آٹھ نومبر2016کے بعد

تحریر: خورشید ندیم

8نومبر کو امریکہ میں صدارتی انتخابات ہوئے۔ کیا یہ تاریخ 9/11کی طرح انسانی تاریخ کو قبل از اور بعد از دو ادوار میں تقسیم کر دے گی؟
تاریخ میں پیش آنے والا کوئی واقعہ منفرد نہیں ہوتا۔ یہ سلسلۂ روز و شب کی ایک کڑی ہوتا ہے۔ ناگہانی آفات کا معاملہ دوسرا ہے۔ زلزلہ اور سونامی جیسے واقعات بھی زندگی کا رخ بدل دیتے ہیں لیکن ان کا تعلق کائنات میں جاری ان قدرتی قوانین سے ہوتا ہے جو سماجی زندگی میں اپنی کوئی اساس نہیں رکھتے۔ مذہبی تعبیرات اگرچہ ان واقعات کو بھی سماج کے اخلاق سے متعلق کرتی ہیں لیکن اس وقت ما بعد الطبیعاتی پہلو اس مضمون کا موضوع نہیں۔ یہاں ان واقعات کا بیان مقصود ہے جن کا تعلق سماجی زندگی سے ہے اور جن کا صدور معاشرتی تبدیلیوں کے جلو میں ہوتا ہے۔
کارل مارکس نے اپنے عہد میں سرمایہ داری نظام کا تجزیہ کیا اور یوں اسے اس طبقاتی کشمکش کے پس منظر میں دیکھا جو اس کے خیال میں تاریخ کے عمل پر ہر دور میں اثر انداز ہوتا رہا ہے۔ اسی طرح مذہبی سکالرز نے تاریخی عمل کو مابعد الطبیعاتی پہلو سے دیکھا۔ آدم سمتھ جیسے اہل علم نے سرمائے کی مرکزیت کو بیان کیا۔ مارکس بھی اگرچہ ہیگل کی روایت ہی سے متعلق ہے لیکن کچھ لوگوں نے خالصتاً فلسفے کے تناظر میں تاریخی عمل کو نظریہ یاردِ نظریہ اور پھرامتزاج کے حوالے سے بیان کیا ہے۔دور حاضر پر جب اس تصور کا اطلاق کیا گیا تو کہا گیا کہ انسان کے سماجی ارتقاء کا سفر ایک سرمایہ دارانہ جمہوری معاشرے کی تشکیل پر تھم جانا چاہئے۔ اگرچہ ’’ اختتامِ تاریخ ‘‘ کا تصور پیش کرنے والوں کو خود اس پر نظر ثانی کی ضرورت محسوس ہوئی۔


9/11کا دن اس لئے اہم شمار ہوتا ہے کہ ایک عالمی قوت کے علاماتی مراکز کو ہدف بنا کر یہ پیغام دیا گیا کہ یہ نظام ناقابل تسخیر نہیں ہے۔یہ بھی زوال آشنا ہو سکتا ہے اور خود اس کے داخل میں اتنے خلا ہیں جو اس کی سلامتی کے لئے خطرہ بن سکتے ہیں۔جن لوگوں نے ان واقعات کا تجزیہ کیا، انہوں نے اسے زیادہ تر انتظامی پہلو سے دیکھا۔ امریکہ میں اس کے بعد جو کچھ ہوا، اس میں انسانی آزادی پر قدغنیں لگائی گئیں۔ سکیورٹی کے لئے نئے ادارے بنے۔ موجود اداروں کے اختیارات میں اضافہ کیا گیا اور اس بات کو بڑی حد تک یقینی بنایا گیا کہ کوئی ایسا واقعہ نہ ہو جو اس سرمایہ دارانہ نظام کے لئے کسی طرح بھی خطرے کا باعث ہو۔ اس میں شبہ نہیں کہ امریکہ اس میں بڑی حد تک کامیاب رہا۔ دنیا ایسے واقعات کی زد میں رہی لیکن امریکہ میں 9/11 کے بعد کوئی بڑا واقعہ نہیں ہوا۔
11/8کو لیکن امریکہ میں ایک اور دھماکہ ہو گیا۔ یہ بھی اس کے اندر سے ہوا۔ اس کا سبب بھی اس کے داخلی نظام کے خلا تھے جن سے ایک ایسا فرد منصب صدارت تک پہنچ گیا، جس کا راستہ روکنے کے لئے امریکی ریاستی نظام نے ممکن حد تک کوشش کی تھی۔ وہ تمام قوتیں جو موجودہ امریکی نظام کی بقا اور تسلسل کے لئے سرگرم ہیں، وہ اس دھماکے کو روک نہیں سکیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ صدر بن گئے اور ریاستی نظام9/11 کے بعد ایک بار پھر بے بس دکھائی دیا۔ سوال یہ ہے کہ کسی خارجی تائید کے بغیر یہ واقعہ کیسے ہو گیا؟


یہ ممکن ہے کہ اس کے نتیجے میں امریکہ میں خود احتسابی کا عمل آگے بڑھے۔ 9/11 کے بعد جو کمیشن بنا اور اس کے بعد بھی تحقیقات کے لئے جو کوششیں ہوئیں، ان میں خارجی قوتوں یا پھر داخلی سطح پر انتظامی معاملات کے نقائص کو موضوع بنایا گیا۔ ’سیاسی اسلام‘ کے تصور میں اس واقعے کے اسباب تلاش کرتے کرتے لوگ ابن تیمیہ تک جا پہنچے، لیکن وہ اس پر غور کرنے کے لئے آمادہ نہیں ہوئے کہ ان کی وہ کون سی حکمت عملی ہے جس نے انہیں اس حادثے سے دوچار کیا۔ صدارتی انتخابات چونکہ سو فی صد داخلی واقعہ ہے، اس لئے امید کی جا سکتی ہے کہ یہ امریکہ پر خود احتسابی کا دروازہ کھول دے۔


واقعہ یہ ہے کہ امریکہ میں جو کچھ ہوا، وہ محض ایک ملک تک محدود عمل نہیں ہے بلکہ سرمایہ دارانہ نظام میں موجود اس پیدائشی نقص کا نیا ظہور ہے جو غریب کو غریب تر اور امیر کو امیر تر کرتا ہے۔ یہ دولت کو چند ہاتھوں میں محدود کر دیتا ہے۔ عام آدمی چونکہ فلسفیانہ بحثوں میں نہیں الجھتا اس لئے جب کوئی سرمایہ دارانہ نظام کے اس نقص کو نمایاں کرتا اور عوام کو سبز باغ دکھاتا ہے تو وہ اس کا شکار ہو جاتے ہیں اور اس غلط فہمی میں مبتلا ہو جاتے ہیں کہ ان کا نجات دہندہ آگیا۔ حالانکہ وہ اس پر غور نہیں کرتے کہ نجات دہندہ خود اس نظام کی عطا ہے، وہ جس کے خلاف آواز اٹھا رہا ہے۔


9/11 کے حادثے کے بعد امریکہ میں ذمہ دار لوگوں نے جس طرح اسباب کا کھوج لگانے میں غلطی کی‘ اسی طرح معلوم یہ ہوتا ہے کہ اس بار عامۃ الناس نے بھی غلطی کی۔ صدر ٹرمپ نے امریکی مسائل کے جو اسباب تلاش کئے، ان میں وہ تارکین وطن سر فہرست ہیں جو ان کے خیال میں امریکی معیشت پر بوجھ ہیں۔ اسی طرح وہ مسلمانوں اور عربوں کو ہدف بنانا چاہتے ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ کی اشرافیہ ایک بار پھر تجزیے میں غلطی کی مرتکب ہو رہی ہے۔ صدر ٹرمپ نے اگر اپنے اس تجزیے کی بنیاد پر ریاستی حکمت عملی تشکیل دینے کی کوشش کی تو یہ عمل امریکہ کو نئی طرز کے مسائل سے دوچار کر دے گا۔


سرمایہ دارانہ نظام کو پہلا چیلنج اشتراکیت کی صورت میں پیش آیا۔ اس کا سامنا کرتے وقت کم از کم اس حد تک مسئلہ کا درست تجزیہ کیا گیا کہ مزدور اور کسان کو اگر کارخانے اور کھیت کی آمدن سے حصہ نہ دیا گیا تو اس کے نتیجے میں پھیلنے والی بغاوت اہل سرمایہ کو لے ڈوبے گی۔ لہٰذا انہوں نے ویلفیئر ریاست کا تصور دے کر کارخانے اور کھیت کے منافع میں مزدور اور کسان کو اس حد تک شریک کر لیا کہ وہ زندہ رہنے کے قابل ہو گیا۔ یوں اس بغاوت کا خطرہ ٹل گیا جو سرمایہ داری کے سفینے کو ڈبونے کے درپے تھی۔ اس بار ایسا ہوتا دکھائی نہیں دے رہا۔ اگر اس نظام کے داخلی نقائص کو دور کرنے کے بجائے، امریکی مسائل کا ذمہ دار دوسروں کو قرار دینے کی کوشش جاری رہی تو امریکہ کو داخلی سطح پر بڑی مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ ماضی کی طرح اس بار بھی سرمایہ دارانہ نظام اپنے تحفظ میں کامیاب ہو جائے گا۔ صدر ٹرمپ وہ کچھ نہیں کر پائیں گے جن کا انہوں نے وعدہ کیا۔ زمینی حقائق انہیں مجبور کریں گے کہ وہ ان کا لحاظ رکھیں۔ تارکین وطن کو ذمہ دار ٹھہرانے کے بجائے، امریکی صدر کو داخلی اصلاح پر توجہ دینا ہو گی۔ ان عوامل کو تلاش کرنا ہو گا جنہوں نے امیر لوگوں کو امیر تر بنا دیا ہے۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا صدر ٹرمپ یہ سب کچھ کر پائیں گے، جب کہ خود ان کا اپنا تعلق اسی سرمایہ دار استحصالی گروہ سے ہے۔ اس سوال کا جواب تاریخ کے پاس ہے لیکن قوموں کے باب میں ایک سنت مسلسل کار فرما ہے جسے علامہ اقبال نے بیان کیا ہے۔


صورتِ شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب
اب دیکھنا یہ ہے کہ امریکی قوم اپنے عمل کا حساب کرتی ہے یا نہیں۔

مضمون نگار معروف دانشور ،سینئر تجزیہ نگار اور کالم نویس ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

شہدائے وطن کی نذر


ہے پیشِ نظر، یہ کیا مَنظر
اِک مردِ مُجاہد، لَڑ لَڑ کر
بازخمی دل و باخُونیں جگر
کہتا ہے سُنو! یہ رَہ رَہ کر
لو جامِ شہادت پیتا ہوں
اب تا بہ قیامت جیتا ہوں!
یہ جان تو آنی جانی ہے
یہ گویا ایک کہانی ہے
یہ دُنیا دارِ فانی ہے
اِک دائم ذات رَبانی ہے
اے پیکر جُود و صدق و صفا!
اے جانِ وفا! تسلیم و رضا!
یہ لالہ و گُل،یہ رنگِ چمن
یہ سُنبل و ریحاں، سَرو و سمن
یہ اِن کی مہک، یہ اِن کا پھبن
سب تیرا ہی صدقہ، تیری لگن
اے فخرِ وطن! اے شانِ سپاہ!
باحُکمِ خدا، تو اَمر ہوا!


خواجہ اصغر پرےؔ

*****

 
Read 613 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter