اے جذبہ دل گر میں چاہوں

تحریر : میجر (ر) ندیم نصیب

1971 کی جنگ میں شہادت کا رتبہ پانے والیمیجر نصیب اﷲ خان شہید کی شہادت کے حوالے سے اُن کے بیٹے میجر (ر) ندیم نصیب کی تحریر

ayjazbadil.jpg

خود اعتمادی اور کچھ کر گزرنے کا جذبہ ہی وہ نعمت ہے جو انسان کو مثبت سوچ اور آگے بڑھنے پر آمادہ کرتی ہے۔ یہ سوچ اپنے وطن کے لئے ہو توعظیم قوم کو جنم دیتی ہے اور ایسے سپوت پیدا کرتی ہے جو ہر مشکل سے مشکل گھڑی میں اپنے ملک و ملت کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لئے بھی ہمہ وقت تیار رہتے ہیں۔ میجر نصیب اﷲ خان (شہید) بھی اس قوم کے ایک ایسے ہی بہادر سپوت ہیں جنہوں نے اپنی محنت سے نہصرف مقام بنایا بلکہ وقت آنے پر اپنی مٹی کو اپنے خون سے بھی سینچا۔

 

میجر نصیب اﷲ خان (شہید) 21جون 1939کو آزادکشمیر کوٹلی کے ایک گاؤں کنیات میں پیدا ہوئے۔ 1951 میں آٹھویں جماعت میں ملٹری کالج جہلم سرائے عالمگیر میں منتخب ہوئے۔ تاہم ابتدا میں انہوں نے آرمی میں اپنی خدمات کا آغاز سگنل کور میں بطورسپاہی کیا۔ مگر آگے بڑھنے کی لگن رنگ لائی اور 1962میں اُنہیںآئی ایس ایس بی کلیئر کرنے کے بعد پی ایم اے کاکول بھیج دیا گیا۔ پی ایم اے کاکول سے پاس آؤٹ ہونے کے بعد سی او ڈی کالا، پوسٹ کر دیئے گئے۔ عملی زندگی کے عسکری ادارے سے آغاز اور پی ایم اے کی ٹریننگ کے بعد ان کی صلاحیتوں میں نکھار پیدا ہو چکا تھا۔ اayjazbadil1.jpgس سوچ کی بنا پر انہوں نے پاک آرمی کے ایس ایس جی گروپ کو اپنانے کا فیصلہ کیا اور 9ماہ کی پُرمشقت تربیت کے بعد وہ اب بطور کمانڈو وطن کی خدمات انجام دینے کے لئے تیار تھے۔ جب مشرقی پاکستان کے حالات روزبہ روز ابتر ہوتے جا رہے تھے تب میجر نصیب اﷲ (شہید) کو آرڈر ملا کہ وہ ایس ایس جی کمپنی کے ساتھ موو کریں۔ جسے انہوں نے بخوشی قبول کر لیا۔


مجھے یاد ہے وہ دن جب میرے والد مشرقی پاکستان جا رہے تھے۔ میری ماں بہنیں بھائی اور سب احباب بہت پریشان تھے۔ میرے والد نے کھڑے ہو کر مجھے اپنے سینے سے لگایا۔ میرے دادا کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر بولے کہ ابوجان آپ تو پدری محبت کی بدولت آنکھوں میں آنسو لئے بیٹھے ہیں مگر میرا کردار آپ کی تربیت کا نتیجہ ہے جس نے مجھے یہ سکھایا تھا کہ وقت پڑنے پر اپنے ملک و قوم کے لئے جان کی قربانی دینے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہئے۔ آج میرا دیس مجھے پکار رہا ہے تو میں کیسے رُک سکتا ہوں میں اپنے بچے بھی آپ کے حوالے کرکے جارہاہوں اور یوں وہ یکم دسمبر 1971کو مشرقی پاکستان چلے گئے۔ میجر نصیب اﷲ خان (شہید) کمال کمپنی ایس ایس جی کی کمانڈ کر رہے تھے۔ جنگ چھڑنے کے بعد اپنے دشمن کے خلاف بھرپور کارروائیاں کرتے رہے لیکن آخر کار 16دسمبر 1971کے موقع پر بہت سے پاکستانی فوجیوں کو قیدی بنا لیا گیا اُن میں میرے والدِ محترم میجر نصیب اﷲخان (شہید) بھی شامل تھے۔ ان کو بھارتی فوج نے گرفتار کیا اور کیمپ نمبر 44 میں بھیج دیا۔ پہلے ہی ہفتے انہوں نے اور ان کے ساتھیوں نے کیمپ سے فرار ہونے کی کوشش کی اور اس مقصد کے لئے ایک سرنگ کھودی جو مکمل ہونے کے آخری مرحلے میں پکڑی گئی۔ میجر نصیب اﷲ خان کو کیمپ میں سینئر آفیسر ہونے کی بنیاد پر اس پلان کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا گیا اور خطرناک ترین قیدیوں کی فہرست میں شامل کر کے انہیں اعلیٰ کمانڈ کے کہنے پر 40دن کے لئے کوٹھڑی میں بند کرنے کا حکم دیا گیا۔ جون 1972کو انڈین حکام نے اُنہیں مزید محفوظ جیل رانچی ریل گاڑی کے ذریعے منتقل کرنے کا فیصلہ کیا۔ راستے میں ان کے ایک ساتھی قیدی کیپٹن شجاعت جن کا تعلق 15 ایف ایف سے تھا واش روم گیا۔ اس امید پر کہ ہو سکتا ہے کہ فرار کی کوئی راہ ممکن ہو۔ اس نے ریل کی کھڑکی کی گرل کاٹی اور باہر چھلانگ لگا دی۔ یہ 30جون 1972کا دن تھا۔ میجر نصیب اﷲ خان (شہید) نے وضو کیا اور نماز ادا کرنے لگے۔ انڈین گارڈز نے اس کا ذمہ دار میجر نصیب اﷲ خان (شہید) کو ٹھہرایا کہ انہوں نے کیپٹن شجاعت کو فرار کرنے میں اس کی مدد کی ہے اور اب یہ بھی موقع پاتے ہی فرار ہوجائیں گے ۔ بھارتی فوج نے تمام بین الاقوامی قوانین کو بالاطاق رکھتے ہوئے دوران نماز ہی اُن پر فائر کھول دیا اور ان کے سینے کو چھلنی کر دیا۔ ا ن کے جسد خاکی کو پاکستان کے حوالے نہیں کیا گیا۔ہمارے ابو میجر نصیب تو شہید ہوگئے لیکن اُن کی شہادت کے بعد جس طرح ہماری والدہ محترمہ نے ہماری تربیت کی اور ہر کٹھن وقت میں ہمارے لئے ایک آہنی دیوار ثابت ہوئیں وہ بے مثال ہے۔ یہ امی جان کی تربیت ہی تھی کہ میری دو بہن ڈاکٹر بنیں۔ بڑی بہن ڈاکٹر ناہید نصیب نے کھاریاں میں نصیب شہید میموریل ہسپتال قائم کیا۔ چھوٹی بہن نبیلہ پاک فوج میں میجر ڈاکٹر ہیں۔ ہم دونوں بھائی میں اور کیپٹن ریٹائرڈ نعیم نصیب ملٹری کالج جہلم کے لئے سلیکٹ ہوئے اور پاک فوج میں کمیشن حاصل کیااور ملک کی اُسی انداز میں خدمت کی جس طرح ہمارے والد چاہتے تھے۔ میرا بیٹا ساھم نصیب بھی ملٹری کالج سے ابتدائی تعلیم حاصل کرکے پی ایم اے کے لئے سلیکٹ ہوا اور اب الحمدﷲ پاک فوج میں بطورِ سیکنڈ لیفٹیننٹ خدمات سرانجام دے رہا ہے۔ مجھے یوں لگتا ہے جسے ہم اپنے ابومیجر نصیب شہید کے اُس جذبے کے رکھوالے ہیں جو وہ اپنے ملک اور قوم کے لئے رکھتے تھے۔ پاکستان ہمیشہ سلامت رہے ہمارے خاندان کے خون کا ایک ایک قطرہ اس کی حفاظت کے لئے حاضر ہے۔

 
Read 241 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter