں سڑک کنارے ایک چھوٹا سابے کار گراؤنڈ تھا جس میں لوگ کوڑا کرکٹ پھینکا کرتے تھے۔ ماسٹر ایوب نے وہاں کلاسوں کا آغاز کیا اس گراؤنڈ کے سامنے ممتاز شاعر احمد فراز کا گھر تھا۔ انہوں نے کھلے آسمان تلے کلاسیں دیکھیں تو ماسٹر ایوب سے ملے ان کی ہمت بندھائی بچوں سے ملے۔ نیشنل عوامی پارٹی کے بشیر احمد بلور نے کہا ماسٹر صاحب آپ کے آنے سے مجھے بے حد خوشی ہوئی۔ گراؤنڈ آپ نے صاف کروا دی، اب یہاں کوئی کوڑا کرکٹ نہیں پھینکتا۔ ماسٹر ایوب کا ایک بلیک بورڈ تھا۔ جو احمد فراز صاحب نے کہا کہ چھٹی کے بعد روزانہ جو ساتھ لے جاتے اور لاتے ہو اُن کے گھر رکھ جایا کرو۔ ایک کرسی بھی ہے جس پر ماسٹر ایوب خود بیٹھتے ہیں گاہے بہ گاہے احمد فراز وہاں آ کے بیٹھنے لگ گئے۔ بعض دفعہ بچوں سے سوال و جواب بھی کیا کرتے تھے۔


احمد فراز صاحب کی بیگم ریحانہ گل کیبنٹ ڈویژن میں جوائنٹ سیکرٹری تھیں وہ بھی کبھی کبھار بچوں کے لئے بسکٹ ٹافیاں پھل وغیرہ بھجوایا کرتیں تھی۔ لیکن ماسٹر ایوب کی مشکلات ابھی کم نہیں ہوئی تھیں۔ ماسٹرجی کی انسان دوستی پر ایک بار پھر شک کیا گیا۔۔۔ کہا گیاکہ سکول کے نام پر گراؤنڈ پر قبضہ کیا جا رہا ہے۔ عنقریب یہاں شیڈ ڈالے جائیں گے۔ پھر پلازہ بنے گا اور ماسٹر ایوب کے پیچھے چھپا چہرہ (قبضہ مافیا) سامنے آ جائے گا۔ اسلام آباد کی انتظامیہ، کیپیٹل ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کے کان کھڑے ہوئے اور انفورس منٹ ڈائریکٹوریٹ نے ماسٹر ایوب کو وہاں سے بھی اٹھا دیا۔ چند دن جب وہاں ماسٹر ایوب دکھائی نہ دیئے تو کبھی کبھار علم کے متلاشی بچے آتے اپنی درس گاہ کو حسرت بھری نظروں سے دیکھتے اور چلے جاتے۔


احمد فراز صاحب نے علاقے کے لوگوں سے ایوب ماسٹر کے بارے معلوم کروایا تو کہا گیا وہ قبضہ مافیا کا مہرا تھا۔ سی ڈی اے نے اٹھا دیا۔ احمد فراز بولے یار اسے ڈھونڈ کے لاؤ۔ وہ کوئی عام آدمی نہیں ہے۔ قوموں میں ایسے لوگ کبھی کبھی پیدا ہوتے ہیں۔ جو معاشرے ایسے لوگوں کو پہچاننے کی صلاحیت سے محروم ہوتے ہیں وہ بھانجھ ہوجاتے ہیں۔ خیر دو تین دن کی تگ و دو سے ماسٹر ایوب تلاش کر لئے گئے۔ سی ڈی اے کے چیئرمین کو بھی بلوایا گیا علاقے کے ایس ایچ او کی بھی طلبی ہوئی۔ تھانیدار نے کہا اس نے نہیں اٹھایا چیئرمین نے کہا انہیں علم نہیں ہے اور یوں 1984میں ماسٹر ایوب نے سکھ کا سانس لیا۔ پھر احمد فراز صاحب کی تجویز پر سی ڈی اے نے کچے گراؤنڈ کو پکا کروایا۔ اونچا بھی ہوا پہلے بارش کا پانی کھڑا ہو جایا کرتا تھا مگر اب خوبصورت فرش سے مزین ہے۔ آر کائیو کے اس وقت کے چیئرمین جناب زیدی صاحب نے اپنے گھر سے بجلی کے ایک بلب کی سہولت دی۔ چندے کے بغیر غریبانہ این جی اوز چلانے والے ماسٹر ایوب زندگی کے آخری سانس تک پڑھانا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ تعلیم زندگی اور موت کا مسئلہ ہے۔ اسے سنجیدگی سے لینا چاہئے۔ اگر اسے گلی محلوں تک نہ پھیلایا گیا تو ہماری بحیثیت قوم شناخت کمزور پڑ جائے گی۔


ماسٹر ایوب کے یہاں آنے والے 45فیصد بچے کسی نہ کسی ملازمت میں ہیں اس اوپن ائیر گراؤنڈ سکول میں 60فیصد بچے کچی آبادی سے اور 40فیصد سرونٹ کوارٹروں سے آتے ہیں۔ہفتے میں انہیں ایک دن شہری دفاع کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ ماسٹر ایوب بظاہر تہی دست ہیں، بے سروسامانی اور بے وسیلہ بھی ہیں، مگر وہ اس قدر مطمئن ہیں کہ رشک آتا ہے۔ ان سے جب پوچھا گیا کہ یہ سارا کچھ کیوں کرتے ہیں دن میں سرکاری نوکری شام کو سکول مغرب کے بعد بڑی لڑکیوں کو ایک گھر میں جمع کر لینا اور کہنا کہ میں اپنی جن بیٹیوں کو گراؤنڈ میں نہیں بلا سکتا کہ وہ بڑی ہوگئی ہیں۔ انہیں ایک جگہ کسی بھی طالب علم لڑکی کے گھر اکٹھا بٹھا کر پڑھاتا ہوں۔۔۔ آرام کرنے کو دل نہیں کرتا۔ کبھی گھومیں پھریں خاندان میں دوستوں میں آئیں جائیں تو ماسٹر ایوب صاحب نے کہا کہ زندگی کا کوئی مقصد ہونا چاہئے۔ کھانا پینا سونا جاگنا اور مر جانا زندگی ہے؟ زندگی تو مرنے کے بعد شروع ہوتی ہے یہ تو پڑاؤ ہے۔


ماسٹر ایوب کے چند طلبا میں سے عریبہ عباسی نے بتایا کہ وہ دن میں سکول جاتی ہے اور شام کو یہاں پڑھتی ہے۔ ٹیچر محمد رخسار نے بتایا کہ وہ پہلے ماسٹر ایوب سے پڑھ چکا ہے اور اب یہاں پڑھا رہا ہے۔ وہ گزشتہ 23سال سے اول سے آٹھویں تک کی کلاسیں لیتا ہے۔ ایک ٹیچر زینہ صداوا نے کہا کہ وہ خود بھی یونیورسٹی میں بائیو کی طالبہ ہے اور شام کو یہاں پڑھانے آتی ہے۔ زینہ صداوا نے کہا وہ اپنے ملازمین کے بچوں کو بھی پڑھاتی ہے۔ روڈ ایکسیڈنٹ کے باعث سی ڈی اے کے ایک کلرک انور کا بایاں بازو اور ٹانگ کاٹ دی گئی تھی۔ ابھی بچہ تھا بے کار گھر میں پڑا رہتا تھا۔ ماسٹر جی نے اسے پڑھانے کا بیڑہ اٹھایا اور ایف اے کروا دیا۔ یوں وہ کلرک بن گیا۔ زعفران نامی لڑکے کی والدہ گھروں میں کام کرنے جاتی تھی تو زعفران کو گھر چھوڑ جاتی تھی۔ اگر ساتھ لے جاتی تو وہ لوگ پسند نہیں کرتے تھے۔ گھر چھوڑتی تو پانچ چھ سال کا بچہ کیسے چھوڑا جاتا ماسٹر ایوب نے اسے بھی سکول بلوا لیا یوں اوپن ایئر ڈے کیئر بھی ہو گیا اور زعفران ایف اے بھی کر گیا۔ یاسمین نواز نامی لڑکی ایک چوکیدار کی بیٹی ہے اس کا والد لڑکیوں کی تعلیم کے حق میں نہیں تھا۔ ماسٹر ایوب نے قائل کیا اور وہ بارہویں تک تعلیم یافتہ ہو گئی۔ یاسمین کی خالہ نے دیکھا تو وہ بھی پڑھنے آ گئی۔ وہ بھی ایف اے کر گئی۔ اسے پی ٹی سی بھی کرایا آج کل وہ تحصیل فتح جنگ کے علاقے کتھرہل میں ایک سرکاری پرائمری سکول کی ہیڈمسٹریس ہے۔ جو لڑکے ہوٹلوں میں بیرے تھے وہ پڑھ لکھ کر اکاؤنٹنٹ اور منیجر بن گئے۔


ماسٹر ایوب کے دادا بھارت کے ضلع کرنال میں موٹر مکینک تھے۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستان کے لئے ہجرت کی اور منڈی بہاؤالدین میں آ کر آباد ہو گئے۔ ماسٹر ایوب کے والد محمد حنیف واہ فیکٹری میں ملازم تھے۔ مغل قبیلے کے ماسٹر جی کو گاؤں میں مرزا شاہ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ انہوں نے ابتدائی تعلیم اپنے والد سے اور میٹرک منڈی بہاؤالدین کے ایم بی مسلم بوائے ہائی سکول سے اور ایف اے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے کیا۔ 1971 میں سقوط ڈھاکہ کے وقت جذباتی انداز میں فوج میں سپاہی بھرتی ہو گئے۔ آرٹلری میں انتخاب ہوا مگر 1973میں ایک ایکسیڈنٹ میں زخمی ہوئے اور کیٹیگری ’سی‘ کے ساتھ فوج سے ڈسچارج کر دیئے گئے۔ 1976میں فائرمین بھرتی ہو گئے۔ 1982سے 1988تک پاکستان ڈے پریڈ میں حصہ بھی لیتے رہے۔ پانچویں گریڈ سے شروع ہونے والی نوکری گیارہویں گریڈ میں فائر انچارج ہو گئے۔ چودھویں گریڈ میں انسٹرکٹر کے لئے فائل چلی ہوئی ہے اور سروس ڈیڑھ سال باقی ہے۔ لیکن ماسٹر ایوب اب گریڈوں اور کاغذی ترقیوں کے محتاج نہیں رہے۔ بے شک ان کے اثاثے میں ایک سائیکل کے سوا کچھ بھی نہیں مگر وہ علم و نور کی صورت میں قوم کو وہ پیغام دے چکے ہیں کہ کم از کم چھ ہزار ایسے افراد ہیں جو اب چھ ہزار خاندانوں کے سربراہ ہیں۔ ماسٹر جی نے اُن کے گھروں میں جہالت کے اندھیرے ختم کر دیئے اور ابھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ نومبر کے آغاز میں داغ مفارقت دینے والے اسلم کولسری نے کہاتھا کہ
شہر میں آ کر پڑھنے والے بھول گئے
کس کی ماں نے کتنا زیور بیچا تھا
مگر اس شعر کا اطلاق ماسٹر ایوب سے پڑھنے والوں پر نہیں ہوتا بلکہ ماسٹر جی اپنی تنخواہ سے پینسلیں، ربڑ، کا پیاں لے کر بچوں کو دیتے رہتے ہیں۔ ماسٹر ایوب کو اب تک عالمی یوم اساتذہ کے موقع پر
UNESCO
کے زیراہتمام عالمی تنظیم نے پروفیسر انیتا غلام علی، پروفیسرخواجہ مسعود اور رضا کاظم سے منسوب ایوارڈ کے لئے ماسٹر ایوب کو پہلی پوزیشن کا حق دارقرار دیا تھا۔ بہترین ٹیچر کا ایوارڈ 2010 بھی انہیں دیا گیا۔ عالمی ادارے کی جانب سے گولڈ میڈل ایک لاکھ کیش ایوارڈ بھی دیا گیا۔

جبار مرزا ایک معروف صحافی اور مصنف ہیں۔ ایک قومی اخبار کے لئے کالم بھی لکھتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

عجیب کرشماتی سکول ہے۔ بس جو ماسٹر ایوب کو بے کار اور آوارہ پھرتا مل گیا وہ داخل ہو گیا۔ رجسٹر میں نام درج ہوا پڑھائی شروع۔ بارہ سال کا ایک لڑکا جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر اسلام آباد کی سپرمارکیٹ کے مکئی فروشوں کو فروخت کیا کرتا تھا۔ ماسٹر ایوب نے اسے پڑھنے کا مشورہ دیا۔ اس نے گھر کی ضرورتوں اور مجبوریوں کا رونا رویا۔ ماسٹر نے کہا ٹھیک ہے۔ آئندہ میں بھی تمہارے ساتھ لکڑیاں کاٹنے جاؤں گا اور یوں میری مدد سے تمہارا جو وقت بچے گا میں اس وقت تمہیں پڑھاؤں گا۔ گزشتہ دنوں میری جب اس فرحت عباس نامی لڑکے سے ملاقات ہوئی تو اس کا بی اے کا داخلہ جا چکا تھا۔

*****

 
Read 892 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter