قائداعظم اور راست اقدام کی سیاست

تحریر: پروفیسر فتح محمد ملک

برطانوی استعمار مسلمانوں کو ایک الگ قوم اور اپنی جداگانہ مسلمان قومیت کی بنیادپر پاکستان کے قیام کی اجازت دینے سے انکاری تھا۔ برصغیر کے مسلمانوں کو اقلیت کے بجائے ایک جداگانہ ، منفرد اور مہذب قوم علامہ اقبال نے قرار دیا تھا۔ اِسی محکم استدلال کی ہر آن تازہ تر تشریح قائداعظم کے حصے میں آئی تھی۔ برصغیر میں مسلمانوں کی آزاد اور خود مختار مملکت کے اِس تصور کو آل انڈیا مسلم لیگ کا سیاسی پروگرام بنا کر مسلمانوں کو ایک عوامی جمہوری تحریک کے پرچم تلے جمع کر لیا تھا۔ ایسے میں اُس وقت کے برطانوی وزیراعظم مسٹر ایٹلی کا 15۔مارچ 1946ء کو برطانیہ کے ہاؤس آف کامنز میں کابینہ مشن کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے وقت بڑی رعونیت کے ساتھ یہ کہنا بہت معنی خیز تھا کہ
"We are mindful of the rights of the minorities. On the other hand we cannot allow a minority to place a veto on the advance of a majority."
برطانوی وزیراعظم کی یہ دھمکی کہ وہ مسلمان ’’اقلیت ‘‘کو ہندو اکثریت کے مفادات پر ویٹو کا حق ہرگز نہ دیں گے قابل غور ہے۔ اِس پُرفریب جملے کا صاف صاف مطلب یہ ہے کہ برطانوی استعمار برصغیر کے مسلمانوں کوکسی صورت میں بھی پاکستان قائم کرنے کی اجازت نہ دے گا۔ برطانوی استعمار کی اپنے اِس مذموم مقصد کے حصول میں ناکامی صرف ایک شخص کے ایمانِ محکم اور ندرتِ کردار کا نتیجہ تھی۔ اِس عظیم شخصیت کو دُنیا قائداعظم محمد علی جناح کے نام سے پہچانتی ہے۔

quaidaurrsatr.jpg
قائداعظم برطانوی استعمار کے مکر و فریب سے بھی آگاہ تھے اور اُس کی اندرونی کمزوریوں سے بھی خوب واقف تھے۔ اپنے ایک انٹرویو میں قائداعظم نے کابینہ مشن کے عیار ترین اور طاقتور ترین رُکن سرپیتھک لارنس کو ایک ایسا مداری

(that ingenious juggler of words)

قرار دیا تھا جولفظوں کے گورکھ دھندوں سے فریب کے جال بننے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ ایک برطانوی سیاسی مؤرخ لیونارڈ موزلے اپنی کتاب بعنوان

The Last Days of the British Raj

میں لکھتا ہے کہ قائداعظم سے ملاقات کے تصور ہی سے کابینہ مشن کے ارکان کی جان جاتی تھی
"Jinnah depressed them by his cold, arrogant, insistant demand for Pakistan or nothing. An encounter with Jinnah cast them down."
چنانچہ قائداعظم نے مذاکرات کی میز پر بھی ہتھیار پھینک دینے کی بجائے دادِ شجاعت دینے کی حکمت عملی اپنائی۔ نتیجہ یہ کہ جب کابینہ مشن پلان منظر عام پر آیا تو کانگرسی حلقوں میں صفِ ماتم بچھ گئی۔ غُل مچا کہ ہم ایک پاکستان پر بھی تیار نہیں مگر آل انڈیا کانگریس کے لیڈر ابوالکلام آزاد نے دو پاکستان دے دیئے ہیں۔ چنانچہ بلا تاخیر مولانا آزاد کو مسندِ صدارت سے ہٹا کر جواہر لعل نہرو کو کانگریس کا صدر مقرر کر دیا گیا۔ پنڈت نہرو نے اپنی پہلی پریس کانفرنس میں کابینہ مشن پلان کے لفظ تو وہی رہنے دیئے مگر معنی تبدیل کر کے رکھ دیئے۔حر ف و معنی کے اِس تصادم پر قائداعظم کے ردِعمل کو لیونارڈ موزلے درج ذیل لفظوں میں بیان کرتے ہیں
"Mr. Jinnah reacted to Nehru's statement like an army leader who has come in for armistic discussion under a flag of truce and finds himself looking down the barrel of a cocked revolver."
جلد وہ وقت آ پہنچا جب قائداعظم نے اپنی جیب سے بھرا ہوا پستول باہر نکالا اور برطانوی سامراج کے سینے پر تان دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اب ہم بند کمرے میں مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر وقت برباد کرنے کے بجائے زندگی کے کھلے میدان میں مسلمان قوم کی عوامی عدالت میں جائیں گے۔ چنانچہ 16اگست کو ڈائریکٹ ایکشن ڈے (راست اقدام کے آغاز کا دن )قرار دے دیا گیا۔ جولائی کے آخری ہفتے میں مسلم لیگ کونسل کے اجلاس منعقدہ بمبئی میں اپنے خطاب کے دوران قائداعظم نے اعلان فرمایا کہ
"....All these prove clearly beyond a shadow of doubt that the only solution of India's problem is Pakistan. I feel we have exhausted all reasons. It is no other tribunal to which we can go. The only tribunal is the Muslim nation."
چنانچہ مسلم لیگ کونسل نے ایک قرارداد میں مسلمان عمائدین سے مطالبہ کیا کہ برطانوی سامراج کی مسلمان دشمن حکمتِ عملی پر احتجاج کے طور پر وہ تمام برطانوی خطابات واپس کر دیں اور برطانوی ہند کی انگریز حکومت کے خلاف احتجاجی تحریک کا آغاز کریں:
"The time has come for the Muslim nation to resort to direct action to achieve Pakistan and to get rid of the present slavery under the British and contemplated future Caste Hindu domination".
بابائے قوم قائداعظم محمد علی جناح نے برطانوی حکومت کے خلاف مسلمان عوام کے اس راست اقدام کو قیامِ پاکستان سے برطانوی حکومت کے انکار پر احتجاج کا نام دیا۔یہ راست اقدام کلکتہ سے لے کر پشاور تک پورے برصغیر میں قیامِ پاکستان کے حق میں ایک ریفرنڈم ثابت ہوا۔ کلکتہ کے جلوس سے بلند ہونے والا یہ نعرہ کہ’’ لڑ ،کے لیں گے پاکستان‘‘مسلم ہندوستان کے گلی کوچوں میں گونجنے لگا اور بالآخر مسلمان قوم کے اِس عوامی جمہوری احتجاج کے سامنے برطانوی حکومت نے ہتھیار پھینک دیئے اور یوں پاکستان وجود میں آ گیا۔

پروفیسر فتح محمد ملک ایک ممتاز دانشور ہیں۔ آپ انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے سابق ریکٹر ہیں۔ آپ کی تحاریر قومی اخبارات کی زینت بنتی رہتی ہیں۔

This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

 
Read 148 times

Leave a comment

Make sure you enter the (*) required information where indicated. HTML code is not allowed.

Follow Us On Twitter