سفارت کاری اور ملکی دفاع

تحریر: جاوید حفیظ

سفارت کاری اور دفاع بظاہر بالکل مختلف پیشے نظر آتے ہیں لیکن دونوں ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں۔ یہ دونوں اہم پیشے اس وقت وجود میں آئے جب اقوام کا تصور اجاگر ہوا۔ قومی ریاستیں بنیں۔ ان ریاستوں میں مسابقت کا عنصر لازمی امر تھا۔ لہٰذا جارحیت اور دفاع دونوں کا آغازہوا اور دفاع کے لئے منظم عسکری قوت لازمی ٹھہری۔ جنگوں کو روکنے کے لئے سفارت کاری کا استعمال ضروری تھا۔ کسی بڑی اور جارحانہ ریاست کا مقابلہ کرنے کے لئے دو یا زیادہ ملک دوستی کا معاہدہ کرتے تھے۔ ایسے معاہدوں کے لئے دوسرے ملکوں میں ایکچی بھیجے جاتے تھے۔ انسانی تاریخ میں یہ اولین سفیر تھے۔ مصر میں دریافت کی گئی چکنی مٹی کی تختیوں کی تحریر سے پتا چلتا ہے کہ آج سے ساڑھے تین ہزار سال پہلے فراعین مصر نے ایسے ایلچی کنعان( فلسطین) اور دیگر ریاستوں میں بھیجے۔ یہ ایلچی اپنا مشن مکمل کرنے کے بعد واپس آ جاتے تھے۔ مستقل سفارت خانے بہت عرصے کے بعد یورپ میں شروع ہوئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ترکی زبان میں سفیر کے لئے آج بھی ایلچی کا لفظ مستعمل ہے۔


جس طرح دفاع کا شعبہ تیر اور تلوار سے ہوتا ہوا ایٹمی ہتھیاروں اور سٹار وارز تک پہنچ گیا ہے۔ اسی طرح سے سفارت کاری بھی ارتقاء کی کئی منازل سے گزری ہے۔ آج کے اکثر سفارت خانے ہمہ وقت میزبان ملک میں موجود رہتے ہیں جس طرح سے افواج میں مختلف رینک یعنی لیفٹیننٹ، کیپٹن اور میجر وغیرہ تمام دنیا میں تقریباً یکساں ہیں اسی طرح سے سفارت کاروں کے عہدے بھی مشابہت رکھتے ہیں۔ جونیئر ترین سفارت کار، تھرڈ سیکرٹری ہوتا ہے جبکہ سب سے سینئر سفیر۔


سفارت کار دو ملکوں کے درمیان پل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ سفیر کا بنیادی کام اپنے میزبان ملک کے بارے میں رپورٹیں بھیجنا ہوتا تھا۔ پچھلے پچاس سال میں کمیونیکیشن کے ذرائع میں انقلاب آیاہے۔ آج کا الیکٹرانک میڈیا ہمیں دنیا کے کونے کونے سے پل پل کی خبریں دیتا رہتا ہے۔ لہٰذا سفارت خانے کا رول خاصا بدل گیا ہے۔ آج کے سفارت خانے تجارت کے فروغ کے لئے کام کرتے ہیں۔ دوست ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون بڑھانے میں مشغول نظر آتے ہیں۔ میڈیا کے نمائندوں سے تعلقات استوار کر کے اپنے ملک کا امیج بہتر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اپنے کلچر کی تشہیر کے لئے فلم فیسٹیول اور میوزک کنسرٹ کراتے ہیں۔ اپنی کمیونٹی کی ویلفیئر کے لئے کام کرتے ہیں۔ سفارت کار کا بنیادی کام زمانہ قدیم سے ایلچی کا رہا ہے۔ دو ملکوں کے درمیان پیغام رساں کا کام کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ اسے مکمل تحفظ حاصل ہو۔ یوں تو سفارتی مشن کا تصور پرانا ہے لیکن 1961 میں دیانا کنونش کے ذریعے اسے باقاعدہ معاہدے کی شکل دے دی گئی۔ یہ معاہدہ خاصا جامع ہے لیکن بنیادی بات یہی ہے کہ سفارت کاروں کو مکمل تحفظ دینا میزبان ریاست کا فرض ہے اور مقامی فوجداری قوانین سفارت کاروں پر لاگو نہیں ہوں گے۔ اس معاہدے کی روح یہی ہے کہ سفارت کار بلاخوف خطر اپنا کام جاری رکھ سکیں۔ سفارت کاروں کا براہ راست تعلق فارن منسٹری سے ہوتا ہے جو بوقت ضرورت انہیں بلانے کا اختیار بھی رکھتی ہے۔
دفاع اور قومی سلامتی کا تصور بھی خاصا بدل گیا ہے۔ آج اقتصادی ترقی نیشنل سکیورٹی کا اہم جزو ہے۔ اگر اقتصادی حالت اچھی ہو گی تب ہی کوئی ملک جدید ہتھیار خریدنے کے قابل ہو گا۔ اپنے فوجی دستوں کی اچھی ٹریننگ کر سکے گا۔ دوست ممالک کے ساتھ اعلیٰ لیول کی مشترکہ حربی مشقیں باقاعدگی سے کر سکے گا۔


ایک اور غلط تصور یہ بھی ہے کہ افواج کا کام صرف جنگ یا جنگ کی تیاری ہے۔ آج کل امن دستے اقوام متحدہ کے تحت مختلف ممالک میں بھیجے جاتے ہیں جہاں تناؤ زیادہ ہو اور امن کو خطرات درپیش ہوں۔ پاکستان دنیا بھر میں امن دستے بھیجنے والے ممالک میں ممتاز مقام رکھتا ہے۔ اسی طرح سے نیول جہاز مختلف ممالک میں دوستانہ دورے کرتے رہتے ہیں۔ ان دوروں کے مختلف مقاصد ہوتے ہیں لیکن سب سے بڑا مقصد باہمی دوستی اور تعاون کا فروغ ہوتا ہے۔ مجھے یاد ہے کہ جب میں سلطنت عمان میں سفیر تھا تو سمندری طوفان سونامی آیا تھا۔ اس طوفان سے تھائی لینڈ اور سری لنکا کے ساحلی علاقوں میں بڑی تباہی آئی تھی۔ ہمارا نیول جہاز پی این ایس طارق اُن دنوں خیرسگالی کے دورے پر جزائر مالدیپ کے آس پاس تھا۔ مالدیپ کے جزیروں میں طوفان نے تباہی پھیلا دی کئی لوگ سمندر کی خوفناک لہروں کی نذر ہوئے۔ اس خطرناک صورت حال میں پی این ایس طارق کے کپتان اور عملے نے اپنی جانوں کی پروا کئے بغیر سیکڑوں لوگوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا۔ یہ انسانی دوستی کا شاندار مظاہرہ تھا۔ چند روز بعد ہمارا جہاز مسقط کی پورٹ پر لنگر انداز ہوا تو سفارت خانے نے نہ صرف جہازوں کے کپتان اور دیگر افسروں کے لئے شاندار ڈنر کا اہتمام کیا بلکہ لوکل میڈیا کے ذریعے ان کے کارنامے کی تشہیر بھی کی۔


ایک اہم سوال یہ ہے کہ اچھا سفارت کار کن خوبیوں کا حامل ہونا چاہئے۔ بہت پہلے کی بات ہے کہ برطانیہ کے ایک سفیر نے یورپ کے کسی ملک میں کہا کہ سفیر وہ جنٹلمین (شریف آدمی) ہوتا ہے جو اپنے ملک کے فائدے کے لئے دوسرے ملک میں جھوٹ بولتا ہے۔ روایت ہے کہ سفیر صاحب کی اس بات کو لندن میں بالکل پسند نہیں کیا گیا اور حقیقت بھی یہ ہے کہ سفارت کار اگر ہمہ وقت جھوٹ بولنے لگیں تو ان کا بھرم یعنی اعتماد
(credibility)
ختم ہوجائے۔ اچھا سفیر ہمہ وقت اپنے ملک کے مفادات کے حصول میں سرگرم نظر آتا ہے۔ وہ میزبان ملک میں حکمران طبقے میڈیا سرمایہ کاروں اور اہم فوجی افسروں سے قریبی تعلقات استوار کرتا ہے۔ دوطرفہ بات چیت کے لئے بنائے گئے اداروں مثلاً جائنٹ وزارتی کمشن یا فارن سیکرٹری لیول پر بنائی گئی کمیٹی کو مصروف رکھتا ہے۔ سفارت کار کے ہتھیار اس کی دوستانہ شخصیت، اعلیٰ علمی قابلیت، لوکل کلچر اور زبان کا علم ہوتے ہیں۔ اچھے سفیر کو درجنوں اہم شخصیات کے نہ صرف نام اور کوائف معلوم ہونا چاہئیں بلکہ اُن تک رسائی حاصل کرنا بھی ضروری ہوتاہے۔


کسی بھی اہم ملک میں سفیر کا کام ہے کہ وہ رسمی دو طرفہ بات چیت کا لیول سٹریٹیجک ڈائیلاگ تک لے جائے۔ امریکہ اور یورپی یونین میں ہمارے سفیروں نے یہ ہدف حاصل کیا ہے۔ سول میںیہ کام فارن سروس سرانجام دیتی ہے۔ مسلح افواج کی جانب سے جائنٹ چیفس کمیٹی کے چیئرمین مختلف ممالک کا دورہ کر کے علاقائی اور بین الاقوامی صورت حال پر تبادلہ خیال کرتے ہیں اور دو طرفہ دفاع مضبوط کرنے کی بات بھی دوستانہ ممالک میں کرتے ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ دفاعی طرز کی یہ اعلیٰ لیول کی ملاقاتیں بے حد مفید ہوتی ہیں اور ا گر اس ملک میں سفیر اور ڈیفنس اتاشی اچھے پروفیشنل افسر ہوں اور سفارت خانے نے اپنا ہوم ورک اچھا کیا ہو تو یہ ملاقاتیں مفید تر ہو جاتی ہیں۔ عین ممکن ہے کہ آپ کے ذہن میں یہ سوال آئے کہ وہ میزبان ملک جس کا رویہ مخاصمانہ ہو وہاں سفارت کار کیا کر سکتا ہے اور جواب یہ ہے کہ سفارت کار دشمن ملک میں بھی دوست ڈھونڈتا ہے۔ اچھا سفارت کار ٹھنڈے مزاج کا دانا شخص ہوتا ہے۔ وہ 1965کی جنگ کے فوراً بعد تاشقند معاہدے کے لئے کام شروع کر دیتا ہے۔ 1971 کی جنگ کے بعد شملہ معاہدے کی تیاری کرتا ہے۔ کوئی تین عشرے پہلے کی بات ہے کہ نئی دہلی میں منیر شیخ مرحوم ہمارے انفارمیشن کونسلر تھے۔ وہ خود شاعر تھے اور انڈین شعراء کو باقاعدگی سے گھر بلا کر شعر و شاعری کی محفلیں سجاتے تھے۔ آہستہ آہستہ انڈیا کی ادبی تنظیمیں بھی شیخ صاحب کو مدعو کرنے لگیں۔ جب اُن کی نیو دہلی سے پاکستان ٹرانسفر ہوئی تو انڈین ادیبوں نے الوداعی فنکشن کیا۔ ایک انڈین ادیب نے اپنی تقریر میں کہا کہ شیخ صاحب کے پاکستانی ہائی کمیشن میں آنے سے پہلے ہم سمجھتے تھے کہ وہاں صرف ویزے ایشو ہوتے ہیں۔


جیسا کہ سطور بالا میں کہا گیا ہے کس بھی سفیر کا اولین فرض اپنے ملک کے مفادات کا ممکنہ حصول ہوتا ہے۔ اس مقصد کے حصول میں تمام افسر بشمول فرسٹ سیکرٹری قونصلر ڈیفنس اتاشی ٹریڈ اتاشی انفارمیشن قونصلر سب سفیر کی معاونت کرتے ہیں۔ 2002کی بات ہے کہ پی آئی اے نے نئے جہاز خریدنا تھے۔ چوائس بوئنگ اور ایئربس کے درمیان تھی۔ بوئنگ ایئر بس سے خاصا مہنگا جہاز ہے۔ ایئر بس کے انجن بھی بوئنگ 777سے زیادہ تھے۔ لہٰذا فلائٹ سیفٹی کے اعتبار سے بھی ایئربس بہتر تصور ہوتا تھا۔ پی آئی اے کے انجینئر بھی ایئربس کی حمایت کر رہے تھے۔ لیکن اسلام آباد میں مقیم امریکی سفیر حکومت پاکستان سے بار بار کہہ رہے تھے کہ بوئنگ کہیں بہتر طیارہ ہے۔ بالآخر حکومت پاکستان نے بوئنگ طیارے خریدے۔


ایک زمانہ تھا کہ فرنچ کو سفارت کاری کی زبان کہا جاتا تھا۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں اکثر سفیرحضرات بادشاہوں کے قریبی عزیز ہوتے تھے۔ اپنے اپنے ممالک کی شان و شوکت ثابت کرنے کے لئے وہ بڑے بڑے گھروں میں رہتے تھے۔ شاندار ڈنر کرتے تھے۔ اکثر کہا جاتا تھا کہ سفیر کی کامیابی میں ماہر باورچی کلیدی رول ادا کرتے ہیں۔ اب حالات کافی بدل گئے ہیں۔ سفارت کار مقابلے کے امتحان کے ذریعے سیلیکٹ ہوتے ہیں لہٰذا اس پیشے میں بھی اب مڈل کلاس کے لوگ عام ہیں۔ فرانسیسی زبان کی جگہ انگریزی نے لے لی ہے۔ میں نے یونان میں چند سفیروں کو اپارٹمنس میں رہتے بھی دیکھا ہے۔


مشہور مقولہ ہے کہ اچھی عسکری تیاری امن کی بہترین ضمانت ہے اور اگر اچھی عسکری تیاری کے ساتھ اعلیٰ پائے کی سفارت کاری بھی میسر ہو تو دفاع اور بھی مضبوط ہو جاتاہے۔ اسی وجہ سے سفارت خانوں کو فرسٹ لائن آف ڈیفنس بھی کہا جاتا ہے۔ یہ بات بھی اب راز نہیں رہی کہ بعض اہم سفارت خانوں میں حساس اداروں کے لوگ بھی ہوتے ہیں۔ اگر یہ لوگ اپنے کام میں ماہر ہوں تو سفیر کی خاصی مدد ہو جاتی ہے۔ دوسری جانب اچھے سفیر ان افسران کی رہنمائی بھی کرتے ہیں۔ عام تصور یہ ہے کہ سفارت کار دنیا کی سیر کرتے ہیں اور مزے کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس پیشے کو بھی اب خطرات لاحق ہیں مگر صرف اُن ملکوں میں جہاں حالات خراب ہیں۔ چند سال پہلے لیبیا کے شہر بن غازی میں امریکہ کے سفیر مارے گئے تھے۔ لیکن خطرات تو ہر پیشے میں ہوتے ہیں ملک کے سپاہی مادر وطن کے دفاع کے لئے ہر وقت جان ہتھیلی پر لئے پھرتے ہیں۔


اس بات میں اب کوئی شک نہیں رہا کہ ہمارا ہمسایہ ملک پاکستان کو اندرونی طور پر کمزور کرنے کے لئے مختلف حربے استعمال کر رہا ہے۔ اسی طرح سے وہ ہمیں دنیا میں تنہا کرنا چاہتا ہے۔ ان عزائم کو ناکام بنانے کے لئے ضروری ہے کہ ملکی سلامتی کے ادارے اور وزارتِ خارجہ دن رات مل کر کام کریں۔

مضمون نگار مختلف ممالک میں پاکستان کے سفیررہے ہیں اور آج کل کالم نگاری کرتے ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 649 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter