تقریبِ تبدیلئ کمان

رپورٹ: غزالہ یاسمین

پاک فوج ایک مضبوط اور مستحکم ادارہ ہے اس ادارے کی روایات بھی بہت مضبوط ہیں۔ اس کے اپنے اصول اور قاعدوضوابط ہیں۔ اس ادارے میں ذمہ داریاں نبھانے والے اس کی مضبوطی میں اپنا اپنا حصہ ڈال کر سبکدوش ہوجاتے ہیں اور دوسرا شخص اس کی جگہ لے کر اس ادارے کے استحکام اور عزت میں اضافہ کرنے کے لئے اپنے حصہ کی ذمہ داریوں کا آغاز کردیتا ہے جواس منفرد ادارے کی مضبوطی کا ضامن ہے۔


وزیراعظم کی جانب سے ہفتہ بمورخہ 26نومبر کی شام نئی فوجی قیادت کا اعلان کردیا گیا اور یوں مہینوں سے جاری انتظار اور قیاس آرائیوں کا سلسلہ اپنے اختتام کو پہنچا۔
فوج کے 16ویں سپہ سالار کی کمان سنبھالنے کی تقریب 29 نومبر 2016ء کو جی ایچ کیو راولپنڈی میں منعقد ہوئی۔ اس تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔ اس کے بعد مہمان خصوصی کو سلامی دینے والے دستے جن میں این ایل آئی ، فرنٹیر فورس اور سندھ رجمنٹ شامل تھیں میدان میں داخل ہوئیں۔ جن کی نمائندگی میجر حارث اسلم کر رہے تھے۔اس کے بعد ملٹری بینڈمیدان میں داخل ہوا۔ جس نے اپنی خوبصورت قومی اور علاقائی دھنوں سے حاضرین کومحظوظ کیا۔پھر ملٹری بینڈنے بگل بجا کر نامزد چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی آمد کا اعلان کیا۔ اس کے بعد مہمان خصوصی جنرل راحیل شریف کی آمد کا اعلان بھی ہوااور وہ میدان میں داخل ہوئے توحاضرین نے تالیاں بجا کر اوراحتراماً کھڑے ہو کر ان کا استقبال کیا۔
پاک فوج کے چاق چوبند دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا۔گارڈ کمانڈر سلامی کے چبوترے کی جانب بڑھے اور مہمان خصوصی کو اعزازی گارڈ کے معائنے کی دعوت دی۔چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے پریڈ کا معائنہ کیا۔ معائنہ مکمل کرنے کے بعد جنر ل راحیل شریف واپس سلامی کے چبوترے پر آ کر جنرل قمر جاوید باجوہ کے ساتھ کھڑے ہو گئے۔بعدازاں مہمان خصوصی چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف نے اپنے الوداعی خطاب میں جو چیدہ چیدہ پیغام دئیے ۔جو کچھ اس طرح سے تھے :
*’’بھارت ہماری تحمل کی پالیسی کو ہماری کمزوری نہ سمجھے۔‘‘
*’’نیشنل ایکشن پلان کو ملک میں مکمل امن قائم رکھنے کے لئے جاری رکھا جائے گا۔‘‘
*’’سی پیک کے دشمن دشمنی ترک کرکے اس کے ثمرات میں شریک ہوں۔ ‘‘
جنرل راحیل شریف نے اپنے الوداعی خطاب کے آخر میں مسلح افواج کے لئے دعائیہ کلمات کہے اوراللہ تعالی کا شکر ادا کیااور کہا مجھے فخر ہے کہ میں نے دنیا کی ’’بہترین آرمی ‘‘ کی تین سال قیادت کی۔
خطاب کے بعد جنرل راحیل شریف نے پاک فوج کے نئے چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ’’کمان سِٹک‘‘ سونپی۔تبدیلی کمان کے بعد دونوں سالار سلامی کے چبوترے پر پہنچے۔ جہاں پاک فوج کے دستے نے انہیں سلامی پیش کی۔


تبدیلی کمان کی اس پروقار تقریب میں چیئر مین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی جنرل زبیر محمود حیات‘پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل ذکااللہ ‘ پاک فضائیہ کے سربراہ ائیر چیف مارشل سہیل امان، ان کے علاوہ مسلح افواج کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ افسران کے ساتھ ساتھ وفاقی وزر ا ء ،قومی اوربین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں اورسفارتکاروں کی بہت بڑی تعداد نے اس پُروقار تقریب میں شرکت کی۔


پاک فوج کی نئی قیادت بہترین پیشہ ورانہ اور قائدانہ صلاحیت کی حامل ہے۔ آج قوم کو بھارت کے جارحانہ طرز عمل‘ لائن آف کنٹرول پر مسلسل اشتعال انگیزی‘ مقبوضہ کشمیر کی سلگتی ہوئی صورت حال‘ پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کو ناکام بنانے کے لئے مودی سرکار کی سازشوں‘ ملک کے بعض علاقوں خصوصاً بلوچستان میں دہشت گردی کے واقعات‘ ضرب عضب کے دوران بے گھر ہونے والے افراد کی باوقار طور پر بحالی‘ کراچی آپریشن کی حتمی تکمیل اور افغانستان سے روابط بہتر بنانے کی ضرورت کی شکل میں داخلی اور بیرونی محاذوں پر جو سنگین چیلنجز درپیش ہیں ان سے عہدہ برآ ہونے میں یہ قیادت نتیجہ خیز کردار ادا کرے گی۔ انشاء اﷲ

tabdeelikaman.jpg

 

 
Read 162 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter