تمہارے خوں سے روشن ہیں عظمتوں کے چراغ

تحریر: محمد یاسر

پاکستان نیوی کے شہید اصغر علی

اصغر علی کا شمارپاک بحریہ کے اُن سپوتوں میں ہوتا ہے جنہوں نے پاک سرزمین کے خلاف برسرپیکار دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اصغر علی نے پاک بحریہ کی شیف برانچ میں 2006 میں شمولیت اختیار کی۔ لیکن اس بہادر اور نڈر سیلر کی فطرت میں خطروں سے لڑنے اور ملکی دفاع میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کرنے کے جذبہ نے اسے ہمیشہ بے چین رکھا ۔ وہ اپنے آپ کو صف اول کے ان جانبازوں میں دیکھنا چاہتا تھا جوکسی بھی جنگی محاذ پر ہراول دستہ کا کام سرانجام دیتے ہیں۔ 2008 میں اصغر علی کو بالآخر اس وقت اپنی خواہش کو پورا کرنے کا موقع مل ہی گیاجب انہوں نے پاک بحریہ کی سپیشل سروسز گروپ کے لئے اپنے آپ کو پیش کیا اور تمام جسمانی اور طبی امتحانات پاس کرنے کے بعد سپیشل سروسز گروپ میں شمولیت اختیار کر نے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ دن اصغر علی کی پیشہ ورانہ زندگی کی صبح نو تھی۔ اپنی اس کامیابی پر وہ پھولے نہیں سما رہا تھا۔ آج وہ اپنی سابقہ برانچ کے ساتھیوں سے مبارکبادیں وصول کر رہا تھا۔ اس نے یہ خوش خبری اپنے والدین کو بتانے میں بھی کوئی تاخیر نہیں کی جنہوں نے اس کی اس خواہش کی تکمیل کے لئے بہت دعائیں کی تھیں۔

 

tumharekhoon.jpgاصغر علی کی پیشہ ورانہ زندگی میں یہ ایک انقلابی تبدیلی تھی۔ وہ آنے والے دنوں میں تربیت کے انتہائی کٹھن مراحل اور مستقبل کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے پر عزم تھا۔ پاک بحریہ کے اسپیشل آپریشنز ٹرینگ سینٹر سے ابتدائی تربیت کے بعد 2009 میں اصغر علی نے چراٹ میں پاک فوج کے اسپیشل آپریشنز سکول سے کمانڈو کورس اور پیرا ٹرینگ سکو ل، پشاور سے ہوابازی کا بنیادی کورس کیا۔ اصغر علی انتہائی پروفیشنل، محنتی اور سخت جان ہونے کے ساتھ ساتھ بہت ملنسار، رحمدل ، خدا ترس اور خوش مزاج شخصیت کے مالک تھے۔ وہ ایک ماہر سنائپر شوٹر تھا اور مختلف مقابلوں میں ایوارڈ زبھی حاصل کر چکے تھا۔ دوران تربیت ہر موقع پر پہل کرنے اور کسی بھی خطرے کوخاطر میں نہ لانے کے وصف کے باعث اللہ رکھا کے عرف سے مشہور تھا۔ شام کے اوقات میں وہ اپنے دوستوں کی مجلس میں اس شمع کی مانند تھا جس کے گرد پروانے حلقہ کناں رہتے ہیں۔ انہیں لطیفہ گوئی اور مزاحیہ نقالی میں خاص ملکہ حاصل تھا۔ وہ اپنی باتوں سے دن بھر کی سخت ٹرینگ سے ٹوٹے پھوٹے جسموں میں نئی جان ڈال دیتا تھا اور ذ ہنی تناؤ کا شکار اذہان کا ہر غم غلط کر دیتا تھا۔ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھنے والے اس نوجوان میں ہمدردی اور دوسروں کی مدد کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ 2011 میں ایک افسوس ناک حادثے میں پاک بحریہ کے ایک سیلر صابر محمد کی شہادت ہوئی تو اصغر علی نے اس کے والدین کی مالی حالت کو دیکھتے ہوئے اپنے طور پر اپنے حلقہ احباب سے ایک اچھی خاصی رقم جمع کر کے شہید کے والدین کی مالی امدداد کا بندوبست کیا۔ اصغر علی اور صابر محمد کا باہمی تعلق صرف اتنا تھا کہ وہ ایک ہی علاقے سے تعلق رکھتے تھے اور خاندانوں کی مالی حیثیت میں بھی کوئی خاص فرق نہ تھا۔


خداداد صلاحیتوں کے مالک اور باکمال اوصاف سے مزیّن یہ نوجوان سخت تربیت کی بھٹی سے نکل کر ایک جوہر نایاب بن چکا تھا۔ اصغر علی اب پاک بحریہ کے اسپیشل سروسز گروپ کے ہیڈکواٹر پی این ایس اقبال میں اپنی ڈیوٹی سر انجام دے رہا تھا۔ 22 مئی 2011 کو رات کی تاریکی میں دہشت گردوں کے ایک گروہ نے پاک بحریہ کے ائیر بیس پی این ایس مہران پر حملہ کر دیا۔ اصغر علی اس وقت پی این ایس اقبال کی بیرکس میں اپنے معمولات میں مصروف تھا جب پاک بحریہ کے کمانڈوز کو دہشت گردوں کو ختم کرنے اور قیمتی اثاثوں کو محفوظ بنانے کا مشن سونپا گیا۔ بیرکس میں موجود کمانڈوز کال ہوتے ہی پریڈگراؤ نڈ میں جمع ہو گئے جہاں سے ٹیموں کی شکل میں انہیں جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہونا تھا ۔ اصغر علی گزشتہ رات اپنی یونٹ میں ڈیوٹی پر مامور رہا تھا جس کو مدِنظر رکھتے ہوئے ڈیوٹی انچارج نے اسے ایک طرف کرتے ہو ئے کہا کہ ضرورت پڑنے پر اسے دوسری پارٹی میں روانہ کر دیا جائے گا۔ مگر ہر مشن میں پہل کرنے والے اصغر علی کے لئے یہ کیسے ممکن تھا کہ آج جب وطن کے دفاع کے لئے دشمن کا سامنا کرنے کا وقت آیا تو وہ کسی سے پیچھے رہ جائے۔ اصغر علی نے پہلی پارٹی میں روانہ ہونے کے لئے اپنے آپ کو رضاکارانہ طور پر پیش کیا اور اس کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں، جرأت و بہادری اور جواں مردی کو دیکھتے ہوئے اسے پہلی کمانڈو پارٹی میں روانہ کر دیا گیا۔


اس وقت تک جائے وقوعہ پر دہشت گرد سکیورٹی پر تعینات اہلکاروں کی جوابی کارروائی کی وجہ سے بیس پر موجود عمارتوں میں پناہ لے چکے تھے۔ آپریشن انتہائی پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکا تھا۔ دہشت گردتاریک عمارتوں کے نامعلوم کمروں میں کمین گاہیں بنانے کے بعد عام نگاہوں سے اوجھل ہو چکے تھے جبکہ وہ چاندنی رات میں باہر ہونے والی ہر نقل و حرکت کو آسانی کے ساتھ دیکھ سکتے تھے۔ یہ ایک ایسی صورتحال تھی جس سے نمٹنا صرف اسپیشل سروسز گروپ کا ہی خاصا ہے۔ کمانڈوز کو مہران بیس پر پہنچتے ہی تمام تر صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ اصغر علی ہمہ تن گوش ہو کر آپریشن کمانڈر کی ہدایا ت سن رہا رہا تھا۔ لیکن دل میں ایک عجیب بے قراری محسوس کر رہا تھا۔ ایک ایک لمحہ اس کے لیے سالوں پر محیط ہو چکا تھا۔ آج وہ وقت آن پہنچا تھا جس کے لیے اس نے اسپیشل سروسز گروپ کے لئے اپنے آپ کو پیش کیاتھا۔ وہ انتہائی بے چینی کے ساتھ انتظار کر رہا تھا کہ کمانڈ کی طرف سے حکم صادر ہو اور وہ دہشت گردوں پر ٹوٹ پڑے۔ احکامات ملتے ہی اصغر علی غازی یا شہید کا نعرہ بلند کرتے ہوئے اپنی ٹیم کے ساتھ اس عمارت کی طرف بڑھا جس میں دہشت گرد پناہ لے چکے تھے۔ اصغر علی نے نہایت جواں مردی کے ساتھ دہشت گردوں پر تابڑ توڑ حملے کئے۔ اس باصلاحیت ،پیشہ ور، بلند حوصلہ اور نڈر کمانڈونے دہشت گردوں کو عمارت کے ایک کونے تک محدود کر دیا تھا۔ بالآخر پسپائی اختیار کرتے ہوئے دہشت گرد ایک سکواڈرن کی فلائٹ لائین میں چھپنے پر مجبور ہو گئے۔ اصغر علی دہشت گردوں کو اپنے منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے ان پر فیصلہ کن وار کرنے کے لئے آگے بڑھا کہ اپنی موت کو یقینی دیکھتے ہوئے دہشت گردوں نے بے بسی کے عالم میں ہینڈ گرنیڈ سے اس پر حملہ کر دیا۔ اصغر علی اپنے ساتھیوں کے آگے ڈھال بن گیا لیکن اس دوران وہ شدید زخمی ہو گیا۔ بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور ہمیشہ کے لئے امر ہو گیا۔


اصغر علی کی شہادت نے پاک بحریہ کے کمانڈوز کو ایک ولولۂ تازہ بخشا۔ انہوں نے مزید شدت کے ساتھ دہشت گردو ں کی کمین گاہوں پر یلغار کی اور انہیں واصل جہنم کردیا۔ اصغر علی نے اپنی جوانی میں جان کا نذرانہ پیش کر کے وطن دشمنوں کے عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ اس عظیم قربانی کے اعتراف میں اصغر علی شہید کو ستارہۂ بسالت سے نوازا گیا۔


اصغر علی شہید 18 مئی 1987کو خیبرپختونخوا کے ضلع لکی مروت کے ایک گاؤں بلند خیل میں شادی خان کے ہاں پیدا ہوئے۔ اصغر علی کے والد بہت غریب تھے اور کھیتی باڑی کر کے گھر کا چولہا جلانے کا سامان کرتے تھے۔جوان بیٹے کا جسد خاکی جب آبائی گھر پہنچا تو غموں کے پہاڑ ٹوٹنا تو ایک فطری عمل تھا۔ بوڑھے والدین کا سہارا ظاہراً ان سے جدا ہو چکا تھا۔ مگررنج و غم کے ساتھ ساتھ ایک اُمید، ایک حوصلہ ، ایک جذبہ، ایک چمک اور ایک احساسِ تفاخر بوڑھی آنکھوں میں دیکھا جا سکتا تھا۔ اصغر علی کی شہادت نے انہیں اک نئے یقین، حوصلے اورفخرسے ہمکنار کر دیا تھا۔ وہ فخرتھااس سلطنت خداداد کے تحفظ کا جس کی گواہی ان کے بیٹے نے اپنی جان کی قربانی پیش کر کے دی تھی۔ انہیں اپنے بیٹے کی جرأت اور بہادری پر فخر تھا جس نے ارض پاک کے دفاع کے لئے دشمنوں کا جوانمردی کے ساتھ مقابلہ کیا اور تاجِ شہادت اپنے سر پر سجا لیا۔ شہید کے والد کا کہنا ہے کہ پاکستان پر میرا ایک بیٹا تو کیا چاروں قربان ہو جائیں تو غم نہیں۔ اصغر علی کی شہادت کے بعد اس باہمت والد نے اپنے دوسرے بیٹے کو بھی مادرِ وطن کے دفاع کے لئے وقف کر دیا۔ اصغر علی کے چھوٹے بھائی ہستی خان نے اپنے بھائی کے مشن کو جاری رکھنے کے لئے پاک بحریہ میں شمولیت اختیار کی جو آج وطن کی بحری سرحدوں کی پاسبانی کے فرائض سرانجام دے رہا ہے۔ پاکستانی قوم اور پاک بحریہ کے آفیسرز ، سی پی اوز/سیلرز اور سویلینز نہ صرف ان بہادر بیٹوں کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں بلکہ ان عظیم حوصلہ مند والدین کو بھی سلام پیش کرتے ہیں جن کی کوکھ سے ان سپوتوں نے جنم لیا اور جن کی آغوش محبت میں وہ پروان چڑھے۔ یہ وہ عظیم والدین ہیں جو اپنی محبتوں اور چاہتوں کے عین بامِ عروج پر لٹ جانے کے باوجود نہ شکستہ دل ہوئے اور نہ پست حوصلہ ہوئے۔

 
Read 200 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter