تحریر: یاسرپیرزادہ

''I have traveled across the length and breadth of India and I have not seen one person who is a beggar, who is a thief. Such wealth I have seen in this country, such high moral values, people of such calibre, that l do not think we would ever conquer this country, unless we break the very backbone of this nation, which is her spiritual and cultural heritage, and, therefore, l propose that we replace her old and ancient education system, her culture, for if the Indians think that all that is foriegn and English is good and greater, than their own, they will lose their self esteem, their native self-culture and they will become what we want them, a truly dominated nation.''
پچھلے دنوں کسی نے یہ اقتباس لارڈ میکالے کی برطانوی پارلیمنٹ میں دو فروری 1835 میں کی گئی تقریر کے حوالے سے مجھے بھیجا۔ لارڈمیکالے کی یہ تقریر ہمارے مخصوص حلقوں میں کافی مشہور ہے اور ہم بچپن سے اس تقریر کی گونج سنتے آرہے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کی 11اگست کی تقریر یار لوگوں کو اتنی پسند نہیں جتنی لارڈمیکالے کی یہ تقریر۔ کیونکہ اس تقریر کی مدد سے ہم نہایت اطمینان سے اپنے تعلیمی نظام کی ناکامی کا ذمہ دار لارڈ میکالے کو ٹھہرا کر یوں بری الذمہ ہو جاتے ہیں جیسے سرکار اخبارات میں اپنی کارکردگی سے متعلق نصف صفحے کا اشتہار دے کر مطمئن ہو جاتی ہے کہ لوگ اس پر اعتبار کر لیں گے۔ لارڈمیکالے کی اس تقریر کو اپنے ہاں کے دانشور بڑھ چڑھ کر حوالے کے طور پرپیش کرتے ہیں کیونکہ یہ تقریر ان کی نفرت اور سازش سے بھرپور بیانئے کو بڑھاوا دیتی ہے اور ہمارے ان دانشوروں پر ہی کیا موقوف، بھارتی جنتا پارٹی کی ویب سائٹ پر ایل کے ایڈوانی نے ایک کتاب پر تبصرہ کرتے وقت بھی یہ اقتباس نقل کیا ہے۔ اس تقریر کے علاوہ ہمارے دانشور ایک اور بات کا ڈھنڈورا پیٹتے ہیں کہ انگریزوں نے ہماری اعلیٰ تہذیبی اقدار کا بیڑا غرق کیا۔ ہماری زبان ہم سے چھین لی اور ہمیں ایک جاہل قوم بنا کر رکھا تاکہ ان کے غلام بن کر رہ جائیں اور اپنے ان دعوؤں کا ثبوت وہ یہ فراہم کرتے ہیں کہ 1879میں ہندوستان کی شرح خواندگی نوے فیصد تھی اور 1947میں جب انگریز یہ ملک چھوڑ کر گیا تو یہ شرح صرف پندرہ فیصد تک رہ گئی تھی۔
پہلے لارڈمیکالے کی پارلیمنٹ میں کی گئی تقریر کی بات ہو جائے جس اقتباس کو زوروشور سے بیان کیا جاتا ہے۔ اس کا کوئی وجود ہی نہیں۔ برطانوی پارلیمنٹ کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق لارڈمیکالے کی کوئی تقریر دو فروری 1835کے ریکارڈ میں نہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ میکالے صاحب اس وقت پارلیمنٹ کے رکن ہی نہیں تھے۔ لارڈ میکالے 1830-1834‘ 1840-1847 اور 1852-1857 تک رکن پارلیمنٹ تھا اور جس اقتباس کا حوالہ دیا جاتا ہے موصوف اس سے پہلے ہی اپنی نشست سے مستعفی ہو کر انڈیا جا چکے تھے۔ جہاں انہیں سپریم کونسل کا رکن بننا تھا۔ ہاں لارڈمیکالے کا ایک مشہور زمانہ
Minute on Indian Education
ضرور ہے۔ مگر اس کے پورے متن میں کہیں یہ بات نہیں کہی گئی اور یہ پورا متن بھی کولمبیا یونیورسٹی امریکہ کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ مزید لطیفہ یہ ہے کہ بطور ایک متعصب انگریز میکالے نے اس
Minute
میں جو باتیں کی وہ اس سے بالکل الٹ تھیں جو اس اقتباس میں اس سے منسوب کی جاتی ہیں۔ میکالے نے نہ صرف ہندوستانی تہذیب، ثقافت اور ادب کو کمتر قرار دیا بلکہ یہاں تک کہا کہ ہند اور عرب کا تمام ادب یورپ کی لائبریری کی ایک شیلف میں سما سکتا ہے۔
لارڈمیکالے کو فی الحال یہیں چھوڑتے ہیں اور ہندوستان میں شرح خواندگی کی بات کرتے ہیں جس پر فخر کر کے ہم پھولے نہیں سماتے کہ برصغیر میں انگریز سے پہلے ہم اس قدر پڑھے لکھے تھے کہ شرح خواندگی نوے فیصد کو چھو رہی تھی۔ (حیرت کی بات ہے کہ ایسی تعلیم یافتہ قوم کو بھی غلام بنا لیا گیا)حقیقت جاننے کے لئے میں نے
Census of India 1911. Punjab
از پنڈت ہری کشن کول‘ سپرنٹنڈنٹ سینسس آپریشنز
‘ Results of the Census Punjab, 1891, West Pakistan Secretariat Library Copy Census of Punjab, 1881by Denzil Charles
کا جائزہ لیا مگر کہیں بھی شرح خواندگی نوے فیصد والی بات ثابت نہیں ہوئی بلکہ ان سرکاری دستاویزات کے مطابق 1911 میں (متحدہ) پنجاب کی کل آبادی 24,187,750 میں سے 899,195 خواندہ افراد تھے یعنی ایک ہزارمیں سے صرف سینتیس پڑھے لکھے (شرح خواندگی تین اعشاریہ سات فیصد) اور 1871-72 کا احوال جاننے کے لئے خاکسار نے
Memorandum on the Census of British India
کا جائزہ لیا تو یہ بات سامنے آئی کہ اگرچہ اس وقت ہندوستان کے بعض علاقوں میں مردم شماری نہیں ہو سکی تھی اور یوں اس کے نتائج اس حد تک درست نہیں کہے جا سکتے کہ ان کا باریک بینی سے جائزہ لیا جاسکے مگر نو صوبوں کے 123ملین افراد سے جب گوشوارے پُر کروائے گئے تو معلوم ہوا کہ صرف چار ملین خواندہ ہیں یعنی تیس میں سے ایک فرد لکھ پڑھ سکتا ہے۔

(گویا شرح خواندگی تین اعشاریہ تین فیصد)


تاریخی حقائق کو مسخ کرنا ہمارا محبوب مشغلہ بن چکا ہے۔ تاریخ کی بات کیا کریں ہم تو صبح شائع ہونے والی خبر کا شام تک تیاپانچا کر دیتے ہیں۔ پورے انگریز دور حکومت میں کیا ایسا کوئی قانون، سرکاری حکم نامہ، دستاویز یا خط پتر جاری ہوا جس میں ہندوستانیوں کو تعلیم حاصل کرنے سے باز رکھنے کا کہا گیا ہو۔ فورٹ ولیم کالج کی بنیاد 1800میں رکھی گئی اس کالج سے ہمیں اردو، ہندی، فارسی اور سنسکرت کی پہلی لغت ملی۔ آج جسے ہم اردو کا کلاسیکی ادب کہتے ہیں یعنی میرامن کا قصہ چہاردرویش اور رجب علی سرور کا فسانہ عجائب، وہ بھی اسی کالج کی مرہون منت ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ملک میں لارڈمیکالے کا تعلیمی نظام رائج ہے، کیونکہ اسے فوت ہوئے ڈیڑھ سو سال ہو گئے کیا اس کی روح ہمیں اپنا نظام تبدیل کرنے سے روکتی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جو لوگ اپنے بیانیے کو بڑھاوا دینے کے لئے جھوٹ کا پرچار کرتے ہیں، انہیں عقلی استدلال اور سائنسی طریقہ کار قبول ہی نہیں، سوال اٹھانے سے انہیں کوفت ہوتی ہے اور علمی تحقیق سے انہیں خدا واسطے کا بیر ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ابن رشد کو کافر کہتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ آج مسلمانوں میں کوئی ابن رشد، فارابی یا بوعلی سینا پیدا نہیں ہوتا۔

مضمون نگار معروف کالم نویس اور تجزیہ نگار ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

lordmick.jpg

*****

 
Read 299 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter