ایک فضائی محافظ۔

تحریر: محمد شاہد

ایک فضائی محافظ۔ سکواڈرن لیڈر راجہ تنویر احمد شہید

aikfzai.jpg

ضلع کوٹلی آزادکشمیر کا ایک ایسا علاقہ ہے جو اپنی زرخیزی میں بے مثال ہے جس کی مٹی سونا، اور پانی امرت ہے۔ جہاں آج بھی زعفران کاشت کیا جاتا ہے اور جس کے نظاروں میں شادابی اور وسعت ہے۔ اسی سرزمین پر 24جنوری 1985 کو راجہ کرم داد کے گھر ایک بچے کی پیدائش ہوئی جس کا نام راجہ تنویر احمد رکھا گیا۔ کون جانتا تھا کہ راجہ کرم داد کے غریب سے گھرانے میں پیدا ہونے والا یہ بچہ آنے والے دنوں میں محنت کے بل بوتے پر پاک فضائیہ میں ایک پائلٹ کی حیثیت سے شامل ہو گا اور پاک سرزمین کی فضاؤں کی حفاظت کرتے ہوئے اپنی جان جاں آفرین کے حوالے کر کے جام شہادت نوش کرے گا۔
راجہ تنویر کو بچپن ہی سے جہازوں سے خاص لگن تھی اس شوق کی تسکین کے لئے وہ کاغذ کے ایف سولہ اور میراج طیارے بناتے اور جو انہیں پسند آتا اپنے سٹڈی روم میں رکھ لیتے۔ کاغذ کے جے ایف سولہ بنانے کے شوق نے انہیں
JF-17
تھنڈر چلانا سکھایا اور وہ ایک بہترین پائلٹ بن کر ابھرے۔ ایف ایس سی تک کی تعلیم کشمیر سے ہی حاصل کرنے کے بعد انہوں نے اپنے بچپن کے شوق کے حصول کے لئے پاک فضائیہ کا رخ کیا۔


راجہ تنویر احمد نے اپریل 2003 میں پاک فضائیہ میں بطور پائلٹ آفیسر شمولیت اختیار کی اور ملک اور قوم کی خدمت کو اپنا شعار بنایا۔ یہ داستان ایک بہادر اور نڈر آفیسر کی ہے۔ جس نے ابتدائی ٹریننگ میں ہی اعلیٰ انداز سے فضاؤں کو عبور کیا۔ دوران ٹریننگ بے شمار انعامات بھی حاصل کئے۔ رسال پور فضائیہ ٹریننگ سنٹر میں اپنا لوہا منوایا اور 117 جی ڈی پی کورس سے بطور فلائنگ آفیسر نمایاں پوزیشن حاصل کرتے ہوئے پاس آؤٹ ہوئے۔
خدا کی وحدانیت پر یقین رکھنے، شریعت محمدیؐ پر عمل پیرا ہونے اور جذبہ جواں رکھنے والے اس فرزند خاص کی بھی ایسی داستان حیات ہے جس نے اپنے نصب العین کو سامنے رکھتے ہوئے باقاعدہ فلائنگ کا آغاز کیا۔ جذبہ شہادت سے سرشار اس مجاہد ملت نے خوش اسلوبی سے اپنے فرائض عسکری سرانجام دینے شروع کئے۔ راجہ تنویر احمد نے جنگی تدبیروں اور فضاؤں میں قلابازیاں لگانے کی مختلف مہارتیں سیکھیں اور اپنے آپ کو فنی تربیت کے حصول سے مزین کیا تاکہ جب مادروطن کی سرحدوں کو کوئی خطرہ درپیش ہو توملکی فضاؤں کی حفاظت کا فریضہ سرانجام دے سکے۔
راجہ تنویراحمد پاک فضائیہ کے ایک منجھے ہوئے پائلٹ تھے۔ ترقی کا زینہ چڑھتے ہوئے وہ اب ایک سکواڈرن لیڈر تھے۔ انہوں نے مختلف قسم کی ایکسرسائز میں بھرپور حصہ لیا اور اپنی قابلیت کے بھرپور جوہر دکھائے۔ وہ میراج طیارے سے لے کر
JF-17
تھنڈر تک مختلف طیارے ہوا میں اڑانے کی مکمل صلاحیت رکھتے تھے۔ انہوں نے نیشنل اور انٹرنیشنل لیول پر بہت سے کورسز کئے اور نمایاں پوزیشنز حاصل کیں۔
ایک روز سکواڈرن لیڈر راجہ تنویراحمد معمول کی پرواز پر تھے ان کا میراج طیارہ فضاؤں کا سینہ چیرتا اور بادلوں کے در میان فراٹے بھرتا ہوا محو پرواز تھا کہ اچانک اس میںaikfzai1.jpg فنی خرابی پیدا ہو گئی۔ اس فنی خرابی کو ٹھیک کرنے کے لئے پائلٹ نے سرتوڑ کوشش کی۔ اس بہادر سپوت کے پاس یہ چوائس موجود تھی کہ وقت پر طیارے سے
Eject
کر جاتا اور اپنی جان بچا لیتا۔ تاہم اس صورت طیارے کے آبادی کے اوپر گرنے کے بہت امکانات تھے اور کئی معصوم جانوں کے ضیاع کا اندیشہ تھا۔ سکواڈرن لیڈر راجہ تنویر کے پاس چند لمحے تھے اور کٹھن فیصلہ۔ اپنی جان کا بچاؤ تھا یا معصوم جانوں کی حفاظت۔ پاک افواج کی ٹریننگ اور جذبہ غالب آیا۔ فرض کی پکار جیت گئی۔ شہادت کی لگن نے غلبہ پایا اور سکواڈرن لیڈر راجہ تنویر نے آخری لمحے تک جہاز کو قابو کرنے کی اور آبادی سے دُور رکھنے کی کوشش جاری رکھنے کا فیصلہ کیاآخرکار گڈاب کے مقام پر مسرور بیس سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر ایک گاؤں کے قریب جا گرا اور سکواڈرن لیڈر راجہ تنویراحمد اپنی زندگی کا سفر مکمل کرتے ہوئے اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔


سکواڈرن لیڈر راجہ تنویراحمد شہید اکثر اپنے دوستوں سے جہاد کا تذکرہ کرتے تھے اور اپنی زندگی کی ہر خواہش پوری کرنے کے لئے ترجیحاً مجاہدانہ زندگی پسند کرتے تھے۔ اﷲتعالیٰ نے اُن کی خواہش کو پورا کیا اور شہادت کا تحفہ نصیب کیا۔ اﷲسبحانہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین! شہید کی فیملی کے لئے خراج تحسین اور ان کی اہلیہ کی بہادری اور جرات کو سلام جس نے کم عمری میں یہ صدمہ برداشت کیا۔
سکواڈرن لیڈر راجہ تنویراحمد شہید کا جسد خاکی سی - 130 پر راولپنڈی چکلالہ ائیر بیس لایا گیا۔ جہاں شہید کی نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ پھر راجہ تنویراحمد کا جنازہ راولپنڈی سے آبائی گاؤں کوٹلی آزادکشمیر کے لئے روانہ ہوا۔ لوگ شہید کی عظمت کو سلام پیش کر رہے تھے۔ کوٹلی میں سول انتظامیہ کی جانب سے جنازہ پڑھانے کا بندوبست کوٹلی شہر کے سب سے بڑے ہوائی گراؤنڈ میں کیا گیا۔ کوٹلی آزادکشمیر میں یہ ایک تاریخی جنازہ تھا جس میں پاک فوج‘ پاک فضائیہ اور پاک نیوی کی بڑی تعداد کے علاوہ متعدد سیاسی و سماجی شخصیات نے بھی شرکت کی۔


اس کے بعد شہید کا جسد خاکی ہوائی گراؤنڈ سے آبائی گاؤں ساردہ میں لایا گیا۔ جہاں ہر آنکھ اشکبار تھی اور شہید کی روح کو سلام پیش کر رہی تھی۔ شہید کو پاک آرمی کے 3 اے کے بریگیڈ اور اسٹیشن ہیڈکوارٹر کی طرف سے گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ پاک فضائیہ کی سپیشل گارڈ نے بھی شہید کو سلامی پیش کی او رپھر شہید کو لحد میں اتار دیا گیا۔ شہید کے والد محترم کو شہید کے میڈل اور کیپ دی گئی اور شہید کے مزار پر پھول چڑھائے گئے۔ اور فاتحہ خوانی کی گئی۔
شہادت کے بعد انہیں صدر پاکستان کی طرف سے تمغہ بسالت سے نوازا گیا۔

 
Read 956 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter