تحریر: رابعہ رحمن

سانحہ اے پی ایس پشاور کے حوالے سے رابعہ رحمن روہی کی ایک پُراثر تحریر

وطنِ عزیز پچھلے دس سالوں سے دہشت گردی کی جنگ لڑ رہا ہے، اس جنگ میں بلا مبالغہ جتنی قربانیاں افواجِ پاکستان نے دی ہیں، بیان سے باہر ہیں۔ وردی اور اُس کا فخر، وردی اور اُس کا عزم، وردی اور اُس کی لازوال محبت، وردی اور وطن کی حفاظت یہ جذبہ عشق صرف افواجِ پاکستان کی میراث ہے۔ وہ سپاہی ہے یا افسر اُس کی نگاہ اقبالؒ کے شاہین کی طرح بلند ہے۔ وہ کامل محافظ ہے۔ اُس کی فکری اور تخیّلاتی جمالیات میں وطن اور ماں ایک برابر ہے۔ ایک المیہ جو ظہور پذیر ہو چکا ہے وہ ہے دہشت گردوں کا مساجد ،سول علاقوں اور عوام کو نشانہ بنانا۔ اس پر یہ کہ سفاکیت کی ایک المناک مثال جو 16دسمبر 2014 کو پشاورکے آرمی پبلک سکول میں علم حاصل کرتے معصوم بچوں کو نشانہ بناکر قائم کی گئی۔

 

nageenajan.jpgظلم کرنے والا کتنا بھی ظالم کیوں نہ ہو ،جب اُس کے سامنے پھول کی طرح نرم و نازک معصوم بچہ آجاتا ہے، تو اُس کے ظلم کرتے ہاتھ رُک جاتے ہیں، مگر نجانے وہ کیسے ظالم لوگ تھے جن کے سینے میں دل پتھر ہو گیا تھا کہ معصوموں کے یونیفارم میں ملبوس جسموں کو اُنہوں نے گولیوں اور بارود سے داغ دیااور وہ معصو م کہنے لگے وہ جو آنکھیں میری روشن روشن اور میرے گالوں پہ گہرا ڈمپل تو ہر وقت اُتارتی تھی میری بلائیں ماں، پھر کہاں سے آگئیں یہ سزائیں ماں، بارود پھٹنے لگاتھا، گولیوں کی چھنکار سے کان بہرے ہوئے، شور مچنے لگا کہ ہمیں اب مرنا ہو گا۔ مگر موت سے کب ڈرنا سکھایا تو نے، جب بھی بات چلی گھر میں سرحدوں کی شہادت کا ہی رتبہ بتایا تو نے۔ اب تو سرحدیں ہیں اُس پار جنت کی، بس درمیان میں وہ وحشت زدہ چہرے ہیں۔ وہی ابلیس کی آوازیں ہیں۔ وہی سفاکیت، ظلم و ستم اور قتل و غارت، وہ دیکھو! دیوار سے لگا کر اُس کے جسم کو بارود سے اُڑا ڈالا ہے۔ کون جوڑے گا ٹکڑے اس کے، کون کفن پہنائے گا۔ کیسے ماں سینے سے لگا کے لے گی آخری بوسہ، کیسے بیٹا کہہ کر اُس سے لپٹیں گے بابا۔
عمیش کی والدہ کا جنون تھا کہ وہ عمیش کو ملٹری کالج بھیجیں۔ اپنے فوج کے شوق میں ماں نے بیٹے کو 2سال پہلے آرمی پبلک سکول میں داخل کروایا تاکہ اُس کا آئی کیو لیول بڑھے اور اُسے محنت کرنے کی عادت پڑے۔ عمیش اپنے خاندان میں بڑا پوتا تھا،گھر بار کا لاڈلا سب نے اُسے پونم بنا رکھا تھا، جس کو وہ کبھی بھی گھٹتا ہوا نہیں دیکھ سکتے تھے۔ سمیعہ کا اپنا کوئی بھائی نہ تھا اس لئے بیٹا ملنے پر سمیعہ کی بھائی پانے کی شدید خواہش بھی پوری ہو گئی۔ کبھی کبھی تو جب دونوں ساتھ میں ہوتے تو چھوٹی چھوٹی نوک جھونک ایسے کرتے جیسے واقعی اوپر تلے کے بھائی بہن کی ہوتی ہے۔


’’عمیش یار جلدی سے آؤ ہمارے کمرے کا فیوز ٹھیک کر دو۔‘‘عمیش بابا کے کمرے میں گیا، بجلی کا بورڈ چیک کرنے کے لئے کہ ماں کی آواز ’’عمیش باہر بیل بجی ہے دیکھو تو کون آیا ہے‘‘ اچھا اماں۔۔۔کہ اتنے میں دادی کی آواز آتی ہے۔ ’’عمیش میری عینک نہیں مل رہی بیٹا‘‘ عمیش نے نجانے کس طرح سب کے کام کر دئیے، نہ دروازے پہ بیل دوبارہ بجی، نہ عینک ڈھونڈنے میں دیر لگی اور بابا کے کمرے کی بجلی بھی ٹھیک ہو گئی۔ نجانے کیا کمال تھا عمیش سلمان شہید میں وہ خوبصورت تھا، مسکراتا ہوا، آسمان سے زمین پہ اُترا ہوا چاند لگتا تھا۔
عمیش اپنے بستر کو
Royal Bed
کہتا تھا۔ اُس کی بات کتنی صحیح تھی وہ جس مٹی میں سویا ہے وہ
Royal Bed
بن گئی، اُس بستر کو، اُس لحد کو اور اُس کی آخری آرام گاہ کو سلامی دی گئی، وہ شہزادہ تھا، وہ جان تھا اپنی دادی اماں کی،وہ بے تحاشہ رو رہی تھیں، کہتی ہیں وہ تو میری آنکھیں تھا، دل تھا اور میرا جسم تھا، دادی اماں کی ہچکی بندھ گئی وہ اُن کی اگلی نسل کا پہلا چراغ تھا، اُس چراغ میں اُنہوں نے اپنا لہو ڈالا تھا اُسے اپنے پسینے کی خوشبو عطا کی تھی وہ کیسے نہ روتیں،کیسے نہ تڑپتیں۔۔۔وہ میرا شیر جوان تھا، اس گھر میں روشنی اُسی سے تھی۔ مسلسل ہچکیوں سے اُن کا جسم لرز رہا تھا۔
24 دسمبر کو عمیش کی خالہ کی شادی تھی۔23دسمبر کے دن عمیش کی سالگرہ بھی تھی۔ عمیش نے کہا کہ میں بہت بڑا کیک بناؤں گا اور شاندار تقریب کریں گے اور 24 کو کاٹیں گے اور اُس شادی کے لئے عمیش نے ماما بابا کے ساتھ 2 دن پہلے ہی جا کے اپنی پسند کی ہر چیز خریدی اور یہ زندگی میں اُس کا پہلا موقعہ تھا کہ اُس کے بابا سلمان اور ماما نے کہا کہ جو خریدنا ہے آج سب کچھ لے لو، کسی کو پتہ نہیں تھا کہ عمیش تو جانے کی تیاری میں ہے، صرف وقت جانتا تھا اور زمانے کے آئینے سے وقت مسکرا مسکرا کے اس ہونے والے شہید کو پیار سے دیکھ رہا تھا، اُس کے واری جا رہا تھا، کہ یہ ننھا شہید بہت جلد وقت کا مہمان بننے کو جانے والا تھا۔عمیش جب باورچی خانے میں جاتا تو سب کے لئے پراٹھے بناتا اور نوالے بنا بنا کے منہ میں ڈالتا، ڈرم سٹکس بنانا اور بار بی کیو کرنا اُس کے پسندیدہ مشاغل تھے۔ ماں ہمیشہ کہتی عمیش بس تم یونہی کام کرتے رہنا نہ پڑھتے ہو اور نہ محنت کرتے ہو تو اپنا سینہ پھُلا کے کہتا اللہ کے بندوں کی خدمت کرنے والے کبھی ناکام نہیں ہوتے اور سمیعہ چُپ کر جاتیں اُنہیں کیا پتا تھا کہ اُسے اِن خدمتوں کا کتنا عظیم صلہ ملنے والا ہے کہ وہ شہید کہلائے گا اور سمیعہ ایک شہید کی والدہ۔ ایسے انعام کا تو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔ سمیعہ نے کہا میں عمیش پہ تھوڑا سختی رکھتی تھی، اُس کے زیادہ ناز نخرے بابا (سلمان) اور چچا(رضا) اُٹھاتے تھے مگر اُسے زندگی کی دوڑ میں آگے بڑھنے کے لئے، کچھ اصول و ضوابط سکھانا ماں ضروری سمجھتی تھی۔ عمیش کی فیس بُک، لیپ ٹاپ اور موبائل پر ماں کی گہری نظر تھی، اس لئے عمیش ہمیشہ کہتا دوسروں کی ماؤں کی دو آنکھیں ہیں آپ کی تو 4 ہیں، کاش مجھے پتا ہوتا کہ میرا عمیش یوں خاموشی سے چلا جائے گا تو میں اُس سے اونچی آواز میں بات بھی نہ کرتی، اُس کو پھولوں کی طرح چوم چوم رکھتی اور کسی متبرک چیز کی طرح سجا کر رکھتی۔ وہ سوئمنگ ، سائیکلنگ اور ڈرائیونگ ہر چیز میں تیز تھا۔ گھر کی گلی میں سائیکل چلانے کی آواز آتی تو کمرے سے دادی اماں آواز دیتیں تو عمیش وہاں سے ہی دادی سے بات کرنے لگ جاتا مگر اب دادی کو سائیکل چلانے کی آواز نہیں آتی تو بھی وہ آوازیں دیتی ہیں۔ آجا عمیش میری جان میری عینک ڈھونڈ دے۔۔۔مگر پھر خود ہی کہتیں مجھے پتا ہے تو نہیں آئے گا کبھی نہیں آئے گا۔


ساون کیا برستا ہو گا کہ جس طرح ان شہداء کے لواحقین کی آنکھیں برستیں ہیں۔ کہیں دادی کا پوتا تھا کہیں ماں کا دوست، کہیں باپ کی روشن اُمید، کہیں بھائی کا سہارا ، کہیں بہنوں کا لاڈلا نخریلا چاند سا، کہیں اُستاد کا بہترین شاگرد ، کہیں گھر بھر کی خوشیوں کا محور اور کہیں وطن کے قابل اور ذہین معمار۔


کیا ملا اے دہشت گردو تمھیں ان معماروں کو مسمار کرنے میں وہ شان سے گئے تم کو تو لحد بھی نصیب نہ ہوئی۔ عمیش اپنے چچا رضا کا ماسٹر مائنڈ تھا۔ اور اُن کے تمام باہر کے سلسلے اور سفر کی منصوبہ بندی کر کے دیا کرتا تھا۔ اُسے آزادی پسند تھی مگر حکمرانی نہیں۔ وہ سب کے جذبات اُن کے رشتے کے مطابق سمجھ کے اُنہیں ساتھ لے کے چلتا تھا، اب رضا نے عمیش کے جانے کے بعد بے ترتیب سی زندگی کو اپنا لیا ہے، اپنے کام محدود کر دئیے ہیں، کہ ہر کام میں ہر راہ میں اُن کے عمیش کی یادیں بکھری پڑی ہیں، وہ کن کن یادوں کو سمیٹے، وہ یادیں کانچ کے ٹکڑوں کی طرح اُن کے پاؤں، اُن کے ہاتھ زخمی کرتی ہیں اور لہو آنکھوں سے بہتا ہے۔


جب سکول پہ حملے کی خبر ملی تو ہر طرف ایک بھونچال سا آگیا۔ فون کی بیل اُس دن پشاور شہر کے ہر موبائل پہ بج رہی تھی، ہر کوئی خبر لے رہا تھا اور خبر دے رہا تھا۔ چار بجے تک عمیش کا کچھ پتہ نہ چلا، بہت افرا تفری تھی۔ چچا رضا سی ایم ایچ میں کھڑے تھے۔ عمیش کے کئی دوست وہاں ملے۔ ایک نے کہا کہ جب آڈیٹوریم میں حملہ ہوا تو ہم سب نیچے لیٹ گئے پھر جب دہشت گرد پہلی کارروائی کر کے باہر نکلے تو ہم گھٹنوں کے بل چلنے لگے، عمیش بہت تیز آگے جا رہا تھا وہ ہال سے باہر نکل گیامگر میں نے دیکھا کہ وہ گھبرایا ہوا دوبارہ اندر آرہا تھا، اُس کو گولی لگی ہوئی تھی۔ اُس کے بعد میں بے ہوش ہو گیا پھر مجھے پتا نہیں کہ عمیش کہاں گیا؟ اتنے میں رضا کو سفید چادر میں لپٹا ہوا اُس کا عمیش نظر آیا مگر اُس نے سلمان (بابا) کو فون کیا کہ وہ عمیش کی طرح ہے، مگر عمیش نہیں ہے، کیونکہ اُس کا جوتا مجھے بہت بڑا لگ رہا ہے وہ خود کو ہی دلاسہ دے رہا تھا۔ کہاں ماننے کو دل کرتا ہے کہ وہ جو سامنے سفید چادر میں لپٹا پڑا ہے وہ میرا جگر گوشہ ہو گا، مگر سلمان کو یاد آیا کہ ایک دن پہلے ہی مرغی والے کی دکان پہ عمیش نے مرغی ذبح کی تھی تو اُس کی انگلی پہ کٹ لگ گیا تھا اُنہوں نے اُس کے ہاتھ سے پٹیاں اُتاریں، دیکھا اور سکتے کے عالم میں چلے گئے وہ زخم ابھی بھی تازہ تھا اُسی زخم نے پہچان کرائی کہ میں ہوں بابا تمہارا عمیش مجھے تم گھر لے چلو۔


زعیم وقار
zaheemwaqar.jpgبریگیڈئیر وقار اعوان سی ایم ایچ کے ڈپٹی کمانڈنٹ ہیں۔ اُنہوں نے بتایا کہ مجھے بیگم کی کال آئی کہ زعیم (بیٹا) کا فون آیا ہے سکول پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا ہے میں فوراً سی ایم ایچ سے ایمبو لینس لے کر سکول پہنچا، زعیم کو فون کیا، اُس نے کہا بابا آپ سکول کے اندر نہ آئیں میں اپنی اور اپنے دوستوں کی حفاظت کر لوں گا اندر فائرنگ ہو رہی ہے کوئی محفوظ نہیں ہے۔ زعیم جانتا تھا کہ زندگی اور موت اللہ کے ہاتھ میں ہے وہ بہادر بچہ تھا۔ اُس کی آواز میں کوئی لرزہ نہیں تھا۔ بریگیڈئیر طارق بھی وہاں موجود تھے اُنہوں نے بے بسی سے کہا کہ میری بیگم بھی اندر ہی ہیں مگر کوئی راستہ نہیں اُن تک پہنچے کا میں نے پرنسپل کو کال کی۔ نمبر مصروف تھا وہ بہت شفیق بردبار اور محبت کرنے والی خاتون تھیں وہ ضرور سب کی حفاظت کریں گی۔ میں نے دوبارہ زعیم کو فون کیا جنگ کا سا سماں تھا۔ فائرنگ کا اتنا شور تھا کہ کان پڑی آواز سُنائی نہیں دیتی تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے دو سرحدوں کے درمیان کھڑاہوں، اتنے میں اندر جانے کا موقعہ مل گیا تو میں وہاں سب کے حالات دیکھ کر لرز گیا، دیکھنے سے لگتا تھا کہ یہاں کوئی بچ ہی نہیں سکتا اتنے میں پھر بیٹے سے بات ہوئی تو اُس نے کہا کہ آپ ہماری فکر نہ کریں آپ دوسروں کو بچائیں ہم محفوظ ہیں پھر زعیم نے ملاقات کے دوران بتایا کہ ہم پیپر دے رہے تھے کہ گولیوں کی آواز آئی۔ ٹیچر نے کہا کہ تم لوگ آپس میں باتیں نہ کرو اور آرام سے پیپر کرو نیچے ڈرل ہورہی ہے، مگر زعیم نے کہا نہیں،مجھے لگ رہا ہے کہ ہم پہ دہشت گردوں کا حملہ ہو گیا ہے۔ میں ایک فوجی کا بیٹا ہوں مجھے اس حملے کی بو محسوس ہو رہی ہے، ساتھ ہی دھماکوں کی آواز آئی تو سب کو زعیم نے نیچے لیٹنے کے لئے کہا۔ وہ ذرا بھی خوفزدہ نہیں تھا، اُسے لگا جیسے وہ کمانڈو ہے اور اب اس مشکل میں اُس نے اپنے ساتھیوں کو بچانا ہے، پھر واقعی وہ اُن بچوں پر چیخ پڑا جو خوفزدہ ہو کر رونے چیخنے اور باہر کو بھاگنے لگے تھے اور کہا ایک لڑکا بھی آواز نہیں نکالے گا، باہر نہیں جائے گا ورنہ وہ ہم سب کو مار دیں گے۔ زعیم نے تمام لڑکوں کو دیوار کے ساتھ نیچے لٹا دیا اور دروازوں کی کُنڈیاں لگا دیں، اُن کی ساتھ والی لیب میں دہشت گردوں نے ایک طالبعلم بھی زندہ نہیں چھوڑا تھا اور پھر وہ گولیاں برساتے زعیم کی لیب کی طرف آئے اور اُنہوں نے دیکھنے کے لئے کہ اندر کوئی ہے کہ نہیں کھڑکیوں پہ گولیاں برسائیں مگر اندر سے ایک بچے نے بھی آواز نہ نکالی وہ سمجھے کہ یہ خالی کمرہ ہے اور وہ اپنی دہشت پھیلانے کے لئے آگے نکل گئے، اتنے میں زعیم نے بریگیڈئیر وقار کو فون کر کے بتایاکہ وہ لوگ کس جگہ پر ہیں۔ اتنے میں ایس ایس جی والے بھی آگئے تھے اور ان سب کو ایک سپاہی نے کہا کہ پچھلی دیوار سے باہر پھلانگ جائیں جب یہ باہر نکلے تو اُن کے پاؤں میں اُن کے ساتھیوں کے بے جان جسم پڑے ہوئے تھے، کچھ زخمی بھی تھے، سب پیچھے کو پھلانگے اور باہر نکل گئے، ابھی بریگیڈیئر وقار سوچ ہی رہے تھے کہ وہ اپنے بیٹے کے پاس جائیں کہ اُن کو سامنے اُن کی زندگی، اُن کے دل کا ٹکڑا زعیم آتا دکھائی دیا نجانے اُس میں اتنی ہمت کہاں سے آئی تھی کہ وہ اتنا سب کچھ کرنے کے بعد اپنے قدموں پہ چل کے اپنے بابا کے سینے سے لگ گیا، بریگیڈئیر وقار کے بازو کھُلے اور اُنہوں نے اپنے بیٹے کو اپنے ساتھ بھینچ لیا، اُس کا رنگ ہلدی کی طرح زرد تھا پہلے تو بریگیڈئیر وقار کو یقین ہی نہ آیا کہ زعیم بالکل محفوظ ہے۔


nageenajan1.jpgبریگیڈئیر وقار نے زعیم کے ساتھ کھڑے دوسرے بچوں کو بھی ایمبولینس میں ڈالا کچھ بچے اپنا ذہن حاضر نہیں کر پا رہے تھے، اُن سب کو ہسپتال چھوڑا، تو بریگیڈئیر وقار سی ایم ایچ میں حالات دیکھ کر سوچنے لگے کہ ان حالات میں تو دہشت گردوں کے حملے کا خطرہ یہاں بھی بڑھ گیا ہے، کمانڈنٹ نے حکم دیا کہ تمام ڈیڈباڈیز او پی ڈی میں رکھ دیں اور والدین وہاں سے اُن کو پہچان کر لیتے جائیں۔ ہسپتال میں بھی سکیورٹی الرٹ کر دی گئی۔ سی ایم ایچ کے تمام افسران چاہ رہے تھے کہ وہ والدین کے جذبات کی تو قیر کریں اور کسی سے بھی ایسی کوئی بات نہ ہو کہ اُن کے جذبات مجروح ہوں، پل بھر میں قطاریں بڑھ گئیں والدین اپنے بچوں کے لئے بلک رہے تھے، ڈاکٹرز آپریشن تھیٹر میں دھڑا دھڑ آپریشن کر رہے تھے، کوریڈور تک زخمی بچوں کی مرہم پٹیاں ہو رہی تھیں، جو جہاں تھا جس حالت میں تھا مدد کو پہنچ رہا تھا،ڈاکٹرز جس طرح کام کر رہے تھے اُن کے حوصلے اور ہمت کی داد کے لئے کوئی الفاظ لکھے ہی نہیں جا سکتے کہ سی ایم ایچ میں ساری رات کچھ کھائے پیئے بنا ڈاکٹرز معصوم زندگیوں کو بچانے اور جسم کے ٹکڑوں کو جوڑ کر والدین کو اُن کے شہید بچے سلامت دیتے رہے۔ پیشہ ورانہ مہارت کی اس سے بڑی مثال کہیں نہیں ملتی، کمانڈنٹ خود وہاں کھڑے رہے، آنے والے والدین رشتہ داروں کو چائے پانی دیتے، دلاسہ دیتے ،محبت سے گلے لگاتے اوراُن کے ساتھ آنسو بہاتے رہے۔اس سانحے کے بعد افواج پاکستان کے ساتھ ساتھ قوم کا ہر فرد اس بات پہ مصر ہے کہ ہم ان معصوموں کا بدلہ ضرور لیں گے۔اس ناپاک دہشت گردی کا خاتمہ اتنا ہی ضروری ہے جتنا کہ کرہ ارض سے شیطانیت کا خاتمہ۔


آج اس سانحے کو دوسال گزر چلے مگر محمد علی خان کے والد شہاب الدین کہتے ہیں بے شک ہمارے لئے ہر روز 16دسمبر2014ء جیسا ہے میرا ایک ہی بیٹا تھا جو شہید ہوگیا میرا اس کی شہادت سے پہلے نام یا پہچان نہیں تھی مگر میرے شہید بیٹے نے مجھے ہر جگہ معتبر کردیا اور اسفند خان کی والدہ شہانہ کہتی ہیں کہ میں خوش ہونا بھول گئی ہوں میری زندگی کے تمام ناز نخرے ختم ہوگئے ہیں ہر جگہ اسفند شہید نظرآتاہے اس نے شہید ہوکر مجھے جس مقام پر لاکھڑا کیا اب تو صرف اس سے ملنے کی حسرت باقی ہے میرے وہ تمام کام جو اپنی زندگی میں کرتا وہ آج بھی وہ ویسے ہی کرتا ہے میں کسی پریشانی کا شکار ہوجاؤں تو میرے مسئلے کا حل خودبخود اس طرح نکل آتا ہے کہ میں حیران ہوتی ہوں اور ایک ہی سوچ ذہن میں آتی ہے یہ تم ہی ہو میرے اسفند میری جان جو اوپر شہیدوں کی جنت میں بیٹھ کر میرے کام ادھورے نہیں رہنے دیتے۔زندگی ایسے بہت سے حقائق اور سانحوں سے بھری پڑی ہے مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ ان معصوم شہیدوں کے والدین اور اہل خانہ نہ صرف بلند حوصلہ ہیں بلکہ افواج پاکستان کے شانہ بشانہ اپنے تمام صبر واستقامت کے ساتھ کھڑے ہیں اور اس بات کا ثبوت ہیں کہ قوم نہ کبھی دہشت گردوں کے سامنے جھکی تھی‘ نہ جھکے گی بلکہ شکستِ فاش ان دشمنانِ دین اور ننگِ وطن کا آخری مقدر ہے۔

 

مضمون نگار ایک قومی اخبار میں کالم لکھتی ہیں اور متعدد کتابوں کی مصنفہ بھی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 595 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter