تحریر: ڈاکٹر رشید احمد خان

روس کی ایک مشہور کہاوت ہے کہ دریائے وولگا ایک رات میں منجمد نہیں ہوتا۔ وادئ کشمیر کے طول و عرض میں اس وقت جو ولولہ انگیز جدوجہدِ آزادی جاری ہے وہ اچانک شروع نہیں ہوئی۔ وہ ایک حادثے کی پیدا وار ہے۔ یہ سچ ہے کہ برہان وانی کی شہادت سے تحریک نے ایک شدید اور نیا رخ اختیار کیا ہے‘ لیکن حقیقت یہ ہے کہ کشمیر کی موجودہ صورت حال اُسی تحریکِ آزادی کا تسلسل ہے جس کا آغاز1947میں ریاست جموں و کشمیر کے حکمران مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف بغاوت سے ہوا تھا۔ اُس وقت سے لے کر آج تک کشمیری عوام کی جدو جہدِ آزادی جاری ہے۔ ہاں اس میں کبھی تیزی اور کبھی کمی ہوتی رہی ہے۔ تاہم کشمیری عوام نے آزادی کی منزل کو کبھی آنکھوں سے اوجھل نہیں ہونے دیا۔ اسے جاری رکھنے میں جن عوامل نے اہم کردار ادا کیا ہے وہ بھارت کی طرف سے الحاق کے نام پر کشمیریوں سے دھوکہ بازی اور اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں کی روشنی میں کشمیریوں سے کئے گئے وعدوں کی خلاف ورزی ہے۔ کشمیری عوام سے بھارت کی وعدہ خلافیوں اور دھوکے بازیوں کی ایک طویل داستان ہے۔ اس مضمون میں ان میں سے چندایک کا ذکر کریں گے۔ مقصدیہ بتانا ہے کہ بھارت نے کتنی چالاکی اور ہوشیاری سے کشمیر پر قبضہ کیا اور پھر اس قبضے کو دوام بخشنے کے لئے کسی طرح اپنے ہی کئے ہوئے وعدوں کی دھجیاں اُڑادیں۔


1947 میں برصغیر کی تقسیم اور پاکستان اور بھارت کا قیام اس فارمولے کے مطابق عمل میں آیا تھا کہ شمال مغرب اور مشرق میں واقع مسلم اکثریت کے صوبے پاکستان کا حصہ بنیں گے اور ہندو اکثریت کے صوبے ‘ بھارت کہلائیں گے۔ جہاں تک565 کے قریب ریاستوں کا تعلق تھا اُن کے بارے میں یہ فیصلہ ہوا کہ ان ریاستوں کے فرمانرواؤں کو اختیار ہوگا کہ وہ بھارت میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا پاکستان میں ۔ مگر یہ فیصلہ کرتے وقت ریاست کی آبادی کا مذہب، اس کے جغرافیائی محل وقوع اور معاشی اور تجارتی روابط کو ملحوظ خاطر رکھاجائے گا۔ ان عوامل کے پیشِ نظر کشمیر کے لئے سوائے پاکستان میں شمولیت کے اور کوئی آپشن نہیں تھا۔ لیکن ریاست کا حکمران مہاراجہ ہری سنگھ لیت و لعل سے کام لے رہا تھا‘ جس پر ریاست کے عوام نے مہاراجہ کے خلاف بغاوت کردی۔ اس سے گھبرا کر مہاراجہ نے بھارت سے فوجی امداد مانگی۔ اس کے جواب میں نئی دہلی کی حکومت نے مہاراجہ کو پیغام بھیجا کہ بھارت مہاراجہ کی مدد کو اس وقت تک نہیں پہنچ سکتا جب تک کہ ریاست کا بھارت کے ساتھ الحاق نہ ہو جائے اور مہاراجہ کو خود اس کے لئے خط لکھ کر درخواست کرنا پڑے گی۔ اس عمل کو یقینی بنانے کے لئے بھارت نے مہاراجہ سے الحاق کا ڈاکو منٹ اپنا سپیشل نمائندہ وی پی‘مینن کوبھیج کر حاصل کیا۔ یاد رہے کہ وی پی مینن ایک نہایت قابل مگر ہندو ذہنیت کے مطابق جوڑ توڑ اور سازباز کے تمام قانونی پہلوؤں سے کما حقہ آگاہ سول سرونٹ تھے۔ آپ ہندوستان کے آخری تین انگریز وائسرائے کی
Constitutional Adviser
اور
Political Reform Commissioner
رہے ۔ اپنی اس حیثیت سے انہوں نے کانگرس کے اکھنڈبھارت کے ایجنڈے کو اس طرح پروموٹ کیا کہ بہت ساری وہ ریاستیں جو علیحدہ رہنا چاہتی تھیں یا پاکستان کا حصہ بننا چاہتی تھیں ان کو ہندوستان کے الحاق پر مجبور کیا۔ انہیں کرشنا مینن نے بھارتی مؤرخوں کے مطابق الحاق کا پروانہ لیا۔ تاہم متعدد آزاد اور غیر جانب دار مؤرخوں کے مطابق جن میں
Alastar Lamb
نمایاں ہیں‘ ہندوستان نے الحاق کا ڈاکو منٹ بعد میں قبول کیا مگر اپنی فوجیں 27 اکتوبر کو کشمیر میں اتار دی تھیں۔ یعنی الحاق سے پہلے ہی ہندوستان کشمیر میں مداخلت کی مکمل تیاری کرچکا تھا۔نیزیہ کہ الحاق عارضی ہوگا اور اس کا حتمی فیصلہ ریاست جموں و کشمیر کے عوام کی مرضی کی روشنی میں ہی کیا جائے گا اور کشمیری عوام کی یہ مرضی رائے شماری کے ذریعے معلوم کی جائے گی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارت نے کشمیریوں کے حقِ خود ارادیت کو اقوامِ متحدہ کی قرار دادوں سے پہلے ہی (اصولی طور پر) تسلیم کرلیا تھا۔ اسی طرح بھارت کو اُس وقت کے انگریز گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے بھی بھارتی حکومت پر واضح کردیا تھا کہ ریاست کی (مسلم) آبادی کے پیش نظر یہ الحاق ریاست کے عوام کی مرضی سے مشروط ہوگا جسے امن وامان کی صورتِ حال بہتر ہوتے ہی استصوابِ رائے کے ذریعے معلوم کیا جائے گا۔


ایک اور مشہور مصنف کیمپ بیل جانس نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل کتاب ’’مشن ود ماؤنٹ بیٹن‘‘ میں بھی اس حقیقت کا ذکر کیا ہے۔ انہوں نے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے حوالے سے لکھا ہے کہ1947 میں ریاست جموں وکشمیر کا الحاق عارضی اور ریاست کے عوام کی مرضی سے مشروط تھا۔ 27 اکتوبر1947 کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے مہاراجہ کے خط کے جواب میں لکھا کہ یہ الحاق مکمل طور پر عارضی ہے اور یہ کہ پاکستان اور بھارت میں سے ریاست کا الحاق کس سے ہوگا؟ اس کا فیصلہ ریاست کے عوام کریں گے۔ گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور بھارتی حکومت کو یہ وضاحتیں بار بار پیش کرنے کی ضرورت اس لئے محسوس ہو رہی تھی کیونکہ مہاراجہ کے خط پر ریاست کا بھارت کے ساتھ الحاق اور اس کے ساتھ ہی ریاست میں جارحیت کے ارتکاب کو نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ہدفِ تنقید بنایا جارہا تھا کیونکہ یہ سراسر غیرقانونی اقدامات تھے۔ برطانیہ، جس کے اقتدار کا سایہ اگرچہ برصغیر کے سر سے اٹھایا گیا تھا، بھی اُن ممالک میں شامل تھا جہاں کشمیر میں بھارتی فوجی مداخلت پر تشویش کا اظہار کیا جارہا تھا۔ اس نکتہ چینی سے گھبرا کر بھارت کے وزیرِاعظم پنڈت نہرو نے اپنے برطانوی ہم منصب کو ٹیلی گرام بھیجا جس میں بھارت نے ایک دفعہ پھر واضح طور پر یقین دہانی کروائی کہ بھارت کے ساتھ ریاست جموں وکشمیر کا الحاق عارضی ہے اور اس کا حتمی فیصلہ ریاست کے عوام کریں گے۔ پنڈت نہرو اپنے خط میں لکھتے ہیں:’’ہمارا موقف یہ ہے اور اس موقف کو ہم نے بار ہا دنیا کے سامنے بیان کیا ہے کہ ہندوستان کی کسی بھی ریاست یا متنازعہ علاقے کے الحاق کا حتمی فیصلہ اُس ریاست یا علاقے کے عوام کی مرضی سے طے کیا جائے۔ ہم (یعنی بھارتی حکومت) اب بھی اسی موقف پر قائم ہیں۔‘‘ خیر بھارتی حکومت نے مہاراجہ جموں و کشمیر کو مختلف ہتھکنڈوں سے اس بات پر مجبور کیا کہ وہ بھارتی حکومت کو مدد کے لئے خط لکھے اور اس کے عوض ریاست کا بھارت کے ساتھ الحاق کرنے کی درخواست کرے۔


جب بھارت نے اس غیر قانونی کارروائی کو مکمل کرنے کے بعد ریاست میں فوجیں داخل کیں اور ان کے ذریعے نہتے کشمیری عوام کو کچلنا شروع کردیا تو پاکستان میں اس پر نہ صرف سخت تشویش کا اظہار کیا جانے لگا بلکہ تمام ملک میں شدیدبے چینی کے آثار پیدا ہونے شروع ہوگئے۔ اس پر پنڈت نہرو نے پاکستان کے وزیرِاعظم لیاقت علی خان کو 31 اکتوبر1947 کو خط لکھا جس میں انہوں نے اپنے پاکستانی ہم منصب کو یقین دہانی کروائی کہ:


’’مہاراجہ (جموں وکشمیر) نے ریاست کے الحاق کے لئے جو درخواست کی ہے (بھارتی حکومت نے) اُسے اس شرط پر منظور کیا ہے کہ جونہی امن و امان کی صورتِ حال بہترہو جائے گی اور حملہ آوروں کو ریاست سے نکال دیا جائے گا، کشمیر کے عوام فیصلہ کریں گے کہ وہ (پاکستان اور بھارت) دونوں میں سے کس کے ساتھ الحاق کریں گے۔‘‘ امن و امان کی بحالی کے بعد ہم ریاست سے فوجیں نکال لیں گے۔ ہمارا یہ وعدہ نہ صرف کشمیری عوام سے ہے بلکہ پوری دنیا سے ہے۔‘‘ بھارتی وزیرِاعظم نے اسی قسم کی یقین دہانی بھارت کی آئین ساز اسمبلی میں بھی کروائی تھی۔21 نومبر1947 کو اسمبلی کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے پنڈت نہرو نے کہا: ’’ہم نے شیخ عبداﷲ اور مہاراجہ (جموں و کشمیر) کے نمائندے‘ دونوں پر واضح کردیا ہے کہ اگرچہ ہم الحاق کے لئے مہاراجہ کی درخواست کو قبول کرلیا ہے لیکن ہم اسے جموں وکشمیر کے عوام پر زبردستی مسلط نہیں کریں گے۔ بلکہ ہم اس کے لئے ریاست جموں و کشمیر کے عوام کے فیصلے کا انتظار کریں گے۔‘‘


بھارت کی فوجی مداخلت کے نتیجے میں جب ریاست میں حالات خراب ہوئے اور پاکستان نے بھی اپنا ردِ عمل ظاہر کیا تو بھارتی حکومت نے خود کشمیر کا مسئلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے پیش کیا۔ اس پر بحث کے دوران بھارتی نمائندے گوپال سوامی آیا نگر نے اپنے بیان میں کہا: ’’بھارتی حکومت نے ریاست جموں و کشمیر کے حکمران کو بتادیا ہے کہ ریاست کے الحاق کا فیصلہ ریاست کے عوام استصوابِ رائے کے ذریعے کریں گے۔‘‘ اس کے ساتھ ہی بھارتی نمائندے نے یہ بھی کہا کہ یہ استصواب بین الاقوامی نگرانی میں کروایا جائے گا۔


اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے20 جنوری1948کو بحث کے اختتام پرمسئلہ کشمیر کے حل کے لئے قرار داد منظور کی۔ اسی قرار داد کے حق میں سلامتی کونسل کے تمام مستقل اراکین نے اپنا ووٹ ڈالاتھا جن میں امریکہ اور روس بھی شامل تھے۔ قرار داد میں سلامتی کونسل نے تین ارکان پر مشتمل ایک کمیشن قائم کرنے کی سفارش کی۔ان تین ارکان میں سے دو پاکستان اور بھارت نے نامزد کرنا تھے اور تیسرے کا انتخاب بھارت اور پاکستان کی طرف سے نامزد ممبران نے کرنا تھا۔21 اپریل1948 کو سلامتی کونسل نے ایک اور قرار داد منظور کی جس کے ذریعے کمیشن کے ارکان کی تعداد5 کردی گئی۔ اس قرارداد میں سلامتی کونسل کی طرف سے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان اور بھارت دونوں ریاست سے الحاق کے مسئلے کو ایک آزاد اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے جمہوری طریقے سے حل کرنے پر متفق ہیں۔ اس قرارداد میں سلامتی کونسل نے ریاست سے پاکستانی اور بھارتی فوجوں کے انخلاء اور رائے شماری کے انعقاد کے لئے ایک مفصل پروگرام بھی وضع کیا تھا لیکن اس دوران بھارت کی حکومت نے چند ایسے اقدامات کئے جن سے اس کی کشمیر کے بارے میں بدنیتی صاف ظاہر ہونا شروع ہو گئی تھی۔ 1949میں کشمیر پر پاکستان اور عالمی رائے عامہ کو کرائی گئی یقین دہانیوں کے برعکس بھارت نے اپنی دستورساز اسمبلی میں کشمیر سے چارنمائندوں کو شامل کر لیا۔ عارضی الحاق کی آڑ میں بھارت کا اپنی دستور ساز اسمبلی میں کشمیر کو ہڑپ کرنے کے منصوبے کا یہ پہلا حصہ تھا۔ اس کے بعد بھارتی آئین میں کشمیر کے لئے مخصوص آرٹیکل 370 شامل کیا گیا جس کے تحت ریاست کو بھارت کا حصہ قرار دے کر اسے داخل معاملات میں وسیع اختیارات دیئے گئے۔ لیکن دفاع‘ امور خارجہ اور مواصلات کے شعبے کو بھارتی حکومت کی ذمہ داری قرار دے دیا گیا۔ جب پاکستان کی طرف سے اس اقدام پر احتجاج کیا گیا تو بھارتی وزارت خارجہ کے سیکرٹری جنرل کی طرف سے پاکستان کو یہ جواب بھیجا گیا۔


’’اس قسم کے اقدامات کا مقصد بھارت کی کشمیر کے الحاق کے بارے میں پالیسی کو تبدیل کرنا نہیں جس کے تحت ریاست کے مستقبل کا فیصلہ کشمیری عوام کو آزادنہ طور پر کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ کشمیری عوام کو اس سلسلے میں اپنی مرضی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ ماحول میں ظاہر کرنے کا موقع دیا جائے گا اور اگر کشمیری عوام ایک آزادانہ غیرجانبدارانہ اور آئینی رائے شماری میں بھارت کے ساتھ الحاق کو رد کر دیں گے تو بھارتی آئین میں کشمیر کے بارے میں دفعات اور بھارت کے ساتھ کشمیر کے تعلقات بھی ختم ہو جائیں گے۔‘‘ ایک طرف یہ بیان اور دوسری طرف بھارت کشمیر کو بھارتی یونین کا حصہ بنانے کے لئے بتدریج اقدامات کر رہا تھا۔ ان میں کشمیر میں ایک دستورساز اسمبلی کا قیام بھی تھا۔ حالانکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے بھارت کو اس قسم کے اقدامات کا کوئی اختیار نہیں کیا تھا۔ لیکن بھارتی وزیراعظم جواہر لال نہرو نے مارچ 1951میں پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے الحاق کے بارے میں بھارتی حکومت کے موقف کو دہرایا اور یقین دلایا کہ بھارت کسی بھی صورت اقوام متحدہ کی قراردادوں کی خلاف ورزی نہیں کرے گا۔ 31اکتوبر 1951 کو کشمیر کی دستورساز اسمبلی کے انتخابات ہوئے۔ 24جولائی 1952کو نئی دہلی میں شیخ عبداﷲ کی قیادت میں کشمیر کی نئی حکومت اور بھارتی حکومت کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جسے دہلی معاہدہ کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت بھارتی آئین میں کشمیر کی خصوصی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے اسے تین شعبوں یعنی دفاع، امور خارجہ اور مواصلات کے علاوہ باقی تمام شعبوں میں ریاست کو اندرونی طور پر مکمل خودمختاری دی گئی تھی لیکن 1947میں مہاراجہ کو ریاست کا بھارت کے ساتھ زبردستی الحاق کرنے اور فوجوں کو ریاست میں داخل کرنے کے بعد بھارت نے ریاست کے بارے میں جتنے بھی اقدامات کئے ان سب کا مقصد کشمیر پر اپنی گرفت کو مضبوط کرنا تھا ۔ الحاق کو عارضی قرار دینا اور کشمیری عوام کو آزادانہ اور غیرجانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے اپنی مرضی کے اظہار کا موقع دینے کے بارے میں تمام دعوے اور اعلانات کا مقصد دنیا اور کشمیری عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنا تھا۔ دراصل بھارت شروع سے ہی کشمیر کو ہڑپ کرنے کے ایجنڈے پر عمل کر رہا تھا اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ جب شیخ عبداﷲ اور ان کی پارٹی کی نیشنل کانفرنس نے بھارت کو کشمیر کے بارے میں اپنے وعدوں اور یقین دہانیوں پر عمل درآمد کرنے کے لئے کہا تو 8اگست 1953 کو شیخ عبداﷲ کو گرفتار کر لیا۔ ان پر لگائے گئے الزامات میں سے ایک یہ بھی تھا کہ وہ ریاست کی آزادی کی راہ ہموار کر رہے ہیں۔بھارت ایسے الزامات لگا کر اپنے جرم پر ہمیشہ سے پردہ ڈالتا آرہا ہے۔ آج تک بھارت نے کشمیر سے متعلق اپنا ایک وعدہ بھی پورا نہیں کیا اور کشمیر پر اپنا تسلط طاقت کے بل بوتے پر قائم رکھنے پر تُلا ہوا ہے جو اب تا دیر ممکن نہیں ہوگا۔

پروفیسر ڈاکٹر رشید احمد خان معروف ماہر تعلیم اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

1947 میں برصغیر کی تقسیم اور پاکستان اور بھارت کا قیام اس فارمولے کے مطابق عمل میں آیا تھا کہ شمال مغرب اور مشرق میں واقع مسلم اکثریت کے صوبے پاکستان کا حصہ بنیں گے اور ہندو اکثریت کے صوبے ‘ بھارت کہلائیں گے۔ جہاں تک565 کے قریب ریاستوں کا تعلق تھا اُن کے بارے میں یہ فیصلہ ہوا کہ ان ریاستوں کے فرمانرواؤں کو اختیار ہوگا کہ وہ بھارت میں شامل ہونا چاہتے ہیں یا پاکستان میں ۔ مگر یہ فیصلہ کرتے وقت ریاست کی آبادی کا مذہب، اس کے جغرافیائی محل وقوع اور معاشی اور تجارتی روابط کو ملحوظ خاطر رکھاجائے گا۔

*****

بھارت کی فوجی مداخلت کے نتیجے میں جب ریاست میں حالات خراب ہوئے اور پاکستان نے بھی اپنا ردِ عمل ظاہر کیا تو بھارتی حکومت نے خود کشمیر کا مسئلہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے پیش کیا۔ اس پر بحث کے دوران بھارتی نمائندے گوپال سوامی آیا نگر نے اپنے بیان میں کہا: ’’بھارتی حکومت نے ریاست جموں و کشمیر کے حکمران کو بتادیا ہے کہ ریاست کے الحاق کا فیصلہ ریاست کے عوام استصوابِ رائے کے ذریعے کریں گے۔‘‘

*****

 
Read 480 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter